Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو جم ٹرینر کی کہانی: جم میں ٹرینر نے خاتون کی چوت میں لنڈ ڈال دیا

S
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

عائشہ نے جم کے کونے سے بلال کی آواز سنی تو اس کے قدم رک گئے، یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے یہ اردو جم ٹرینر کی کہانی شروع ہوئی۔ بلال اپنے ایک ممبر سے کہہ رہا تھا، وہ خاتون جو روز شام کو آتی ہے، اس کی چال میں کچھ خاص ہے۔ عائشہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے دیوار کے پیچھے چھپ کر سننا جاری رکھا۔

عائشہ کی عمر تیس سال تھی، وہ کراچی کے ایک اچھے علاقے میں رہتی تھی۔ اس کا شوہر ایک بینک میں کام کرتا تھا اور اکثر دیر سے گھر آتا تھا۔ عائشہ نے کچھ مہینے پہلے جم جوائن کیا تھا تاکہ وہ خود کو فٹ رکھ سکے۔ بلال، جم کا ٹرینر، بتیس سال کا تھا، اس کا جسم مضبوط تھا اور وہ سب ممبروں میں مقبول تھا۔

بلال کی بات سن کر عائشہ کو غصہ بھی آیا اور ایک عجیب سی خوشی بھی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ وہ بلال سے اس بارے میں بات کرے گی۔ شام کی ٹریننگ کے دوران جب بلال اس کے پاس آیا تو عائشہ نے کہا، ٹرینر صاحب، آپ میرے بارے میں کیا کہہ رہے تھے۔ بلال کا چہرہ لال ہو گیا۔ اس نے کہا، میڈم، میں نے کچھ غلط نہیں کہا، میں نے صرف یہ کہا کہ آپ محنتی ہیں۔

عائشہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، محنت کی بات تو ٹھیک ہے، لیکن آپ کی آواز میں کچھ اور بھی تھا۔ بلال نے ہنس کر کہا، میڈم، آپ بہت تیز ہیں، آپ سے کچھ چھپ نہیں سکتا۔ عائشہ نے کہا، تو پھر سچ بتائیں۔ بلال نے آہستہ سے کہا، سچ یہ ہے کہ جب آپ جم میں آتی ہیں تو میرا دھیان ٹریننگ پر نہیں رہتا۔

یہ سن کر عائشہ کا چہرہ بھی لال ہو گیا۔ اس نے ٹریننگ جاری رکھی، لیکن اس کا دماغ بلال کی باتوں میں ہی اٹکا رہا۔ اس نے آئینے میں دیکھا تو بلال اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ عائشہ نے جان بوجھ کر اپنی ٹی شرٹ کو تھوڑا اوپر کھینچ لیا۔ بلال کی نظریں اس کی کمر پر ٹھہر گئیں۔

ٹریننگ ختم ہونے کے بعد جم تقریباً خالی ہو گیا۔ بلال نے عائشہ سے کہا، میڈم، آپ رکیں، میں آپ کو ایک خاص ایکسرسائز بتاتا ہوں۔ عائشہ رک گئی۔ بلال اسے اسٹور روم کی طرف لے گیا، جہاں ڈمبل اور میٹ رکھے تھے۔ اس نے دروازہ بند کیا اور کہا، یہاں کوئی نہیں آئے گا۔

بلال نے عائشہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ اس نے کہا، عائشہ، میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تب سے ہی تم میرے دماغ میں ہو۔ عائشہ نے کہا، بلال، یہ غلط ہے، میں شادی شدہ ہوں۔ بلال نے کہا، غلط صحیح میں نہیں جانتا، میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں تمہیں چاہتا ہوں۔

بلال نے عائشہ کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلے تو عائشہ نے ہلکی سی مزاحمت کی، پھر وہ بھی اس بوسے میں ڈوب گئی۔ اس کے ہاتھ بلال کی پیٹھ پر چلنے لگے اور بلال کے ہاتھ اس کی کمر کو سہلا رہے تھے۔ عائشہ نے سرگوشی کی، دروازہ بند کر دو، کوئی آ نہ جائے۔ بلال نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔

