اردو بہو کی چدائی: کانپور کی بہو کی گرم رات
آیان شام کو گھر کے صحن سے گزر رہا تھا جب اس کے کانوں میں ایک آواز پڑی, یہ اردو بہو کی چدائی کی کہانی کا آغاز تھا، کیونکہ اس کی بھابھی زینب فون پر کسی سے بہت بے باک باتیں کر رہی تھی۔ آیان دروازے کے پاس رک گیا۔ زینب کی آواز میں ہنسی اور شرارت دونوں تھیں۔ وہ اپنے شوہر کی غیر موجودگی کا ذکر کر رہی تھی۔
زینب فون پر کہہ رہی تھی کہ رات بہت لمبی ہے اور دل بہت بے چین ہے, آیان نے یہ بات سنی تو اس کا دل تیز دھڑکنے لگا۔ وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا مگر پاؤں رک گئے, زینب نے فون پر کسی کو اپنے کمرے میں آنے کی بات کی۔ آیان کی سانس رک گئی۔ اس نے دیوار سے ٹیک لگا لی۔
زینب نے فون بند کیا اور مڑ کر دیکھا تو آیان وہیں کھڑا تھا, دونوں کی نظریں ملیں۔ زینب پہلے شرمائی، پھر مسکرائی, تم نے سب سن لیا، اس نے آہستہ کہا۔ آیان نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ زینب نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
زینب نے آیان کو اپنے کمرے کی طرف بلایا, کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ زینب نے دروازہ بند کیا اور آیان کے قریب آئی, اس نے کہا کہ تم جوان ہو اور سمجھ دار بھی ہو۔ آیان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک الگ چمک تھی۔
زینب نے آیان کے گال پر ہاتھ رکھا, آیان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی, زینب نے آہستہ سے اس کے ہونٹوں کو چوما۔ پہلا بوسہ نرم تھا, پھر بوسہ گہرا اور گرم ہو گیا۔ آیان نے اس کی کمر کو تھام لیا۔
زینب نے آیان کی قمیض کے بٹن کھولے, آیان نے اس کے دوپٹے کو ہٹایا۔ اس کی قمیض کے نیچے اس کا جسم صاف نظر آ رہا تھا, آیان نے اس کے سینے کو آہستہ سے چھوا۔ زینب نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی سانس تیز ہو گئی۔
آیان نے زینب کی گردن پر بوسے دیے, زینب نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالے۔ اس نے آیان کے کان میں کہا کہ آج رات تم میرے ہو, آیان نے اسے مضبوطی سے گلے لگا لیا۔ دونوں کا جسم ایک دوسرے سے لگ گیا۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی۔
زینب نے آیان کو بستر پر بٹھایا, اس نے اپنی قمیض اتاری اور صرف اندرونی کپڑوں میں رہ گئی۔ آیان نے اس کے جسم کو دیکھا اور اسے چوما, اس نے اس کے سینے کو چوما اور اس کی چھاتیوں کو دبایا۔ زینب نے سرگوشی میں اس کا نام لیا۔ اس کا جسم آیان کے لمس پر کانپ رہا تھا۔
آیان نے زینب کو بستر پر لٹایا, اس نے اس کے پیٹ پر بوسے دیے اور اس کی ٹانگوں کو چھوا۔ زینب نے اپنی ٹانگیں آہستہ سے کھولیں, آیان نے اس کے اندرونی کپڑے کو ہٹایا اور اس کی شرمگاہ کو آہستہ سے چھوا۔ زینب کا جسم کانپ اٹھا۔ اس نے بستر کی چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
آیان نے اپنی انگلیوں سے اسے آہستہ سے تحریک دی, زینب نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کا نام لیا۔ آیان نے اس کے چہرے کو دیکھا اور اس کی خواہش کو سمجھا۔ زینب کی سانس تیز ہو رہی تھی۔ اس نے آیان کا ہاتھ تھام لیا۔
زینب نے آیان کو لٹایا اور اس کی پتلون اتاری, اس نے اس کے عضو کو ہاتھ میں پکڑا اور آہستہ سے سہلایا۔ آیان نے سانس روک لی, زینب نے اسے چوما اور اپنے منہ میں لے لیا۔ آیان کے پورے جسم میں لذت پھیل گئی۔ اس نے زینب کے سر کو آہستہ سے تھاما۔
