اردو دیور کی چدائی: زینب کی چوت میں دانش کا لنڈ، آخری رات
فون کی گھنٹی نے زینب کے ہاتھ سے چائے کا کپ تقریبا گرا دیا تھا، اور اسکرین پر شوہر کا نام چمک رہا تھا۔ وہ دانش کی طرف دیکھے بغیر فون اٹھانے کے لیے آگے بڑھی، مگر اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے اپنی سانس بھی سنائی دے رہی تھی۔ یہ اردو دیور کی چدائی کی وہ رات تھی جس کا آخری حصہ ابھی باقی تھا، اور دونوں جانتے تھے کہ ایک غلط قدم سب کچھ بدل سکتا ہے۔
زینب نے کانپتے ہاتھوں سے فون کان سے لگایا اور دبئی سے شوہر کی آواز سنتے ہی اس کی زبان خشک ہو گئی۔ شوہر نے پوچھا کہ گھر میں سب ٹھیک ہے یا نہیں، اور اسی لمحے دروازے کی گھنٹی اتنی زور سے بجی کہ زینب کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ دانش نے فورا دروازے کی طرف دیکھا اور زینب نے جلدی سے کہا کہ وہ دروازہ دیکھ رہی ہے، مگر اس کی آواز میں چھپی گھبراہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔
شوہر نے ابھی دو جملے بھی پورے نہیں کہے تھے کہ فون کی آواز ٹوٹنے لگی اور اسکرین پر سگنل کمزور ہونے کا نشان آ گیا۔ زینب نے کہا کہ آواز صاف نہیں آ رہی ہے، اور شوہر نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ بعد میں دوبارہ کال کرے گا۔ کال اچانک کٹ گئی اور زینب نے لمبی سانس لی، کیونکہ وہ لمحہ جس سے وہ ڈر رہی تھی، بغیر کسی سوال کے گزر گیا تھا۔
دانش نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو باہر کوئی نہیں تھا، صرف ایک چھوٹا سا پارسل دروازے کے پاس رکھا ہوا تھا۔ وہ پارسل اٹھا کر اندر لایا اور زینب کی طرف مسکرا کر کہا کہ یہ صرف ڈیلیوری والا تھا جو پارسل چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ زینب نے دروازہ بند کیا اور کنڈی لگائی، اور اس کے بعد پورے گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی جو صرف ان دونوں کی سانسوں سے ٹوٹ رہی تھی۔
زینب نے پارسل میز پر رکھا اور دانش کی طرف مڑی تو دانش نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ اس نے کہا کہ اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی ہے، اور زینب نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سر ہلا دیا۔ اس لمحے زینب کو لگا کہ پچھلی رات کی ادھوری خواہش اب پوری ہونے والی ہے، اور اس کے جسم میں ایک گرم لہر دوڑ گئی۔
دانش نے زینب کے گال پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہونٹوں پر آہستہ سے اپنے ہونٹ رکھ دیے، اور زینب نے آنکھیں بند کر کے اس بوسے کا جواب دیا۔ اس کا بوسہ پہلے نرم تھا، پھر گہرا ہوتا گیا، اور زینب کی انگلیاں دانش کی قمیض کو مضبوطی سے پکڑنے لگیں۔ دانش نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا، اور زینب نے محسوس کیا کہ اس کا جسم دانش کے جسم سے جڑ کر گرم ہو رہا ہے۔
زینب نے دانش کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے اور ہر بٹن کے ساتھ اس کی سانس تیز ہوتی گئی۔ دانش نے زینب کے دوپٹے کو آہستہ سے اس کے کندھوں سے سرکایا اور اس کی گردن پر بوسے دینے لگا۔ زینب نے سر پیچھے جھکا دیا اور دانش کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی، اور اس کی گردن پر دانش کے ہونٹوں کی گرمی اسے کانپنے پر مجبور کر رہی تھی۔
