اردو محبت بھری کہانی: شادی والا ہفتہ
دانیال ٹرین سے اترتے ہی بھیڑ میں کھو گیا تھا، یہ اردو محبت بھری کہانی اسی ہفتے سے شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کزن کی شادی کے لیے لکھنؤ پہنچا تھا۔ اسٹیشن کے باہر رکشے والوں کا شور تھا اور ہوا میں پکوڑیوں کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ اس نے سوٹ کیس اٹھایا اور بھیڑ کو چیرتا ہوا باہر نکلا۔ تبھی اس کی نظر سامنے کھڑی ایک عورت پر پڑی جو اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔
وہ زویا تھی، پڑوسن، اٹھائیس سال کی، بیوہ، اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ "دانیال؟" اس نے پوچھا، آواز میں ہلکی سی حیرت۔ "میں زویا، تمہاری خالہ کی پڑوسن۔ تمہیں لینے آئی ہوں، گھر میں سب شادی کی تیاریوں میں پھنسے ہیں۔"
دانیال نے مسکرا کر سلام کیا اور رکشے میں بیٹھ گیا۔ زویا اس کے برابر بیٹھی اور رکشا چل پڑا۔ راستے بھر وہ شادی کی تیاریوں کی باتیں کرتی رہی، کون سا فنکشن کب ہے، مہندی میں کون آئے گا، بارات کہاں سے نکلے گی۔ دانیال اسے دیکھتا رہا، اس کے ہونٹ ہلتے رہے اور وہ سوچتا رہا کہ یہ عورت کتنی زندہ دل ہے۔
گھر پہنچے تو صحن میں شامیانے لگے تھے اور عورتیں ڈھولک بجا رہی تھیں۔ دانیال کو اوپر والا کمرہ ملا، جس کی کھڑکی زویا کے گھر کی چھت کی طرف کھلتی تھی۔ شام کو جب وہ کھڑکی کے پاس کھڑا تھا تو اس نے دیکھا کہ زویا اپنی چھت پر کپڑے سکھا رہی ہے۔ اس نے ہاتھ ہلایا اور دانیال نے جواب میں ہاتھ ہلایا۔
اگلے دن مہندی کی تیاری تھی۔ زویا صبح ہی آ گئی اور صحن میں بیٹھ کر مہندی کے ڈیزائن دیکھنے لگی۔ دانیال بھی وہیں بیٹھا تھا۔ "تمہیں مہندی لگوانی ہے؟" زویا نے شرارت سے پوچھا۔ دانیال ہنس پڑا، "مجھے نہیں، تم لگواؤ۔" زویا نے اپنا ہاتھ بڑھایا، "لگاؤ پھر، دیکھتی ہوں کتنے اچھے آرٹسٹ ہو۔"
دانیال نے مہندی کی کون اٹھائی اور اس کے ہاتھ پر ڈیزائن بنانے لگا۔ اس کے ہاتھ کی نرم جلد کو چھوتے ہی اس کے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی۔ زویا کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں اور وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے ہونٹ ہلکے سے کھلے تھے۔ دانیال نے جان بوجھ کر اس کی ہتھیلی کے بیچ میں گدگدی کی اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
"بس کرو،" اس نے کہا، لیکن اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ دانیال نے ڈیزائن مکمل کیا، ایک چھوٹا سا دل بنا کر اس میں "ز" لکھ دیا۔ زویا نے اسے دیکھا اور اس کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔ "یہ تو بہت خوبصورت ہے،" وہ بولی، آواز دھیمی ہو گئی تھی۔
دوپہر کو سب آرام کر رہے تھے۔ دانیال چھت پر گیا تو زویا وہیں تھی، چارپائی پر لیٹی آسمان دیکھ رہی تھی۔ "نیند نہیں آ رہی؟" اس نے پوچھا۔ "شادی کے شور میں نیند کہاں،" زویا بولی اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ دونوں چھت کی منڈیر کے پاس کھڑے ہو گئے۔ نیچے گلی میں بچے کھیل رہے تھے۔
