Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو ننگی کہانی: لکھنؤ کی بوتیک والی شام

N
13 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

مہنور نے بھاری ڈبہ دونوں بازوؤں میں سنبھالا اور سیڑھیاں چڑھنے لگی، اس کے قدموں کی آہٹ پرانے مکان کی سیڑھیوں میں گونج رہی تھی اور اسے ذرا اندازہ نہیں تھا کہ یہ اردو ننگی کہانی آج کی شام سے اس کی اپنی زندگی بن جائے گی۔ ڈبے میں نئے سوٹوں کے نمونے تھے اور اس کی بوتیک کے لیے رنگ برنگے دوپٹے تھے، اور وزن اس کے بازوؤں کو تھکا رہا تھا۔ اوپر کی منزل سے ارحم نیچے آ رہا تھا، اس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا اور اس کی نظر پہلے ڈبے پر پڑی، پھر مہنور کے چہرے پر۔ اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ڈبہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور مسکرا کر بولا، تم یہ سب اکیلی کیوں اٹھا رہی ہو، نیچے سے آواز دے دیا کرو۔

مہنور نے سانس لی اور اس کی طرف دیکھا، ارحم انتیس سال کا تھا، لمبا قد، گہری آنکھیں، اور اس کے بالوں میں ہلکی سی لہر تھی جو اسے فوٹوگرافر سے زیادہ کسی فلم کے ہیرو جیسا بناتی تھی۔ وہ تین مہینے سے اوپر والے فلیٹ میں رہ رہا تھا اور مہنور نے اس سے پہلے کبھی اتنی دیر بات نہیں کی تھی، بس سیڑھیوں پر سلام دعا ہو جاتی تھی۔ آج ڈبے کے بہانے بات لمبی ہو گئی اور مہنور کو لگا کہ اس کی آواز میں ایک ایسی گرمجوشی ہے جو اس نے مہینوں سے نہیں سنی تھی۔ اس کا شوہر عمران دبئی میں تھا اور گھر کی خاموشی اکثر رات کو اسے کاٹنے لگتی تھی۔

ارحم نے ڈبہ اس کے فلیٹ کے دروازے تک پہنچایا اور مہنور نے شکریے میں چائے کی پیشکش کر دی، اس نے سوچا کہ یہ صرف اخلاق ہے اور کچھ نہیں۔ ارحم نے کیمرہ صوفے کے پاس رکھا اور چائے کی خوشبو کمرے میں پھیلنے لگی، اور مہنور کو احساس ہوا کہ وہ آج آئینے کے سامنے کچھ زیادہ دیر رکی تھی۔ اس نے نیلی قمیص پہنی تھی جس کی آستینیں کہنیوں تک تھیں اور دوپٹہ اس نے کندھے پر ڈالا تھا، مگر گھر میں وہ اکثر دوپٹہ اتار دیتی تھی۔ آج اس نے دوپٹہ نہیں اتارا، پھر بھی ارحم کی نظریں بار بار اس کے ہاتھوں اور اس کے چہرے پر ٹھہر رہی تھیں۔

چائے پیتے ہوئے ارحم نے اس کی بوتیک کی تعریف کی اور کہا کہ اس نے کبھی کسی دکان کی تصویریں اتنی دلچسپی سے نہیں کھینچی ہیں۔ مہنور نے ہنس کر کہا کہ تصویریں کھینچنا تو تمہارا کام ہے، میرا کام کپڑے بیچنا ہے۔ ارحم نے جواب دیا کہ کپڑے تو بہانہ ہیں، اصل کہانی تو پہننے والی کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ مہنور کی ہنسی ایک لمحے کو رک گئی، اس جملے نے اس کے اندر کچھ ہلا دیا تھا۔ اس نے چائے کا کپ نیچے رکھا اور ارحم کی طرف دیکھا، اور ارحم نے بھی اپنی نظریں نہیں ہٹائیں۔

