اردو بالغ کہانیاں: زینب اور حمزہ، حصہ 2
کون ہے وہاں؟ آصف کی آواز پردے کے پیچھے چھپے حمزہ کے کانوں میں گونجی تو زینب کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ بستر سے اٹھ کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس کے قدموں کی آہٹ فرش پر صاف سنائی دے رہی تھی۔
زینب نے جلدی سے اپنی چادر سنبھالی اور دروازے کے پاس کھڑی ہو گئی۔ اس نے مسکرا کر کہا کہ ہوا سے پردہ ہل رہا ہے اور بلی شاید بالکونی سے اندر آ گئی ہے۔ آصف نے پردہ ہٹا کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا کیونکہ حمزہ اسی لمحے باتھ روم کے دروازے کے پیچھے سرک گیا تھا۔
آصف نے سر ہلا کر کہا کہ اسے شاید نیند میں وہم ہوا ہے۔ وہ واپس بستر پر لیٹ گیا مگر اس کی آنکھیں دیر تک کھلی رہیں اور زینب اس کے برابر لیٹ کر چھت کو گھورتی رہی۔ صبح جب آصف نائٹ شفٹ سے تھکا ہوا گھر آیا تو اس نے زینب سے پوچھا کہ رات کو وہ کس سے بات کر رہی تھی۔
زینب نے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا اور کہا کہ وہ اپنی بہن سے بات کر رہی تھی۔ آصف نے کپ اٹھایا مگر اس کی نظریں زینب کے چہرے پر جمی رہیں۔ اسے لگا کہ کچھ بدل گیا ہے مگر وہ اسے لفظوں میں نہیں کہہ پا رہا تھا۔
دوپہر کو جب آصف سو گیا تو زینب نے حمزہ کو میسج کیا کہ آج رات وہ نہیں آ سکے گا۔ حمزہ نے جواب میں لکھا کہ وہ سامنے والے فلیٹ کی بالکونی میں اس کا انتظار کرے گا۔ زینب نے فون رکھ دیا اور کچن میں کھڑی ہو کر سبزی کاٹنے لگی مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
شام کو آصف اٹھا اور نہا کر ڈیوٹی کے لیے تیار ہونے لگا۔ اس نے زینب سے کہا کہ آج اس کی شفٹ لمبی ہے اور وہ صبح سے پہلے نہیں لوٹے گا۔ زینب نے اس کی شرٹ استری کی اور دروازے تک اسے چھوڑنے گئی۔ دروازہ بند ہوتے ہی اس نے گہری سانس لی اور حمزہ کو اشارہ کیا۔
حمزہ اندر آیا تو زینب اس سے لپٹ گئی۔ اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اس کے ماتھے کو چوما۔ زینب نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا۔ حمزہ نے اس کی کمر کو اپنی بانہوں میں لیا اور اسے صوفے کی طرف لے گیا۔
زینب نے اس کی گردن کو چوما اور اس کے کان میں سرگوشی کی کہ وہ اسے بہت یاد کرتی ہے۔ حمزہ نے اس کی قمیض اتاری اور اس کے کندھوں کو چومتے ہوئے اسے نیچے لٹا دیا۔ اس کی انگلیاں زینب کی کمر پر چل رہی تھیں اور زینب کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔
حمزہ نے اس کے جسم کو آہستہ آہستہ چوما اور زینب نے اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ جب وہ اس کے قریب آیا تو زینب نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور دونوں ایک دوسرے میں کھو گئے۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں اور سرگوشیوں کی آواز تھی۔
کچھ دیر بعد زینب نے حمزہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے بیڈروم میں لے گئی۔ وہاں اس نے اس کے کپڑے اتارے اور خود بھی اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ حمزہ نے اسے دیکھا اور مسکرا کر کہا کہ وہ آج پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے۔
زینب بستر پر لیٹ گئی اور حمزہ اس کے اوپر آیا۔ اس نے اس کے ہونٹوں کو چوما اور پھر اس کی گردن اور سینے کو چومتے ہوئے نیچے آیا۔ زینب نے اپنی ٹانگیں اس کے گرد لپیٹ لیں اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔
حمزہ نے آہستہ سے اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو زینب نے اس کی پیٹھ کو سہلایا اور کہا کہ آہستہ کرو۔ وہ دونوں ایک لمحے کے لیے رکے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا۔ پھر حمزہ نے حرکت شروع کی اور زینب کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔
زینب نے اس کے ساتھ ہم آہنگی سے حرکت کی اور ہر حرکت کے ساتھ اس کا جسم اور زیادہ گرم ہوتا گیا۔ حمزہ نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر اٹھا کر اپنے قریب کر لیا۔ زینب نے اس کے کندھے پر سر رکھا اور اس کی سانسوں کو محسوس کیا۔
جب دونوں ایک ساتھ انتہا کو پہنچے تو زینب نے حمزہ کو مضبوطی سے گلے لگا لیا۔ وہ دیر تک ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے رہے اور کوئی بات نہیں کی۔ باہر گلی میں رکشے کی آواز آ رہی تھی مگر کمرے میں خاموشی تھی۔
رات کے گیارہ بجے حمزہ اپنے فلیٹ واپس گیا اور زینب نے بستر کی چادر بدلی۔ اس نے آصف کا میسج دیکھا کہ وہ صبح چھ بجے گھر آئے گا۔ زینب نے فون رکھا اور کھڑکی کے پاس کھڑی ہو کر باہر کی روشنیوں کو دیکھنے لگی۔
اگلی صبح آصف گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ زینب پہلے سے زیادہ خاموش ہے۔ اس نے ناشتہ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ کسی بات سے پریشان ہے۔ زینب نے کہا کہ وہ صرف تھکی ہوئی ہے اور اسے آرام چاہیے۔ آصف نے اس کا ہاتھ پکڑا مگر زینب نے اپنا ہاتھ آہستہ سے چھڑا لیا۔
آصف نے اس دن چھٹی لے لی اور گھر پر ہی رہا۔ وہ زینب کے ساتھ بیٹھا اور پرانی تصویریں دیکھنے لگا۔ اس نے کہا کہ وہ جانتا ہے کہ ان کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا ہے اور وہ اسے کم کرنا چاہتا ہے۔ زینب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر اس نے کچھ نہیں کہا۔
دوپہر کو آصف بازار گیا تو حمزہ زینب کے پاس آیا۔ اس نے زینب سے کہا کہ وہ اس صورتحال میں مزید نہیں رہ سکتا اور اسے فیصلہ کرنا ہوگا۔ زینب نے کہا کہ وہ جانتی ہے اور آج رات وہ آصف سے بات کرے گی۔ حمزہ نے اس کا ہاتھ چوما اور واپس چلا گیا۔
شام کو آصف واپس آیا تو زینب نے کھانا لگایا۔ کھانے کے بعد آصف ٹی وی دیکھنے لگا اور زینب اس کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے آصف سے کہا کہ اسے اس سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ آصف نے ٹی وی بند کیا اور اس کی طرف دیکھا۔
زینب نے کہا کہ وہ اس سے محبت کرتی تھی مگر اب وہ بدل گئی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ حمزہ سے محبت کرتی ہے اور اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ آصف نے پہلے خاموشی سے سنا پھر اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے پوچھا کہ یہ کب سے چل رہا ہے۔
زینب نے سچ بتا دیا کہ کچھ ہفتوں سے حمزہ اس کی زندگی میں ہے۔ آصف کھڑا ہوا اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔ اس نے کہا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے اور وہ یہ برداشت نہیں کرے گا۔ زینب نے روتے ہوئے کہا کہ وہ اسے تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی مگر جھوٹ پر زندگی نہیں گزار سکتی۔
آصف نے اپنا بیگ اٹھایا اور کہا کہ وہ آج رات اپنے دوست کے پاس جا رہا ہے۔ اس نے دروازے پر رک کر کہا کہ زینب اپنا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے۔ زینب نے سر ہلایا اور دروازہ بند ہونے کی آواز سنتی رہی۔
زینب نے حمزہ کو بلایا اور اسے سب بتا دیا۔ حمزہ نے اسے گلے لگایا اور کہا کہ وہ اس کے ساتھ ہے۔ اس رات دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارا اور زینب نے پہلی بار خود کو ہلکا محسوس کیا۔ حمزہ نے اس کے آنسو پونچھے اور اس کے ماتھے کو چوما۔
حمزہ نے زینب کو بستر پر لٹایا اور اس کے جسم کو آہستہ سے سہلایا۔ زینب نے اس کی قمیض اتاری اور اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چوما اور ان کی حرکتوں میں پہلے سے زیادہ نرمی تھی۔