بلال نے عائشہ کی ٹی شرٹ اوپر اٹھائی اور اس کے پیٹ پر بوسے دینے لگا۔ عائشہ نے اپنا سر پیچھے جھکایا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں۔ اس نے کہا، ہاں بلال، ایسے ہی، مجھے بہت دنوں سے کسی نے ایسے چھوا نہیں۔ بلال نے اس کی برا کا ہک کھولا اور اس کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں بھر لیا۔

عائشہ کے نپل سخت ہو چکے تھے اور اس کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں۔ بلال نے ایک نپل کو منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگا۔ عائشہ نے اس کا سر پکڑ لیا اور کہا، اور زور سے، بلال، مجھے سب کچھ چاہیے۔ بلال نے اس کی گردن پر بوسے دیے اور اس کے کان میں کہا، تم آج میری ہو۔

عائشہ نے بلال کی ٹی شرٹ اتاری اور اس کے سینے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ اس نے اس کی ٹراوزر کا بٹن کھولا اور اس کا لنڈ باہر نکال لیا۔ وہ پوری طرح سخت تھا اور اس کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ عائشہ نے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا۔ بلال نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا، عائشہ، تمہارے ہاتھ میں تو جادو ہے۔

عائشہ نیچے بیٹھ گئی اور لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔ اس کی زبان لنڈ کے اوپر گھوم رہی تھی اور بلال کی سانسیں اٹک اٹک کر چل رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد بلال نے اسے اٹھایا اور میٹ پر لٹا دیا۔ اس نے عائشہ کی لیگنگ اتاری اور اس کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ عائشہ کی چوت پوری طرح گیلی تھی۔

بلال نے اپنی انگلیاں اس کی چوت پر رکھیں اور آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔ عائشہ نے میٹ کو مٹھیوں میں بھینچ لیا اور کہا، بس اب مت تڑپاؤ، اندر ڈال دو۔ بلال نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک ہی دھکے میں پورا اندر ڈال دیا۔ عائشہ کی چیخ اس کے گلے میں ہی اٹک گئی۔

بلال نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے اور ہر دھکے کے ساتھ عائشہ کی آہیں تیز ہوتی گئیں۔ اسٹور روم میں دونوں کی سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔ عائشہ نے اپنی ٹانگیں بلال کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور ہر دھکے کا جواب اپنی کمر اٹھا کر دینے لگی۔ بلال نے اس کے مموں کو منہ میں لیا اور چوستے ہوئے دھکوں کی رفتار بڑھا دی۔

عائشہ کا بدن پسینے سے بھیگ گیا تھا اور اس کی آنکھیں بند تھیں۔ اس نے کہا، بلال، میں جھڑنے والی ہوں، رکنا مت۔ بلال نے کہا، میں بھی بس وہیں ہوں، ساتھ میں جھڑتے ہیں۔ دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ عائشہ کا بدن کانپ اٹھا اور اس کی چوت نے بلال کے لنڈ کو کس کر جکڑ لیا۔ بلال نے اپنا سارا پانی اس کی چوت کے اندر ہی چھوڑ دیا۔

کچھ دیر تک دونوں ایسے ہی پڑے رہے، ایک دوسرے کی دھڑکنیں سنتے ہوئے۔ عائشہ نے بلال کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا، تمہارے شوہر کو اس بارے میں کبھی پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ بلال نے کہا، عائشہ، یہ بات صرف ہم دونوں کے بیچ رہے گی، میں وعدہ کرتا ہوں۔ عائشہ نے مسکرا کر کہا، اور جب تک میں اس جم میں ہوں، ہر شام میری ہے۔

تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد عائشہ نے کروٹ بدلی اور بلال کے اوپر آ گئی۔ اس نے کہا، اب میری باری ہے، تم بس لیٹے رہو۔ بلال نے مسکرا کر اپنے ہاتھ سر کے پیچھے کر لیے۔ عائشہ نے اس کا لنڈ پھر سے اپنے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ سہلانے لگی۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ پھر سے سخت ہو گیا اور عائشہ نے اسے اپنی چوت میں خود ہی ڈال لیا۔

