اردو سیکس کہانی: شبانہ اور فاراز کی ممنوعہ خواہش (حصہ 2)
یہ اردو سیکس کہانی وہیں سے آگے بڑھتی ہے جہاں ساس رضیہ بیگم کی آواز نے اس رات کو بیچ میں کاٹ دیا تھا۔ "شبانہ! شبانہ بیٹی!" آواز سیڑھیوں سے آئی تھی، اور ایک پل میں فاراز الماری کے پیچھے دبک چکا تھا۔ شبانہ کے دل کی دھڑکن اس کے اپنے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی۔
دروازہ آدھا کھلا تھا، اور رضیہ بیگم اندر آ چکی تھیں۔ ان کی نظر بستر پر پڑی، بکھری ہوئی چادر، شبانہ کا سرخ چہرہ، اور اس کے بالوں کی بے ترتیبی سب کچھ چیخ چیخ کر بول رہا تھا۔ "یہ پنکھا دیکھنے آیا تھا؟" انہوں نے شک بھری آواز میں پوچھا۔ شبانہ کی زبان تالو سے چپک گئی تھی۔
"جی امی، پنکھا۔۔۔ پنکھا آواز کر رہا تھا،" شبانہ نے بمشکل کہا، اور اس کی انگلیاں چادر کے کنارے کو مروڑ رہی تھیں۔ رضیہ بیگم نے ایک قدم الماری کی طرف بڑھایا۔ اس ایک قدم میں شبانہ کی پوری دنیا رک گئی۔ الماری کے پیچھے فاراز کی سانس بھی رک گئی تھی۔
اور ٹھیک اسی لمحے نیچے صحن سے رفیقہ خالہ کی آواز آئی، "رضیہ آپا! رضیہ آپا!" رضیہ بیگم ٹھٹھک گئیں۔ "ارے یہ رفیقہ اس وقت؟" انہوں نے بڑبڑایا۔ پھر شبانہ کی طرف مڑ کر بولیں، "بھوپال سے مہمان کل صبح کی ٹرین سے آ رہے ہیں، یاد رکھنا۔ اور پنکھا دن میں مستری سے ٹھیک کرا لینا۔" دروازہ بند ہوا، اور سیڑھیوں پر ان کے قدموں کی آواز دھیمی ہوتی گئی۔
کمرے میں دو سیکنڈ تک مکمل خاموشی رہی۔ پھر فاراز الماری کے پیچھے سے نکلا، اس کے چہرے پر وہی شرارتی مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں ابھی بھی دھڑکا باقی تھا۔ "بال بال بچے، شبانہ،" وہ بولا۔ شبانہ نے اس کے سینے پر مکا مارا۔ "تمہیں ہنسی آ رہی ہے؟ میری تو جان نکل گئی تھی!"
"اسی لیے تو کہتا ہوں، اب دروازے کی کنڈی لگا دو،" فاراز نے کہا، اور شبانہ اٹھ کر دروازے تک گئی۔ اس نے کنڈی لگائی اور ایک بار زور سے کھینچ کر دیکھا کہ مضبوط ہے۔ کنڈی کی کھٹک کی آواز نے کمرے کو ایک محفوظ جزیرہ بنا دیا۔ جب وہ پلٹی تو فاراز اسے دیکھ رہا تھا، اور اس کی نظروں میں وہ بھوک تھی جو آدھی رات کو روکی گئی تھی۔
"اب جہاں رکے تھے، وہیں سے،" فاراز نے کہا اور اسے اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔ اس کا بوسہ اس بار پہلے سے زیادہ بے باک تھا، دانت ہونٹوں پر، زبان منہ کے اندر۔ شبانہ نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، اور اس بار اس کے ہاتھ کانپ نہیں رہے تھے۔ ڈر نکل چکا تھا، صرف پیاس باقی تھی۔
فاراز نے اس کی قمیض اتاری، پھر شلوار کا ناڑا کھولا اور اسے نیچے سرکا دیا۔ چاندنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی، اور شبانہ کا بدن اس روشنی میں چمک رہا تھا۔ "تم کتنی خوبصورت ہو، شبانہ،" وہ بولا۔ شبانہ کے گال سرخ ہو گئے، مگر اس نے نظریں نہیں جھکائیں۔ دو سال کی بیوگی کے بعد پہلی بار کوئی اسے اس نظر سے دیکھ رہا تھا۔
