اردو دیور کی چدائی: لکھنؤ میں بھابھی زینب اور دیور دانش کی پہلی رات، حصہ 1
اردو دیور کی چدائی کی یہ کہانی لکھنؤ کے ایک پرانے خاندانی مکان سے شروع ہوتی ہے جہاں بھابھی زینب اور دیور دانش شام کے وقت باورچی خانے میں اکیلے تھے اور ان کے درمیان ایک ایسی کشش پیدا ہو چکی تھی جسے دونوں چھپانے کی کوشش کر رہے تھے مگر آنکھوں کی زبان سب کچھ کہہ رہی تھی۔
زینب اکتیس سال کی خوبصورت عورت تھی جس کا شوہر دبئی میں کام کرتا تھا اور وہ مہینوں سے اکیلی راتیں گزار رہی تھی۔ اس کے جسم میں ایک عجیب سی بے چینی تھی جو ہر رات اسے جگائے رکھتی تھی اور دانش کی موجودگی اس بے چینی کو اور زیادہ بڑھا دیتی تھی۔
دانش پچیس سال کا نوجوان تھا جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتا تھا۔ وہ زینب کی عزت کرتا تھا مگر اس کی نظریں اکثر زینب کے چہرے اور اس کے بدن کے خموں پر ٹھہر جاتی تھیں اور وہ خود کو روک نہیں پاتا تھا۔
اس شام زینب باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھی اور دانش اس کے پاس کھڑا سبزی کاٹنے میں مدد کر رہا تھا۔ زینب نے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس سے اس کے سینے کی بناوٹ صاف نظر آ رہی تھی اور دانش کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔
دانش نے جان بوجھ کر زینب کے قریب ہو کر کہا کہ بھابھی آپ آج بہت خوبصورت لگ رہی ہیں اور زینب نے مسکرا کر جواب دیا کہ دانش تم بھی شرارتی ہو گئے ہو۔ اس ہنسی میں ایک ایسی گرمی تھی جس نے کمرے کی ہوا کو بدل دیا تھا۔
زینب نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے دانش کی طرف دیکھا اور ان کی انگلیاں ایک لمحے کے لیے آپس میں ٹکرا گئیں۔ وہ لمس بجلی کی طرح دونوں کے جسم میں دوڑ گیا اور زینب نے جلدی سے ہاتھ کھینچ لیا مگر اس کے گال سرخ ہو گئے تھے۔
دانش نے موقع دیکھ کر زینب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے کہا کہ بھابھی آپ اکیلی کیوں رہتی ہیں اور زینب نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے بھائی دور ہیں۔ اس جملے میں درد بھی تھا اور دعوت بھی تھی۔
زینب نے دانش کو قریب کھینچا اور اس کے کان کے پاس سرگوشی کی کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو کیا ہوگا اور دانش نے جواب دیا کہ اس گھر میں ابھی کوئی نہیں ہے اور دروازہ بند ہے۔ اس اعتماد نے زینب کے خوف کو کم کر دیا تھا۔
اسی لمحے اچانک دروازے پر زور سے دستک ہوئی اور دونوں چونک کر الگ ہو گئے۔ یہی وہ رکاوٹ تھی جس نے ان کے درمیان کی کشش کو اور زیادہ تیز کر دیا تھا کیونکہ پڑوسی کی آواز باہر سے آ رہی تھی اور زینب نے جلدی سے دروازہ کھولنے سے پہلے اپنے بال سنوارے۔
پڑوسی نے صرف چینی مانگی تھی اور چند منٹ میں چلا گیا مگر اس رکاوٹ کے بعد زینب اور دانش کے درمیان شرم ختم ہو چکی تھی۔ زینب نے دروازہ بند کرتے ہی دانش کی طرف دیکھا اور کہا کہ اب کوئی بہانہ نہیں ہے اور دانش نے مسکرا کر اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔
دانش نے زینب کو دیوار سے لگا کر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور زینب نے پہلے تو ہلکی سی مزاحمت کی مگر پھر اس نے دانش کے بالوں میں انگلیاں ڈال کر اسے اور قریب کھینچ لیا۔ ان کا بوسہ گہرا اور لمبا تھا اور دونوں کی سانسیں آپس میں مل رہی تھیں۔
