Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو کزن کی کہانی: خواب جو سچ ہو گیا

S
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

میں نے خواب میں اسے دیکھا تھا، اور اگلے ہی دن وہ لاہور آ گیا۔ یہ میری اردو کزن کی کہانی کی شروعات تھی، ایک ایسے خواب سے جو سچ ہو گیا۔ خواب میں دانیال میرے کمرے کی کھڑکی سے اندر آیا تھا، اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر تھے، اور میں نیند میں ہی کراہ رہی تھی۔

میں ہانپتی ہوئی جاگی۔ میری شلوار گیلی تھی اور میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میرا نام مہوش ہے، عمر چوبیس سال۔ دانیال میرے چچا کا بیٹا ہے، ستائیس سال کا، کراچی میں نوکری کرتا ہے۔ ہم بچپن میں ساتھ کھیلے تھے، پھر وہ پڑھائی کے لیے کراچی چلا گیا تھا۔

اس کی بہن کی شادی تھی، اسی لیے پورا خاندان لاہور میں جمع ہو رہا تھا۔ دانیال کی آمد کی خبر نے مجھے بے چین کر دیا تھا۔ میں نے شیشے میں خود کو دیکھا۔ میرے گال سرخ تھے۔ "یہ صرف ایک خواب تھا،" میں نے خود سے کہا، پر میرا جسم کچھ اور کہہ رہا تھا۔

دوپہر کو دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے دانیال کھڑا تھا۔ لمبا قد، چوڑے کندھے، داڑھی میں ہلکی سی خشخشی۔ وہ بالکل میرے خواب جیسا لگ رہا تھا۔ "مہوش!" وہ مسکرایا اور مجھے گلے لگا لیا۔ اس کے جسم کی گرمی میرے سینے سے ٹکرائی۔

اس کی بانہیں میری کمر کے گرد تھیں، ایک لمحے کے لیے ضرورت سے زیادہ دیر تک۔ میں نے اس کی خوشبو سونگھی، تیز اور مردانہ۔ جب وہ الگ ہوا تو اس کی نظریں میرے چہرے پر ٹکی رہیں۔ "تم تو بہت بدل گئی ہو،" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔

شام کو گھر میں مہندی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ عورتیں صحن میں بیٹھی گیت گا رہی تھیں۔ مجھے اسٹور روم سے کرسیاں نکالنے کا کام ملا۔ میں اکیلی اسٹور روم میں گئی۔ پرانا سامان، دھول کی بو، مدھم روشنی۔ اچانک دروازے پر سایہ پڑا۔ دانیال تھا۔

"میں مدد کر دوں؟" اس نے پوچھا اور اندر آ گیا۔ کمرہ تنگ تھا۔ وہ میرے پیچھے کھڑا ہو گیا، اس کا سینہ میری پیٹھ سے لگ رہا تھا۔ اس نے اوپر رکھی کرسی اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اس کا بازو میرے سینے کو چھو گیا۔ میرے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔

"معاف کرنا،" اس نے کہا، پر وہ پیچھے نہیں ہٹا۔ اس کی سانسیں میری گردن پر پڑ رہی تھیں۔ میں نے مڑ کر اسے دیکھا۔ ہماری آنکھیں ملیں۔ اس کی آنکھوں میں وہی بھوک تھی جو میں نے اپنے خواب میں دیکھی تھی۔ میرا دل اتنی زور سے دھڑکا کہ مجھے لگا وہ سن لے گا۔

"دانیال..." میری آواز کانپ رہی تھی۔ اس نے میرا نام نہیں لیا، بس میرے گال پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس کا انگوٹھا میرے ہونٹوں پر پھرا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ پھر اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر تھے۔ پہلے نرم، پھر بھوکے۔ میں نے اس کی قمیض پکڑ لی۔

باہر سے کسی کے آنے کی آواز آئی۔ ہم جھٹ سے الگ ہوئے۔ میری خالہ سامان لینے آئی تھیں۔ "ارے تم دونوں یہاں؟" انہوں نے پوچھا۔ "کرسیاں نکال رہے تھے خالہ،" دانیال نے عام لہجے میں کہا۔ پر جب وہ مڑیں تو اس نے میری طرف دیکھ کر آنکھ ماری۔ میرے گال جلنے لگے۔

