Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو طوائف کہانی: لکھنؤ کے کوٹھے کی مہرالنسا

N
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھتے ہی عطر کی خوشبو، پان کی مہک اور گھنگھرو کی چھن چھن میرے حواس پر چھا گئی، اور مجھے لگا جیسے میں کسی اردو طوائف کہانی کے بیچ میں آ گرا ہوں۔ میرا نام دانیال ہے، اٹھائیس سال کا، دہلی میں کراکری کا کاروبار کرتا ہوں۔ لکھنؤ میں ایک ڈیل کے سلسلے میں آیا تھا، اور میرا دوست عمران مجھے زبردستی یہاں لے آیا تھا۔

پرانے شہر کی یہ حویلی باہر سے خستہ حال لگتی تھی، لیکن اندر داخل ہوتے ہی منظر بدل گیا۔ بڑا صحن، سنگ مرمر کا فرش، دیواروں پر پرانی تصویریں، اور کمرے میں گاؤ تکیوں پر بیٹھی چار پانچ لڑکیاں۔ ہارمونیم اور طبلے کی آواز آ رہی تھی۔ عمران نے میرے کان میں کہا، آج رات تمہیں لکھنؤ کی اصل تہذیب دکھاتا ہوں۔

تبھی پردہ ہٹا اور وہ آئی۔ مہرالنسا۔ پینتیس سال کی عمر، سبز شرارہ، گلے میں موتیوں کی مالا، آنکھوں میں گہرا کاجل۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی کشش تھی جو عمر سے ماورا تھی۔ وہ آ کر بیٹھی اور گھنگھرو باندھنے لگی۔ اس کی ہر حرکت میں ایک ادا تھی۔

مجری شروع ہوا۔ اس نے ایک پرانی غزل چھیڑی، آج جانے کی ضد نہ کرو۔ اس کی آواز میں درد بھی تھا اور دعوت بھی۔ وہ گاتے گاتے بار بار میری طرف دیکھتی۔ اس کی نظریں میرے سینے میں اتر جاتی تھیں۔ میں نے عمران کی طرف دیکھا، وہ مسکرا رہا تھا۔

مجری ختم ہونے کے بعد عمران نے اس کے ایک ملازم سے کچھ کہا اور میری طرف پلٹ کر بولا، مہرالنسا تم سے اکیلے میں ملنا چاہتی ہے۔ اوپر والا کمرہ تمہارا ہے۔ میرے ہاتھ پسینے سے بھیگ گئے۔ میں نے کہا، عمران، یہ ٹھیک نہیں۔ اس نے ہنس کر کہا، لکھنؤ آ کر طوائف کے کوٹھے سے خالی ہاتھ جانا بے ادبی ہے۔

میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر والے کمرے میں گیا۔ کمرہ بڑا تھا، بستر پر ریشمی چادر، کھڑکی سے چاندنی اندر آ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور مہرالنسا اندر آئی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔

اس نے کہا، تو تم ہو دہلی والے دانیال۔ مجرے میں تمہاری نظریں مجھ سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔ میں نے ہکلاتے ہوئے کہا، آپ کی آواز بہت خوبصورت ہے۔ وہ ہنسی، صرف آواز۔ اور قریب آ کر بیٹھ گئی۔ اس کے عطر کی خوشبو نے مجھے مدہوش کر دیا۔

اس نے شربت کا گلاس میرے ہونٹوں سے لگایا۔ میں نے ایک گھونٹ پیا۔ اس نے کہا، ڈرتے کیوں ہو۔ میں کوئی چڑیل نہیں ہوں۔ میں نے کہا، ڈر نہیں رہا، بس پہلی بار کسی طوائف کے پاس آیا ہوں۔ اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔

اس کی انگلیاں میرے ہاتھ پر چلنے لگیں۔ اس نے کہا، طوائف بھی عورت ہوتی ہے، دانیال۔ اسے بھی چاہت ہوتی ہے، اسے بھی کسی کا لمس چاہیے ہوتا ہے۔ تمہاری آنکھوں میں میں نے وہ پیاس دیکھی ہے جو مجھ میں بھی ہے۔