کمرے میں خاموشی پھیل گئی اور مہنور کو اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دینے لگی۔ ارحم نے آہستہ سے کہا، مہنور، میں تمہیں تین مہینے سے دیکھ رہا ہوں، سیڑھیوں پر، چھت پر، دکان کے باہر، اور ہر بار مجھے لگتا ہے کہ تم بہت تنہا ہو۔ مہنور نے پہلے انکار کرنا چاہا، مگر اس کی زبان نے ساتھ نہیں دیا۔ اس نے سچ بول دیا کہ تنہائی تو ہے، عمران کے جانے کے بعد گھر بس ایک مکان رہ گیا ہے۔ ارحم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پہلے ہلکے سے، پھر مضبوطی سے، اور مہنور نے اپنا ہاتھ واپس نہیں کھینچا۔

ارحم نے اس کے ہاتھ کی پشت کو چوما اور مہنور کی سانس تیز ہو گئی، اس کے جسم میں ایک ایسی گرمی دوڑ گئی جو اس نے مہینوں سے محسوس نہیں کی تھی۔ اس نے ارحم کی طرف قدم بڑھایا اور ارحم نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا، اس کی قمیص کی خوشبو مہنور کی سانسوں میں اتر گئی۔ مہنور نے اس کے سینے پر سر رکھا اور اس کے دل کی دھڑکن سنی، اور اسے لگا کہ یہ دھڑکن اس کی اپنی دھڑکن سے مل رہی ہے۔ ارحم نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اس کے کان کے پاس سرگوشی کی کہ تم بہت خوبصورت ہو۔

مہنور نے سر اٹھایا اور ارحم کے ہونٹوں کو دیکھا، اور پھر اس نے خود اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ یہ بوسہ پہلے نرم تھا، پھر گہرا ہو گیا، اور ارحم نے اس کی کمر کو اپنے قریب کھینچ لیا۔ مہنور کی زبان نے اس کی زبان سے ملاقات کی اور دونوں کے جسم ایک دوسرے سے چپک گئے۔ مہنور نے محسوس کیا کہ اس کی قمیص کے نیچے اس کا جسم کانپ رہا ہے، اور ارحم نے اس کانپنے کو اپنے ہاتھوں کی گرمی سے تھام لیا۔ اس نے اس کے بازوؤں کو سہلایا، اس کی گردن کو چوما، اور مہنور نے ایک لمبی سانس کے ساتھ اپنا سر پیچھے کر دیا۔

ارحم نے اس کی قمیص کے بٹن ایک ایک کر کے کھولنے شروع کیے اور مہنور نے اسے روکا نہیں، اس نے بس اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اس کے ہاتھوں کی حرکت کو محسوس کیا۔ جب قمیص کھلی تو ارحم نے اس کے سینے کو دیکھا اور اس کی آنکھوں میں تعریف تھی، اس نے مہنور کے سینے کو دونوں ہاتھوں سے تھاما اور نرمی سے دبایا۔ مہنور نے ایک آہ بھری اور اس کے نپل سخت ہو گئے، ارحم نے ایک کو اپنے منہ میں لیا اور زبان سے چھیڑا، اور مہنور کی انگلیاں اس کے بالوں میں الجھ گئیں۔ وہ بار بار اس کا نام لے رہی تھی اور ارحم ہر بار اس کے سینے کو اور زیادہ پیار سے چوم رہا تھا۔

مہنور نے ارحم کی قمیص اتارنے میں اس کی مدد کی اور اس کے ننگے سینے پر اپنے ہاتھ پھیرے، اس کے سینے کے بال اس کی ہتھیلیوں میں چبھ رہے تھے اور اسے یہ احساس اچھا لگ رہا تھا۔ ارحم نے اس کی شلوار کی ڈوری کھولی اور مہنور نے خود شلوار نیچے سرکا دی، اب وہ صرف اپنی چھوٹی سی چڈی میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔ ارحم نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کی رانوں کو چوما، اس کی رانوں کی نرمی اور گرمی نے اسے پاگل کر دیا۔ مہنور نے اس کے سر کو پکڑا اور اسے اپنے قریب کھینچا، اور ارحم نے اس کی چڈی کے اوپر سے اس کی چوت کو چوما۔

