Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو نرس کی کہانی: رات کی ڈیوٹی میں فاطمہ

N
17 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

فاطمہ کی انگلیاں عدیل کی پٹی بندھی ٹانگ پر ابھی ٹکی ہی تھیں کہ اس کی نظریں اس کے چہرے سے ٹکرا گئیں۔ یہ اردو نرس کی کہانی اس رات سے شروع ہوتی ہے جب رات کے دو بجے لاہور کے اس خاموش گھر کے بیڈروم میں اس نے اپنی ہتھیلی کے نیچے محسوس کیا کہ پٹی کے نیچے صرف زخم نہیں تھا، بلکہ عدیل کی گرم ران کی تیز دھڑکن بھی اس کے ہاتھوں کو چھو رہی تھی۔ عدیل کی آنکھیں اس پر جمی تھیں، ہونٹوں پر ہلکی سی شرارت بھری مسکراہٹ تھی، اور کمرے کی گہری خاموشی میں دونوں کی سانسوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔

اس کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رک گئے، مگر عدیل نے سر ہلا کر اشارہ کیا کہ چیک جاری رکھے۔ فاطمہ نے گہری سانس لی اور پٹی کے کناروں کو دھیرے دھیرے دبایا، دیکھا کہ سوجن کم ہو رہی ہے اور زخم کی جگہ صاف ہے۔ اس کی پیشہ ورانہ عادت تھی کہ مریض کے جسم کو صرف جسم سمجھے، مگر آج رات اس کے ہاتھ اس گرم جلد پر کچھ زیادہ دیر ٹھہر رہے تھے۔ عدیل نے یہ محسوس کیا اور اس کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔

پٹی ٹھیک ہے، فاطمہ نے اپنی آواز کو سنبھالتے ہوئے کہا، مگر اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی جو عدیل کے کانوں سے چھپی نہ رہ سکی۔ سوجن اتر رہی ہے، کل تک آپ کو درد بھی کم محسوس ہوگا۔ عدیل نے بستر پر ذرا سا سیدھا ہوتے ہوئے کہا، درد تو ٹانگ میں ہے نرس صاحبہ، مگر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ اس کی بات میں ایک چھپی ہوئی دعوت تھی جسے فاطمہ نے فورا سمجھ لیا، اور اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔

اس نے اپنا میڈیکل بیگ بند کیا اور کرسی پر بیٹھنے لگی، مگر عدیل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ رکو، اس نے کہا، میری ران میں بہت اکڑن ہے، پٹی کے اوپر والی جگہ پر ذرا مالش کر دو گی تو شاید نیند آ جائے۔ فاطمہ نے ہچکچاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا، یہ اس کی ڈیوٹی کا حصہ تو تھا، مگر اس کی آنکھوں میں جو چمک تھی وہ کسی مریض کی نہیں تھی۔ ٹھیک ہے، اس نے دھیرے سے کہا اور تیل کی شیشی اٹھا لی۔

اس نے اپنے ہاتھوں پر گرم تیل لگایا اور عدیل کی ران پر رکھ دیا، پٹی کے بالکل اوپر والی نرم جلد پر۔ پہلے لمس پر ہی عدیل نے آنکھیں بند کر لیں اور گہری سانس چھوڑی، اور فاطمہ کی انگلیاں اس کی جلد پر گول گول گھومنے لگیں۔ کمرے میں صرف تیل کی ہلکی خوشبو اور ان کی ملی جلی سانسوں کی آواز تھی، اور ہر گھومتی انگلی کے ساتھ فاطمہ کے اندر کوئی پرانی دیوار گرتی جا رہی تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ خود بخود اوپر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے، عدیل نے آنکھیں کھولے بغیر کہا، اس کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ فاطمہ نے مسکرا کر کہا، یہ جادو نہیں، تین سال کی نرسنگ ہے۔ عدیل نے ہنس کر کہا، نرسنگ تو میں نے بہت دیکھی ہے، مگر ایسی نرس پہلی بار دیکھی ہے جس کے چھونے سے دل کی دھڑکن بڑھ جائے۔ فاطمہ کے گال سرخ ہو گئے، مگر اس کے ہاتھ نہ رکے، بلکہ ان کی حرکت اور دھیمی اور گہری ہو گئی۔

مالش کرتے کرتے اس کی انگلیاں ران کے اندرونی حصے تک پہنچ گئیں، وہ جگہ جہاں جلد سب سے نرم ہوتی ہے۔ عدیل کا جسم ہلکا سا کانپا اور اس کے ہونٹوں سے ایک دبی ہوئی آہ نکلی۔ فاطمہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، اور عدیل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، رکو مت، بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اس کی اجازت نے فاطمہ کے اندر کی آخری ہچکچاہٹ بھی توڑ دی، اور اس نے اپنی انگلیوں کا دباؤ بڑھا دیا۔