میں نے اس کا ہاتھ چوم لیا۔ وہ میرے اور قریب آ گئی۔ اس کا سینہ میرے بازو سے لگ رہا تھا۔ اس نے میرے کان میں سرگوشی کی، آج رات تم میرے مہمان ہو، اور مہمان نوازی میں لکھنؤ والیاں کوئی کمی نہیں چھوڑتیں۔

اس نے میرے شیروانی کے بٹن ایک ایک کر کے کھولنے شروع کیے۔ اس کی انگلیاں میرے سینے پر پھر رہی تھیں۔ میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ جب شیروانی اتری تو اس نے میرے سینے پر اپنا گال رکھ دیا۔ اس نے کہا، تمہاری دھڑکن سن رہی ہوں۔

میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالا اور اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔ میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلے آہستہ، پھر شدت سے۔ اس نے میرے ہونٹ کاٹا، ہلکا سا، اور میں نے سسکی بھری۔ اس کی زبان میرے منہ میں آ گئی۔

میں نے اس کے شرارے کا ڈور کھولا۔ شرارہ اس کے جسم سے پھسل کر نیچے گر گیا۔ اس کے نیچے صرف ایک باریک قمیض تھی۔ میں نے وہ بھی اتار دی۔ اس کا ننگا جسم چاندنی میں چمک رہا تھا۔ اس کے بڑے، بھرے ممے، اس کی پتلی کمر، اس کی گول کولہے۔

میں نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں لیا۔ وہ بھاری اور نرم تھے۔ میں نے اس کے نپل منہ میں لیے اور چوسنے لگا۔ وہ سسکیاں بھرنے لگی، آہ دانیال۔ اس نے میرے سر کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کے نپل میرے منہ میں سخت ہو رہے تھے۔

میں نیچے اترا۔ اس کی ناف پر بوسے دیے، پھر اس کی چوت پر میری زبان پہنچی۔ اس کی چوت گیلی تھی، اس کے بالوں کے بیچ چمکتی ہوئی۔ میں نے اسے چاٹنا شروع کیا۔ وہ چلائی، ہائے اللہ۔ اس نے میرا سر اپنی ٹانگوں میں دبا لیا۔

میں اس کی چوت کو چاٹتا رہا، اس کے دانے کو زبان سے رگڑتا رہا۔ اس کا جسم کانپنے لگا۔ وہ زور سے کانپی اور جھڑ گئی۔ اس کا پانی میرے منہ میں آیا، نمکین اور گرم۔ وہ ہانپ رہی تھی۔ اس نے مجھے اوپر کھینچا۔

اس نے میرا پاجامہ اتار دیا۔ میرا لنڈ تنا ہوا باہر آیا۔ اس نے اسے ہاتھ میں لیا اور پیار سے دیکھا۔ پھر اس نے اسے منہ میں لے لیا۔ اس کا گرم منہ، اس کی زبان میرے لنڈ پر گھوم رہی تھی۔ میں پاگل ہو رہا تھا۔

وہ میرے لنڈ کو چوستی رہی، اس کا سر اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ میں نے اس کے بال پکڑ لیے۔ میں نے کہا، مہرالنسا، میں جھڑنے والا ہوں۔ اس نے منہ نہیں ہٹایا۔ میں اس کے منہ میں جھڑ گیا۔ اس نے سب نگل لیا اور مسکرائی۔

ہم دونوں بستر پر لیٹ گئے۔ اس نے میرے سینے پر سر رکھا۔ اس نے کہا، دانیال، آٹھ سال سے اس کوٹھے میں ہوں، ہزاروں مرد آئے، لیکن آج پہلی بار کسی نے مجھے عورت سمجھ کر پیار کیا۔ میری آنکھوں میں نمی آ گئی۔

تھوڑی دیر بعد اس نے مجھے دھکا دیا اور میرے اوپر آ گئی۔ اس نے میرے لنڈ کو پکڑا اور اپنی چوت کے منہ پر رکھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس پر بیٹھ گئی۔ میرا لنڈ اس کی گیلی چوت میں پورا اتر گیا۔ ہم دونوں ایک ساتھ سسکے۔

وہ میرے اوپر اٹھنے بیٹھنے لگی۔ اس کے ممے میرے چہرے کے سامنے ہل رہے تھے۔ میں نے انہیں پکڑ لیا اور نپل چوسنے لگا۔ اس کی رفتار بڑھتی گئی۔ وہ چلا رہی تھی، اور زور سے دانیال، اور زور سے۔

