Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو آنٹی سیکس کہانی: لکھنؤ میں شبانہ کا خط

N
11 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

ریحان نے شام کو کتاب کھولی تو صفحوں کے درمیان سے ایک چھوٹا سا کاغذ نیچے گر پڑا۔ یہ اردو آنٹی سیکس کہانی اسی لمحے سے شروع ہوئی جب اس نے وہ تحریر پڑھی جس پر شبانہ کے ہاتھ کی خوشخط اردو میں لکھا تھا کہ شام کی چائے میرے ساتھ پیو، اکیلے آنا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور اس نے کاغذ کو دوبارہ پڑھا جیسے یقین کرنا چاہتا ہو کہ یہ واقعی اسی کے لیے ہے۔

وہ کتاب شبانہ کی تھی، ایک پرانی اردو شاعری کی کتاب جسے ریحان نے دو دن پہلے اوپر والی منزل سے نیچے مانگی تھی۔ شبانہ اس پرانے لکھنؤ والے مکان کی مالکن تھی، اڑتیس سال کی گرم مزاج اور پراعتماد عورت جس کی ہنسی پورے صحن میں گونجتی تھی۔ ریحان اکتیس سال کا تھا اور اسی مکان کے اوپر والے حصے میں کرائے پر رہتا تھا، اور اب تک ان دونوں کے درمیان صرف سلام دعا اور کبھی کبھی چائے کا تبادلہ ہوا تھا۔

شام کے سات بجے ریحان سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تو باورچی خانے سے الائچی والی چائے کی خوشبو آ رہی تھی۔ شبانہ نے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا تھا اور اس کے بال کھلے ہوئے تھے جو اس کے کندھوں پر بکھرے تھے۔ اس نے ریحان کو دیکھ کر مسکرا کر کہا کہ آج تم نے میرا خط پڑھ ہی لیا، اب بیٹھو اور بتاؤ کہ شاعری کیسی لگی۔

ریحان نے ہنستے ہوئے کہا کہ شاعری تو اچھی تھی مگر خط اس سے بھی زیادہ دلچسپ تھا۔ شبانہ نے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا اور اس کی انگلیاں جان بوجھ کر ریحان کی انگلیوں سے ٹکرا گئیں۔ اس لمس پر دونوں خاموش ہو گئے اور شبانہ کی آنکھوں میں ایک شرارتی چمک آ گئی جسے ریحان نے فورا پہچان لیا۔

شبانہ نے دھیرے سے کہا کہ اس مکان میں سب کچھ پرانا ہے مگر دل ابھی جوان ہے۔ ریحان نے جواب دیا کہ دل جوان ہو تو عمر کا کیا کام، اور یہ سن کر شبانہ ہنس پڑی۔ وہ اس کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی کہ تم باتیں بہت اچھی کرتے ہو، کبھی دل کی بات بھی کہہ دیا کرو۔

پھر اچانک شبانہ نے ریحان کا ہاتھ پکڑا اور اسے باورچی خانے کے کونے میں کھینچ لیا جہاں کھڑکی سے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے ریحان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور ایک لمبا گرم بوسہ دیا جس میں اس کی زبان نے ریحان کی زبان سے کھیلنا شروع کر دیا۔ ریحان نے اس کی کمر کو اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا اور اس کے جسم کی گرمی کو اپنے سینے سے محسوس کیا۔

شبانہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی کہ آج پہلی بار کسی نے میرے خط کا اتنا جلدی جواب دیا ہے۔ ریحان نے اس کی گردن پر بوسے دینے شروع کر دیے اور اس کے ہاتھ آہستہ آہستہ اس کی قمیض کے نیچے سرک گئے۔ شبانہ کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے ریحان کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے اور قریب کھینچ لیا۔

ریحان نے اس کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے اور اس کی نرم چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ شبانہ نے ایک گہری آہ بھری اور بولی کہ تمہارے ہاتھ بہت گرم ہیں، ذرا آہستہ کرو ورنہ میں ابھی پگھل جاؤں گی۔ ریحان نے اس کی چھاتیوں کو چوما اور اس کے نپلوں کو اپنی زبان سے چھیڑا جس پر شبانہ کا جسم کانپنے لگا۔

