نئی اردو سیکس اسٹوری: شیہناز کی ناپ
"ناپ تو ٹھیک سے لو، شیہناز،" عمران کی آواز اس کے کان کے بالکل پاس آئی، اتنی قریب کہ اس کی گرم سانس اس کی گردن پر محسوس ہوئی۔ انچ ٹیپ اس کی کمر کے گرد لپٹی ہوئی تھی اور اس کا ہاتھ ٹیپ کے ساتھ ساتھ اس کی کمر پر ٹھہر گیا تھا۔ اس نئی اردو سیکس اسٹوری کی شروعات اسی لمحے ہوئی تھی، چاندنی چوک کی اس تنگ گلی والی درزن کی دکان میں، جہاں دوپہر کی دھوپ شٹر کے شگافوں سے ترچھی ہو کر اندر آ رہی تھی۔
شیہناز کی انگلیاں ٹیپ پر کانپ گئیں۔ ستائیس سال کی عمر میں اس نے ہزاروں ناپ لیے تھے، مردوں کے بھی، عورتوں کے بھی، مگر کسی کے ہاتھ نے اس کی کمر پر اس طرح ٹھہرنے کی جرات نہیں کی تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو عمران مسکرا رہا تھا۔ بتیس سال کا کپڑے کا تھوک فروش، چوڑے کندھے، گھنی مونچھیں، اور آنکھوں میں وہ شرارت جو شیہناز نے پہلی نظر میں ہی پہچان لی تھی۔
"ہاتھ ہٹاؤ، سیٹھ،" اس نے کہا، مگر اس کی آواز میں ڈانٹ سے زیادہ گھبراہٹ تھی۔ "دکان میں کوئی آ جائے گا۔"
"تو آنے دو،" عمران نے ٹیپ کو ذرا سا کھینچا اور وہ اس کی طرف ایک قدم اور قریب ہو گئی۔ "میں تو صرف یہ دیکھ رہا تھا کہ ناپ میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی۔ تمہارے ہاتھ میں جادو ہے، شیہناز۔ بیوی کا سوٹ تم نے ایسا سیا کہ محلے کی عورتیں پوچھتی پھر رہی ہیں، درزن کون ہے۔"
شیہناز نے ٹیپ لپیٹ کر کاؤنٹر پر رکھی اور سلائی مشین کی طرف بڑھی، مگر اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس کا شوہر رکشا چلاتا تھا اور رات کے گیارہ بجے سے پہلے گھر نہیں آتا تھا۔ دن بھر کی تنہائی میں اس جوان عورت کے بدن میں جو آگ سلگتی رہتی تھی، آج کسی نے اس پر پھونک مار دی تھی۔ اس نے آئینے میں دیکھا۔ عمران اب بھی اسے دیکھ رہا تھا، اس کی نظریں اس کے سینے پر ٹھہری ہوئی تھیں۔
"اچھا سنو،" عمران کاؤنٹر کے اس پار آ کر کھڑا ہو گیا۔ "شادیوں کا سیزن آ رہا ہے۔ میرے لیے ایک شیروانی کا کپڑا نکالا ہے۔ سوچا تم سے ہی سلوا لوں۔ ناپ لے لو میری بھی۔"
شیہناز نے چونک کر اسے دیکھا۔ "تمہاری ناپ؟ ابھی؟"
"کیوں، درزن صرف عورتوں کی ناپ لیتی ہے؟" عمران ہنسا اور اپنی قمیض کے بٹن کھولنے لگا۔ "آؤ، سینے سے شروع کرو۔"
شیہناز نے ٹیپ اٹھائی۔ اس کے ہاتھ اب بھی ہلکے کانپ رہے تھے۔ اس نے ٹیپ عمران کے سینے کے گرد لپیٹی تو اس کی انگلیاں اس کے گرم بدن کو چھو گئیں۔ چوڑا سینہ، سخت پٹھے، اور پسینے کی ہلکی خوشبو۔ عمران نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ "آہستہ، آہستہ۔ ناپ غلط ہو گئی تو شیروانی ڈھیلی بنے گی۔"
"تینتیس،" شیہناز نے نمبر پڑھا اور جلدی سے ٹیپ ہٹائی۔ "کمر؟"
