پاکستانی بھابھی اردو سٹوری: وہ ویڈیو کال جو غلط نمبر پر لگی
رات گیارہ بج کر چالیس منٹ پر ارسلان کی اسکرین پر مہرین بھابھی کا نام چمکا اور ویڈیو کال کا بٹن دب گیا۔ اسکرین پر پہلا منظر ہی اس کی سانس روک گیا، مہرین بھابھی ہلکی گلابی نائٹی میں بستر پر لیٹی تھیں اور ہنستے ہوئے بولیں، عمران، آج تو تم... پھر ان کی نظر اسکرین پر پڑی اور ان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ یہ پاکستانی بھابھی اردو سٹوری اسی ایک غلط کال سے شروع ہوئی جو دبئی جانے کے بجائے اچھرہ بازار کی ایک موبائل شاپ تک پہنچ گئی تھی۔
ارسلان چوبیس سال کا تھا اور لاہور کے اچھرہ بازار میں سیٹھ رشید کی موبائل شاپ پر سیلزمین لگا ہوا تھا۔ مہرین بھابھی اس کی دکان کی پرانی گاہک تھیں، انتیس سال کی، گورا رنگ، لمبے بال، اور شوہر عمران پچھلے تین سال سے دبئی میں ڈرائیور لگا ہوا تھا۔ وہ جوہر ٹاؤن کے ایک فلیٹ میں اکیلی رہتی تھیں اور ہر مہینے فون کا کوئی نہ کوئی مسئلہ لے کر دکان پر آ جاتی تھیں۔
اس رات ارسلان نے کال اٹھائی تو مہرین بھابھی کی نائٹی کا پتلا کپڑا ان کے جسم سے چپکا ہوا تھا اور کیمرے میں ان کی بھری ہوئی چوچیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ عمران، یہ نائٹی کیسی لگ رہی ہے، انہوں نے شرماتے ہوئے پوچھا اور پھر اسکرین پر کسی اور کا چہرہ دیکھ کر ان کے ہونٹ کھل کے رہ گئے۔ ارسلان، تم؟ ان کی آواز کانپ رہی تھی اور اگلے ہی سیکنڈ میں کال کٹ گئی۔
ارسلان کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے اپنی ہی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ اس نے فون میز پر رکھا اور دونوں ہاتھوں سے چہرہ رگڑا۔ اسکرین پر ابھی بھی مہرین بھابھی کا وہ حیران چہرہ گھوم رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ کل دکان پر کیا منہ دکھائے گا، اور اسی سوچ میں اسے نیند نہیں آئی۔
اگلے دن دوپہر کو دکان کا شیشے والا دروازہ کھلا اور مہرین بھابھی اندر آئیں۔ انہوں نے کالا برقع پہنا ہوا تھا مگر چہرہ کھلا تھا، اور آنکھوں میں ایسی شرمندگی تھی جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔ ارسلان، مجھے ایک ہینڈز فری چاہیے، انہوں نے نظریں جھکا کر کہا۔ ارسلان نے ڈبہ نکالا اور ان کے سامنے رکھ دیا۔
یہ لیجیے بھابھی، بلوٹوتھ والی ہے، آواز صاف آئے گی، اس نے مسکرا کر کہا اور جان بوجھ کر ان کی طرف دیکھا۔ مہرین بھابھی کے گال سرخ ہو گئے۔ وہ کل رات والی بات تھی نا، انہوں نے دھیرے سے کہا، میں نے غلطی سے تمہارا نمبر ڈائل کر دیا تھا۔ عمران کا نمبر اس کے بالکل نیچے سیو ہے۔
کوئی بات نہیں بھابھی، ارسلان نے کہا اور ہینڈز فری ان کی طرف بڑھاتے ہوئے اس کی انگلیاں ان کی انگلیوں سے ٹکرا گئیں۔ دونوں نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے مگر وہ ایک سیکنڈ کی چھون ان دونوں کے جسم میں بجلی دوڑا گئی۔ مہرین بھابھی نے جلدی سے پیسے دیے اور دکان سے نکل گئیں، مگر جاتے جاتے ان کی نظر ایک بار پھر ارسلان سے ملی۔
اس کے بعد تین دن تک مہرین بھابھی دکان پر نہیں آئیں۔ ارسلان ہر گاہک کے آنے پر دروازے کی طرف دیکھتا اور پھر خود پر ہنستا۔ چوتھے دن شام کو اس کا فون بجا۔ اسکرین پر مہرین بھابھی کا نام تھا۔ ارسلان، میرا فون چارج نہیں ہو رہا، ان کی آواز میں پریشانی تھی۔ چارجر لگاؤ تو بھی بیٹری وہیں کی وہیں رہتی ہے۔