دانش نے زینب کو بانہوں میں اٹھا لیا اور اسے بیڈ روم کی طرف لے گیا، اور زینب نے اس کی گردن میں منہ چھپا لیا۔ بیڈ روم میں پہنچ کر دانش نے اسے نرمی سے بستر پر لٹایا اور اس کے اوپر جھک کر اس کے ہونٹوں کو پھر سے چوما۔ زینب نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ آج رات وہ پیچھے نہیں ہٹے گی، اور دانش نے مسکرا کر اس کی بات کا جواب اپنے بوسے سے دیا۔
دانش نے زینب کی قمیض اوپر اٹھائی اور اس کے پیٹ پر بوسے دینے لگا، اور زینب کی کمر بستر سے اوپر اٹھنے لگی۔ اس نے زینب کے سینے کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور آہستہ آہستہ دبایا، اور زینب کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ دانش نے اس کے سینے پر زبان پھیری اور زینب نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا، اور اس کی سانسیں اب مکمل طور پر بے ترتیب ہو چکی تھیں۔
زینب نے دانش کی پینٹ کا بٹن کھولا اور اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں لے لیا، اور اس کی سختی کو محسوس کرتے ہی اس کے ہونٹوں سے ایک لمبی آہ نکل گئی۔ اس نے دانش کے لنڈ پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرا اور اوپر نیچے حرکت دی، اور دانش نے اس کے بالوں کو پکڑ کر اپنا سر پیچھے کر لیا۔ زینب نے اسے دیکھ کر مسکرایا اور کہا کہ وہ اسے اب اور انتظار نہیں کرائے گی، اور دانش نے اس کی بات سن کر اس کے ہونٹوں کو زور سے چوم لیا۔
زینب نے دانش کو بستر پر لٹایا اور اس کے لنڈ پر جھک کر اسے اپنے منہ میں لے لیا، اور دانش کے جسم میں ایک جھٹکا سا لگا۔ اس نے زبان سے دانش کے لنڈ کی نوک پر گول گول حرکت کی اور پھر اسے آہستہ آہستہ اندر تک لے گئی، اور دانش نے بستر کی چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ زینب کی زبان اور ہونٹوں کی حرکت نے دانش کو پاگل کر دیا تھا، اور وہ بار بار زینب کا نام لے کر اسے اور قریب کھینچ رہا تھا۔
دانش نے زینب کو اوپر اٹھایا اور اس کی شلوار آہستہ سے نیچے سرکائی، اور زینب نے اپنی ٹانگیں ہلکی سی کھول کر اس کی مدد کی۔ اس نے زینب کی چوت پر ہاتھ رکھا اور انگلیوں سے اسے سہلایا، اور زینب کی چوت پہلے سے گیلی ہو چکی تھی۔ دانش نے ایک انگلی اندر ڈالی اور آہستہ آہستہ حرکت دی، اور زینب نے اس کی کلائی پکڑ کر کہا کہ وہ اور اندر چاہتی ہے۔
دانش نے دوسری انگلی بھی اندر ڈالی اور دونوں انگلیوں سے زینب کی چوت کے اندر حرکت کرنے لگا، اور زینب کی کمر بستر سے بار بار اوپر اٹھ رہی تھی۔ زینب نے دانش کے کندھے پر دانتوں سے ہلکا سا کاٹا اور کہا کہ اب وہ اس کی انگلیوں سے نہیں، بلکہ اس کے لنڈ سے بھرنا چاہتی ہے۔ دانش نے انگلیاں باہر نکالیں اور اپنے لنڈ کو زینب کی چوت کے منہ پر رکھا، اور زینب نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔
دانش نے آہستہ سے اپنا لنڈ زینب کی چوت میں داخل کیا اور زینب نے ایک لمبی آہ کے ساتھ اسے اندر لے لیا، اور دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نے پہلے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے اور ہر دھکے کے ساتھ زینب کی چوت اس کے لنڈ کو اور مضبوطی سے جکڑ رہی تھی۔ زینب نے دانش کی پیٹھ پر ناخن چلائے اور کہا کہ وہ اور زور سے کرے، اور دانش نے اس کی بات سن کر اپنی رفتار بڑھا دی۔