زینب نے منہ سے لذت دیتے ہوئے رفتار بدل بدل کر آیان کو تحریک دی, آیان کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ زینب رکی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرائی۔ اس نے کہا کہ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ آیان نے اسے اپنے اوپر کھینچ لیا۔
زینب آیان کی گود میں بیٹھی اور اس کے عضو کو اپنے اندر آہستہ سے لے لیا, دونوں نے ایک ساتھ گہری سانس لی۔ زینب آہستہ سے اوپر نیچے ہونے لگی۔ آیان نے اس کی کمر تھام کر اس کی حرکت میں مدد کی۔ اس کی چھاتیاں اس کی حرکت کے ساتھ ہل رہی تھیں۔
دونوں کے جسم کی رفتار آہستہ آہستہ تیز ہو گئی, زینب نے آیان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو سنبھالا۔ آیان نے اس کی چھاتیوں کو پکڑ کر آہستہ سے دبایا۔ زینب کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ دونوں پسینے میں بھیگ گئے۔
پھر آیان نے زینب کو بستر پر لٹایا, وہ اس کی ٹانگوں کے درمیان آیا اور دوبارہ اس کے اندر داخل ہوا۔ وہ گہرا اور مسلسل حرکت کرنے لگا۔ زینب نے اس کی پیٹھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔ اس کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹ گئیں۔
آیان کی رفتار بڑھنے پر زینب کا جسم اور کانپنے لگا, زینب نے بار بار اس کا نام لیا۔ آیان نے اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے حرکت جاری رکھی۔ دونوں کا پسینہ ایک ہو گیا۔ کمرے میں صرف ان کی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔
آیان نے زینب کو الٹا کیا اور پیچھے سے اس کے اندر داخل ہوا, زینب گھٹنوں پر کھڑی ہو کر اپنی کمر اونچی کی۔ آیان نے اس کی کمر تھام کر گہری حرکت کی۔ زینب نے تکیہ پکڑ کر آہیں بھریں۔ اس کا جسم ہر حرکت پر جواب دے رہا تھا۔
اس حالت میں دونوں تیز حرکت کرنے لگے, آیان نے اس کی پیٹھ پر بوسے دیے اور اس کے کندھے کو تھاما۔ زینب نے اپنا جسم پیچھے دھکیل کر اس کی گہرائی بڑھائی۔ دونوں عروج کے قریب پہنچ گئے۔ زینب کی آواز اور بلند ہو گئی۔
آخر میں زینب کا جسم کانپ کر عروج پر پہنچا, اس نے آیان کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ چند لمحوں میں آیان بھی عروج پر پہنچ کر اس کے اندر اپنی لذت چھوڑ گیا۔ دونوں سانس لیتے ہوئے بستر پر گر گئے۔ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد زینب نے آیان کی پیشانی پر بوسہ دیا, اس نے کہا کہ تم نے میری رات کو خاص بنا دیا۔ آیان نے اس کا ہاتھ تھاما اور پوچھا کہ کل شام بھی ایسی ہی ہوگی۔ زینب نے آنکھ مار کر دروازے کی طرف دیکھا۔ باہر کانپور کی شام آہستہ سے خاموش ہو رہی تھی۔
آیان اٹھ کر کپڑے پہننے لگا تو زینب نے اس کی قمیض درست کی, وہ دروازے تک آئی اور اس کا ہاتھ تھاما۔ اس نے آہستہ کہا کہ کسی کو مت بتانا۔ آیان نے سر ہلایا اور اس کے گال پر بوسہ دیا۔ وہ اپنے کمرے کی طرف چلا تو زینب کی روشنی ابھی جل رہی تھی۔
آیان اپنے کمرے میں پہنچا تو اس کے فون پر ایک پیغام آیا, زینب نے صرف شکریہ لکھا تھا۔ آیان نے وہ پیغام دیکھ کر مسکرایا۔ وہ بستر پر لیٹا تو فون والی بات اور رات کی یادیں ایک ہو گئیں۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو زینب کی ہنسی پھر سنائی دی۔
اگلی صبح آیان نے صحن میں زینب کو دیکھا, وہ عام انداز میں مسکرائی اور صبح بخیر کہا۔ مگر اس کی آنکھوں میں رات کا راز تھا۔ آیان نے اسے دیکھ کر آہستہ سے مسکرایا۔ دونوں کے درمیان اب ایک کہانی شروع ہو چکی تھی۔
