اردو ڈرائیور کی کہانی: خواب والی رات شازیہ کی چدائی
یہ اردو ڈرائیور کی کہانی دلی کی ایک گرمی کی رات سے شروع ہوتی ہے، جہاں شازیہ اپنے کمرے میں سو رہی تھی اور اس نے ایک خواب دیکھا جس میں اس کا ڈرائیور عمران اس کے بہت قریب آ گیا تھا۔ خواب میں عمران نے شازیہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور اس کے کان میں کہا تھا کہ میڈم، آج آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔ شازیہ خواب میں ہی مسکرا دی تھی اور اس نے عمران کا ہاتھ پیچھے نہیں ہٹایا تھا۔ صبح جب شازیہ کی آنکھ کھلی تو اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ خواب نے اسے اتنا بے چین کیوں کر دیا ہے۔
شازیہ تیس سال کی تھی، دلی میں ایک دفتر میں کام کرتی تھی اور اکیلی رہتی تھی، اس کی طلاق کو دو سال ہو چکے تھے۔ عمران پینتیس سال کا تھا، پچھلے ایک سال سے اس کا ڈرائیور تھا اور روز صبح اسے دفتر لے جاتا تھا۔ دونوں کے درمیان ہمیشہ ایک احترام کی دیوار رہی تھی، شازیہ اسے آپ کہہ کر بلاتی تھی اور عمران اسے میڈم کہتا تھا۔ لیکن اس خواب کے بعد شازیہ کو عمران کی ہر بات میں ایک نئی گرمی محسوس ہونے لگی تھی۔
اس دن شام کو دفتر سے واپسی پر شازیہ کی گاڑی خراب ہو گئی اور عمران نے کہا کہ میڈم، آج آپ کو گھر چھوڑنے میں دیر ہو جائے گی۔ شازیہ نے کہا کہ کوئی بات نہیں، تم آرام سے چلاؤ۔ راستے میں بارش کی بوندیں شیشے پر گرنے لگیں اور عمران نے شیشہ اوپر کر دیا۔ شازیہ نے آئینے میں عمران کو دیکھا اور اسے خواب والی بات یاد آ گئی، اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ عمران نے پوچھا کہ میڈم مسکرا کیوں رہی ہیں، شازیہ نے کہا کہ بس یونہی، ایک پرانی بات یاد آ گئی۔
گھر پہنچ کر شازیہ نے عمران سے کہا کہ ایک کپ چائے پی کر جاؤ، بارش میں بھیگے ہوئے ہو۔ عمران نے پہلے انکار کیا، پھر شازیہ کے اصرار پر اندر آ گیا۔ چائے بناتے ہوئے شازیہ نے دیکھا کہ عمران کی قمیض گیلی ہو کر اس کے جسم سے چپک گئی ہے۔ شازیہ نے اسے ایک تولیہ دیا اور کہا کہ قمیض بدل لو، ورنہ سردی لگ جائے گی۔ عمران نے قمیض اتاری تو شازیہ کی نظر اس کے سینے پر ٹھہر گئی اور وہ جلدی سے نظریں ہٹا کر چائے کی طرف مڑ گئی۔
چائے پیتے ہوئے دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی، صرف بارش کی آواز آ رہی تھی۔ شازیہ نے اچانک کہا کہ عمران، تم نے کبھی کوئی خواب دیکھا ہے جو صبح تک دل میں رہ جائے۔ عمران نے کہا کہ ہاں میڈم، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔ شازیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ میں نے بھی آج ایسا ہی ایک خواب دیکھا تھا۔ عمران نے چائے کا کپ نیچے رکھ دیا اور شازیہ کے قریب آ گیا۔
عمران نے شازیہ کو دیوار سے لگا دیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ آہستہ تھا، پھر شازیہ نے اس کے نچلے ہونٹ کو ہلکا سا کاٹا تو عمران نے اسے اپنی باہوں میں کھینچ لیا۔ شازیہ کی قمیض کے بٹن کھلنے لگے اور عمران کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر پھسلنے لگے۔ شازیہ نے عمران کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا اور اس کے سینے کو سہلایا تو عمران کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