عمران نے بازو اوپر کیے۔ شیہناز نے ٹیپ اس کی کمر کے گرد لپیٹی۔ اس کا چہرہ اس کے سینے کے بالکل سامنے تھا۔ اس کی سانس تیز ہو رہی تھی اور اسے اپنی چھاتیوں کا بھاری پن محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے نظریں جھکائیں تو اس کی نظر عمران کے پاجامے پر پڑی۔ وہاں ایک واضح ابھار تھا، سخت اور بے قرار۔
"دیکھ لو،" عمران کی آواز میں شرارت تھی۔ "ناپ میں کوئی غلطی نہ ہو۔ اندر سے بھی ناپ لوگی؟"
شیہناز کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "بے شرم۔" مگر وہ ہٹی نہیں۔ اس کی آنکھیں اس ابھار پر جمی رہیں۔
عمران نے ایک قدم آگے بڑھایا اور ٹیپ اس کی کمر سے کھینچ کر اپنے ہاتھ میں لے لی۔ ٹیپ کی ڈوری اب ان دونوں کے گرد تھی۔ "چھوٹو کہاں ہے؟" اس نے پوچھا۔
"پچھلے کمرے میں استری کر رہا ہے،" شیہناز نے کہا۔
"اچھا۔" عمران نے آواز لگائی۔ "او چھوٹو! جا، نکڑ سے دو چائے اور سموسے لے آ۔ اور ہاں، آہستہ آنا، گرمی بہت ہے۔"
چھوٹو کے قدموں کی آہٹ شٹر کے باہر گم ہو گئی۔ دکان میں اب صرف سلائی مشین کی ٹک ٹک کی گونج باقی تھی، جو اب رک چکی تھی۔ خاموشی اتنی گہری تھی کہ شیہناز کو اپنے دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔
عمران نے ٹیپ کھینچی اور شیہناز اس سے ٹکرا گئی۔ اس کا سینہ اس کے سینے سے لگا۔ "اب بتاؤ،" اس نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی۔ "آئینے میں مجھے دیکھ کر کیا سوچ رہی تھیں، درزن صاحبہ؟"
"میں، میں کچھ نہیں،" شیہناز نے کہا، مگر اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
عمران نے جواب میں اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، آزمائشی۔ شیہناز نے ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر دھکیلنا چاہا، مگر اس کے ہاتھ وہیں ٹھہر گئے۔ دوسرے بوسے میں عمران کی زبان اس کے منہ میں اتر آئی۔ گرم، بے قرار، دعویدار۔ شیہناز کے گھٹنے کمزور پڑنے لگے۔
"دکان ہے،" وہ ہانپتے ہوئے بولی، مگر اس نے اسے چھوڑا نہیں۔
"دکان بند کرو،" عمران نے کہا اور شٹر کی طرف دیکھا۔ شیہناز نے کانپتے ہاتھوں سے شٹر آدھا گرا دیا۔ باہر گلی کی آوازیں مدھم ہو گئیں۔
عمران نے اسے اٹھا کر کٹنگ کی میز پر بٹھا دیا۔ لکڑی کی ٹھنڈی سطح اس کی رانوں کو چھو گئی۔ اس نے شیہناز کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، جلدی نہیں۔ ہر بٹن کے ساتھ اس کی نظریں اس کے بدن پر گہری ہوتی گئیں۔
"کتنے دن سے کسی نے تمہیں اس طرح نہیں دیکھا، شیہناز؟" اس نے پوچھا۔
"تمہیں کیا،" وہ بولی، مگر اس کی آنکھوں میں جواب تھا۔ برسوں۔ شوہر کی تھکن، رات کی نیند، اور دن کی تنہائی نے اس کے بدن کو پیاسا کر رکھا تھا۔
قمیض اتر گئی۔ سفید برا میں اس کی بھری چھاتیاں سانس کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔ عمران نے برا کا ہک کھولا اور اس کی چھاتیاں آزاد ہو گئیں۔ گول، بھری، نپل تنے ہوئے۔ اس نے ایک چھاتی کو ہاتھ میں لیا، دبایا، اور پھر منہ میں لے لیا۔