اس رات گھر میں سب سو رہے تھے، باہر گلی میں کتوں کے بھونکنے کی دور آواز کے سوا مکمل خاموشی تھی۔ فاطمہ کو احساس ہوا کہ اس کمرے میں جو ہو رہا ہے وہ اب صرف علاج نہیں رہا، اور اس احساس نے اسے ڈرایا بھی اور ایک عجیب سی گرمی سے بھر بھی دیا۔ اس نے تیل کی شیشی ایک طرف رکھی اور دونوں ہاتھوں سے اس کی ران کو سہلانے لگی، اوپر سے نیچے، نیچے سے اوپر۔ عدیل نے اس کا ایک ہاتھ پکڑا اور اپنی چھاتی پر رکھ دیا۔

محسوس کرو، اس نے دھیرے سے کہا، میرا دل کتنی زور سے دھڑک رہا ہے۔ فاطمہ کی ہتھیلی کے نیچے اس کا دل واقعی طوفان کی طرح دھڑک رہا تھا، اور اس دھڑکن نے اس کے اپنے دل کی رفتار بھی بڑھا دی۔ تم ڈر رہی ہو، عدیل نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ فاطمہ نے سر ہلایا، پھر فورا کہا، نہیں، ڈر نہیں رہی، بس، یہ غلط ہے۔ عدیل نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور کہا، جو دل چاہے وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے۔

اس کے ہونٹ فاطمہ کے ہونٹوں کے اتنے قریب آ گئے کہ ان کی سانسیں آپس میں ملنے لگیں۔ فاطمہ کی آنکھیں بند ہو گئیں، اور اس نے محسوس کیا کہ اس کا جسم خود اس کی طرف جھک رہا ہے۔ پھر ان کے ہونٹ ملے، پہلے دھیرے سے، پھر ایک بھوک کے ساتھ جو دونوں کے اندر ہفتوں سے دبی تھی۔ عدیل نے اسے اپنی طرف کھینچا اور وہ بستر کے کنارے پر اس کے سامنے آ بیٹھی، اس کا دوپٹہ کندھے سے سرک کر نیچے گر گیا۔

فاطمہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دھیرے سے پیچھے دھکیلا اور کہا، رکو، مجھے سوچنے دو۔ عدیل رک گیا، اس کی آنکھوں میں سوال تھا۔ فاطمہ نے گہری سانس لی اور کہا، میں تمہاری نرس ہوں، اگر کسی کو پتہ چل گیا تو میری نوکری، میری عزت، سب ختم۔ عدیل نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا، اس کمرے کے باہر کوئی نہیں آئے گا، میں وعدہ کرتا ہوں، اور میں تمہیں کبھی کسی مشکل میں نہیں ڈالوں گا۔ اس کی آواز میں ایسی سچائی تھی کہ فاطمہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

پھر اس نے خود عدیل کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے، اس بار وہ خود آگے بڑھی تھی۔ یہ بوسہ پہلے سے زیادہ گہرا تھا، اس کی زبان اس کے منہ میں داخل ہوئی اور عدیل نے اسے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا۔ فاطمہ کو لگا جیسے اس کے جسم میں بجلی دوڑ گئی ہو، اس کی چھاتیاں اس کے سینے سے دب رہی تھیں اور اسے اپنی ٹانگوں کے درمیان ایک گیلی گرمی محسوس ہونے لگی۔ اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے اور قریب کھینچ لیا۔

عدیل کے ہاتھ اس کی کمر پر پھسلتے ہوئے اس کے کرتے کے نیچے داخل ہو گئے اور اس کی ننگی کمر کو سہلانے لگے۔ فاطمہ نے ایک لمبی آہ بھری اور اس کے کندھے پر اپنا سر ٹکا دیا۔ تم بہت خوبصورت ہو، عدیل نے اس کے کان میں سرگوشی کی، اور اس کے کان کی لو کو دھیرے سے چوم لیا۔ فاطمہ کانپ اٹھی، اس کے کان اس کا سب سے حساس حصہ تھے اور عدیل نے یہ بات بغیر بتائے جان لی تھی۔