زینب نے دانش کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے اور دانش نے زینب کے سوٹ کی ڈوری کھولی۔ باورچی خانے کی روشنی میں زینب کا بدن چمک رہا تھا اور دانش نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس کے نرم گوشت کو دبانا شروع کر دیا تھا۔
زینب کی آواز میں سسکیاں آنے لگیں اور اس نے دانش سے کہا کہ آہستہ کرو مگر اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس کا جسم دانش کی طرف جھک رہا تھا۔ دانش نے اس کی گردن پر بوسے دیے اور اس کے کان کو چوما جس سے زینب کے جسم میں کپکپی پیدا ہو گئی۔
دانش نے زینب کو اٹھا کر باورچی خانے کی میز پر بٹھایا اور اس کی ٹانگیں کھول کر اس کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ زینب نے دانش کی کمر کو پکڑ لیا اور اسے اپنی طرف کھینچا اور دونوں کے جسم ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔
زینب نے دانش کا لنڈ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔ دانش کا لنڈ سخت اور گرم تھا اور زینب کی انگلیاں اس پر پھر رہی تھیں۔ دانش نے زینب کی چوت کو اپنی انگلیوں سے چھوا اور پایا کہ وہ پوری طرح گیلی ہو چکی تھی۔
دانش نے زینب کی چوت میں اپنی انگلی داخل کی اور اسے اندر باہر کرنے لگا۔ زینب نے اپنی ٹانگیں اور زیادہ کھول دیں اور دانش کے کندھے پر سر رکھ کر سسکنے لگی۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور دانش کی انگلی اس گیلی میں آسانی سے حرکت کر رہی تھی۔
زینب نے دانش سے کہا کہ اب اور انتظار نہیں ہوتا اور دانش نے اس کی بات سن کر اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ زینب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور دانش نے ایک جھٹکے سے اپنا لنڈ اس کی چوت میں داخل کر دیا۔
زینب نے ایک لمبی آہ بھری اور دانش کی کمر کو اپنے ناخنوں سے پکڑ لیا۔ دانش کا لنڈ اس کی چوت میں پوری طرح سما گیا تھا اور زینب کو ایک عجیب سا سکون اور درد ایک ساتھ محسوس ہو رہا تھا۔ دانش نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے۔
دانش کے ہر دھکے کے ساتھ زینب کی چوت اس کے لنڈ کو اور مضبوطی سے جکڑ رہی تھی۔ زینب نے دانش کے ہونٹوں کو چوما اور اس کے سینے کو چوما اور دانش نے اس کے بوبز کو اپنے ہاتھوں سے دبا کر اس کے نپلز کو چوسنا شروع کر دیا۔
زینب نے اپنی ٹانگیں دانش کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور اسے اور گہرائی تک جانے کی دعوت دی۔ دانش نے اپنی رفتار بڑھا دی اور میز ہلنے لگی۔ زینب کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں اور دانش کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔
دانش نے زینب کو میز سے اٹھا کر فرش پر لٹایا اور اس کے اوپر آ کر دوبارہ اس کی چوت میں اپنا لنڈ داخل کیا۔ اس بار زینب نے خود نیچے سے دھکے لگانے شروع کیے اور دانش نے اس کے بوبز کو چومتے ہوئے اس کی چوت میں تیز دھکے لگائے۔
دانش نے اپنی زبان سے زینب کی چوت کو چاٹنا شروع کیا اور زینب نے اپنی ٹانگیں کھول کر اس کا سر پکڑ لیا۔ دانش کی زبان زینب کی چوت کے اندر گھوم رہی تھی اور زینب کا پانی بہہ کر دانش کے چہرے پر لگ رہا تھا۔
زینب نے زور سے سسکی بھری اور اس کا جسم کانپنے لگا۔ وہ پہلی بار جھڑنے کے قریب تھی اور دانش نے اپنی انگلیاں اس کی چوت میں تیز حرکت دیں۔ زینب نے چیخ کر کہا کہ میں جھڑ رہی ہوں اور اس کا پانی دانش کے ہاتھ پر بہہ گیا۔