اس رات مجھے نیند نہیں آئی۔ اسٹور روم کا وہ لمحہ بار بار یاد آ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں کا ذائقہ اب بھی میرے ہونٹوں پر تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ اگلے دن میں نے اسے چھت پر بلایا، یہ کہہ کر کہ مہندی کے کپڑے سکھانے میں مدد چاہیے۔

چھت پر دھوپ تھی اور چاروں طرف کپڑے سوکھ رہے تھے، ایک طرح کا پردہ۔ دانیال آیا۔ "کیا مدد چاہیے؟" اس نے مسکرا کر پوچھا۔ میں اس کے قریب گئی۔ "تمہاری،" میں نے کہا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ وہ ایک لمحے کو حیران ہوا، پھر اس نے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔

اس نے مجھے کپڑوں کے پیچھے دیوار سے لگا لیا۔ اس کے ہاتھ میری قمیض کے بٹن کھولنے لگے۔ "مہوش... کوئی آ جائے گا،" اس نے کہا، پر اس کے ہاتھ نہیں رکے۔ "تو جلدی کرو،" میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ اس نے میری قمیض کے بٹن کھول دیے۔

میری چھاتیاں اس کے سامنے ننگی تھیں۔ اس نے انہیں اپنے ہاتھوں میں لے کر دبانا شروع کیا۔ میرے منہ سے سسکی نکلی۔ اس نے ایک چھاتی کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔ اس کی زبان میرے نپل پر گھوم رہی تھی۔ میری شلوار گیلی ہو رہی تھی۔

میں نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کی چھاتی پر ہاتھ پھیرا۔ اس کے سینے کے بال میرے ہاتھوں کو گدگدا رہے تھے۔ میں نیچے جھکی اور اس کی پینٹ کا بٹن کھول دیا۔ اس کا لنڈ باہر نکل آیا، لمبا اور موٹا، رگیں ابھری ہوئی۔ میں نے اسے ہاتھ میں لیا اور ہلانے لگی۔

"آہ... مہوش..." وہ کراہا۔ میں نے اس کے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔ وہ گرم اور سخت تھا۔ میں نے اس کے ٹوپے پر زبان پھیری اور پھر پورا اندر لے کر چوسنے لگی۔ اس نے میرے بال پکڑ لیے۔ "کتنا مزہ آ رہا ہے... رکو مت..." میں نے رفتار بڑھا دی۔

پھر اس نے مجھے اٹھایا۔ اس نے میری شلوار کا ازاربند کھولا اور اسے نیچے کھینچ دیا۔ میری چوت اس کے سامنے ننگی تھی، گیلی اور پھولی ہوئی۔ وہ میرے سامنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا اور اپنا منہ میری چوت پر رکھ دیا۔

اس کی زبان میرے دانے پر لگی تو میں چیخ پڑی۔ میں نے اس کا سر پکڑ لیا۔ "دانیال... مت رکو..." وہ چاٹ رہا تھا، چوس رہا تھا۔ میرا جسم کانپنے لگا۔ ایک تیز لہر میرے اندر سے اٹھی اور میں جھڑ گئی۔ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔

وہ کھڑا ہوا۔ اس کا لنڈ میری چوت کے منہ پر ٹکا تھا۔ "تیار ہو؟" اس نے پوچھا۔ میں نے سر ہلایا۔ اس نے ایک دھکا مارا اور اس کا لنڈ میری گیلی چوت میں دھنس گیا۔ میں نے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ "ہائے... کتنا بڑا ہے..."

