نئی اردو گاؤں کی سیکس کہانی: لاہور سے آیا سولر مستری
ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور سولر پینل میرے ہاتھ سے پھسلنے لگا۔ میں چھت پر جھکا ہوا تھا، نیچے زرینہ سیڑھی تھامے کھڑی تھی۔ "پکڑو، مضبوط پکڑو!" میں چلایا۔ پینل ایک طرف جھکا اور میرا جسم سیڑھی سے لگ کر اس کے جسم سے ٹکرا گیا۔ یہ ایک نئی اردو گاؤں کی سیکس کہانی ہے، اوکاڑہ کے ایک گاؤں میں سولر لگانے آئے مستری کی کہانی۔
میں ناصر، تیس سال کا، لاہور کی ایک سولر کمپنی میں ٹیکنیشن ہوں۔ کمپنی نے مجھے اس گاؤں بھیجا تھا، زرینہ کے گھر پینل لگانے۔ اس کا شوہر ٹرک ڈرائیور ہے، دس دن سے کراچی کے چکر پر ہے۔ گھر میں وہ اکیلی تھی۔
پینل سنبھل گیا۔ میں نیچے اترا۔ زرینہ کی سانس تیز چل رہی تھی۔ "ڈر گئی تھی؟" میں نے پوچھا۔
"ڈر؟" وہ ہنسی۔ اس کی عمر چونتیس سال تھی، مگر جسم بھرا ہوا، آنکھوں میں شرارت۔ "ڈر تو تم گئے تھے، تمہارا چہرہ دیکھنے والا تھا۔" اس نے میرے بازو پر ہاتھ مارا۔ اس کا ہاتھ نرم اور گرم تھا۔
دوپہر کا کھانا اس نے صحن میں لگایا۔ ساگ، مکئی کی روٹی، لسی۔ وہ میرے سامنے بیٹھی۔ دوپٹہ ایک کندھے پر تھا، دوسری طرف سے اس کا گلا اور سینے کا اوپری حصہ نظر آ رہا تھا۔
"لاہور میں شادی شدہ ہو؟" اس نے پوچھا۔
"نہیں، ابھی کنوارا ہوں۔"
"ہونہہ، تو پھر رات کو کمرے میں اکیلے سوؤ گے؟" اس نے آنکھ ماری۔ "ڈرو گے تو بتا دینا، میں چائے لے آؤں گی۔"
میرے کان گرم ہو گئے۔ "میں ڈرتا نہیں۔"
"مرد سب یہی کہتے ہیں،" وہ ہنسی اور اٹھ کر اندر چلی گئی۔ اس کی چال میں ایک لچک تھی، کولہے ہل رہے تھے۔ میں دیکھتا رہ گیا۔
دوپہر کو وائرنگ کا کام گھر کے اندر تھا۔ اسٹور روم چھوٹا تھا، انورٹر لگانا تھا۔ زرینہ ٹارچ پکڑے کھڑی تھی۔ کمرہ تنگ تھا، ہمارے جسم بار بار ٹکرا رہے تھے۔
ایک بار میں جھکا تو میرا ہاتھ اس کی کمر سے لگا۔ وہ ہلی نہیں۔ میں نے دیکھا، وہ مجھے دیکھ رہی تھی۔
"زرینہ..." میں نے کہا۔
"ہوں؟" اس کی آواز دھیمی تھی۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے ہاتھ نہیں چھڑایا۔ میں اس کے قریب آیا۔ اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملے۔ وہ نرم تھے، گرم تھے۔ اس نے میرا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبایا۔
میرے ہاتھ اس کی کمر پر پھسلے، قمیض کے اندر گھس گئے۔ اس کی جلد نرم تھی، پسینے سے نم۔ میں نے اسے دیوار سے لگایا۔ اس کی سانس تیز ہو گئی۔
"کوئی آ جائے گا،" وہ بولی، مگر اس کے ہاتھ میری قمیض کے بٹن کھول رہے تھے۔
"کون آئے گا؟ گاؤں سو رہا ہے۔"
میں نے اس کی قمیض اوپر کی۔ اس نے برا نہیں پہنی تھی۔ اس کے ممے آزاد ہوئے، بڑے اور نرم۔ میں نے انہیں ہاتھوں میں لیا اور دبایا۔ وہ کراہی۔