شیہناز کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ "آہ، عمران۔" اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا دیں۔ اس کی زبان اس کے نپل کے گرد گھوم رہی تھی، کبھی چوس رہی تھی، کبھی ہلکے سے کاٹ رہی تھی۔ اس کی دوسری چھاتی اس کے ہاتھ میں تھی، انگوٹھا نپل کو مسل رہا تھا۔
"تمہاری چھاتیاں،" عمران نے منہ اٹھا کر کہا، "کپڑے میں چھپی ہی اچھی لگتی تھیں۔ اب تو دیکھو۔"
شیہناز نے اس کی قمیض کھینچ کر اتار دی۔ اس کا ننگا سینہ اس کے سامنے تھا۔ اس نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا، نیچے، اور نیچے، یہاں تک کہ اس کا ہاتھ پاجامے کے ازاربند پر پہنچ گیا۔ اس نے گرہ کھولی۔ پاجامہ ڈھیلا ہو کر گرا۔
اس کا لنڈ تنا ہوا کھڑا تھا، لمبا اور موٹا، سرخ ٹوپی چمک رہی تھی۔ شیہناز کی سانس رک گئی۔ اس نے اسے ہاتھ میں لیا۔ گرم، سخت، دھڑکتا ہوا۔ اس نے اوپر نیچے ہلایا تو عمران کے منہ سے گہری آہ نکلی۔
"منہ میں لو گی؟" عمران نے پوچھا، اس کی آواز بھاری تھی۔
شیہناز نے جواب میں اسے منہ میں لے لیا۔ پہلے صرف ٹوپی، زبان سے چاٹتے ہوئے، پھر آہستہ آہستہ اور اندر۔ عمران نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "ہاں، ایسے ہی۔ اوہ، شیہناز۔"
وہ اسے چوس رہی تھی، اس کا تھوک اس کے لنڈ پر بہہ رہا تھا۔ عمران کی کمر ہل رہی تھی۔ اس نے اسے روکا۔ "رکو۔ ابھی نہیں۔ ابھی تو شروعات ہے۔"
اس نے شیہناز کی سلوار کا ازاربند کھولا۔ سلوار اس کی رانوں سے پھسل کر میز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس کی چوت گیلی تھی، اس کی خوشبو کمرے میں پھیل رہی تھی۔ عمران نے دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈالیں۔
"کتنی گیلی ہو،" وہ ہنسا۔ "ناپ والی کو تو ناپ سے پہلے ہی سب معلوم ہو جاتا ہے۔"
"بکواس بند کرو اور،" شیہناز نے اس کا ہاتھ پکڑا، "اور کرو۔"
عمران کی انگلیاں اس کی چوت میں اندر باہر ہو رہی تھیں۔ اس کا انگوٹھا اس کے دانے کو مسل رہا تھا۔ شیہناز میز پر لیٹ گئی، ٹانگیں پھیلا دیں۔ اس کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ "اور، اور تیز۔"
پھر عمران نے انگلیاں نکالیں اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ ایک دھکا۔ صرف ٹوپی اندر گئی۔ شیہناز نے اس کے کندھے نوچ لیے۔ "پورا، پورا ڈالو۔"
دوسرا دھکا اور وہ پورا اندر تھا۔ شیہناز کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی۔ اس کی چوت اس کے لنڈ کو کس رہی تھی، گرم اور گیلی۔ عمران نے دھکے لگانے شروع کیے۔ آہستہ، گہرے، ہر دھکے میں اس کا پورا وزن۔
میز ہل رہی تھی۔ کپڑے کے تھان ایک طرف لڑھک گئے۔ شیہناز نے ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ "تیز، عمران، تیز کرو۔"
