اردو رومانٹک سیکس کہانی: مری کی برف میں پہلی چھٹی
برف کا پہلا بڑا ٹکڑا ونڈ اسکرین پر گرا تو ماہ نور نے ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کی۔ حسن نے اسٹیئرنگ کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور سامنے سڑک سفید چادر میں لپٹی جا رہی تھی۔ یہ ان کی وہ اردو رومانٹک سیکس کہانی تھی جس کا آغاز ایک برفانی سڑک پر ہو رہا تھا۔ ماہ نور نے اپنا ہاتھ اس کی ران پر رکھا اور دبایا۔ حسن کی سانس ایک لمحے کو رک گئی۔
شادی کو آٹھ مہینے ہو چکے تھے۔ لاہور کے اس فلیٹ میں وہ دونوں شوہر بیوی تو تھے مگر ہنی مون کا وعدہ ہر بار کسی نہ کسی کام کی نذر ہو جاتا تھا۔ اس بار حسن نے آفس سے تین چھٹیاں لیں، ماہ نور نے اپنا بیگ خود پیک کیا اور وہ دونوں دسمبر کی ایک ٹھنڈی صبح مری کی طرف نکل پڑے۔ پیچھے امی کی دعائیں تھیں اور آگے پہاڑوں کی خاموشی۔
گاڑی جب کاٹیج کے سامنے رکی تو شام ڈھل چکی تھی۔ لکڑی کا چھوٹا سا کاٹیج، اس کی چھت پر برف کی سفید ٹوپی اور اندر سے آتی لکڑی جلنے کی خوشبو۔ مالک نے چابی دی اور کہا کہ فائر پلیس کی لکڑیاں کونے میں رکھی ہیں۔ ماہ نور نے دروازہ کھولا تو اندر کی گرمی نے اس کے گالوں کو چھو لیا۔
حسن نے بیگ اندر رکھے اور ماہ نور کو پیچھے سے گلے لگا لیا۔ اس کے بالوں میں ابھی بھی سفر کی ٹھنڈک تھی۔ حسن نے اس کی گردن پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ ماہ نور نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس نے دھیرے سے کہا کہ پہلے چائے بناتے ہیں ورنہ میں جم جاؤں گی۔ حسن ہنسا اور کچن کی طرف بڑھا۔
چائے کے کپ ہاتھ میں لیے وہ دونوں فائر پلیس کے سامنے بیٹھ گئے۔ باہر برف گر رہی تھی اور اندر لکڑیوں کی چٹخنے کی آواز۔ ماہ نور نے اپنے پاؤں حسن کی گود میں رکھ دیے۔ حسن نے اس کے پاؤں دبانا شروع کیے۔ ماہ نور کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ اس نے کہا کہ تمہارے ہاتھ تو جادو کرتے ہیں۔ حسن نے جواب دیا کہ ابھی تو تم نے جادو دیکھا ہی نہیں۔
کھانے کے بعد حسن نے اپنے فون پر ایک پرانا گانا لگایا۔ ماہ نور نے ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ ڈانس ہو جائے۔ لکڑی کے فرش پر وہ دونوں ایک دوسرے کے بازوؤں میں گھومنے لگے۔ گانے کی دھن دھیمی تھی اور فائر پلیس کی روشنی ان کے چہروں پر ناچ رہی تھی۔ حسن نے ماہ نور کو اپنی طرف کھینچا۔ ان کے ہونٹ ملے۔ یہ بوسہ پہلے والوں سے مختلف تھا۔ اس میں آٹھ مہینوں کی پیاس تھی۔
ماہ نور کے ہونٹ نرم اور گرم تھے۔ حسن نے اس کے نچلے ہونٹ کو ہلکے سے کاٹا۔ ماہ نور نے ایک ہلکی سی آہ بھری۔ اس کے ہاتھ حسن کی قمیض کے بٹنوں پر چلے گئے۔ ایک ایک بٹن کھلتا گیا۔ حسن نے اس کی شال اتاری اور کندھے پر بوسوں کی بارش کر دی۔ ماہ نور کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔
حسن نے ماہ نور کو گود میں اٹھایا اور صوفے پر بٹھایا۔ اس نے اس کی قمیض اتاری۔ ماہ نور نے شرم سے آنکھیں جھکا لیں مگر حسن نے اس کی ٹھوڑی اوپر کی۔ اس نے کہا کہ تم میری بیوی ہو، شرمانا کیسا۔ ماہ نور کی چھاتیاں اس کے سامنے تھیں۔ حسن نے انہیں ہاتھوں میں لیا اور دبایا۔ ماہ نور نے زور سے سانس لی۔