زینب نے حمزہ کے اوپر آ کر اسے اپنے قریب کر لیا۔ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور مسکرائی۔ حمزہ نے اس کی کمر کو پکڑا اور اس کے ساتھ حرکت کی۔ زینب کی سانسیں تیز ہوئیں اور اس نے حمزہ کا نام سرگوشی میں لیا۔
جب دونوں تھک کر رکے تو حمزہ نے زینب سے کہا کہ کل صبح وہ اس کے ساتھ ناشتہ کرے گا۔ زینب نے ہنس کر کہا کہ کل صبح وہ اس کے فلیٹ میں چائے بنائے گی۔ دونوں ہنس پڑے اور ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے۔
صبح کی روشنی میں زینب اٹھی اور اپنا بیگ تیار کیا۔ اس نے آصف کو ایک خط لکھا جس میں اس نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ اپنا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس نے خط میز پر رکھا اور حمزہ کے ساتھ لفٹ میں نیچے اتری۔
ٹیکسی میں بیٹھ کر زینب نے حمزہ سے کہا کہ اسے اب کسی بات کا ڈر نہیں ہے۔ حمزہ نے مسکرا کر کہا کہ وہ اس کی ہر بات میں ساتھ دے گا اور دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔ سڑک پر صبح کی روشنی پھیل رہی تھی اور شہر جاگ رہا تھا۔
لفٹ میں حمزہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور زینب نے اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ نیچے پہنچ کر دونوں نے ٹیکسی روکی اور زینب نے آخری بار اپنی عمارت کی طرف دیکھا۔ ٹیکسی آگے بڑھی تو زینب نے حمزہ کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
حمزہ کے فلیٹ کی بالکونی سے کراچی کی روشنیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ زینب نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا اور ریلنگ کے پاس کھڑی ہو گئی۔ حمزہ اس کے پیچھے آیا اور اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ زینب نے سر پیچھے کیا اور اس کے سینے سے ٹیک لگا لی۔
حمزہ نے اس کے بالوں کو ایک طرف کیا اور اس کی گردن کو چوما۔ زینب نے آنکھیں بند کیں اور کہا کہ یہ لمحہ اسے ہمیشہ یاد رہے گا۔ حمزہ نے اسے گھما کر اپنی طرف کیا اور اس کے ہونٹوں کو چوما۔ چائے کا کپ میز پر رکھا رہ گیا اور دونوں ایک دوسرے میں کھو گئے۔
کمرے کے اندر حمزہ نے زینب کو صوفے پر بٹھایا اور اس کے پاؤں اپنی گود میں رکھ لیے۔ اس نے اس کے پاؤں کو سہلایا اور پھر اوپر آ کر اسے چوما۔ زینب نے اس کی قمیض پکڑی اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
حمزہ نے زینب کی قمیض اتاری اور اس کے جسم کو چومتے ہوئے نیچے آیا۔ زینب نے اس کے بالوں کو پکڑا اور اس کا نام سرگوشی میں لیا۔ جب حمزہ اس کے قریب آیا تو زینب نے اسے اپنے اندر محسوس کیا اور اس کی پیٹھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
دونوں نے صوفے پر ایک لمبی اور گہری رات گزاری۔ ہر حرکت میں پہلے سے زیادہ اعتماد تھا کیونکہ اب کوئی چھپنے کی ضرورت نہیں تھی۔ زینب نے حمزہ کے اوپر آ کر اسے چوما اور دونوں ایک ساتھ انتہا کو پہنچے۔
بعد میں زینب نے حمزہ کے سینے پر سر رکھا اور کہا کہ اسے اب سکون ملا ہے۔ حمزہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور کہا کہ یہ فلیٹ اب ان دونوں کا گھر ہے۔ باہر شہر کی آوازیں آ رہی تھیں مگر کمرے میں صرف ان کی خاموشی تھی۔
صبح جب زینب اٹھی تو حمزہ ناشتہ بنا رہا تھا۔ اس نے زینب کو چائے دی اور دونوں نے بالکونی میں بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ زینب نے مسکرا کر کہا کہ آج کی صبح اس کی زندگی کی سب سے اچھی صبح ہے۔
Readers who enjoyed “اردو بالغ کہانیاں: زینب اور حمزہ، حصہ 2” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