اس دن آیان کام پر دھیان نہیں دے سکا, زینب کی ہر بات اس کے ذہن میں گھوم رہی تھی۔ شام کو وہ گھر لوٹا تو گھر کی روشنیاں جل رہی تھیں۔ زینب باورچی خانے میں تھی۔ آیان نے اسے دیکھا اور دل پھر تیز دھڑکا۔
شام کو آیان نے زینب کو پیغام بھیجا کہ تم سو گئی ہو, چند لمحوں میں زینب نے جواب دیا کہ ابھی جاگ رہی ہوں۔ آیان آہستہ سے اپنے کمرے سے نکلا, صحن خاموش تھا۔ زینب نے دروازہ کھولا اور اسے اندر بلایا۔ اس نے ہلکا لباس پہنا تھا۔
زینب آیان کی گود میں بیٹھ کر اس کی گردن پر بوسے دینے لگی, آیان نے اس کی پیٹھ سہلائی اور اس کی کمر تھامی۔ زینب نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے۔ اس کی انگلیاں اس کے سینے پر چلیں۔ اس کی سانس آیان کے کان میں گرم لگی۔
آیان نے زینب کو اٹھا کر بستر تک لے گیا, وہ بستر پر گر کر ہنسی۔ آیان اس پر جھک کر اس کے ہونٹوں کو گہرائی سے چومنے لگا۔ زینب کے ہاتھ اس کی پیٹھ کے گرد لپٹ گئے۔ اس کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹ گئیں۔
آیان نے اس کا لباس آہستہ سے اوپر کیا, زینب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔ آیان نے اس کے پیٹ اور ٹانگوں پر بوسے دیے۔ زینب کا جسم آہستہ سے کانپنے لگا۔ اس نے آیان کے بال پکڑ کر اسے اپنی طرف دبایا۔
آیان نے اس کی چھاتیوں کو دوبارہ چوما اور آہستہ سے کاٹا, زینب نے ہلکی آواز میں آہ بھری۔ اس کے ہاتھ اس کے کندھوں پر تھے۔ آیان نے اس کے پورے جسم کو چھو کر اس کی خواہش بڑھائی۔ زینب کی آنکھیں بند تھیں۔
پھر زینب نے آیان کو لٹایا اور اس کے کپڑے اتارے, اس نے اس کے عضو کو ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ سے سہلایا۔ آیان نے سانس روک لی۔ زینب نے اسے چوما اور اپنے منہ میں لے لیا۔ آیان کے پورے جسم میں لذت پھیل گئی۔
زینب نے رفتار بدل کر آیان کو تحریک دی, آیان نے اس کے سر کو تھاما اور اس کی حرکت کا لطف لیا۔ زینب رکی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرائی۔ اس نے کہا کہ اب مجھے لے لو۔ آیان نے اسے اپنے اوپر کھینچ لیا۔
زینب آیان کی گود میں بیٹھی اور اس کے عضو کو اپنے اندر لے لیا, دونوں نے گہری سانس لی۔ زینب آہستہ سے اوپر نیچے ہونے لگی۔ آیان نے اس کی کمر تھام کر اس کی مدد کی۔ اس کی چھاتیاں اس کی حرکت کے ساتھ ہل رہی تھیں۔
دونوں کی رفتار بڑھنے پر زینب آیان کے سینے پر جھک گئی, آیان نے اس کی پیٹھ سہلائی اور اس کی گردن پر بوسے دیے۔ زینب کی آہیں کمرے میں سنائی دیں۔ آیان نے اس کی کمر اور مضبوطی سے تھامی۔ دونوں کے جسم ایک ساتھ حرکت کرنے لگے۔
آیان نے زینب کو بستر پر لٹایا اور دوبارہ اس کے اندر داخل ہوا, وہ گہرا اور مسلسل حرکت کرنے لگا۔ زینب نے اس کی پیٹھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔ اس کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹ گئیں۔ آیان کی رفتار اور بڑھ گئی۔
زینب کا جسم کانپ کر دوبارہ عروج پر پہنچا, آیان بھی چند لمحوں میں عروج پر پہنچا۔ دونوں سانس لیتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا کر لیٹ گئے۔ زینب نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس نے کہا کہ تم نے آج بھی مجھے خوش کر دیا۔
آیان نے اس کا ہاتھ تھاما اور کچھ دیر خاموش رہا, زینب اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹی رہی۔ باہر رات آہستہ سے گزر رہی تھی۔ آیان اٹھ کر کپڑے پہننے لگا تو زینب نے اس کی قمیض درست کی۔ وہ دروازے تک آئی اور اس کے گال پر بوسہ دیا۔