اس نے خود اپنے کرتے کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، عدیل کی نظروں کے سامنے۔ عدیل کی سانس تیز ہو گئی جب اس نے دیکھا کہ کرتے کے نیچے اس نے ہلکے گلابی رنگ کی برا پہنی تھی جس میں اس کی بھری چھاتیاں ابھر رہی تھیں۔ فاطمہ نے کرتہ اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور اب وہ صرف شلوار اور برا میں اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ شرماؤ مت، عدیل نے کہا، تمہیں دیکھ کر میری آنکھوں کو سکون مل رہا ہے۔

عدیل نے اپنی ٹانگ کی پرواہ کیے بغیر ذرا سا آگے بڑھ کر اس کی برا کے ہک کھول دیے۔ فاطمہ کی چھاتیاں آزاد ہو کر باہر نکل آئیں، گول اور بھری ہوئی، ان کے نوک سخت ہو چکے تھے۔ عدیل نے ایک لمحہ انہیں دیکھا، پھر اپنا چہرہ ان کے درمیان چھپا دیا اور گہری سانس لی۔ تمہاری خوشبو پاگل کر رہی ہے، اس نے کہا اور پھر ایک نوک کو اپنے منہ میں لے لیا۔ فاطمہ نے زور سے اس کے بال پکڑ لیے اور اس کا سر اپنی چھاتی پر دبا دیا۔

اس کی زبان اس کے نوک کے گرد گھوم رہی تھی، کبھی چوس رہی تھی، کبھی ہلکے سے کاٹ رہی تھی، اور فاطمہ کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ اس نے اپنی دوسری چھاتی کو خود اپنے ہاتھ سے دبانا شروع کر دیا، اور عدیل نے یہ دیکھ کر اس کا ہاتھ ہٹا دیا اور خود دونوں چھاتیوں کو باری باری چومنے اور چوسنے لگا۔ فاطمہ کی ٹانگوں کے درمیان وہ گیلی گرمی اب ایک تیز خواہش میں بدل چکی تھی، اور اس نے اپنی ٹانگیں آپس میں رگڑنی شروع کر دیں۔

عدیل نے اسے بستر پر لٹا دیا اور خود اس کے اوپر جھک گیا، اس کی زخمی ٹانگ کو دھیان سے ایک طرف رکھتے ہوئے۔ اس نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور دھیرے دھیرے اسے نیچے سرکایا۔ فاطمہ نے اپنی کولہیں اٹھا کر اس کی مدد کی، اور اب وہ صرف ایک چھوٹی سی پینٹی میں اس کے سامنے لیٹی تھی۔ عدیل کی نظریں اس کے جسم پر پھر رہی تھیں، اور فاطمہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ ننگا ہونا شرم کی بات نہیں، طاقت کی بات ہے۔

اس نے عدیل کی قمیض کے بٹن کھولے اور اسے اس کے کندھوں سے اتار دیا۔ اس کا سینہ چوڑا اور مضبوط تھا، ہلکے بالوں سے ڈھکا ہوا، اور فاطمہ نے اپنی انگلیاں اس پر پھیرتے ہوئے اس کے نپلز کو چھوا۔ عدیل نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا، تمہیں پتہ ہے تم کیا کر رہی ہو۔ فاطمہ نے شرارت سے کہا، نرس ہوں، جسم کے ہر حصے کا علاج جانتی ہوں۔ پھر اس نے جھک کر اس کے نپل کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور عدیل نے ایک گہری آہ بھری۔

فاطمہ نے اس کے پیٹ پر بوسوں کی لکیر بناتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھنا شروع کیا، اور عدیل سمجھ گیا کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔ اس نے اس کی ٹراؤزر کا بٹن کھولا اور اسے نیچے کھینچ دیا۔ عدیل کا لنڈ اس کے انڈرویئر میں تن کر کھڑا تھا، اور فاطمہ نے اسے دیکھ کر اپنی زبان ہونٹوں پر پھیری۔ اس نے انڈرویئر بھی اتار دیا، اور لنڈ آزاد ہو کر باہر نکل آیا، لمبا اور موٹا، اس کی نوک گیلی چمک رہی تھی۔

فاطمہ نے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور دھیرے دھیرے اوپر نیچے حرکت دینے لگی۔ عدیل نے بستر کی چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ پھر اس نے جھک کر اس کی نوک کو چوما، اور عدیل کا جسم کانپ اٹھا۔ اس نے پھر اپنے ہونٹ کھولے اور لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا، پہلے صرف نوک، پھر آہستہ آہستہ اور اندر۔ اس کی زبان اس کی لمبائی پر گھوم رہی تھی، اور عدیل کی آہیں اب دبی نہیں رہ رہی تھیں۔