شبانہ نے فاراز کی قمیض اتاری اور اس کے چوڑے کندھوں پر ہاتھ پھیرا۔ اس کا سینہ چوڑا تھا، پیٹ کسا ہوا، اور نیچے اس کی شلوار میں ابھار صاف نظر آ رہا تھا۔ "دبئی نے تمہیں بہت بدل دیا ہے،" وہ بولی۔ "اچھے کے لیے یا برے کے لیے؟" فاراز نے پوچھا۔ "دونوں کے لیے،" شبانہ نے شرارت سے کہا اور اس کی شلوار کا ناڑا کھول دیا۔
اس کا لنڈ تنا ہوا تھا، رگیں ابھری ہوئی، سر پر نمی چمک رہی تھی۔ شبانہ نے اسے ہاتھ میں لیا اور دھیرے دھیرے ہلایا۔ فاراز کی سانس رک گئی۔ "آہ۔۔۔" "اب بھابھی نہیں کہو گے،" اس نے کہا، "صرف شبانہ۔" پھر وہ جھکی اور اس کے لنڈ کے سر کو چوم لیا۔ اس کی زبان سر پر گھومی تو فاراز نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں۔
شبانہ نے لنڈ کو منہ میں لے لیا، پہلے سر، پھر آدھا، پھر جتنا جا سکتا تھا۔ اس کی زبان نیچے سے اوپر تک پھر رہی تھی، اور اس کا ہاتھ جڑ کو پکڑے ہوئے تھا۔ فاراز کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ "رکو شبانہ، ورنہ ابھی نکل جائے گا،" وہ ہانپتے ہوئے بولا۔ شبانہ نے اسے چھوڑا اور مسکرائی۔ "ابھی نہیں، ابھی تو رات باقی ہے۔"
فاراز نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا۔ اس کی زبان اس کی چوت پر پھری تو شبانہ نے تکیہ منہ میں دبا لیا۔ "فاراز۔۔۔ آہ۔۔۔" اس کی زبان اندر باہر ہو رہی تھی، کبھی چاٹتی، کبھی چوستی۔ شبانہ کی کمر بستر سے اٹھ گئی۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی، پانی بہہ رہا تھا اور چادر پر دھبہ بن رہا تھا۔
فاراز نے دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈال دیں اور انگوٹھے سے اس کے دانے کو رگڑنے لگا۔ شبانہ کی چیخ تکیے میں دب گئی۔ اس کا بدن اکڑا، پھر ایک جھٹکے سے ڈھیلا پڑ گیا۔ پہلا عروج اسے بہا کر لے گیا۔ "کتنا پانی نکالو گی، شبانہ؟" فاراز نے ہنستے ہوئے کہا، اور اس کی انگلیاں چمک رہی تھیں۔
"اب میری باری،" شبانہ بولی اور اسے دھکا دے کر بستر پر لٹا دیا۔ وہ اس کے اوپر آئی اور اس کے لنڈ کو اپنی گیلی چوت پر رگڑا۔ لنڈ کا سر اس کی چوت کے منہ پر پھسل رہا تھا۔ فاراز نے اس کی کمر پکڑ لی۔ "ڈالو اسے اندر،" وہ بولا۔ شبانہ نے دھیرے سے نیچے بیٹھنا شروع کیا۔
لنڈ اس کی چوت میں اترنے لگا، انچ انچ۔ شبانہ کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ "آہ۔۔۔ کتنا موٹا ہے۔۔۔" وہ پوری طرح بیٹھ گئی اور ایک لمحے کو رکی، اسے اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے۔ پھر اس نے ہلنا شروع کیا، اوپر نیچے، دھیرے دھیرے تیز۔ اس کے ممے اچھل رہے تھے، اور فاراز نے انہیں ہاتھوں میں لے کر دبایا اور چوما۔
"ہاں شبانہ، ایسے ہی، تیز،" فاراز ہانپ رہا تھا۔ شبانہ نے رفتار بڑھا دی۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں اور بدنوں کے ٹکرانے کی آواز تھی۔ اس کی چوت لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔ "میں آنے والی ہوں،" وہ چیخی۔ فاراز نے اسے کمر سے پکڑ کر پلٹا اور خود اوپر آ گیا۔