"تمہارے شوہر کو گزرے کتنا وقت ہوا؟" دانیال نے نرمی سے پوچھا۔ زویا نے ایک لمبی سانس لی، "تین سال۔" اس کی آواز میں درد تھا لیکن آنکھوں میں ہمت۔ دانیال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، "تم بہت بہادر ہو۔" زویا نے اس کی طرف دیکھا اور ان کی نظریں ملیں۔ ایک لمحے کے لیے وقت رک گیا۔
زویا نے نظریں جھکا لیں اور بولی، "چلو نیچے چلتے ہیں، چائے بناتی ہوں۔" وہ دونوں نیچے آئے۔ باورچی خانے میں زویا چائے بنا رہی تھی اور دانیال دروازے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے دوپٹہ کندھے سے سرکایا تھا اور اس کی گردن کی لکیر پسینے سے چمک رہی تھی۔ دانیال کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
چائے پیتے ہوئے ان کے ہاتھ ٹکرائے۔ زویا نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ دانیال نے اس کی انگلیاں پکڑ لیں اور دھیرے سے دبایا۔ زویا نے اس کی طرف دیکھا، اس کے گال سرخ ہو رہے تھے۔ "دانیال،" وہ بولی، "یہ ٹھیک نہیں ہے۔" لیکن اس کی آواز میں کوئی سختی نہیں تھی۔
"مجھے معلوم ہے،" دانیال نے کہا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ بدل چکا تھا، ایک چنگاری جو اب بجھنے والی نہیں تھی۔ شام کو سنگیت کا فنکشن تھا۔ زویا نے سبز رنگ کا سوٹ پہنا تھا اور وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ دانیال اسے دیکھتا رہ گیا۔
سنگیت میں سب ناچ رہے تھے۔ زویا بھی ناچی، اس کے گھنگھرو بج رہے تھے اور اس کا دوپٹہ ہوا میں لہر رہا تھا۔ دانیال کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔ جب وہ ناچ کر آئی تو پسینے سے شرابور تھی۔ "پانی دو،" اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔ دانیال نے گلاس بڑھایا اور ان کی انگلیاں پھر ٹکرائیں۔
رات کو فنکشن ختم ہوا تو دانیال چھت پر گیا۔ تھوڑی دیر بعد زویا بھی آ گئی۔ "نیند نہیں آ رہی؟" دانیال نے وہی سوال دہرایا۔ زویا مسکرائی، "تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تمہیں بھی نہیں آ رہی۔" وہ دونوں ہنس پڑے اور منڈیر کے پاس کھڑے ہو گئے۔ چاندنی میں زویا کا چہرہ چمک رہا تھا۔
دانیال نے ہمت کر کے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس بار زویا نے ہاتھ نہیں چھڑایا۔ اس نے دانیال کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولی، "تین سال سے کسی نے میرا ہاتھ اس طرح نہیں پکڑا۔" دانیال نے اسے اپنے قریب کھینچا۔ ان کے جسم ٹکرائے اور دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
دانیال نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہونٹوں کی طرف جھکا۔ زویا نے آنکھیں بند کر لیں۔ ان کے ہونٹ ملے، پہلے دھیرے، پھر تیز۔ زویا نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں اور اسے اور قریب کھینچ لیا۔ چاندنی میں ان کا بوسہ لمبا ہوتا گیا۔ دانیال کے ہاتھ اس کی کمر پر پھسلنے لگے۔
اچانک نیچے سے کسی نے آواز دی اور وہ دونوں الگ ہو گئے۔ زویا کی سانسیں تیز تھیں اور اس کے ہونٹ سوجے ہوئے تھے۔ "کل،" وہ بولی، "کل دوپہر کو سب سو رہے ہوں گے۔ اسٹور روم میں آنا۔" یہ کہہ کر وہ تیزی سے نیچے چلی گئی۔ دانیال وہیں کھڑا رہا، اس کا دل دھڑک رہا تھا۔