حسن نے ماہ نور کے مموں کو منہ میں لیا۔ اس کی زبان نے نپل کے گرد گھومنا شروع کیا۔ ماہ نور نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں۔ اس کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں۔ حسن نے دوسرے ممے کو ہاتھ سے مسلنا جاری رکھا۔ ماہ نور کی کمر صوفے پر مڑنے لگی۔
پھر حسن نیچے سرکا۔ اس نے ماہ نور کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ ماہ نور نے ہلکی سی مزاحمت کی مگر حسن نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور مسکرایا۔ اس نے شلوار نیچے سرکائی۔ ماہ نور کی چوت اس کے سامنے تھی۔ حسن نے اس پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ ماہ نور کے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی۔
حسن کی زبان نے ماہ نور کی چوت کو چھوا۔ ماہ نور نے زور سے چیخ روکی۔ اس کی انگلیاں صوفے کے کپڑے میں گڑ گئیں۔ حسن نے زبان کو اندر تک لے جایا۔ ماہ نور کی چوت سے پانی نکلنے لگا۔ حسن نے اسے چاٹا۔ ماہ نور کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے کہا کہ بس اب اور نہیں۔
حسن نے اپنی پینٹ اتاری۔ اس کا لنڈ تن کر کھڑا تھا۔ ماہ نور نے اسے دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔ اس نے اسے دھیرے دھیرے ہلانا شروع کیا۔ حسن نے آنکھیں بند کر لیں۔ ماہ نور نے جھک کر اس کے لنڈ پر بوسہ دیا۔ پھر اس نے اسے منہ میں لے لیا۔
ماہ نور کے منہ کی گرمی نے حسن کو پاگل کر دیا۔ اس نے اس کے سر کو پکڑا اور دھیرے دھیرے اندر باہر کیا۔ ماہ نور کی زبان لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ حسن کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔ اس نے ماہ نور کو روکا۔ اس نے کہا کہ ابھی نہیں، ابھی تمہاری باری ہے۔
حسن نے ماہ نور کی ٹانگیں کھولیں۔ اس نے اپنے لنڈ کو اس کی چوت پر رگڑا۔ ماہ نور نے بے چینی سے کمر ہلائی۔ حسن نے دھیرے سے اندر ڈالا۔ ماہ نور نے ایک گہری سانس لی۔ لنڈ آدھا اندر گیا۔ حسن نے رکا اور پھر ایک جھٹکے سے پورا اندر کر دیا۔ ماہ نور نے اس کے کندھے پر ناخن گاڑ دیے۔
حسن نے دھیرے دھیرے دھکے لگانا شروع کیے۔ فائر پلیس کی آگ ان کے جسموں پر ناچ رہی تھی۔ ماہ نور کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ حسن کی رفتار بڑھتی گئی۔ ماہ نور نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ ہر دھکے کے ساتھ وہ دونوں ایک دوسرے میں مزید ڈوبتے گئے۔
اچانک حسن نے ماہ نور کو پلٹا۔ اب وہ گھوڑی بنی ہوئی تھی۔ حسن نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ ماہ نور نے زور سے آہ بھری۔ حسن نے اس کے بال پکڑے اور تیز دھکے لگائے۔ ماہ نور کے ممے ہوا میں جھول رہے تھے۔ حسن نے ایک ہاتھ بڑھا کر انہیں پکڑا اور مسلا۔
ماہ نور کی چوت نے حسن کے لنڈ کو کس کر جکڑا۔ اس کا پانی نکلنے والا تھا۔ اس نے چلایا کہ میں جھڑنے والی ہوں۔ حسن نے رفتار اور بڑھا دی۔ ماہ نور کے جسم میں ایک زلزلہ آیا۔ اس کی چیخ کاٹیج میں گونجی۔ حسن نے بھی اپنے آپ کو روکا نہیں۔ اس نے اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔
دونوں صوفے پر ڈھیر ہو گئے۔ پسینے اور برف کی ٹھنڈک کا عجیب امتزاج۔ حسن نے ماہ نور کو کمبل میں لپیٹا۔ ماہ نور نے اس کے سینے پر سر رکھا۔ باہر برف اب بھی گر رہی تھی۔ ماہ نور نے دھیرے سے کہا کہ یہ ہماری سب سے اچھی چھٹی ہے۔ حسن نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
رات کے کھانے کے بعد وہ دونوں بیڈروم میں گئے۔ لکڑی کا بستر، اس پر گرم رضائی اور کھڑکی سے نظر آتی برف سے ڈھکی وادی۔ ماہ نور نے کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر باہر دیکھا۔ چاندنی برف پر چمک رہی تھی۔ حسن پیچھے آیا اور اسے گلے لگایا۔ اس کے ہاتھ ماہ نور کے پیٹ پر تھے۔
حسن کے ہاتھ اوپر سرکے۔ اس نے ماہ نور کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا اور اس کے مموں کو پکڑا۔ ماہ نور نے سر پیچھے اس کے کندھے پر ٹکا دیا۔ حسن نے اس کی گردن پر بوسے دیے۔ ماہ نور نے کہا کہ کھڑکی بند کر دو، کوئی دیکھ لے گا۔ حسن نے مسکرا کر کھڑکی کا پردہ کھینچا۔
پردہ گرتے ہی حسن نے ماہ نور کو بستر پر گرایا۔ اس نے اس کے کپڑے ایک ایک کر کے اتارے۔ ماہ نور نے بھی اس کی شرٹ کھینچی۔ دونوں ننگے تھے۔ حسن نے ماہ نور کے پورے جسم پر بوسوں کی بارش کر دی۔ اس کی زبان اس کی ناف کے گرد گھومی۔ ماہ نور ہنسنے اور سسکنے کے درمیان تھی۔
ماہ نور نے حسن کو نیچے دھکیلا۔ اب وہ اوپر تھی۔ اس نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت پر رکھا اور دھیرے سے بیٹھ گئی۔ لنڈ پورا اندر چلا گیا۔ ماہ نور نے اپنی کمر ہلانا شروع کی۔ حسن نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں لیا۔ ماہ نور کی رفتار بڑھتی گئی۔ اس کے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔
حسن نے نیچے سے دھکے لگانا شروع کیے۔ ماہ نور نے اس کے ہاتھ پکڑے اور اپنے مموں پر رکھے۔ دونوں کی سانسیں ایک ہو گئی تھیں۔ ماہ نور کی چوت سے پانی بہنے لگا۔ حسن کے لنڈ پر اس کی چکناہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ ماہ نور نے کہا کہ اور تیز، اور تیز۔
حسن نے ماہ نور کو اپنی طرف کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر زور سے بوسہ دیا۔ زبانوں کا کھیل جاری تھا اور نیچے دھکے بھی۔ ماہ نور کے جسم میں پھر وہ لہر اٹھی۔ اس نے حسن کے کندھے کو دانتوں سے کاٹا۔ اس کی چیخ حسن کے منہ میں دب گئی۔ وہ جھڑ گئی۔
حسن نے ابھی ہار نہیں مانی تھی۔ اس نے ماہ نور کو پلٹ کر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں۔ اس پوزیشن میں لنڈ بہت گہرائی تک جا رہا تھا۔ ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ خوشی کے آنسو۔ حسن نے تیز تیز دھکے لگائے۔ کمرہ ان کی آوازوں سے بھر گیا۔
آخر میں حسن نے اپنا لنڈ باہر نکالا۔ اس نے ماہ نور کے مموں پر اپنا پانی چھوڑا۔ سفید قطرے اس کی گرم جلد پر چمک رہے تھے۔ ماہ نور نے انگلی سے ایک قطرہ اٹھایا اور چاٹا۔ حسن نے اسے دیکھا اور ہنسا۔ اس نے کہا کہ تم تو بہت شرارتی ہو گئی ہو۔
دونوں رضائی میں گھس گئے۔ ماہ نور نے حسن کے بازو پر سر رکھا۔ حسن نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنا شروع کیں۔ باہر ہوا کی سیٹی بج رہی تھی مگر اندر صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی۔ ماہ نور نے کہا کہ کاش ہر مہینے ایسی ایک رات ملے۔ حسن نے کہا کہ وعدہ رہا۔