زینب نے دانش کو اپنے اوپر سے ہٹا کر خود اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کے لنڈ پر اپنی چوت کو آہستہ آہستہ اوپر نیچے کرنے لگی۔ دانش نے نیچے سے اس کے بوبز کو پکڑ لیا اور زینب کی ہر حرکت کے ساتھ اس کا لنڈ اور گہرائی تک جا رہا تھا۔
اس پوزیشن میں زینب کو پورا کنٹرول مل گیا تھا اور وہ اپنی مرضی سے رفتار بدل رہی تھی۔ کبھی وہ آہستہ حرکت کرتی اور کبھی بہت تیز ہو جاتی۔ دانش نے اس کے کولہوں کو پکڑ کر اسے اوپر نیچے کرنے میں مدد کی اور زینب کی سسکیاں بلند ہو گئیں۔
دیوار کے سہارے دانش نے زینب کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی اور اس کی چوت میں اپنا لنڈ داخل کیا۔ اس پوزیشن میں زینب کی چوت اور زیادہ کھلی ہوئی تھی اور دانش کا لنڈ پوری گہرائی تک جا رہا تھا۔ زینب نے دانش کی گردن کو چوما اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔
زینب نے دانش سے کہا کہ مجھے تمہارا لنڈ بہت پسند ہے اور دانش نے اس کی چوت میں اور تیز دھکے لگائے۔ زینب کا جسم دوبارہ کانپنے لگا اور وہ دوسری بار جھڑنے کے قریب تھی۔ دانش نے اس کی چوت کو اپنی انگلی سے رگڑا اور زینب زور سے جھڑ گئی۔
دانش نے زینب کو کمرے میں لے جا کر بستر پر لٹایا اور اس کے جسم پر پوری طرح چھا گیا۔ بستر کی چادر پر دونوں کے جسموں کی گرمی محسوس ہو رہی تھی اور زینب نے دانش کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اس کے لنڈ کو اپنی چوت کی طرف کھینچا۔
دانش نے زینب کی چوت میں اپنا لنڈ دوبارہ داخل کیا اور اس بار وہ بہت آہستہ اور گہرے دھکے لگا رہا تھا۔ زینب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ہر دھکے کے ساتھ اس کے منہ سے سسکی نکل رہی تھی۔ دانش نے اس کے بوبز کو چوما اور اس کے نپلز کو اپنی زبان سے چاٹا۔
دانش نے زینب کو کروٹ کے بل لٹایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ داخل کیا۔ زینب نے اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں اور دانش نے پیچھے سے تیز دھکے لگانے شروع کیے۔ اس پوزیشن میں زینب کی سسکیاں اور بلند ہو گئیں اور دانش نے اس کے سینے کو پیچھے سے پکڑ لیا۔
زینب نے دانش سے کہا کہ اب مجھے چھوڑو مت اور دانش نے جواب دیا کہ بھابھی میں آپ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ دونوں کے جسم ایک دوسرے میں ضم ہو رہے تھے اور کمرے میں صرف ان کی سانسوں اور سسکیوں کی آواز تھی۔
زینب نے دانش کو اپنے اوپر کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر ایک لمبا بوسہ دیا۔ دونوں تھوڑی دیر کے لیے ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے رہے اور زینب نے دانش کے سینے پر سر رکھ کر کہا کہ یہ رات میں کبھی نہیں بھولوں گی۔
زینب نے دانش کا لنڈ دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے چومنا شروع کیا۔ دانش نے اس کے سر کو پکڑ لیا اور زینب نے اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے کر آہستہ آہستہ چوسنا شروع کر دیا۔ دانش کی سسکیاں بلند ہو گئیں اور اس نے زینب کے بالوں کو پکڑ لیا۔
اسی لمحے زینب کے فون کی اسکرین روشن ہوئی اور اس پر اس کے شوہر کا نام چمکنے لگا۔ زینب نے فون کی طرف دیکھا اور اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ دانش نے بھی اسکرین دیکھی اور دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں خوف اور کشش کے ساتھ دیکھنے لگے۔