مہنور کی چوت گیلی ہو چکی تھی اور اس کی چڈی کا کپڑا اس سے چپک گیا تھا۔ ارحم نے چڈی ایک طرف سرکائی اور اپنی زبان اس کی چوت پر پھیر دی، مہنور نے ایک تیز چیخ کے ساتھ اپنا سر پیچھے کر دیا۔ اس کی زبان نے اس کے دانے کو چھیڑا، کبھی نرمی سے، کبھی تیزی سے، اور مہنور کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے ارحم کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑا اور اس کی کمر کو آگے دھکیلا، اور ارحم نے اس کی چوت کے اندر اپنی زبان گہرائی تک ڈال دی۔ مہنور کا جسم لرز رہا تھا اور اس کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔

جب مہنور کا پہلا عروج قریب آیا تو ارحم نے رک کر اسے اٹھایا اور صوفے پر لٹا دیا، اس کی ٹانگیں کھولیں اور خود اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دباؤ ڈالا، مہنور نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اندر کھینچا۔ اس کا لنڈ موٹا اور لمبا تھا اور مہنور کی چوت نے اسے کس کر پکڑ لیا، دونوں نے ایک ساتھ آہ بھری۔ ارحم نے پہلے آہستہ آہستہ دھکے لگائے، پھر رفتار بڑھا دی، اور مہنور کی چوت سے گیلی آوازیں آنے لگیں۔

مہنور نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور ہر دھکے کے ساتھ اسے اور اندر کھینچنے لگی، اس کے ناخن اس کی پیٹھ پر نشان چھوڑ رہے تھے۔ ارحم نے اس کے سینے کو چومتے ہوئے دھکے جاری رکھے اور مہنور نے اس کے کان میں کہا، اور تیز، اور گہرا۔ ارحم نے اس کی بات مانی اور اس کی چوت میں اپنا پورا لنڈ اتار دیا، مہنور نے ایک لمبی چیخ کے ساتھ اپنا جسم اکڑایا اور اس کا پانی نکل گیا۔ اس کی چوت نے ارحم کے لنڈ کو بار بار کسا اور ارحم نے بھی اپنی رفتار اور تیز کر دی۔

ارحم نے مہنور کو گود میں اٹھایا اور بیڈ روم تک لے گیا، راستے میں بھی اس کا لنڈ اس کی چوت میں ہی رہا اور ہر قدم کے ساتھ مہنور کو ایک نیا جھٹکا لگ رہا تھا۔ بستر پر اس نے مہنور کو الٹا لٹایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا، مہنور نے تکیے کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنی کمر کو اوپر اٹھایا۔ ارحم نے اس کی کولہوں کو پکڑا اور تیز دھکے لگائے، مہنور کی چیخیں اب بے قابو ہو گئی تھیں۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور بستر کی چادر گیلی ہو رہی تھی۔

ارحم نے اس کی پیٹھ کو چوما اور اس کے بالوں کو ایک طرف کیا، اور مہنور نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں خواہش تھی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ ارحم نے اس کی کمر کو سہلایا اور دھکوں کی رفتار کو کبھی تیز کیا، کبھی آہستہ، اور مہنور ہر بار اس کے ساتھ تال ملا رہی تھی۔ جب ارحم کا عروج قریب آیا تو اس نے مہنور کو سیدھا کیا اور اس کے سینے پر اپنا منہ رکھ دیا، اور مہنور نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں محسوس کرتے ہوئے کہا کہ اندر ہی نکالو۔ ارحم نے ایک زور دار دھکے کے ساتھ اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا اور دونوں ایک ساتھ بستر پر گر گئے۔

دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے پڑے رہے اور کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی۔ مہنور نے ارحم کے سینے پر سر رکھا اور اس کے دل کی دھڑکن سنی، اور ارحم نے اس کے ماتھے کو چوما۔ مہنور نے دھیرے سے کہا کہ اس نے اتنا سکون مہینوں سے محسوس نہیں کیا تھا، اور ارحم نے جواب دیا کہ وہ بھی اس شام کو کبھی نہیں بھولے گا۔ مہنور نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرائی، اور ارحم نے اس کی مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں سے چوم لیا۔