اگلے دن دوپہر کو دانیال اسٹور روم گیا۔ وہاں شادی کا سامان پڑا تھا، برتنوں کے ڈبے اور کپڑوں کی گٹھریاں۔ زویا پہلے سے وہاں تھی۔ دروازہ بند کرتے ہی وہ دانیال سے لپٹ گئی۔ ان کے ہونٹ ملے اور اس بار کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ دانیال نے اسے ڈبوں کے پیچھے دیوار سے لگایا۔
اس نے زویا کے سوٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ زویا نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے۔ ان کے جسم ایک دوسرے سے ٹکرائے اور دونوں کی جلد گرم ہو گئی۔ دانیال نے اس کی گردن پر بوسے دیے اور وہ کراہنے لگی۔ اس نے زویا کی چھاتیوں کو ہاتھوں میں لیا اور دھیرے سے دبایا۔ زویا نے اس کے کندھے پر ناخن گاڑ دیے۔
دانیال نے اسے اٹھا کر کپڑوں کی گٹھریوں پر لٹا دیا۔ اس نے اس کی شلوار اتاری اور اس کی رانوں پر بوسے دینے لگا۔ زویا کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں اور وہ اس کے بال کھینچ رہی تھی۔ دانیال نے اس کی ٹانگیں پھیلائیں اور اس کے جسم میں داخل ہوا۔ زویا نے ایک لمبی آہ بھری۔
وہ دھیرے دھیرے حرکت کرنے لگا۔ زویا نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ اسٹور روم کی گرمی میں ان کے جسم پسینے سے بھیگ گئے۔ دانیال کی رفتار تیز ہوتی گئی اور زویا کی کراہیں بڑھتی گئیں۔ اس نے اپنا ہاتھ زویا کے منہ پر رکھا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔
زویا کا جسم کانپنے لگا اور وہ چرم پر پہنچ گئی۔ دانیال نے بھی اپنی رفتار تیز کی اور کچھ دیر بعد وہ بھی فارغ ہوا۔ وہ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ "یہ پاگل پن ہے،" زویا بولی۔ "سب سے خوبصورت پاگل پن،" دانیال نے جواب دیا۔
شادی کی رات بارات آئی۔ ڈھول بج رہے تھے اور سب ناچ رہے تھے۔ دانیال بھی ناچا، لیکن اس کی نظریں زویا کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ وہ سرخ جوڑے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ جب بارات اندر گئی تو دانیال چپکے سے زویا کے پاس گیا۔ "چھت پر،" اس نے سرگوشی کی۔
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں چھت پر تھے۔ نیچے شادی کا شور تھا، ڈھول اور گانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ دانیال نے زویا کو اپنی بانہوں میں لیا۔ "آج کی رات ہماری ہے،" اس نے کہا۔ زویا نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ ان کے کپڑے ایک ایک کر کے اترتے گئے۔
چاندنی میں زویا کا ننگا جسم چمک رہا تھا۔ دانیال نے اسے چارپائی پر لٹایا اور اس کے پورے جسم پر بوسے دیے۔ اس نے اس کی چھاتیوں کو چوما، اس کے پیٹ پر زبان پھیری، اور اس کی رانوں کے بیچ اپنا منہ رکھ دیا۔ زویا نے چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور کراہنے لگی۔
دانیال نے اسے خوب تیار کیا، اس کے جسم کا ہر حصہ چوما، اور پھر اس میں داخل ہوا۔ نیچے ڈھول کی تھاپ پر وہ حرکت کرنے لگا۔ زویا نے اپنی ٹانگیں اٹھا لیں اور اسے اور اندر لینے لگی۔ ان کی سانسیں ایک ہو گئیں۔ چاندنی، شور، اور ان کا پیار، سب مل کر ایک جادو بن گیا تھا۔
دانیال نے اسے پلٹا کر اس کے پیچھے سے لیا۔ زویا نے چارپائی کی پائنتی پکڑ لی۔ اس کی کراہیں ڈھول کی آواز میں دب گئیں۔ دانیال نے اس کے بال کھینچے اور اس کی گردن پر بوسے دیے۔ وہ دونوں ایک ساتھ چرم پر پہنچے اور ایک دوسرے کی بانہوں میں گر پڑے۔