بھابھی، لگتا ہے چارجنگ پن خراب ہو گئی ہے، ارسلان نے کہا۔ آپ فون لے کر دکان آ جائیے، میں دیکھ لیتا ہوں۔ دوسری طرف چند سیکنڈ خاموشی رہی۔ پھر مہرین بھابھی بولیں، دکان پر سب دیکھیں گے۔ تم شام کو میرے فلیٹ آ جاؤ گے؟ نیا فون بھی تو لینا تھا مجھے۔ وہیں دکھا دینا۔
ارسلان کے ہاتھ پسینے سے بھیگ گئے۔ اس نے سیٹھ رشید سے کہا کہ ایک ڈیلیوری جوہر ٹاؤن دینی ہے اور دو نئے فون کے ڈبے تھیلے میں ڈال کر نکل پڑا۔ راستے بھر اس کا دل دھڑکتا رہا۔ مہرین بھابھی کا فلیٹ تیسری منزل پر تھا۔ اس نے گھنٹی بجائی تو دروازہ کھلا اور سامنے مہرین بھابھی کھڑی تھیں۔
انہوں نے ہلکے سبز رنگ کا سلیولیس سوٹ پہنا ہوا تھا اور بال ابھی بھی گیلے تھے، جیسے ابھی نہا کر آئی ہوں۔ ان کی گردن پر پانی کے قطرے چمک رہے تھے اور سوٹ ان کے بھرے جسم سے چپکا ہوا تھا۔ آؤ ارسلان، اندر آؤ، انہوں نے دروازہ پورا کھول دیا۔ ارسلان اندر داخل ہوا تو گھر میں صرف ان کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔
بیٹھو، میں شربت لاتی ہوں، مہرین بھابھی نے کہا اور کچن کی طرف چل پڑیں۔ ارسلان صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس کی نظریں ان کی چال پر جمی رہیں۔ وہ شربت کا گلاس لے کر آئیں اور اس کے بالکل پاس بیٹھ گئیں، اتنا پاس کہ ان کے بازو کی گرمی اسے محسوس ہو رہی تھی۔ یہ لو، پیو، انہوں نے گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
فون کہاں ہے بھابھی، ارسلان نے گلاس لے کر پوچھا۔ مہرین بھابھی نے میز پر رکھا فون اٹھا کر اسے دیا۔ ان کی انگلیاں پھر اس کی انگلیوں سے ٹکرائیں، اور اس بار کسی نے ہاتھ پیچھے نہیں کھینچا۔ ارسلان نے فون لیا اور چارجنگ پن چیک کرنے لگا۔ اس کا دھیان فون پر تھا مگر اس کا جسم مہرین بھابھی کی قربت سے جل رہا تھا۔
پن تو ٹھیک لگ رہی ہے بھابھی، اس نے کہا۔ شاید بیٹری کمزور ہو گئی ہے۔ مہرین بھابھی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور جھک کر اسکرین دیکھنے لگیں۔ ان کے بال ارسلان کے چہرے سے ٹکرائے اور ان کی خوشبو اس کے دماغ پر چھا گئی۔ ان کی چوچیاں اس کے بازو سے لگ رہی تھیں اور وہ جان بوجھ کر ہٹ نہیں رہی تھیں۔
ارسلان، انہوں نے دھیرے سے کہا، تمہیں وہ رات یاد ہے؟ ارسلان نے سر اٹھایا تو ان کا چہرہ اس کے چہرے سے صرف چند انچ دور تھا۔ ان کی آنکھوں میں وہی شرمندگی تھی مگر اس کے پیچھے کچھ اور بھی تھا، ایک بھڑکتی ہوئی خواہش۔ بھابھی، میں... ارسلان کی آواز گلے میں اٹک گئی۔
مہرین بھابھی نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔ چپ، انہوں نے سرگوشی کی۔ اس کے بعد انہوں نے وہ کیا جس کا ارسلان نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے جھک کر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلے تو دھیرے سے، پھر پوری شدت سے۔ ارسلان نے گلاس میز پر رکھا اور ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر انہیں اپنی طرف کھینچ لیا۔
ان کے ہونٹ نرم اور گرم تھے اور ان کی زبان اس کے منہ میں گھس کر اس کی زبان سے کھیلنے لگی۔ ارسلان نے ان کے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور انہیں اور زور سے چوما۔ مہرین بھابھی کی سانسیں تیز ہو گئیں اور ان کا جسم اس کے جسم سے چپک گیا۔ ان کی بھری چوچیاں اس کے سینے سے دب رہی تھیں اور ارسلان کا لنڈ پینٹ میں تن کر کھڑا ہو گیا۔
