اردو سیکس کہانی پڑھیں: حیدرآباد کی رات والی ملاقات
اردو سیکس کہانی پڑھیں اور حیدرآباد کی اس رات میں داخل ہو جائیں جہاں دانیال پہلی بار عائشہ کے دروازے پر آیا تھا۔ رات کے نو بجے تھے، عائشہ نے کیک کا آرڈر دیا تھا، اور دروازے کی گھنٹی بجی تو وہ باورچی خانے سے بھاگتی ہوئی آئی۔ دروازہ کھلا تو سامنے ایک لمبا، گندمی رنگ کا نوجوان کھڑا تھا، اس کے ہاتھ میں کیک کا ڈبہ تھا اور اس کی آنکھیں عائشہ کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
عائشہ نے مسکرا کر ڈبہ لیا اور پیسے دینے کے لیے اندر مڑی۔ دانیال نے کہا کہ بارش ہونے والی ہے، اس کی بائیک کا ٹائر بھی کمزور ہے، اس لیے وہ تھوڑی دیر رک کر چائے پی سکتا ہے۔ عائشہ نے ایک لمحہ سوچا، پھر اسے اندر بلا لیا۔ اس کا شوہر دبئی میں تھا، گھر میں صرف وہ اور اس کی بلی تھی، اور رات کی خاموشی اسے اکثر کھا جاتی تھی۔
دانیال صوفے پر بیٹھا اور چائے کی چسکیاں لینے لگا۔ اس نے عائشہ کے ہاتھ کے بنے کیک کی تعریف کی، کہا کہ اس نے آج تک ایسا نرم کیک نہیں کھایا۔ عائشہ ہنس پڑی، اس کی ہنسی میں ایک عرصے بعد کی خوشی تھی۔ دانیال نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ وہ روز اس گلی میں آرڈر لے کر آتا ہے، پر آج پہلی بار کسی گھر میں چائے ملی ہے۔
باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ عائشہ نے بتایا کہ وہ پہلے ایک اسکول میں پڑھاتی تھی، پھر گھر سے کیک بنانے لگی۔ دانیال نے بتایا کہ وہ دن میں ڈیلیوری کرتا ہے اور رات کو کالج کی پڑھائی کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے دو اجنبی نہیں، دو پرانے دوست بیٹھے ہوں۔
دانیال نے چائے کا کپ رکھا اور کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ اسے جانا چاہیے، پر اس کے قدم دروازے کی طرف نہیں بڑھے۔ عائشہ اس کے سامنے کھڑی تھی، اس کی سانسیں تیز تھیں۔ دانیال نے اس کا ہاتھ تھاما اور آہستہ سے کہا کہ وہ اسے دیکھ کر رک نہیں پایا۔ عائشہ نے اس کا ہاتھ نہیں چھڑایا، بلکہ اسے اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔
دانیال نے عائشہ کو اپنے قریب کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، دوسرا گہرا۔ عائشہ نے اس کی گردن میں بازو ڈال دیے اور اس کے سینے سے لگ گئی۔ دانیال کی انگلیاں اس کی کمر پر چل رہی تھیں، اور ہر لمس پر عائشہ کا بدن کانپ اٹھتا تھا۔
عائشہ نے دانیال کو بیڈ روم کی طرف کھینچا۔ اس نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر اپنا چہرہ رکھ دیا۔ دانیال نے اس کی قمیض اوپر اٹھائی اور اس کے پیٹ پر بوسے دینے لگا۔ عائشہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں اور اس کا نام سرگوشی میں لیا۔
دانیال نے عائشہ کو بستر پر لٹایا اور اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے اس کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لیا، انہیں دبایا، اور اس کے نپل کو اپنے منہ میں لے لیا۔ عائشہ نے اس کی پیٹھ کو اپنے ناخنوں سے کھروچا اور اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ دانیال کی زبان اس کے جسم پر آہستہ آہستہ نیچے بڑھ رہی تھی۔
عائشہ نے دانیال کا سر اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اسے نیچے کی طرف دھکیلا۔ دانیال نے اس کی شلوار اتاری اور اس کی چوت کو اپنی زبان سے چاٹنے لگا۔ عائشہ نے چادر کو مٹھیوں میں بھینچ لیا اور اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی، اور دانیال کی زبان ہر کونے کو چھو رہی تھی۔