عمران نے شازیہ کی قمیض اتار دی اور اس کی برا کے اوپر سے اس کے مموں کو دبایا۔ شازیہ نے سسکی لی اور کہا کہ آہستہ نہیں، آج آہستہ نہیں۔ عمران نے اس کی برا کھول دی اور اس کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چومنے لگا۔ شازیہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اپنی گردن پیچھے جھکا دی۔ عمران نے اس کے نپل کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور ہلکا سا چوسا تو شازیہ کا بدن کانپ اٹھا۔
شازیہ نے عمران کی بیلٹ کھولی اور اس کا لن اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ عمران کا لن پوری طرح سخت تھا اور شازیہ نے اسے آہستہ آہستہ سہلایا۔ عمران نے شازیہ کی شلوار کی ڈوری کھولی اور اس کی پینٹی کے اوپر سے اس کی چوت کو سہلایا۔ شازیہ کی چوت پہلے سے گیلی تھی اور عمران کی انگلی کے چھوتے ہی وہ اور بھیگ گئی۔ شازیہ نے کہا کہ اب اور انتظار نہیں ہوتا، بیڈ پر چلو۔
بیڈ پر شازیہ نے اپنی پینٹی اتار دی اور ٹانگیں پھیلا دیں۔ عمران نے اس کی چوت کو اپنے ہونٹوں سے چوما اور اپنی زبان سے اسے چاٹا۔ شازیہ نے چادر کس کر پکڑ لی اور اپنی کمر اوپر اٹھا دی۔ عمران نے زبان اندر تک ڈالی اور گھمائی تو شازیہ کی سسکاریاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ شازیہ نے کہا کہ بس، اب اندر ڈالو، میں اور نہیں سہہ سکتی۔
عمران بیڈ پر چڑھا اور اپنا لن شازیہ کی چوت کے منہ پر رکھا۔ اس نے آہستہ سے دھکا دیا اور شازیہ کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ شازیہ کو طلاق کے بعد کسی کے ساتھ ہونا پہلی بار جیسا ہی لگ رہا تھا۔ عمران نے ایک اور دھکا دیا اور اس کا لن پوری طرح شازیہ کی چوت میں سما گیا۔ شازیہ نے عمران کی پیٹھ پر اپنے ناخن گاڑ دیے اور کہا کہ ہاں، ایسے ہی۔
عمران نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے اور شازیہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر پر لپیٹ لیں۔ ہر دھکے کے ساتھ بیڈ ہل رہا تھا اور دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں گھل رہی تھیں۔ شازیہ نے عمران کے ہونٹ چومے اور کہا کہ تمہاری ہر حرکت میں وہی خواب والی نرمی ہے۔ عمران نے رفتار بڑھائی اور شازیہ کی چوت سے گیلا پن اور بھی بڑھ گیا۔
کچھ دیر بعد عمران نے شازیہ کو پلٹایا اور اسے گھٹنوں کے بل کر دیا۔ اس نے پیچھے سے شازیہ کی چوت میں اپنا لن ڈالا اور اس کی کمر پکڑ کر تیز دھکے لگائے۔ شازیہ نے تکیہ پکڑ لیا اور اس کے منہ سے تیز سسکاریاں نکلنے لگیں۔ عمران نے اس کے مموں کو پیچھے سے پکڑا اور دباتے ہوئے دھکے لگائے۔ شازیہ کا بدن ہر دھکے پر آگے پیچھے ہل رہا تھا۔
شازیہ اچانک کانپنے لگی اور اس کی چوت نے عمران کے لن کو کس کر جکڑ لیا۔ اس نے زور سے کہا کہ میں جھڑ رہی ہوں، اور اس کا پانی نکل گیا۔ عمران نے دو تین تیز دھکے اور لگائے اور پھر اس کا بھی پانی شازیہ کی چوت میں نکل گیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے بیڈ پر گر پڑے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔
کچھ دیر آرام کے بعد شازیہ نے عمران کے سینے پر سر رکھا اور کہا کہ خواب والی رات حقیقت بن گئی، اس نے سوچا نہیں تھا۔ عمران نے کہا کہ اب یہ خواب ہر رات آئے گا، اور میں بھی آؤں گا۔ شازیہ نے اس کے سینے پر انگلی سے اپنا نام لکھا اور کہا کہ خواب تو بن ہی گیا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پھر چوما اور کھڑکی سے دلی کی روشنی دیکھنے لگے۔
آدھی رات کے بعد عمران نے شازیہ کو پھر اپنی باہوں میں لیا اور اس کی گردن چومنے لگا۔ شازیہ نے کروٹ بدل کر اسے اپنے اوپر کھینچ لیا اور کہا کہ ایک بار اور۔ عمران کا لن پھر سخت ہو گیا تھا اور اس نے شازیہ کی چوت میں آہستہ سے ڈال دیا۔ اس بار دونوں نے بہت آہستہ اور گہرائی سے پیار کیا، ہر دھکے کو محسوس کرتے ہوئے۔