مہرین بھابھی نے اس کی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔ ان کی انگلیاں کانپ رہی تھیں مگر رک نہیں رہی تھیں۔ ارسلان نے ان کے سوٹ کی ڈوری کھینچی اور ان کا دوپٹہ کندھے سے سرکا دیا۔ ان کی چوچیوں کا ابھار قمیض میں سے صاف نظر آ رہا تھا اور ارسلان کی نظریں وہیں جم گئیں۔
دیکھو گے، مہرین بھابھی نے شرارت سے پوچھا۔ ارسلان نے ہاں میں سر ہلایا تو انہوں نے قمیض کے اوپر کے دو بٹن کھول دیے۔ ان کی گوری چوچیاں برا میں قید تھیں اور ان کے درمیان کی گہرائی ارسلان کو پاگل کر رہی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ان کی ایک چوچی کو برا کے اوپر سے دبایا تو مہرین بھابھی کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔
آہ، ارسلان، انہوں نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ اس کے بعد ارسلان نے ان کی قمیض اوپر سرکائی اور برا کا ہک کھول دیا۔ ان کی ننگی چوچیاں آزاد ہو کر اس کے سامنے جھولنے لگیں۔ وہ گول، بھری ہوئی اور ان کے نوپل سخت ہو کر کھڑے تھے۔ ارسلان نے ایک نوپل منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔
مہرین بھابھی نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اس کا سر اپنی چوچی پر دبایا۔ اور زور سے، انہوں نے کہا۔ ارسلان نے ان کی چوچی کو چوسا، کاٹا اور چاٹا۔ اس کا دوسرا ہاتھ ان کی دوسری چوچی کو مسل رہا تھا۔ مہرین بھابھی کی ٹانگیں بے چین ہو کر ہل رہی تھیں اور ان کی چوت شلوار میں گیلی ہو رہی تھی۔
ارسلان نے ان کی شلوار کا ناڑا کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی۔ ان کی گیلی چوت اس کے سامنے تھی۔ اس نے انگلی سے ان کی چوت کو چھوا تو وہ پوری گیلی ہو چکی تھی۔ مہرین بھابھی نے ٹانگیں پھیلا دیں۔ ارسلان، اب مت تڑپاؤ، انہوں نے بے چینی سے کہا۔
ارسلان نے جلدی سے اپنی پینٹ اتاری۔ اس کا لنڈ تن کر کھڑا تھا اور اس کی رگیں پھول رہی تھیں۔ مہرین بھابھی نے اس کے لنڈ کو دیکھا تو ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اتنا بڑا، انہوں نے حیرت سے کہا اور ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑ لیا۔ ان کے نرم ہاتھ کی گرفت میں ارسلان کا لنڈ اور سخت ہو گیا۔
مہرین بھابھی نے اس کے لنڈ کو ہلانا شروع کیا۔ ان کا ہاتھ اوپر نیچے ہو رہا تھا اور ارسلان کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ پھر انہوں نے جھک کر اس کے لنڈ کے سرے کو چوما۔ ارسلان کے جسم میں جھٹکا لگا۔ انہوں نے اس کے لنڈ کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگیں۔
ان کا گرم منہ اس کے لنڈ کے گرد کسا ہوا تھا اور ان کی زبان اس کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ ارسلان نے ان کے بال پکڑ لیے اور ان کا سر اوپر نیچے کرنے لگا۔ مہرین بھابھی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر وہ رکیں نہیں۔ ان کے منہ کی گرمی اور ان کی زبان کا کھیل ارسلان کو جنت کی سیر کرا رہا تھا۔
بس بھابھی، ارسلان نے ہانپتے ہوئے کہا اور ان کا سر اٹھایا۔ اب میری باری۔ اس نے انہیں صوفے پر لٹایا اور ان کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ ان کی گیلی چوت اس کے سامنے چمک رہی تھی۔ اس نے اپنا لنڈ ان کی چوت کے منہ پر رکھا اور دھیرے سے دباؤ ڈالا۔