عمران نے رفتار بڑھائی۔ اس کے دھکے اب تیز اور گہرے تھے۔ اس کی چھاتیاں ہر دھکے کے ساتھ اچھل رہی تھیں۔ اس نے جھک کر ایک نپل منہ میں لے لیا اور چوستے ہوئے دھکے لگاتا رہا۔ شیہناز کی آنکھیں بند تھیں، منہ کھلا تھا، سسکیاں اب چیخوں میں بدل رہی تھیں۔
"چدائی،" وہ بڑبڑائی۔ "ایسی چدائی تو میں نے، آہ، کبھی نہیں،"
عمران نے اسے اٹھایا اور کپڑوں کے شیلف سے لگا دیا۔ اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی۔ اس پوزیشن میں وہ اور گہرا اتر گیا۔ شیہناز کی پیٹھ شیلف کے تھانوں سے لگ رہی تھی، نرم کپڑا اس کی جلد کو چھو رہا تھا۔
"یہاں،" عمران نے کہا، "یہاں تمہاری چوت اور بھی کس رہی ہے۔"
وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ ہر دھکا اس کے اندر کسی گہری جگہ کو چھو رہا تھا۔ شیہناز کو لگا جیسے اس کے پیٹ میں کوئی گرہ کھل رہی ہے۔ اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ "میں، میں آنے والی ہوں۔"
"آؤ،" عمران نے اس کے دانے کو انگوٹھے سے مسلا۔ "میرے سامنے آؤ، شیہناز۔"
اس کا جسم اکڑا، پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ اس کی چوت سے پانی بہہ نکلا، اس کی رانوں پر، عمران کے لنڈ پر۔ وہ زور زور سے ہانپ رہی تھی، اس کے ناخن اس کی پیٹھ میں گڑے ہوئے تھے۔ عمران نے رکنا نہیں چاہا۔ اس نے دھکے جاری رکھے، اس کے جھڑنے کے بعد بھی، جب تک اس کی اپنی سانس نہ اکھڑ گئی۔
"میں جھڑنے والا ہوں،" وہ غرایا۔
"اندر،" شیہناز نے کہا۔ "اندر ہی جھڑو۔"
عمران نے ایک آخری گہرا دھکا لگایا اور اس کے اندر جھڑ گیا۔ گرم دھار، ایک کے بعد ایک۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ وہ اس پر جھکا رہا، دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے، دل دھڑک رہے تھے۔
کچھ دیر وہ ایسے ہی رہے۔ پھر باہر گلی سے چھوٹو کی آواز آئی۔ "چائے لے آیا، آپا!"
دونوں چونکے۔ شیہناز نے جلدی سے قمیض اٹھائی۔ عمران نے پاجامہ پہنا۔ شٹر آدھا اٹھا۔ چھوٹو اندر آیا، چائے کے کپ میز پر رکھے۔ اس کی نظر کٹنگ میز پر بکھرے تھانوں پر پڑی، مگر وہ کچھ نہ بولا۔
عمران نے چائے کی چسکی لی۔ "تو شیہناز، بیوی کے دو سوٹ کا آرڈر لکھ لو۔ اور میری شیروانی کا بھی۔ ناپ تو تم لے ہی چکی ہو۔"
شیہناز نے رجسٹر میں لکھا، مگر اس کا ہاتھ اب بھی کانپ رہا تھا۔ "شیروانی کی فٹنگ کے لیے جمعرات کو آنا۔ ناپ پھر سے لینی پڑے گی۔"
عمران مسکرایا۔ "جمعرات۔ پکی بات۔" وہ دکان سے نکلا، مگر دہلیز پر رک کر پلٹا۔ "اور ہاں، چھوٹو کو اگلی بار سموسے کے ساتھ زیادہ وقت لگانے کو کہنا۔"
شیہناز نے شٹر پورا اٹھا دیا۔ گلی کی دھوپ پھر اندر آ گئی۔ اس نے انچ ٹیپ اٹھائی، جو اب بھی کاؤنٹر پر لپٹی ہوئی تھی، اور اسے سینے سے لگا لیا۔ جمعرات ابھی دو دن دور تھی، مگر اس کے بدن میں آج کی آگ اب بھی سلگ رہی تھی۔
Readers who enjoyed “نئی اردو سیکس اسٹوری: شیہناز کی ناپ” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