شازیہ نے عمران کے کان میں کہا کہ تم میرے پہلے سچے پیار ہو، چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔ عمران نے جواب دیا کہ تمہاری ہنسی ہی میری دنیا ہے۔ دونوں ایک ساتھ جھڑے اور ایک دوسرے کی باہوں میں سو گئے۔ صبح جب سورج کی پہلی کرن کھڑکی سے آئی تو شازیہ نے عمران کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ آج کی رات کبھی نہیں بھولوں گی۔
صبح کی چائے کے وقت شازیہ نے عمران سے کہا کہ محلے میں سب کو لگے گا کہ ہم صرف مالکن اور ڈرائیور ہیں۔ عمران نے ہنس کر کہا کہ مالکن اور ڈرائیور ہی تو ہیں، بس رات کو تھوڑے زیادہ قریب والے۔ شازیہ ہنس پڑی اور اس نے عمران کے گال پر ایک ہلکا بوسہ دیا۔ دونوں جانتے تھے کہ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، یہ تو بس شروعات تھی۔
ناشتے کے بعد شازیہ غسل خانے میں نہانے گئی تو عمران بھی پیچھے پیچھے آ گیا۔ اس نے شازیہ کو شاور کے نیچے سے لگایا اور اس کے گیلے بدن کو چومنے لگا۔ شازیہ نے پانی کے نیچے اس کا لن پکڑا اور سہلایا تو عمران نے اس کی چوت میں انگلی ڈال دی۔ پانی کی دھار میں دونوں نے ایک دوسرے کو چوما اور شازیہ نے کہا کہ شاور میں پیار کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔
عمران نے شازیہ کو دیوار سے لگایا اور اس کی ایک ٹانگ اوپر اٹھا کر اپنا لن اس کی چوت میں ڈال دیا۔ پانی ان کے بدن پر بہہ رہا تھا اور ہر دھکا پانی کی آواز میں گھل رہا تھا۔ شازیہ نے عمران کی گردن پکڑی اور زور سے کہا کہ اور تیز۔ عمران نے تیز دھکے لگائے اور دونوں پانی کے نیچے ایک ساتھ جھڑے۔ شازیہ نے ہنس کر کہا کہ اب ہر صبح شاور بھی ہمارا ہوگا۔
شام کو دونوں چھت پر گئے اور دلی کی روشنی دیکھنے لگے۔ شازیہ نے کہا کہ خواب سے شروع ہونے والا رشتہ اتنا میٹھا ہوگا، اس نے سوچا نہیں تھا۔ عمران نے کہا کہ کچھ خواب صرف قریب آنے کا بہانہ ہوتے ہیں۔ شازیہ نے اس کے کندھے پر سر رکھا اور دونوں ہاتھ تھام کر بیٹھے رہے۔ رات کی ہوا بہہ رہی تھی اور دونوں کو لگ رہا تھا کہ یہ کہانی ابھی شروع ہوئی ہے۔
اگلے دن دفتر میں شازیہ کا کام میں دل نہیں لگ رہا تھا، بار بار اسے عمران کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔ دوپہر کو اس نے عمران کو پیغام بھیجا کہ شام کو جلدی آ جانا، چائے پیئیں گے۔ عمران نے جواب دیا کہ چائے تو بہانہ ہے، اصل بات تو رات ہے۔ شازیہ نے مسکرا کر فون رکھ دیا اور کام میں لگ گئی، لیکن اس کا دل شام کی طرف ہی اٹکا رہا۔
شام کو عمران آیا تو شازیہ نے دروازہ کھولا اور اسے اندر لے لیا۔ دونوں نے چائے پی اور پھر شازیہ نے عمران کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے میں لے گئی۔ اس رات دونوں نے پھر ایک دوسرے کو چاہا، آہستہ اور گہرائی سے۔ شازیہ نے کہا کہ اب ہر رات خواب نہیں، حقیقت ہوگی۔ عمران نے کہا کہ حقیقت خواب سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔
ہفتے کے آخر میں دونوں نے ایک چھوٹے سے سفر کا منصوبہ بنایا، دلی سے باہر ایک پرسکون جگہ پر جانے کا۔ شازیہ نے کہا کہ سفر میں ڈرائیور بھی وہی ہوگا اور مسافر بھی وہی۔ عمران نے ہنس کر کہا کہ سفر کا مزہ تو مسافر سے ہی ہے۔ دونوں نے سامان باندھا اور اگلی صبح نکلنے کا وعدہ کیا۔