مہرین بھابھی کی چوت تنگ تھی اور ارسلان کا لنڈ آہستہ آہستہ اندر گھسا۔ ان کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی۔ آہ، ارسلان، انہوں نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے کھروںچا۔ ارسلان نے پورا لنڈ اندر ڈال دیا اور ان کی چوت کی گرمی اور کساؤ کو محسوس کیا۔ وہ تین سال سے پیاسی تھیں اور ان کی چوت اس کے لنڈ کو نگل رہی تھی۔
ارسلان نے دھکے لگانے شروع کیے۔ پہلے دھیرے دھیرے، پھر تیز۔ ہر دھکے کے ساتھ مہرین بھابھی کی چوچیاں اچھل رہی تھیں اور ان کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں۔ اور تیز، ارسلان، اور تیز، وہ چلا رہی تھیں۔ ارسلان نے ان کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور پوری طاقت سے چودنے لگا۔
صوفہ ہل رہا تھا اور ان دونوں کی سانسیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ مہرین بھابھی کی چوت سے گیلی آوازیں آ رہی تھیں۔ ارسلان کا لنڈ ان کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا اور ہر دھکا انہیں پاگل کر رہا تھا۔ اسی وقت میز پر رکھا مہرین بھابھی کا فون بجنے لگا۔ اسکرین پر عمران کا نام چمک رہا تھا۔
مہرین بھابھی نے فون کی طرف دیکھا اور پھر ارسلان کی طرف۔ ارسلان نے دھکے روکے بغیر ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ فون بجتا رہا اور پھر خاموش ہو گیا۔ ابھی نہیں، مہرین بھابھی نے ہانپتے ہوئے کہا اور ارسلان کی کمر کو اپنی ٹانگوں سے جکڑ لیا۔ ارسلان نے مسکرا کر دھکوں کی رفتار بڑھا دی۔
مہرین بھابھی کا جسم اکڑنے لگا۔ ان کی چوت نے ارسلان کے لنڈ کو کس کر جکڑ لیا۔ میں جھڑ رہی ہوں، انہوں نے چیخ کر کہا اور ان کا پورا جسم کانپنے لگا۔ ان کی چوت سے گرم پانی نکلا اور ارسلان کے لنڈ کو بھگو دیا۔ ارسلان نے چند تیز دھکے اور لگائے اور پھر اس کا لنڈ بھی پھٹ پڑا۔ اس نے اپنا سارا پانی ان کی چوت میں چھوڑ دیا۔
دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ مہرین بھابھی کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ تین سال، انہوں نے دھیرے سے کہا۔ تین سال بعد کسی نے مجھے چھوا ہے۔ ارسلان نے ان کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ ان کا فون پھر بجا، اس بار عمران کا وائس نوٹ آیا تھا۔
مہرین بھابھی نے جلدی سے کپڑے پہنے اور فون اٹھایا۔ انہوں نے وائس نوٹ سنا اور ان کا چہرہ اتر گیا۔ عمران کل آ رہا ہے، انہوں نے کہا۔ اس کی چھٹی منظور ہو گئی ہے۔ ارسلان کا دل دھک سے رہ گیا۔ تو یہ سب ختم، اس نے پوچھا۔ مہرین بھابھی نے اس کی طرف دیکھا اور کچھ نہ بولیں۔
ارسلان فون کے ڈبے وہیں چھوڑ کر دکان واپس آ گیا۔ اس کا دماغ الجھا ہوا تھا۔ اس نے سوچا کہ جو ہوا وہ ایک غلطی تھی، اور غلطیاں دہرائی نہیں جاتیں۔ مگر رات کو دس بجے اس کا فون بجا۔ ایک وائس نوٹ آیا تھا۔ اس نے پلے کیا تو مہرین بھابھی کی آواز آئی۔
ارسلان، عمران کا فون آیا تھا۔ اس کی فلائٹ ملتوی ہو گئی ہے۔ وہ اگلے ہفتے آئے گا۔ وائس نوٹ میں چند سیکنڈ خاموشی رہی، پھر ان کی آواز پھر آئی، دھیمی اور بھاری۔ واپس آ جاؤ۔ دروازہ کھلا ہے۔ ارسلان نے فون بند کیا، جیکٹ اٹھائی اور دکان سے نکل پڑا۔