دانیال نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اس کی چوت میں اپنی انگلیاں داخل کر دیں۔ عائشہ کا بدن کمان کی طرح مڑ گیا، اس نے زور سے دانیال کا نام لیا اور اپنا پانی چھوڑ دیا۔ دانیال نے اس کے پانی کو چاٹا اور پھر اس کے اوپر آ کر اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔
عائشہ نے دانیال کے لن کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ وہ سخت اور گرم تھا۔ اس نے اسے سہلایا، پھر اپنے منہ میں لے لیا۔ دانیال نے اس کے بال پکڑ لیے اور آہستہ آہستہ اس کے منہ میں دھکیلنے لگا۔ عائشہ کی زبان اس کے لن کے گرد گھوم رہی تھی، اور دانیال کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔
دانیال نے عائشہ کو پلٹ کر گھٹنوں پر کیا۔ اس نے پیچھے سے اس کی کمر پکڑی اور اپنا لن اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ ایک ہی دھکے میں وہ اندر چلا گیا۔ عائشہ نے زور سے آہ بھری اور اپنے کولہوں کو پیچھے دھکیلا۔ دانیال کے دھکے تیز اور گہرے ہو گئے، بستر ہلنے لگا۔
عائشہ نے پیچھے مڑ کر دانیال کو دیکھا اور کہا کہ اور تیز کرے۔ دانیال نے اس کی بات مان لی، اس کے دھکے اب اتنے تیز تھے کہ عائشہ کی چیخیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ اس کی چوت سے پانی بہنے لگا، اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ دانیال نے اس کے بال کھینچ کر اس کا چہرہ اوپر کیا اور اس کے کان میں کہا کہ وہ اس کی ہے۔
دانیال نے عائشہ کو سیدھا لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس نے ایک زوردار دھکے کے ساتھ پھر اندر داخل ہوا۔ عائشہ نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے کھروچا اور چلا کر اپنا پانی چھوڑ دیا۔ اس کی چوت نے دانیال کے لن کو کس کر جکڑ لیا۔
دانیال نے کچھ اور گہرے دھکے لگائے اور پھر اپنا پانی اس کی چوت کے اندر ہی چھوڑ دیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ عائشہ نے دانیال کے سینے پر سر رکھا اور اس کی دھڑکنیں سنیں۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی، اور باہر حیدرآباد کی رات جاگ رہی تھی۔
کچھ دیر بعد دانیال نے کپڑے پہنے اور دروازے کی طرف بڑھا۔ عائشہ نے اسے روکا اور کہا کہ کل پھر آئے، اس بار کیک کا آرڈر نہیں، صرف چائے کا بہانہ ہوگا۔ دانیال نے مسکرا کر اس کے ماتھے کو چوما اور کہا کہ وہ کل رات نو بجے پھر اسی دروازے پر ہوگا۔
اگلی رات دانیال ٹھیک نو بجے آیا، اس بار اس کے ہاتھ میں کوئی ڈبہ نہیں تھا۔ عائشہ دروازے پر پہلے سے کھڑی تھی، اس نے اسے اندر کھینچا اور دروازہ بند کر دیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے، کیونکہ اب کوئی بہانہ باقی نہیں تھا، صرف دو دل تھے جو ایک دوسرے کے لیے دھڑک رہے تھے۔
عائشہ نے دانیال کا ہاتھ تھاما اور اسے بیڈ روم میں لے گئی۔ اس نے اسے بستر پر دھکیلا اور اس کے اوپر آ گئی۔ دانیال نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ عائشہ نے اس کی گردن کو چوما، اس کے کان میں سرگوشی کی، اور آہستہ آہستہ اس کے لن کو اپنے ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی۔
دانیال نے عائشہ کی شلوار اتاری اور اس کی چوت کو اپنی انگلیوں سے چھوا۔ وہ گیلی تھی، اور اس کی انگلیاں آسانی سے اندر پھسل گئیں۔ عائشہ نے اس کے کندھے پر سر رکھا اور دھیرے دھیرے کراہنے لگی۔ دانیال نے اسے اپنے اوپر بٹھایا اور اپنا لن اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ عائشہ نے آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ کر اسے پورا اندر لے لیا۔
عائشہ اوپر نیچے ہونے لگی، اس کی رفتار پہلے دھیمی تھی، پھر تیز ہوتی گئی۔ دانیال نے اس کی کمر پکڑی اور نیچے سے دھکے لگانے لگا۔ دونوں کی سانسیں ایک ہو گئیں، عائشہ کی چیخیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ اس نے دانیال کے سینے پر اپنے ناخن گاڑ دیے اور چلا کر اپنا پانی چھوڑ دیا۔