سفر کی صبح جب گاڑی نکلی تو شازیہ نے پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنے کے بجائے عمران کے برابر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ عمران نے مسکرا کر کہا کہ میڈم، آج آپ ڈرائیور کے برابر بیٹھی ہیں، یہ تو نئی بات ہے۔ شازیہ نے کہا کہ آج سے ہر بات نئی ہوگی۔ گاڑی سڑک پر چل پڑی اور دونوں کی کہانی ایک نئے سفر پر نکل پڑی۔
راستے میں ایک ڈھابے پر دونوں رکے اور کھانا کھایا۔ ڈھابے والے نے پوچھا کہ میاں بیوی ہیں، شازیہ نے ہنس کر کہا کہ ابھی نہیں، لیکن جلد ہوں گے۔ عمران نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا کہ جلد کا مطلب بہت جلد ہے۔ دونوں ہنس پڑے اور کھانا کھا کر پھر سفر پر نکل پڑے، ان کی ہنسی سڑک پر گونج رہی تھی۔
شام کو منزل پر پہنچ کر دونوں نے ایک چھوٹا سا کمرہ لیا اور کھڑکی سے سورج ڈوبتا دیکھا۔ شازیہ نے کہا کہ خواب والی رات سے یہاں تک کا سفر بہت خوبصورت رہا۔ عمران نے اسے اپنی باہوں میں لیا اور کہا کہ یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا، یہ تو بس شروعات ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چوما اور نئی رات کا استقبال کیا۔
اگلی شام شازیہ نے عمران کو چھت پر بلایا، اس بار چائے کی جگہ دو گلاس شکنجبین لے کر۔ عمران نے آتے ہی کہا کہ شکنجبین تو بہانہ ہے، اصل مٹھاس تو تمہاری ہنسی میں ہے۔ شازیہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ آج کوئی جلدی نہیں ہے، آج رات صرف آہستہ آہستہ پیار ہوگا۔ دونوں چھت کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھ کر پرانی باتیں کرنے لگے، خواب والی رات، دفتر کے دن اور محلے کی شرارتیں۔
باتوں کے بیچ عمران نے شازیہ کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک ایک انگلی کو چوما۔ شازیہ کی دھڑکن تیز ہو گئی اور اس نے عمران کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ عمران نے اس کی گردن پر آہستہ سے بوسہ دیا اور کہا کہ تمہاری خوشبو مجھے ہر بار نئی لگتی ہے۔ شازیہ نے اس کی قمیض کے بٹن کھول دیے اور اس کے سینے پر اپنے ہونٹ پھیرائے۔ چھت پر صرف چاند کی روشنی تھی اور دونوں کی سانسیں ہی سنائی دے رہی تھیں۔
شازیہ نے عمران کو کمرے میں لے جا کر بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس نے عمران کا لن اپنے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ عمران نے اس کے بال پکڑے اور ایک گہری سانس لی۔ شازیہ نے اپنی زبان سے اس کے لن کو چاٹا اور چوسا، تب تک جب تک عمران نے کہا کہ بس، اب اور نہیں۔ شازیہ مسکرائی اور اس کے اوپر چڑھ گئی۔
شازیہ نے عمران کے لن پر اپنی چوت رکھی اور آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ گئی۔ وہ خود اوپر سے دھکے لگانے لگی، اپنی کمر کو گول گول گھماتے ہوئے۔ عمران نے اس کے ممے پکڑے اور دبائے، اور شازیہ کی سسکاریاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ کچھ دیر بعد شازیہ کی رفتار تیز ہو گئی اور اس کا بدن کانپنے لگا۔ وہ جھڑی اور عمران نے اسے کس کر پکڑ لیا، پھر اس کا بھی پانی نکل گیا۔ دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں گر پڑے۔
رات کے آخر میں شازیہ نے عمران سے کہا کہ خواب والی رات اب اس کی زندگی کی سب سے پیاری عادت بن گئی ہے۔ عمران نے کہا کہ عادتیں کبھی چھوٹتی نہیں ہیں، خاص کر جب وہ اتنی میٹھی ہوں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چوما اور چاند کی روشنی میں سو گئے، جانتے ہوئے کہ اگلی صبح بھی ان کی ہی ہوگی۔
Readers who enjoyed “اردو ڈرائیور کی کہانی: خواب والی رات شازیہ کی چدائی” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