فلیٹ کا دروازہ واقعی کھلا تھا۔ اندر اندھیرا تھا اور صرف بیڈروم سے ہلکی روشنی آ رہی تھی۔ ارسلان اندر داخل ہوا تو مہرین بھابھی بستر پر لیٹی اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ انہوں نے وہی گلابی نائٹی پہنی ہوئی تھی جو اس رات ویڈیو کال میں پہنی تھی۔ آؤ، انہوں نے ہاتھ بڑھایا۔
ارسلان بستر پر چڑھ گیا اور انہیں اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اس بار کوئی شرمندگی نہیں تھی، کوئی جلدی نہیں تھی۔ مہرین بھابھی نے اس کی شرٹ اتاری اور اس کے سینے پر بوسے دینے لگیں۔ ان کے ہونٹ اس کے نپلز پر آئے تو ارسلان کے جسم میں سرسراہٹ دوڑ گئی۔ انہوں نے اس کے پیٹ پر زبان پھیری اور نیچے کی طرف بڑھیں۔
انہوں نے اس کی پینٹ کھولی اور اس کے تنے ہوئے لنڈ کو ہاتھ میں لیا۔ اس بار انہوں نے اسے منہ میں لے کر دیر تک چوسا۔ ان کی زبان ہر رگ پر گھوم رہی تھی اور ان کا ہاتھ اس کے ٹٹوں کو سہلا رہا تھا۔ ارسلان نے ان کے بال پکڑے اور ان کے منہ کی گرمی میں ڈوب گیا۔
پھر ارسلان نے انہیں پلٹا اور ان کی نائٹی اوپر سرکا دی۔ ان کی گول چوتڑ اس کے سامنے تھیں۔ اس نے ان کی چوت کو پیچھے سے چاٹا تو مہرین بھابھی تڑپ اٹھیں۔ ان کی چوت پہلے سے گیلی تھی۔ ارسلان نے اپنی زبان ان کی چوت میں ڈالی اور چاٹنے لگا۔ مہرین بھابھی نے تکیہ بھینچ لیا۔
آہ، ارسلان، مت روکو، وہ بے چین ہو کر بولیں۔ ارسلان نے ان کی چوت کو چاٹا، ان کے دانے کو زبان سے رگڑا اور ان کی سسکیاں سنتا رہا۔ جب ان کا جسم کانپنے لگا تو اس نے اپنا لنڈ نکالا اور پیچھے سے ان کی چوت میں ڈال دیا۔ مہرین بھابھی نے بستر کی چادر مٹھی میں بھینچ لی۔
ارسلان نے ان کی کمر پکڑ کر دھکے لگانے شروع کیے۔ ان کی چوتڑ ہر دھکے کے ساتھ اس کے پیٹ سے ٹکرا رہی تھیں۔ مہرین بھابھی کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ اور اندر، اور گہرا، وہ چلا رہی تھیں۔ ارسلان نے ان کے بال پکڑ کر ان کا سر پیچھے کھینچا اور ان کی گردن پر کاٹا۔
پھر اس نے انہیں سیدھا کیا اور ان کی ٹانگیں پھیلا کر ان پر چڑھ گیا۔ ان کی چوچیاں اس کے سامنے اچھل رہی تھیں۔ اس نے ایک چوچی منہ میں لی اور چوستے ہوئے نیچے سے دھکے لگاتا رہا۔ مہرین بھابھی نے اس کی پیٹھ پر ناخن گاڑ دیے۔ ان کی چوت نے اس کے لنڈ کو کس لیا۔
میں پھر جھڑ رہی ہوں، انہوں نے چیخا اور ان کا جسم اینٹھ گیا۔ ان کی چوت سے پانی کی دھار نکلی اور بستر گیلا ہو گیا۔ ارسلان نے ان کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور آخری زور لگایا۔ اس کا لنڈ پھٹا اور اس نے اپنا گرم پانی ان کی چوت کی گہرائی میں انڈیل دیا۔
دونوں پسینے میں بھیگے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ کھڑکی سے صبح کی پہلی روشنی اندر آ رہی تھی۔ مہرین بھابھی نے میز پر رکھا اپنا فون اٹھایا۔ اسکرین پر عمران کی تصویر تھی۔ انہوں نے فون کو دیکھا، پھر اسے تکیے کے نیچے دبا دیا اور ارسلان کی طرف پلٹیں۔
اب یہ رات ہماری ہے، انہوں نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دے کر کہا۔ اور جو ویڈیو کال غلط نمبر پر لگی تھی، وہ ان دونوں کی زندگی کی سب سے صحیح غلطی بن چکی تھی۔
Readers who enjoyed “پاکستانی بھابھی اردو سٹوری: وہ ویڈیو کال جو غلط نمبر پر لگی” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی
اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