اب فاراز اوپر تھا۔ اس نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور زور سے اندر دھکیلا۔ "آہ!" شبانہ کی چیخ نکلی۔ ہر دھکے پر بستر چرچرا رہا تھا۔ فاراز کا پسینہ اس کے بدن پر ٹپک رہا تھا۔ اس نے اس کے ہونٹوں کو چوما اور دھکے تیز کر دیے، گہرے اور بے رحم۔
"فاراز، رک مت، رک مت،" شبانہ بولی، اس کے ناخن اس کی پیٹھ میں گڑے ہوئے تھے۔ اس کی چوت نے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا۔ "اب۔۔۔ اب۔۔۔" دونوں ایک ساتھ چلائے۔ شبانہ کا دوسرا عروج آیا، اور اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔ فاراز نے فوراً لنڈ باہر نکالا اور اسے ہاتھ سے تیز تیز ہلایا۔
"آہ۔۔۔ شبانہ۔۔۔" اس کا جھڑنا اس کے پیٹ اور ناف پر ہوا، گرم دھاریں بہہ گئیں۔ وہ ہانپتے ہوئے اس کے اوپر گر پڑا۔ دونوں کی سانسیں بے قابو تھیں۔ کمرے میں پسینے اور پیاس کی خوشبو بھری ہوئی تھی۔ "پہلا دور مکمل،" فاراز نے اس کے کان میں کہا۔
شبانہ نے چادر سے خود کو صاف کیا اور اٹھ کر پانی کا گلاس لے آئی۔ "پیو،" اس نے کہا۔ فاراز نے پانی پیا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس کی انگلیاں اس کی پیٹھ پر گھوم رہی تھیں۔ "ابھی ختم نہیں ہوا،" شبانہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی، اور اس کا ہاتھ نیچے سرک گیا۔ فاراز کا لنڈ ابھی بھی آدھا تنا ہوا تھا۔
"تم تو بہت بے شرم ہو گئی ہو،" فاراز نے ہنس کر کہا۔ "تم نے بنایا ہے،" شبانہ بولی اور اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لے کر دھیرے دھیرے ہلانے لگی۔ اس کی انگلیاں سر پر گھوم رہی تھیں، کبھی نرمی سے، کبھی زور سے۔ فاراز کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ "ہاں۔۔۔ ایسے ہی۔۔۔ مت رکو۔۔۔"
دس منٹ میں لنڈ پھر پورا تن گیا، پہلے سے بھی زیادہ سخت۔ شبانہ بستر سے اتری اور اس کی طرف پیٹھ کر کے جھک گئی، دونوں ہاتھ بستر پر۔ "پیچھے سے،" اس نے کہا، اور اس کی آواز میں ایک نئی بے باکی تھی۔ فاراز اس کے پیچھے آیا اور اس کی چوت پر لنڈ رگڑا۔
"کتنی گیلی ہو،" وہ بولا اور ایک جھٹکے میں اندر چلا گیا۔ شبانہ نے چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ "آہ۔۔۔ فاراز۔۔۔" فاراز نے اس کے کولہوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ رکھا تھا اور ہر دھکے پر اسے اپنی طرف کھینچتا تھا۔ اس کے ممے لٹک کر ہل رہے تھے۔ کمرے میں چٹاخ چٹاخ کی آواز گونج رہی تھی۔
"تیز، اور تیز،" شبانہ چیخی۔ فاراز نے اس کے بال مٹھی میں پکڑے اور رفتار بڑھا دی۔ اس کی چوت لنڈ کے گرد کس رہی تھی، ہر دھکے پر نچوڑ رہی تھی۔ "میں پھر آنے والی ہوں،" وہ ہانپی۔ "ساتھ میں،" فاراز بولا۔ دونوں کے بدن ایک تال پر ہل رہے تھے، پسینے میں بھیگے ہوئے۔