شبانہ نے بھی ریحان کی قمیض اتار دی اور اس کے سینے پر اپنے ہونٹ پھیرنے لگی۔ اس کے ہاتھ ریحان کی پتلون کی طرف بڑھے اور اس نے اس کے سخت لنڈ کو کپڑے کے اوپر سے دبایا۔ ریحان نے ایک زور دار سانس لی اور شبانہ نے شرارت سے مسکرا کر کہا کہ لگتا ہے تمہیں میری چائے سے زیادہ کچھ اور پسند آ گیا ہے۔

پھر شبانہ نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ریحان کی پتلون نیچے کی اور اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔ اس کی زبان نے لنڈ کے سرے پر گول گول گھومنا شروع کر دیا اور ریحان نے اس کے سر کو پکڑ کر آہستہ آہستہ دھکیلنا شروع کر دیا۔ شبانہ کی آنکھیں بند تھیں اور اس کے منہ کی گرمی نے ریحان کو دیوانہ کر دیا تھا۔

کچھ دیر بعد ریحان نے شبانہ کو اٹھایا اور اسے باورچی خانے کی میز کے ساتھ ٹکا دیا۔ اس نے اس کی شلوار نیچے سرکائی اور اس کی گیلی چوت پر اپنی انگلیاں پھیرنے لگا۔ شبانہ نے اس کا بازو پکڑ لیا اور بولی کہ اب اور انتظار مت کرو، مجھے ابھی چاہیے۔ ریحان نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر دھکیل دیا۔

شبانہ نے زور سے آہ بھری اور میز کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ ریحان نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے اور ہر دھکے کے ساتھ شبانہ کی چوت اور زیادہ گیلی ہوتی گئی۔ اس کی چھاتیاں ہر جھٹکے کے ساتھ ہل رہی تھیں اور ریحان نے ایک ہاتھ سے اس کی چھاتی کو دباتے ہوئے چدائی کی رفتار بڑھا دی۔

شبانہ نے پیچھے مڑ کر کہا کہ اور تیز کرو، مجھے تمہارا پورا لنڈ اندر تک چاہیے۔ ریحان نے اس کی کمر کو پکڑ کر زور زور سے دھکے لگائے اور باورچی خانے میں دونوں کی سانسوں اور ٹکرانے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ شبانہ کا جسم کانپنے لگا اور اس نے چیخ کر کہا کہ میں جھڑ رہی ہوں، رکو مت۔

اس کی چوت نے ریحان کے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا اور اس کے جسم میں ایک لہر سی دوڑ گئی۔ ریحان نے بھی چند تیز دھکوں کے بعد اپنا سارا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا اور دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر ہانپنے لگے۔ شبانہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولی کہ یہ چائے تو اب تک کی سب سے میٹھی چائے تھی۔

رات کے گیارہ بجے جب پورا محلہ سو گیا تو شبانہ نے ریحان کو چھت پر بلایا۔ چھت پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور چاند کی روشنی میں شبانہ کا چہرہ چمک رہا تھا۔ اس نے سفید رنگ کی نرم ساڑھی پہنی تھی جس میں سے اس کے جسم کی لکیریں صاف نظر آ رہی تھیں۔

ریحان نے چھت پر پہنچتے ہی شبانہ کو پیچھے سے گلے لگا لیا اور اس کی گردن پر بوسے دینے لگا۔ شبانہ نے اس کا ہاتھ اپنی ساڑھی کے اندر لے جا کر اپنی چھاتی پر رکھ دیا اور بولی کہ چھت پر چاند بھی دیکھ رہا ہے، شرم نہیں آتی۔ ریحان نے ہنس کر کہا کہ چاند کو بھی آج ہماری محبت دیکھنے دو۔

شبانہ نے اس کی طرف مڑ کر اس کے ہونٹ چومے اور اس کی زبان کو اپنے منہ میں کھینچ لیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے کپڑے آہستہ آہستہ اتارنے شروع کیے اور ٹھنڈی ہوا میں ان کے ننگے جسم ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ شبانہ نے ریحان کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سہلایا اور اس کی چوت کی گرمی ریحان کی رانوں سے ٹکرا رہی تھی۔

ریحان نے شبانہ کو چھت کی دیوار سے ٹکا دیا اور اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لی۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا اور کھڑے کھڑے اسے چودنے لگا۔ شبانہ نے دیوار کو پکڑ لیا اور ہر دھکے پر اس کے منہ سے ہلکی ہلکی آہیں نکلنے لگیں۔