آیان اپنے کمرے کی طرف چلا تو صحن کی روشنیاں مدھم جل رہی تھیں, اس کے فون پر زینب نے شب بخیر لکھا تھا۔ آیان نے وہ پیغام دیکھ کر مسکرایا۔ وہ بستر پر لیٹا تو اس کی قمیض میں ابھی زینب کی خوشبو تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو زینب کی ہنسی پھر سنائی دی۔
اگلی صبح زینب صحن میں کھڑی تھی, آیان نے اسے دیکھ کر سلام کیا۔ وہ عام انداز میں مسکرائی, مگر اس کی آنکھوں میں رات کا راز تھا۔ آیان اپنے کمرے میں گیا تو اس کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔ ان کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
اگلے ہفتے زینب نے آیان کو چھت پر بلایا, رات کی ہوا آہستہ چل رہی تھی۔ زینب نے ہلکا لباس پہنا تھا۔ آیان اس کے قریب آیا اور اس کا ہاتھ تھاما۔ زینب اس کے کندھے پر سر رکھ کر کھڑی ہو گئی۔
زینب نے آیان کے گال پر بوسہ دیا, آیان نے اس کی کمر تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا۔ دونوں کے ہونٹ ملے۔ بوسہ آہستہ سے گہرا ہوا۔ زینب کی سانس تیز ہو گئی۔
آیان نے اس کے لباس کو ہٹایا اور اس کے سینے کو آہستہ سے چھوا۔ زینب نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس نے آیان کی قمیض اتاری اور اس کے سینے پر بوسے دیے۔ آیان کا جسم اس کے لمس پر جواب دے رہا تھا۔
زینب نے آیان کا ہاتھ پکڑ کر چھت کے ایک کونے میں لے گئی, وہاں ایک پرانی چارپائی تھی۔ زینب اس پر بیٹھی اور آیان کو اپنی طرف کھینچا۔ آیان نے اس کی ٹانگوں کو چھوا اور آہستہ سے بوسے دیے۔ زینب نے اپنی ٹانگیں کھولیں۔
آیان نے اپنی انگلیوں سے اسے آہستہ سے تحریک دی, زینب نے اس کا نام ہلکی آواز میں لیا۔ اس کے ہاتھ آیان کے سر پر تھے۔ آیان نے اس کے جسم کو اور تحریک دی تو زینب کا جسم کانپنے لگا۔ اس نے آیان کو اپنی طرف کھینچا۔
زینب نے آیان کے عضو کو ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ سے سہلایا, اس نے اسے چوما اور اپنے منہ میں لے لیا۔ آیان نے سانس روک لی۔ زینب نے رفتار بدل کر اسے تحریک دی۔ آیان کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔
پھر زینب چارپائی پر لیٹی اور آیان کو اپنے اوپر بلایا, آیان اس کے اندر آہستہ سے داخل ہوا۔ دونوں نے گہری سانس لی۔ آیان مسلسل حرکت کرنے لگا تو زینب نے اس کی پیٹھ پکڑ لی۔ اس کی آہیں رات کی ہوا میں مل گئیں۔
آیان کی رفتار بڑھنے پر زینب کا جسم اور کانپنے لگا, زینب نے بار بار اس کا نام لیا۔ آیان نے اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے حرکت جاری رکھی۔ دونوں پسینے میں بھیگ گئے۔ دونوں عروج کے قریب پہنچ گئے۔
آخر میں زینب کا جسم کانپ کر عروج پر پہنچا, آیان بھی چند لمحوں میں عروج پر پہنچا۔ دونوں سانس لیتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا کر لیٹ گئے۔ زینب نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس نے کہا کہ یہ چھت کی رات ہمیشہ یاد رہے گی۔
آیان نے اس کا ہاتھ تھاما اور کچھ دیر خاموش رہا, آسمان میں ستارے چمک رہے تھے۔ زینب نے اس کی قمیض درست کی۔ دونوں آہستہ سے نیچے اترے۔ دروازے پر زینب نے اس کے گال پر بوسہ دیا اور دروازہ بند کیا۔
Readers who enjoyed “اردو بہو کی چدائی: کانپور کی بہو کی گرم رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