صبح جب آنکھ کھلی تو کھڑکی سے دھوپ اندر آ رہی تھی۔ برف پر سورج کی کرنیں چمک رہی تھیں۔ ماہ نور ابھی سو رہی تھی۔ حسن نے اس کے چہرے کو دیکھا۔ نیند میں وہ بچی لگ رہی تھی۔ حسن نے اس کے گال پر بوسہ دیا۔ ماہ نور نے نیند میں ہی مسکرایا۔
ماہ نور کی آنکھ کھلی تو اس نے حسن کو دیکھ کر شرمایا۔ حسن نے کہا کہ اب شرمانا بند کرو، رات کو تو شیرنی بنی ہوئی تھی۔ ماہ نور نے تکیہ اٹھا کر اسے مارا۔ دونوں ہنسنے لگے۔ رضائی کے اندر ان کے ننگے جسم پھر ایک دوسرے سے ٹکرائے۔ حسن کا لنڈ پھر تننے لگا۔
ماہ نور نے محسوس کیا اور شرارت سے کہا کہ پھر سے۔ حسن نے اسے اپنی طرف کھینچا۔ صبح کی اس ٹھنڈک میں ان کے جسموں کی گرمی اور بڑھ گئی۔ حسن نے ماہ نور کی چوت میں انگلی ڈالی۔ وہ ابھی سے گیلی تھی۔ ماہ نور نے کہا کہ تم نے تو مجھے بگاڑ دیا ہے۔
حسن نے ماہ نور کو اپنے اوپر بٹھایا۔ صبح کی دھوپ میں اس کا ننگا جسم سونے کی طرح چمک رہا تھا۔ ماہ نور نے دھیرے دھیرے لنڈ کو اندر لیا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور کمر ہلانا شروع کی۔ حسن نے اس کی کمر کو پکڑا اور نیچے سے ساتھ دیا۔
یہ صبح والی چدائی رات سے مختلف تھی۔ اس میں جلدی نہیں تھی۔ ہر دھکا محسوس کیا جا رہا تھا۔ ماہ نور نے حسن کے سینے پر ہاتھ رکھے۔ اس کے ناخن اس کی جلد پر ہلکے نشان چھوڑ رہے تھے۔ حسن نے اس کے نپل کو چوسا۔ ماہ نور کی سسکیاں صبح کی خاموشی میں گونج رہی تھیں۔
ماہ نور کی رفتار بڑھتی گئی۔ اس کے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ حسن نے انہیں ہاتھوں سے تھاما۔ ماہ نور نے سر پیچھے کیا اور زور سے چیخی۔ اس کا پانی نکلا۔ حسن نے اسے کس کر پکڑا اور نیچے سے تیز دھکے لگائے۔ اس کا پانی بھی نکل آیا۔ دونوں ایک ساتھ جھڑے۔
ناشتے کے بعد وہ دونوں برف میں سیر کو نکلے۔ سفید وادی، ان کے قدموں کے نشان اور ہاتھوں میں ہاتھ۔ ماہ نور نے برف کا گولا بنا کر حسن پر پھینکا۔ حسن نے اسے پکڑا اور برف پر گرا دیا۔ دونوں ہنسنے لگے۔ حسن نے اس کے ہونٹوں پر برف کی ٹھنڈک کے ساتھ بوسہ دیا۔
واپسی پر کاٹیج کے مالک نے انہیں کہوا پلایا۔ اس نے کہا کہ میاں بیوی کی محبت برف سے بھی زیادہ سفید ہوتی ہے۔ ماہ نور نے حسن کا ہاتھ دبایا۔ حسن نے مسکرایا۔ ان کی آنکھوں میں وہی شرارت تھی جو رات کو تھی۔
شام کو جب وہ لاہور کی طرف روانہ ہوئے تو ماہ نور نے پیچھے مڑ کر کاٹیج کو دیکھا۔ برف میں ڈوبا وہ چھوٹا سا گھر ان کی محبت کا گواہ بن چکا تھا۔ حسن نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ ماہ نور نے کہا کہ اگلی بار زیادہ دنوں کے لیے آئیں گے۔ حسن نے کہا کہ اگلی بار تو میں تمہیں یہیں سے جانے ہی نہیں دوں گا۔
گاڑی پہاڑ سے اتر رہی تھی۔ ماہ نور نے حسن کے کندھے پر سر رکھا۔ اس نے دھیرے سے کہا کہ تم نے میری زندگی کی سب سے خوبصورت اردو رومانٹک سیکس کہانی لکھ دی۔ حسن نے اس کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور کہا کہ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، یہ تو بس شروعات ہے۔
Readers who enjoyed “اردو رومانٹک سیکس کہانی: مری کی برف میں پہلی چھٹی” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