چاند کی روشنی میں ان دونوں کے جسم پسینے سے چمک رہے تھے اور شبانہ کی چھاتیاں ہر جھٹکے کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔ ریحان نے اس کی چھاتیوں کو چومتے ہوئے چدائی جاری رکھی اور شبانہ نے اس کی پیٹھ پر اپنے ناخن گاڑ دیے۔ اس نے سرگوشی میں کہا کہ تم مجھے ہر بار پہلے سے زیادہ پاگل کر دیتے ہو۔

کچھ دیر بعد شبانہ نے ریحان کو نیچے لٹا دیا اور اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ اس نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں لے کر آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا۔ اس کی کمر لچک رہی تھی اور اس کے بال اس کے چہرے پر بکھر گئے تھے۔ ریحان نے اس کی کمر کو پکڑ کر نیچے سے دھکے لگائے اور دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔

اگلے دن دوپہر کو جب شبانہ کا شوہر کام پر جا چکا تھا تو ریحان اسے اپنے کمرے میں لے آیا۔ اس نے دروازہ بند کیا اور شبانہ کو اپنے بستر پر لٹا دیا۔ شبانہ نے مسکرا کر کہا کہ تمہارا کمرہ تو بہت صاف ہے، لگتا ہے آج تم نے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔ ریحان نے جواب دیا کہ تیاری تو اسی دن سے تھی جس دن تم نے وہ خط لکھا تھا۔

ریحان نے شبانہ کے کپڑے ایک ایک کر کے اتارے اور اس کے پورے جسم پر بوسے دینے لگا۔ اس نے اس کی گردن سے شروع کر کے اس کی چھاتیوں، اس کے پیٹ اور اس کی رانوں تک ہر جگہ اپنے ہونٹ پھیرے۔ شبانہ کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے ریحان کے سر کو اپنی چوت کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا کہ اب وہاں بھی پیار کرو۔

ریحان نے اس کی چوت کو اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا اور اس کی زبان ہر بار اس کی چوت کے اندر تک جاتی تھی۔ شبانہ نے بستر کی چادر کو مٹھیوں میں پکڑ لیا اور اس کا جسم بار بار اوپر اٹھنے لگا۔ اس نے چیخ کر کہا کہ بس اب اور نہیں، میں جھڑنے والی ہوں، اور اسی لمحے اس کی چوت سے پانی نکل آیا۔

شبانہ کے جھڑنے کے بعد ریحان نے اسے الٹا لٹایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا۔ اس نے اس کی کمر کو پکڑ کر زور زور سے دھکے لگائے اور شبانہ نے تکیے میں منہ دبا کر آہیں بھرنا شروع کر دیں۔ اس کی چھاتیاں بستر سے رگڑ کھا رہی تھیں اور ریحان نے اس کے بال پکڑ کر اسے اور قریب کھینچ لیا۔

پھر ریحان نے شبانہ کو سیدھا کیا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس پوزیشن میں اس کا لنڈ اس کی چوت میں بہت گہرائی تک جا رہا تھا اور ہر دھکے پر شبانہ کی آنکھیں بند ہو جاتی تھیں۔ اس نے ریحان کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی کہ اسی طرح کرتے رہو، آج میں تمہاری ہی ہوں۔

آخر میں دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے اور ریحان نے اپنا سارا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔ شبانہ نے اسے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا اور اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا۔ کچھ دیر تک دونوں خاموش پڑے رہے اور صرف ان کی سانسوں کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔

شام کو شبانہ نے جاتے ہوئے ریحان کو ایک اور چھوٹا سا کاغذ تھمایا اور دروازے پر کھڑے ہو کر بولی کہ کل رات پھر چھت پر ملنا، اس بار میں تمہارے لیے کچھ خاص لاؤں گی۔ ریحان نے کاغذ کھولا تو اس پر صرف ایک سطر لکھی تھی کہ تم میری سب سے خوبصورت شاعری ہو۔ اس نے شبانہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ پھر کل رات چاند بھی ہماری کہانی سننے آئے گا۔

🔒 Bonus Scene locked

بارش والی رات شبانہ بھیگتے ہوئے ریحان کے کمرے میں آئی، اور اس رات جو ہوا وہ ان دونوں کا سب سے خوبصورت راز بن گیا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو آنٹی سیکس کہانی: لکھنؤ میں شبانہ کا خط” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views