دانیال نے عائشہ کو پلٹ کر اپنے نیچے لیا اور پھر زوردار دھکوں کے ساتھ اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔ دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ عائشہ نے دانیال کے ماتھے کو چوما اور کہا کہ دوسری رات پہلی رات سے بھی زیادہ خوبصورت تھی۔
عائشہ نے دانیال کو باورچی خانے میں لے جا کر اپنے ہاتھ کا بنا ہوا حلوہ کھلایا۔ دانیال نے اس کے ہاتھ کو چوما اور کہا کہ اس کے ہاتھ میں جادو ہے۔ عائشہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ جادو اس کے ہاتھ میں نہیں، اس کی محبت میں ہے۔ دونوں کی ہنسی باورچی خانے میں گونج اٹھی۔
رات گئے تک دونوں بالکونی میں بیٹھے رہے، حیدرآباد کی روشنیاں نیچے جھلملا رہی تھیں۔ دانیال نے عائشہ کا ہاتھ تھاما اور کہا کہ وہ اس رات کو کبھی نہیں بھولے گا جب ایک کیک کا آرڈر اسے اس کے گھر لے آیا تھا۔ عائشہ نے اس کا ہاتھ دبایا اور کہا کہ اب یہ دروازہ اس کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا دیے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ ہر رات نو بجے ایک نئی شروعات ہوگی، ایک نئی چائے، ایک نیا بوسہ، اور ایک نئی رات جو صرف ان دونوں کی ہوگی، ایک ایسی رات جس میں کوئی جلدی نہیں ہوگی، کوئی بہانہ نہیں ہوگا، صرف دو دل ہوں گے جو ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہیں۔
اگلی صبح عائشہ نے دانیال کے لیے ناشتہ بنایا، پراٹھے اور آملیٹ کی خوشبو پورے گھر میں پھیل گئی۔ دانیال نے اسے پیچھے سے گلے لگایا اور اس کی گردن پر بوسہ دیا۔ عائشہ نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے میز پر بٹھایا۔ دونوں نے ایک ساتھ ناشتہ کیا، اور ہر لقمے کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے رہے۔
ناشتے کے بعد دانیال نے عائشہ کو دیوار سے ٹکا دیا اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔ عائشہ نے اس کی شرٹ کے اندر ہاتھ ڈالا اور اس کے سینے کو سہلایا۔ دانیال نے اس کی قمیض اوپر اٹھائی اور اس کے مموں کو دبایا۔ عائشہ کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے دانیال کی کمر میں بازو ڈال دیے۔
دانیال نے اس کی شلوار نیچے سرکائی اور اپنا لن اس کی چوت میں داخل کر دیا۔ عائشہ نے اس کی گردن میں منہ چھپا لیا اور دھیرے دھیرے کراہنے لگی۔ دانیال کے دھکے دھیمے پر گہرے تھے، اور ہر دھکے کے ساتھ عائشہ کا بدن اس کے ساتھ ہلتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دونوں نے ایک ساتھ اپنا پانی چھوڑ دیا اور ایک دوسرے سے لپٹ کر کھڑے رہے۔
عائشہ نے دانیال کے ماتھے کو چوما اور کہا کہ صبح کا یہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ ہے۔ دانیال نے مسکرا کر کہا کہ اب ہر صبح اسی طرح شروع ہوگی، ایک بوسے سے، ایک گلے سے، اور ایک ایسی رات کی یاد سے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔
دانیال جب گھر سے نکلا تو عائشہ دروازے پر کھڑی اسے دیکھتی رہی، جب تک اس کی بائیک گلی کے موڑ پر غائب نہ ہو گئی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا، اس کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جو مہینوں سے غائب تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، جنہوں نے ابھی ابھی دانیال کو چھوا تھا، اور دل ہی دل میں سوچا کہ زندگی کبھی کبھی ایک چھوٹے سے آرڈر سے بھی بدل جاتی ہے۔
Readers who enjoyed “اردو سیکس کہانی پڑھیں: حیدرآباد کی رات والی ملاقات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