اور اندر لو، عدیل نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، ہاں، ایسے ہی۔ فاطمہ نے اس کی بات مانی اور لنڈ کو اپنے گلے تک لے گئی، پھر باہر نکال کر اس پر تھوکا اور پھر سے اندر لیا۔ اس کی رفتار بڑھتی گئی، اس کا سر اوپر نیچے ہو رہا تھا، اور عدیل نے کہا، رک جاؤ، ورنہ میں ابھی جھڑ جاؤں گا۔ فاطمہ نے مسکرا کر اسے چھوڑا اور اس کے اوپر آ کر اس کے ہونٹ چوم لیے، اس کے منہ میں اس کا اپنا ذائقہ تھا۔

اب میری باری، عدیل نے کہا اور اسے پلٹ کر بستر پر سیدھا لٹا دیا۔ اس نے اس کی پینٹی کو ایک جھٹکے میں اتار دیا اور اس کی ٹانگیں کھول دیں۔ فاطمہ کی چوت اس کے سامنے تھی، گیلی اور پھولی ہوئی، اور عدیل نے اسے دیکھ کر گہری سانس لی۔ تم تیار ہو، اس نے کہا، یہ سوال نہیں تھا۔ فاطمہ نے شرما کر سر ہلایا، اور عدیل نے اپنا چہرہ اس کی ٹانگوں کے درمیان جھکا دیا۔

اس کی زبان نے پہلے اس کے دانے کو چھوا، اور فاطمہ چیخ پڑی۔ عدیل نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا، اندر تک زبان ڈالتے ہوئے، اس کے رس کو پیتے ہوئے۔ فاطمہ نے بستر کی چادر کو نوچنا شروع کر دیا، اس کی کولہیں بستر سے اٹھ رہی تھیں۔ اور زور سے، اس نے کہا، خدا کے لیے رک مت۔ عدیل نے اس کی بات مانی اور اپنی زبان کی حرکت تیز کر دی، ساتھ ہی ایک انگلی اس کی چوت میں داخل کر دی۔

فاطمہ کا جسم اکڑ گیا، اور ایک تیز لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ وہ پہلی بار جھڑی، اس کی چیخ کمرے میں گونجی، مگر عدیل نے اپنا منہ نہ ہٹایا اور اسے اس لہر سے گزرنے دیا۔ جب وہ پرسکون ہوئی تو عدیل نے اوپر آ کر اس کے ہونٹ چومے، اور فاطمہ نے اپنے ہی رس کا ذائقہ اس کے منہ میں محسوس کیا۔ یہ تو صرف شروعات تھی، عدیل نے اس کے کان میں کہا، اور فاطمہ نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔

عدیل نے اس کی ٹانگیں اور کھولیں اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھ دیا۔ فاطمہ نے اس کی کمر کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا۔ آہستہ، اس نے کہا، پہلی بار درد ہوگا۔ عدیل نے دھیرے سے دباؤ ڈالا، اور اس کا لنڈ اس کی گیلی چوت میں پھسلتا ہوا اندر داخل ہونے لگا۔ فاطمہ نے ایک تیز سانس لی، درد اور مزے کا ایک ملا جلا احساس اس کے جسم میں پھیل گیا۔ عدیل رک گیا اور اس کے ماتھے کو چوما، پھر اور اندر بڑھا۔

جب وہ پورا اندر تھا تو دونوں ایک لمحے کے لیے رک گئے، اس مکمل ملاپ کو محسوس کرتے ہوئے۔ پھر عدیل نے دھیرے دھیرے حرکت شروع کی، باہر نکال کر پھر اندر ڈالتے ہوئے۔ فاطمہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور اس کی ہر حرکت کے ساتھ اپنی کولہیں اٹھانے لگی۔ اس کمرے میں اب صرف ان کے جسموں کے ٹکرانے کی آواز اور ان کی بھاری سانسیں تھیں۔ عدیل نے اس کی چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور انہیں دباتے ہوئے اپنی رفتار بڑھا دی۔

تمہاری چوت بہت تنگ ہے، عدیل نے اس کے کان میں کہا، اور بہت گرم۔ فاطمہ نے شرما کر اس کے کندھے پر کاٹ لیا اور کہا، باتیں کم کرو، اور زور سے کرو۔ عدیل ہنسا اور اس کی بات مان لی، اس کے دھکے اب گہرے اور تیز ہو گئے تھے۔ فاطمہ کی آہیں اب چیخوں میں بدل رہی تھیں، اور اس نے تکیے کو اپنے چہرے پر رکھنے کی کوشش کی تاکہ آواز باہر نہ جائے، مگر عدیل نے تکیہ ہٹا دیا۔