کچھ دیر وہ یوں ہی لیٹے رہے، آسمان کے تارے دیکھتے ہوئے۔ "تم کل چلے جاؤ گے،" زویا بولی، آواز میں اداسی۔ دانیال نے اسے اور زور سے پکڑا، "میں واپس آؤں گا۔ یہ وعدہ ہے۔" زویا نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ نیچے شادی کی رسومات چل رہی تھیں اور اوپر ان کی اپنی شادی ہو رہی تھی، بغیر کسی گواہ کے۔
صبح جب دانیال کی ٹرین تھی، زویا اسٹیشن آئی۔ بھیڑ میں اس نے دانیال کا ہاتھ دبایا اور اس کی ہتھیلی میں کچھ رکھ دیا۔ وہ مہندی والا ڈیزائن تھا، کاغذ پر بنا ہوا، اسی دل کے ساتھ جس میں "ز" لکھا تھا۔ دانیال نے اسے جیب میں رکھا اور ٹرین میں بیٹھ گیا۔ کھڑکی سے اس نے دیکھا کہ زویا ہاتھ ہلا رہی ہے، اس کی آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔
ٹرین کے جانے میں ابھی دو گھنٹے تھے۔ دانیال نے سوٹ کیس اٹھایا اور خاموشی سے گھر سے نکلا۔ گلی سنسان تھی۔ وہ زویا کے دروازے پر پہنچا اور دھیرے سے دستک دی۔ دروازہ کھلا اور زویا سامنے تھی، آنکھوں میں نیند اور حیرت۔ "تم؟"
"میں جا رہا ہوں،" دانیال بولا، "بغیر الوداع کہے نہیں جا سکتا تھا۔" زویا نے اسے اندر کھینچا اور دروازہ بند کر دیا۔ صبح کی ہلکی روشنی کھڑکی سے آ رہی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
"وہ بات،" زویا بولی، "جو تم نے کل رات میرے کان میں کہی تھی۔" دانیال مسکرایا، "کون سی بات؟" زویا نے اس کے سینے پر ہلکی سی مکہ ماری، "وہی جس سے میں لال ہو گئی تھی۔" دانیال نے اسے اپنی بانہوں میں لیا اور اس کے کان میں پھر سرگوشی کی۔
زویا کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ "تم بہت بے شرم ہو،" وہ بولی، لیکن اس نے دانیال کو نہیں چھوڑا۔ اس نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا، لمبا اور گہرا۔ دانیال کے ہاتھ اس کی کمر پر پھسلے۔
"ٹرین چھوٹ جائے گی،" زویا نے کہا، لیکن اس کی آواز میں کوئی جلدی نہیں تھی۔ دانیال نے اسے اٹھایا اور بیڈروم میں لے گیا۔ صبح کی روشنی میں انہوں نے ایک دوسرے کو آخری بار پیار کیا، دھیرے دھیرے، ہر لمحے کو یاد میں بسا کر۔
زویا دانیال کے اوپر تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ وہ حرکت کرتی رہی جب تک دونوں ایک ساتھ نہ پہنچ گئے۔ پھر وہ اس کے سینے پر گر پڑی۔ "واپس آنا،" اس نے کہا۔ "یہ میرا حکم ہے۔"
دانیال نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "حکم کی تعمیل ہو گی۔" وہ اٹھا، کپڑے پہنے، اور دروازے تک گیا۔ زویا نے اسے روکا اور اس کی جیب میں کچھ رکھا، وہی مہندی والا کاغذ۔ "اسے سنبھال کر رکھنا۔ یہ ہماری پہلی نشانی ہے۔"
ٹرین چلی تو دانیال نے کھڑکی سے دیکھا۔ پلیٹ فارم پر بھیڑ تھی، لیکن اس کی نظریں صرف ایک چہرے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ وہ نہیں آئی تھی، اور یہ ٹھیک تھا۔ کچھ الوداع بھیڑ میں نہیں کہے جاتے۔ اس نے کاغذ نکالا اور اسے دیکھتا رہا، جب تک لکھنؤ کی گلیاں پیچھے نہ رہ گئیں۔
Readers who enjoyed “اردو محبت بھری کہانی: شادی والا ہفتہ” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