میں جھکا اور اس کے نپل منہ میں لیے۔ چوسنے لگا۔ اس نے میرے بال نوچے۔ "آہ... ناصر..." اس کا جسم کانپ رہا تھا۔
میرا ہاتھ نیچے گیا، شلوار کے اندر۔ اس کی ٹانگوں کے بیچ نمی تھی۔ میں نے انگلی سے اس کی چوت کو سہلایا۔ وہ اچھلی۔
"رکو... رکو..." وہ بولی، مگر اس کی ٹانگیں کھل گئیں۔
میری انگلی اس کے اندر گئی۔ گرم، گیلی۔ میں نے آہستہ آہستہ ہلائی۔ اس نے میرا کندھا دانتوں سے کاٹا تاکہ آواز نہ نکلے۔
میں نے دوسری انگلی بھی ڈالی۔ وہ کانپی۔ "ناصر... بس کرو... میں..." اس کا جسم اکڑا، پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ اس کا پانی میری انگلیوں پر بہا۔ وہ ہانپ رہی تھی۔ "یہ... یہ کیا کر دیا تم نے،" وہ بولی، مگر اس کی آنکھوں میں خوشی تھی۔
میں نے انگلیاں نکالیں اور اس کے ہونٹوں پر رکھیں۔ اس نے انہیں چوسا۔ میرا لنڈ شلوار میں تنا ہوا تھا، درد کر رہا تھا۔ اس نے اسے محسوس کیا اور دبایا۔ "صبر کرو مستری، رات ابھی باقی ہے،" وہ بولی۔
باہر گلی میں کسی کے قدموں کی آواز آئی۔ ہم الگ ہوئے۔ اس نے قمیض ٹھیک کی، چہرہ سرخ تھا۔ "رات کو صحن میں چارپائی لگاؤں گی، تاروں والے کمرے کے پاس۔ وہاں کوئی نہیں آتا،" وہ بولی اور چلی گئی۔
شام کو پینل کا کام ختم ہوا۔ ٹیسٹنگ میں بتی جل اٹھی۔ زرینہ تالیاں بجانے لگی۔ "واہ مستری، تم تو جادوگر ہو!" اس کی خوشی دیکھنے والی تھی۔
رات کا کھانا کھا کر میں صحن میں آیا۔ چارپائی لگی تھی، تاروں والے کمرے کے پاس، نیم کے پیڑ کے نیچے۔ آسمان ستاروں سے بھرا تھا۔ زرینہ چائے لے کر آئی۔
"بیٹھو،" وہ بولی اور خود بھی چارپائی پر بیٹھ گئی۔ ہماری رانوں میں فاصلہ نہ تھا۔
چائے پیتے ہوئے اس نے پوچھا، "لاہور میں کوئی لڑکی نہیں؟"
"کام میں وقت ہی نہیں ملتا۔"
"جھوٹ،" وہ ہنسی۔ "تمہاری آنکھیں بتاتی ہیں، تمہیں سب آتا ہے۔" اس کا ہاتھ میری ران پر آیا۔ آہستہ آہستہ اوپر بڑھا۔
میں نے پیالی رکھ دی۔ اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔ اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا۔ وہ بھی برابر جواب دے رہی تھی۔ اس کی زبان میری زبان سے لڑ رہی تھی۔
میں نے اس کی قمیض اتاری۔ چاندنی میں اس کا جسم چمک رہا تھا۔ میں اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا، چوسا، کاٹا۔ وہ کراہتی رہی۔
اس نے میری قمیض اتاری، شلوار کا ازاربند کھولا۔ میرا لنڈ تن کر کھڑا تھا۔ اس نے اسے دیکھا اور ہنس کر ہاتھ میں لے لیا۔
"اتنا بڑا..." وہ بولی اور اسے سہلانے لگی۔
پھر وہ جھکی اور اسے منہ میں لے لیا۔ اس کا منہ گرم تھا۔ زبان گھوم رہی تھی۔ میں نے اس کے بال پکڑے۔ "آہ... زرینہ..."