وہ آہستہ آہستہ اندر باہر ہونے لگا۔ دیوار کے سہارے میں اس سے لپٹی تھی۔ ہر دھکے کے ساتھ مجھے لگتا جیسے وہ میرے اندر کی ہر خالی جگہ بھر رہا ہو۔ "تیز کرو دانیال... اور تیز..." اس نے رفتار بڑھا دی۔ کپڑے ہوا میں لہرا رہے تھے۔

پھر اس نے مجھے پلٹایا۔ میری پیٹھ اس کے سینے سے لگی تھی۔ اس نے میری ایک ٹانگ اٹھائی اور پیچھے سے میرے اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میری چھاتیوں پر تھے۔ "لو... لو میرا پورا..." میں چیخ رہی تھی۔ میرا دوسرا جھڑنا آ گیا، اس بار اور بھی تیز۔

اس نے آخری چند زوردار دھکے مارے اور پھر اس کا گرم پانی میری چوت میں چھوٹ گیا۔ "ہائے اللہ..." وہ میرے اوپر ڈھے پڑا۔ ہم دونوں ہانپ رہے تھے۔ اس نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "تم خواب سے بھی زیادہ خوبصورت ہو،" وہ بولا۔

ہم نے جلدی جلدی کپڑے ٹھیک کیے۔ نیچے سے امی کی آواز آئی، "مہوش! کہاں ہو؟" "آئی امی!" میں نے جواب دیا۔ دانیال نے میرا ہاتھ دبایا اور سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ میں کچھ دیر چھت پر کھڑی رہی، اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتی ہوئی۔

اگلے دو دن ہم چھپ چھپ کر ملتے رہے۔ کبھی اسٹور روم میں، کبھی چھت پر، ایک بار تو باورچی خانے میں جب سب صحن میں تھے۔ ہر ملاقات میں وہ آگ بڑھتی گئی۔ اس نے مجھے وہ سب سکھایا جو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ میرا جسم اس کا عادی ہو گیا تھا۔

باورچی خانے والی ملاقات سب سے خطرناک تھی۔ سب صحن میں مہندی کے گیتوں میں مگن تھے۔ میں چائے بنانے کے بہانے اندر گئی۔ دانیال دو منٹ بعد آیا۔ اس نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ "صرف پانچ منٹ،" میں نے کہا۔ "پانچ منٹ بہت ہیں،" وہ بولا اور مجھے سلیب سے لگا لیا۔

اس نے میری شلوار نیچے کھینچی اور مجھے سلیب پر بٹھا دیا۔ میری ٹانگیں اس کے کندھوں پر تھیں۔ اس کا منہ میری چوت پر تھا۔ میں نے اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لیا تاکہ آواز نہ نکلے۔ اس کی زبان اندر باہر ہو رہی تھی۔ میں جلدی جھڑ گئی، میرا جسم لرز رہا تھا۔

پھر وہ میرے سامنے کھڑا ہوا اور اپنا لنڈ میری چوت میں ڈال دیا۔ وہ زور زور سے دھکے مار رہا تھا۔ سلیب ہل رہی تھی۔ "آہستہ... کوئی سن لے گا..." میں نے سرگوشی کی۔ اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور میری چیخوں کو پی گیا۔ اس کا گرم پانی میرے اندر چھوٹا تو ہم دونوں کانپ اٹھے۔

ہم نے ایک منٹ میں کپڑے ٹھیک کیے۔ میں نے چائے کی پتیلی چولہے پر رکھی، بالکل وقت پر، کیونکہ اسی لمحے امی اندر آئیں۔ "چائے بن گئی؟" انہوں نے پوچھا۔ "بس دانیال بھی آ گیا تھا مدد کے لیے،" میں نے کہا۔ دانیال نے معصومیت سے مسکرا کر چائے کا کپ اٹھا لیا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

شادی والے دن گھر میں ہنگامہ تھا۔ دلہن تیار ہو رہی تھی، مہمان آ رہے تھے۔ بھیڑ میں دانیال میرے پاس سے گزرا۔ اس نے چپکے سے میری ہتھیلی میں کچھ رکھ دیا۔ میں نے مٹھی کھولی تو اس میں اس کی قمیض کا ایک بٹن تھا، وہی جو میں نے چھت پر کھولا تھا۔

میں نے اسے دیکھا۔ وہ بھیڑ میں کھڑا مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ میں نے بٹن اپنی مٹھی میں بھینچ لیا۔ دلہن کی ڈولی اٹھنے والی تھی، پر میرے دل میں ایک اور بارات سج رہی تھی۔ میں نے بٹن اپنے دوپٹے کے پلو میں باندھ لیا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو کزن کی کہانی: خواب جو سچ ہو گیا” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views