شبانہ کا تیسرا عروج آیا، اس بار سب سے تیز اور سب سے گہرا۔ اس کی ٹانگیں کانپیں اور وہ بستر پر گرنے لگی، مگر فاراز نے اسے کمر سے پکڑے رکھا۔ اس نے لنڈ باہر نکالا اور ہاتھ سے دو تین زور کے جھٹکے دیے۔ اس کا دوسرا جھڑنا اس کی پیٹھ اور کولہوں پر ہوا۔ "آہ۔۔۔" وہ اس کے اوپر ڈھے پڑا۔
دونوں بستر پر لیٹے رہے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے۔ شبانہ نے چادر بدلی اور گیلے بدن کو تولیے سے صاف کیا۔ فاراز نے اسے پیچھے سے بانہوں میں لے لیا۔ "ڈر لگا تھا؟" اس نے پوچھا۔ "اب نہیں لگتا،" شبانہ بولی، "اب تو بس تم چاہیے۔"
"پہلی بار کب سے چاہتے تھے مجھے؟" شبانہ نے پوچھا۔ فاراز نے اس کے بالوں کو چوما۔ "جب میں دبئی سے آیا تھا، تم نے دروازے پر میرا استقبال کیا تھا۔ اس دن سے۔" شبانہ مسکرائی۔ "اور میں نے سوچا تھا کہ تم صرف بھائی ہو۔" "اب نہیں ہوں،" فاراز نے کہا، "اب اس سے بہت زیادہ ہوں۔"
"دبئی واپس جانے کا ارادہ ہے؟" شبانہ نے پوچھا۔ "اب کہاں جاؤں گا؟" فاراز بولا، "یہیں رہوں گا، تمہارے پاس۔" شبانہ نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ "امی کو شک ہو گیا ہے،" وہ بولی۔ "ہونے دو،" فاراز نے کہا، "کل سے دروازے کی کنڈی ہر رات لگے گی۔ اور ویسے بھی، شک کرنا اور پکڑنا دو الگ چیزیں ہیں۔"
وہ باتیں کرتے کرتے سو گئے، ایک دوسرے کی بانہوں میں۔ رات کے تین بجے شبانہ کی آنکھ کھلی۔ فاراز سو رہا تھا، اس کا چہرہ نیند میں بچوں جیسا معصوم لگ رہا تھا۔ شبانہ نے اس کے ماتھے کو چوما، پھر اس کے سینے پر سر رکھ کر دوبارہ سو گئی۔ باہر حویلی میں مکمل خاموشی تھی۔
صبح چار بجے مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ شبانہ نے فاراز کو ہلایا۔ "اٹھو، اذان ہو گئی۔" فاراز نے آنکھیں ملتے ہوئے اسے دیکھا اور مسکرایا۔ "کیا رات تھی،" وہ بولا۔ "ہاں،" شبانہ نے کہا، "اور ایسی بہت سی راتیں ابھی آنی ہیں۔"
فاراز نے جلدی سے کپڑے پہنے۔ "پچھلے دروازے سے نکلو، امی فجر کے لیے اٹھتی ہیں،" شبانہ نے کہا۔ فاراز نے اسے زور سے چوما، ایک لمبا بوسہ جس میں پوری رات سمائی ہوئی تھی، پھر دبے پاؤں سیڑھیوں سے اتر گیا۔ شبانہ کھڑکی سے اسے صحن پار کرتے دیکھتی رہی۔
جب وہ پچھلے دروازے سے نکل گیا تو شبانہ آئینے کے سامنے آئی۔ اس کے ہونٹ سوجے ہوئے تھے، بال بکھرے ہوئے، گردن پر فاراز کے دانتوں کے ہلکے نشان۔ اس نے اپنے ہونٹوں کو انگلی سے چھوا اور مسکرا دی۔ آئینے میں جو عورت اسے دیکھ رہی تھی، وہ دو سال سے سوئی ہوئی تھی، اور آج رات جاگ گئی تھی۔
نیچے سے رضیہ بیگم کی آواز آئی، "شبانہ بیٹی! چائے رکھ دو! مہمانوں کے لیے ناشتہ بھی بنانا ہے!" شبانہ نے جلدی سے چادر درست کی، بال بنائے، اور سیڑھیاں اتر گئی۔ باورچی خانے میں چائے چڑھاتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ابھی بھی وہی مسکراہٹ تھی۔ رات کا راز اس کے بدن میں محفوظ تھا، اور آنے والی ہر رات اب اسی کی تھی۔
Readers who enjoyed “اردو سیکس کہانی: شبانہ اور فاراز کی ممنوعہ خواہش (حصہ 2)” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