پھر میں نے اسے نیچے کیا اور خود اوپر آیا۔ میں نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اس کی چوت میں لنڈ ڈال کر زور زور سے دھکے مارنے شروع کیے۔ وہ چیخ رہی تھی۔ بستر چرچرانے لگا۔

میں نے اسے پلٹا اور وہ اوندھی ہو گئی۔ میں اس کے پیچھے آیا۔ میں نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ اس کے کولہے میری رانوں سے ٹکرا رہے تھے۔ میں نے اس کے بال پکڑے اور اسے اپنی طرف کھینچا۔

اس کی چوت میرے لنڈ کو کس کس کر پکڑ رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ جھڑنے والی ہے۔ وہ زور سے کانپی اور چلائی۔ اس کی چوت نے میرے لنڈ کو اتنا کسا کہ میں بھی نہ رک سکا۔ میں اس کے اندر ہی جھڑ گیا۔

ہم دونوں پسینے میں بھیگے بستر پر گر پڑے۔ چاندنی اب بھی کھڑکی سے آ رہی تھی۔ اس نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، تم نے آج مجھے وہ سکھ دیا جو پیسہ نہیں دے سکتا۔ میں نے اسے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا۔

اس رات ہم نے دو بار اور کیا۔ ایک بار وہ میرے اوپر تھی، ایک بار میں نے اسے گود میں اٹھا کر دیوار سے لگا کر کیا۔ ہر بار وہ اور کھلتی گئی، اور چیختی گئی۔ صبح ہونے تک ہم دونوں تھک کر چور ہو چکے تھے۔

صبح وہ پہلے اٹھی، نہا دھو کر چائے بنائی۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھے چائے پلائی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی نمی تھی۔ اس نے کہا، دانیال، تم دہلی کب جا رہے ہو۔ میں نے کہا، کل صبح۔

چائے کے بعد اس نے مجھے حویلی کی چھت پر لے گئی۔ صبح کی دھوپ میں لکھنؤ کا پرانا شہر سنہرا لگ رہا تھا۔ اس نے کہا، یہی میری دنیا ہے، دانیال۔ یہی کوٹھا، یہی گھنگھرو، یہی راتیں۔ میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا، اب اس دنیا میں ایک دروازہ میرے لیے بھی کھلا رکھنا۔ وہ کچھ نہ بولی، بس میری انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں بھینچ لیا۔

دوپہر کو وہ سو گئی اور میں اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ نیند میں وہ بہت معصوم لگ رہی تھی، جیسے کوئی عام گھریلو عورت ہو۔ میں نے سوچا کہ قسمت بھی کیسی چیز ہے، جو عورت ہزاروں دلوں پر راج کرتی ہے، اسے ایک سچے دل کی تلاش ہے۔ میں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور وہ نیند میں مسکرائی۔

اس نے کہا، تو آج کی رات بھی میری ہے۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، اور اس کے بعد کی ہر رات جب میں لکھنؤ آؤں گا۔ وہ ہنسی، لیکن اس کی ہنسی میں آنسو تھے۔ اس نے کہا، طوائفوں سے وعدے نہیں کیے جاتے۔

میں نے کہا، میں وعدہ نہیں کر رہا، میں اعلان کر رہا ہوں۔ اگلے مہینے میرا کام پھر لکھنؤ لائے گا، اور میں سیدھا اسی کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھوں گا۔ اس نے میرا چہرہ ہاتھوں میں لیا اور میرے ہونٹوں پر ایک لمبا بوسہ دیا۔

شام کو جانے سے پہلے اس نے اپنے پیروں کے گھنگھرو اتارے اور ایک جوڑا میرے بیگ میں رکھ دیا۔ اس نے کہا، یہ نشانی ہے۔ اب تم میرے قیدی ہو۔ جب بھی یہ چھنیں گے، تمہیں میری یاد آئے گی۔ میں نے گھنگھرو کو چوما اور بیگ بند کر لیا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو طوائف کہانی: لکھنؤ کے کوٹھے کی مہرالنسا” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views