عائشہ نے اپنی کمر کو اوپر نیچے کرنا شروع کیا۔ اس کے ممے ہر اچھال کے ساتھ ہل رہے تھے اور بلال نے انہیں اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ عائشہ کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور اس کے منہ سے مسلسل آہیں نکلنے لگیں۔ اس نے بلال کے سینے پر ہاتھ ٹکا دیے اور اپنی آنکھیں بند کر کے پوری طرح اس احساس میں ڈوب گئی۔

اس بار جھڑنا آہستہ آہستہ آیا، جیسے لہریں کنارے سے ٹکرا رہی ہوں۔ عائشہ کا بدن کانپنے لگا اور اس نے بلال کے کندھوں کو کس کر پکڑ لیا۔ بلال نے بھی اپنی کمر اٹھا کر آخری دھکے لگائے اور دونوں دوسری بار ایک ساتھ جھڑ گئے۔ عائشہ بلال کے سینے پر ہی ڈھہ گئی اور دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

اس رات کے بعد سے ہر شام کا ایک ہی دستور بن گیا۔ عائشہ جم میں ٹریننگ کے بعد کچھ دیر رک جاتی اور بلال اسے اسٹور روم میں لے جاتا۔ دونوں نے ہر شام ایک دوسرے کو پوری طرح پایا۔ ایک دن عائشہ کے شوہر نے پوچھا، تم جم سے اتنی دیر سے کیوں آتی ہو۔ عائشہ نے کہا، ٹرینر نے ایکسٹرا ٹریننگ دی ہے۔ شوہر نے یقین کر لیا۔

ایک شام جم میں ایک نیا ممبر آیا جس نے عائشہ اور بلال کو اسٹور روم سے نکلتے دیکھ لیا۔ عائشہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ لیکن بلال نے فوراً کہا، میڈم کی ٹریننگ ختم ہوئی ہے، میں انہیں سامان دکھا رہا تھا۔ ممبر نے سر ہلایا اور آگے بڑھ گیا۔ عائشہ نے بلال کا ہاتھ پکڑا اور کہا، آج تو بچ گئے۔

اگلے دن عائشہ نے بلال کو ایک چھوٹا سا تحفہ دیا، ایک نیا ٹاول۔ بلال نے مسکرا کر کہا، یہ تحفہ میں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا۔ عائشہ نے کہا، اور میں تمہیں ہمیشہ اپنے دل میں رکھوں گی۔ دونوں ہنس پڑے۔ اس دن کی ٹریننگ میں دونوں کی آنکھیں بار بار مل رہی تھیں اور دونوں کے چہروں پر ایک راز کی مسکراہٹ تھی۔

کچھ مہینوں بعد عائشہ کے شوہر کا تبادلہ دوسرے شہر ہو گیا، لیکن عائشہ نے کراچی میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے شوہر سے کہا، میری جم اور میری دوستیاں یہیں ہیں۔ شوہر نے مان لیا۔ عائشہ کے فیصلے کی اصل وجہ صرف بلال جانتا تھا۔ اس شام جم میں عائشہ نے بلال کو گلے لگا کر کہا، اب کوئی ڈر نہیں، اب ہم آزاد ہیں۔

بلال نے عائشہ کو اسٹور روم کے بجائے اس بار جم کی چھت پر لے گیا۔ رات کے وقت چھت پر کوئی نہیں تھا۔ شہر کی روشنیاں نیچے چمک رہی تھیں۔ دونوں نے وہاں بھی ایک دوسرے کو پایا۔ عائشہ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، یہ رات میری زندگی کی سب سے یادگار رات ہے۔ بلال نے کہا، اور آنے والی ہر رات اس سے بھی بہتر ہو گی۔

🔒 Bonus Scene locked

شوہر کے دوسرے شہر جانے کے بعد عائشہ پہلی بار بلال کے گھر گئی، اور اس رات دونوں کے بیچ جو ہوا اس نے ان کے رشتے کو ایک نیا نام دے دیا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو جم ٹرینر کی کہانی: جم میں ٹرینر نے خاتون کی چوت میں لنڈ ڈال دیا” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views