کچھ دیر بعد میں نے اسے اٹھایا۔ اس کی شلوار اتاری۔ اسے چارپائی پر لٹایا۔ اس کی ٹانگیں کھولیں۔ چاندنی میں اس کی چوت چمک رہی تھی، گیلی۔
میں نے اپنا لنڈ اس کے سوراخ پر رکھا اور ایک دھکے میں اندر کر دیا۔ وہ چلائی، "اوئی امی..." میں نے اس کا منہ ہاتھ سے بند کیا۔
اندر گرم اور تنگ تھا۔ میں نے آہستہ دھکے لگانے شروع کیے، پھر تیز کیے۔ چارپائی چرچرانے لگی۔
میں نے اس کے ممے پکڑے اور دبائے۔ نپل مروڑے۔ اس نے سر پیچھے کیا۔ "اور تیز... اور تیز..." وہ سرگوشی میں بولی۔
میں پوری طاقت سے دھکے لگا رہا تھا۔ ہمارے جسموں کی ٹکر کی آواز صحن میں گونج رہی تھی۔ نیم کے پتے ہل رہے تھے۔
وہ جھڑ گئی، اس کا جسم کانپا۔ اس کا پانی میرے لنڈ پر بہا۔ میں نے بھی اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ ہم ہانپتے ہوئے لیٹے رہے۔ پسینہ بہہ رہا تھا۔
میں اس کے اوپر سے ہٹا اور اس کے پہلو میں لیٹ گیا۔ اس نے میری طرف کروٹ لی۔ "تمہارے ہاتھ بہت گرم ہیں،" وہ بولی۔ "ٹرک والے کے ہاتھ تو ہمیشہ ٹھنڈے رہتے ہیں، ڈیزل کی بو آتی ہے۔"
میں ہنسا۔ "تو اب گرم ہاتھ مل گئے۔"
"ہاں، اور میں انہیں جانے نہیں دوں گی،" اس نے میرا ہاتھ اپنے مموں پر رکھا۔ "یہاں رکھو، ایسے ہی سوؤ۔" میں نے اس کے نپل کو انگلیوں میں گھمایا۔ وہ کراہی اور میری گردن میں منہ چھپا لیا۔
ہم دیر تک ویسے ہی لیٹے رہے۔ اس نے میرے سینے پر سر رکھا۔ "دس دن سے اکیلی ہوں، ناصر۔ ٹرک والا تو مہینے میں چار دن گھر آتا ہے۔ عورت ہوں، میری بھی ضرورتیں ہیں،" وہ بولی۔
"اب میں ہوں نا،" میں نے کہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
اس کی انگلیاں میرے پیٹ پر اتریں۔ میرا لنڈ پھر کھڑا ہونے لگا۔ وہ ہنسی۔ "دیکھو، یہ پھر تیار ہے۔"
وہ میرے اوپر آئی۔ میرا لنڈ اپنی چوت میں ڈال کر آہستہ آہستہ ہلنے لگی۔ چاندنی میں اس کے ممے اچھل رہے تھے۔ میں نے اس کی کمر پکڑی۔
وہ تیز ہوئی۔ اس کے بال بکھرے۔ گلی میں کتا بھونکا، ہم ہنسے۔ اس نے منہ دبا کر جاری رکھا۔
ہم ایک ساتھ جھڑے۔ وہ میرے اوپر گر گئی۔ "بس، اب سو جاؤ،" وہ ہانپتے ہوئے بولی۔ ہم چارپائی پر ہی سو گئے، ایک چادر میں۔
صبح اذان سے پہلے وہ اٹھی۔ "اٹھو، کوئی دیکھ لے گا،" وہ بولی۔ ہم الگ ہوئے۔ وہ اندر چلی گئی۔
ناشتے پر وہ عام تھی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر جب میں برتن رکھنے اندر گیا تو وہ بولی، "مستری دوپہر تک ہے، پھر چلا جائے گا۔"
میں نے اسے باورچی خانے میں ہی پکڑ لیا۔ اسے چولہے کے پاس دیوار سے لگایا۔ شلوار نیچے کی۔ پیچھے سے اس میں گھس گیا۔
برتن کھڑکھڑائے۔ اس نے منہ دبا کر کراہا۔ "آہستہ... آواز..." مگر اس کے کولہے میری طرف دھکیل رہے تھے۔
میں نے تیز دھکے لگائے۔ اس کی آنکھیں پھر گئیں۔ تیسری بار وہ جھڑی۔ میرا پانی اس کی رانوں پر بہا۔ اس نے دوپٹے سے پونچھا۔
وہ مڑی اور مجھے دیکھا۔ "ناصر، ایک بات کہوں؟" اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ "آج سے پہلے میں نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا۔ ٹرک والا تو آتا ہے، کام کرتا ہے، سو جاتا ہے۔ تم نے تو مجھے عورت ہونا یاد دلا دیا۔"
میں نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔ "تم بہت خوبصورت ہو، زرینہ۔"
"جھوٹے،" وہ ہنسی، مگر اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ "چلو، اب نکلو، کوئی آ جائے گا۔" اس نے مجھے دھکیلا، مگر جانے سے پہلے میرے ہونٹوں پر ایک لمبا بوسہ دیا۔
دوپہر کو کام ختم۔ میں سامان باندھ رہا تھا۔ وہ صحن میں کھڑی تھی۔
"پھر کب آؤ گے؟" اس نے پوچھا۔
"کمپنی جب بھیجے گی۔"
"کمپنی کو میں فون کر دوں گی، کہوں گی پینل میں خرابی ہے،" وہ آنکھ مار کر بولی۔ "مستری کو آنا پڑے گا۔"
میں ہنسا۔ اس نے میرے ہاتھ میں ایک پرچی تھمائی۔ "میرا نمبر، رات کو کرنا۔" پھر وہ اندر چلی گئی، مڑ کر ایک بار دیکھا اور مسکرائی۔
Readers who enjoyed “نئی اردو گاؤں کی سیکس کہانی: لاہور سے آیا سولر مستری” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