فون بجتا رہا اور زینب نے کانپتے ہاتھوں سے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا۔ دانش نے سرگوشی میں کہا کہ اگر تم نے فون نہیں اٹھایا تو وہ شک کرے گا اور زینب نے جواب دیا کہ اگر میں نے اٹھایا تو میری آواز سب کچھ بتا دے گی۔
دروازے کی گھنٹی بھی اسی وقت بج اٹھی اور دونوں کے جسم جم گئے۔ زینب نے جلدی سے چادر اپنے اوپر کھینچی اور دانش نے اپنے کپڑے اٹھائے۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی اور صرف فون کی گھنٹی اور دروازے کی گھنٹی کی آواز باقی تھی۔
اگلا حصہ جلد آ رہا ہے۔
زینب نے دانش کو اپنے قریب بٹھایا اور اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ آج کی رات نے اس کے دل میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور دانش نے مسکرا کر اس کے گال کو چوم لیا۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو لفظوں سے بیان نہیں ہو سکتی تھی اور کمرے کی خاموشی میں ان کی سانسوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
دانش نے زینب کے بالوں کو پیچھے کیا اور اس کی گردن پر آہستہ آہستہ بوسے دینے لگا۔ زینب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور دانش کے ہونٹوں کی گرمی کو محسوس کیا۔ اس کے جسم میں ایک بار پھر وہی بے چینی جاگ اٹھی تھی جس نے اسے پہلی بار دانش کی طرف کھینچا تھا۔
زینب نے دانش کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر اس کے سینے کو چھوا اور دانش نے اس کے بوبز کو اپنے ہاتھوں سے دبایا۔ زینب کی سسکیاں آہستہ آہستہ بلند ہونے لگیں اور دانش نے اس کے نپلز کو چوم کر اسے اور زیادہ بے چین کر دیا۔
دانش نے زینب کی چوت کو اپنی انگلیوں سے چھوا اور پایا کہ وہ دوبارہ گیلی ہو چکی تھی۔ زینب نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور دانش کو اپنے قریب کھینچ لیا۔ دانش نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ آہستہ اندر داخل کیا۔
زینب نے دانش کی کمر کو پکڑ لیا اور ہر دھکے کے ساتھ اس کی سسکیاں بلند ہوتی گئیں۔ دانش نے اپنی رفتار بڑھا دی اور زینب کی چوت اس کے لنڈ کو مضبوطی سے جکڑ رہی تھی۔ دونوں کے جسم پسینے سے بھیگ گئے تھے اور بستر ہلنے لگا تھا۔
زینب نے دانش کو اپنے اوپر سے ہٹا کر خود اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کے لنڈ پر اپنی چوت کو اوپر نیچے کرنے لگی۔ دانش نے اس کے بوبز کو چوما اور زینب کی ہر حرکت کے ساتھ اس کا لنڈ اور گہرائی تک جا رہا تھا۔
دانش نے زینب کے کولہوں کو پکڑ کر اسے تیز حرکت دی اور زینب نے زور سے سسکی بھری۔ اس کا جسم کانپنے لگا اور وہ جھڑنے کے قریب تھی۔ دانش نے اس کی چوت میں اپنا لنڈ تیز حرکت دی اور دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔
زینب نے دانش کے سینے پر سر رکھ کر کہا کہ یہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ ہے اور دانش نے اسے اپنی بانہوں میں کستے ہوئے کہا کہ وہ اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
اردو دیور کی چدائی: زینب کی چوت میں دانش کا لنڈ، آخری رات
Readers who enjoyed “اردو دیور کی چدائی: لکھنؤ میں بھابھی زینب اور دیور دانش کی پہلی رات، حصہ 1” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