کچھ دیر بعد مہنور نے چائے بنانے کی بات کی، مگر ارحم نے اسے روک لیا اور کہا کہ چائے بعد میں، پہلے ایک اور بار۔ مہنور نے ہنس کر اسے دھکا دیا، مگر اس کی آنکھوں میں بھی وہی خواہش تھی۔ ارحم نے اسے دوبارہ اپنے نیچے لٹایا اور اس کی چوت کو اپنی انگلیوں سے چھیڑا، مہنور کی چوت ابھی تک گیلی تھی اور اس کی انگلیاں آسانی سے اندر چلی گئیں۔ اس نے دو انگلیاں اندر ڈالیں اور اندر کی دیواروں کو سہلایا، مہنور نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور اس کے ہاتھ کو اپنے اندر محسوس کیا۔

ارحم نے اس کی چوت کو چوما اور اس کا پانی پیا، مہنور نے اس کے سر کو پکڑا اور اپنی کمر کو اوپر اٹھایا۔ اس بار مہنور نے ارحم کو نیچے لٹایا اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئی، اس نے اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنی چوت کے منہ پر رکھا، پھر آہستہ سے نیچے بیٹھ گئی۔ اس کا لنڈ اس کی چوت میں گہرائی تک اتر گیا اور مہنور نے اپنی کمر کو آگے پیچھے ہلانا شروع کیا۔ ارحم نے اس کے سینے کو پکڑا اور اس کے نپل کو چوما، اور مہنور کی رفتار تیز ہوتی گئی۔

مہنور نے اپنے ہاتھ ارحم کے سینے پر رکھے اور اس کے اوپر اچھلنے لگی، اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو ہر بار کس کر پکڑا اور چھوڑا۔ ارحم نے اس کی کولہوں کو پکڑا اور اسے اوپر نیچے کرنے میں مدد کی، اور مہنور کی چیخیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ جب مہنور کا دوسرا عروج آیا تو اس نے اپنا جسم اکڑایا اور اس کا پانی ارحم کے لنڈ پر بہہ گیا، اور ارحم نے بھی اسی لمحے اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مضبوطی سے پکڑا اور ایک ساتھ آہ بھری۔

رات گہری ہو گئی تھی اور باہر گلی کی روشنیاں مدھم ہو گئی تھیں، مہنور اور ارحم بستر پر ایک دوسرے سے لپٹے تھے۔ مہنور نے ارحم سے کہا کہ اسے ڈر ہے کہ یہ سب غلط تو نہیں، اور ارحم نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا کہ جو چیز دو بالغ لوگوں کو خوشی دے، وہ غلط نہیں ہو سکتی۔ مہنور نے اس کی بات سن کر سکون محسوس کیا اور اس کے سینے سے لگ گئی۔ ارحم نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور کہا کہ وہ کل بھی یہیں ہو گا، اوپر والے فلیٹ میں، اور مہنور جب چاہے سیڑھیاں چڑھ کر آ سکتی ہے۔

مہنور نے اسے دیکھا اور کہا کہ کل اس کی بوتیک میں نئے سوٹوں کی نمائش ہے اور وہ سارا دن مصروف رہے گی۔ ارحم نے مسکرا کر کہا کہ نمائش کے بعد شام کو وہ پھر ڈبہ اٹھانے آ جائے گا۔ مہنور ہنس پڑی اور اس کے سینے پر مکا مارا، اور ارحم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا۔ دونوں نے کپڑے پہنے اور ارحم سیڑھیاں چڑھ کر اپنے فلیٹ میں چلا گیا، اور مہنور دروازے پر کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور آئینے میں خود کو دیکھا، اس کے چہرے پر ایک ایسی چمک تھی جو مہینوں سے غائب تھی۔ اس نے دھیرے سے کہا، کل شام پھر ملیں گے۔

🔒 Bonus Scene locked

اگلی صبح بوتیک میں ایک نیا سوٹ ٹرائل کرنا تھا، اور ارحم دروازے پر کھڑا تھا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو ننگی کہانی: لکھنؤ کی بوتیک والی شام” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views