نہیں، اس نے کہا، میں تمہاری آواز سننا چاہتا ہوں۔ فاطمہ نے تکیہ چھوڑ دیا اور اپنی آواز کو آزاد کر دیا، اس کے ہر دھکے پر اس کے منہ سے آہ نکل رہی تھی۔ عدیل نے اسے اٹھا کر اپنے اوپر بٹھا دیا، اور اب فاطمہ اس کے لنڈ پر سوار تھی۔ اس نے اپنی کولہیں ہلانی شروع کیں، پہلے دھیرے، پھر تیز، اور عدیل نے نیچے سے اس کا ساتھ دیتے ہوئے اوپر کی طرف دھکے لگائے۔ اس پوزیشن میں وہ بہت گہرائی تک محسوس کر رہی تھی۔

فاطمہ نے اپنے ہاتھ عدیل کے سینے پر رکھے اور اپنی رفتار بڑھا دی، اس کے بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔ عدیل نے اس کی کولہیں پکڑ کر اس کی حرکت کو قابو کیا اور اسے اپنے اوپر اچھالنے لگا۔ ہاں، ایسے ہی، فاطمہ نے کہا، میں پھر سے آنے والی ہوں۔ اس کے جسم میں وہ لہر پھر سے اٹھنے لگی، اس بار اور تیز، اور وہ چیختی ہوئی دوسری بار جھڑ گئی، اس کا رس عدیل کے لنڈ پر بہہ گیا۔

مگر عدیل ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے فاطمہ کو پلٹا کر اسے گھوڑی بنا دیا، اس کی زخمی ٹانگ کو دھیان سے سنبھالتے ہوئے وہ اس کے پیچھے آ گیا۔ اس نے اس کی گیلی چوت میں پیچھے سے اپنا لنڈ داخل کیا، اور فاطمہ نے بستر کی چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس پوزیشن میں ہر دھکا اس کے اندر بہت گہرائی تک جا رہا تھا، اور عدیل نے اس کی کولہیں پکڑ کر تیز رفتار سے دھکے لگانے شروع کر دیے۔

اس نے ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے دانے کو رگڑنا شروع کر دیا، اور فاطمہ پاگل ہونے لگی۔ بس، اب بس، اس نے کہا، میں اور برداشت نہیں کر سکتی۔ عدیل نے کہا، تھوڑا اور، میرے ساتھ ہی آنا۔ اس کے دھکے اب بے قابو ہو رہے تھے، بستر چرمرا رہا تھا، اور دونوں کے جسم پسینے سے بھیگ چکے تھے۔ فاطمہ کو لگا کہ اس کا جسم ٹوٹنے والا ہے، اور پھر وہ تیسری بار ایک زبردست لہر کے ساتھ جھڑی۔

اس کی چوت نے عدیل کے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا، اور یہی وہ لمحہ تھا جس کا عدیل انتظار کر رہا تھا۔ اس نے چند آخری گہرے دھکے لگائے اور پھر اپنا سارا پانی اس کی چوت کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں ایک ساتھ چیخے، اور پھر ایک دوسرے پر گر پڑے۔ عدیل فاطمہ کے اوپر لیٹا تھا، دونوں کی سانسیں بے ترتیب تھیں، ان کے دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے۔ کمرے میں اب ایک گہری، مطمئن خاموشی تھی۔

کچھ دیر بعد عدیل نے کروٹ بدل کر فاطمہ کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ اس نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، تمہاری ڈیوٹی تو رات بھر کی ہے نرس صاحبہ۔ فاطمہ نے تھکی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ہاں، اور لگتا ہے آج رات مجھے کئی بار تمہارا چیک اپ کرنا پڑے گا۔ عدیل ہنسا اور اسے اور قریب کھینچ لیا، اس کا ہاتھ اس کی ننگی کمر پر پھسل رہا تھا۔

وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے لیٹے رہے، باہر سے فجر کی اذان کی ہلکی آواز آنے لگی تھی۔ فاطمہ نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھا اور اس کے دل کی دھڑکن سنی، وہی دھڑکن جو اس نے رات کے شروع میں اپنی ہتھیلی کے نیچے محسوس کی تھی۔ عدیل نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے سرگوشی کی، کل رات پھر یہی ڈیوٹی ہے، سمجھی، اور اس بار پٹی چیک کرنے میں اتنی دیر مت لگانا۔ فاطمہ نے ہنس کر اس کے سینے پر ہلکا سا مکا مارا اور کہا، ڈیوٹی تو میں پوری کروں گی، مگر اگلی بار تیل تم لگاؤ گے۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو نرس کی کہانی: رات کی ڈیوٹی میں فاطمہ” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views