دانش نے زینب کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اس کی چوت میں گہرے اور تیز دھکے لگانے لگا، اور بستر کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔ زینب نے اپنا سر پیچھے کر دیا اور اس کے سینے اوپر نیچے ہل رہے تھے، اور دانش نے جھک کر اس کے سینے کو چوما۔ ہر دھکے کے ساتھ زینب کی آہیں تیز ہو رہی تھیں، اور دانش نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کی آواز کو اپنے بوسے میں دبا لیا۔
زینب نے دانش کو روکا اور اسے پلٹ کر اپنے اوپر بٹھایا، اور دانش کے لنڈ پر بیٹھ کر اسے اپنی چوت میں پھر سے اندر لے لیا۔ اس نے اپنی کمر کو آگے پیچھے حرکت دی اور دانش کے لنڈ پر اوپر نیچے اچھلنے لگی، اور دانش نے اس کی کمر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ زینب کی رفتار پہلے آہستہ تھی، پھر وہ تیز ہو گئی، اور اس کے سینے دانش کے سینے سے ٹکرا رہے تھے۔
دانش نے زینب کو پلٹایا اور اسے گھٹنوں کے بل کر دیا، اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ پھر سے داخل کر دیا۔ اس نے زینب کی کمر کو پکڑ کر تیز دھکے لگانے شروع کیے اور زینب نے بستر کی چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ زینب کی آہیں اب چیخوں میں بدل رہی تھیں، اور دانش نے اس کی گردن پر بوسے دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے آج پوری رات اسی طرح چاہتا ہے۔
دانش نے زینب کو پھر سے سیدھا لٹایا اور اس کی ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھ کر اس کی چوت میں گہرائی تک دھکے لگانے لگا، اور زینب نے اس کی گردن کو اپنے بازووں میں جکڑ لیا۔ اس کی چوت سے نکلنے والی آواز اور دونوں کی سانسوں کی رفتار نے کمرے کی ہوا کو گرم کر دیا تھا، اور زینب نے کہا کہ وہ اب جھڑنے کے بہت قریب ہے۔ دانش نے اپنی رفتار اور بڑھا دی اور زینب کے سینے کو اپنے ہاتھ سے دبایا، اور زینب کا جسم ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ کانپ اٹھا۔
زینب کے جھڑتے ہی اس کی چوت نے دانش کے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا اور اس کی ٹانگیں دانش کی کمر کے گرد اور مضبوط ہو گئیں۔ دانش نے چند اور تیز دھکے لگائے اور پھر اس نے بھی اپنا سارا پانی زینب کی چوت میں چھوڑ دیا، اور دونوں ایک ساتھ لمبی آہیں لے کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ دانش زینب کے اوپر ہی لیٹا رہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، اور زینب نے اس کے گال پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ یہ رات اس کی زندگی کی سب سے پوری رات تھی۔
کچھ دیر بعد دانش نے زینب کے پاس لیٹ کر اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا، اور زینب نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ زینب نے آہستہ سے کہا کہ اب اس کے دل میں کوئی ڈر نہیں رہا ہے، اور دانش نے مسکرا کر کہا کہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور خاموشی سے ایک دوسرے کی سانسوں کو سنتے رہے، اور کمرے میں صرف ان کی دھیمی باتیں گونج رہی تھیں۔
زینب نے دانش کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور کہا کہ آج کی رات کے بعد اسے کسی اور رات کی ضرورت نہیں ہے، اور دانش نے اس کے ہونٹوں پر ایک نرم بوسہ دیا۔ یہ کہانی یہیں مکمل ہوتی ہے، اس کا کوئی اگلا حصہ نہیں چاہیے، اور زینب نے دانش کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر آنکھیں بند کر لیں۔
کچھ راتیں بعد دانش نے زینب کو پیغام بھیجا کہ وہ پھر سے اسی کمرے میں اس کا انتظار کرے گی، اور زینب نے مسکرا کر جواب دیا کہ دروازہ کھلا رہے گا۔ رات کو جب گھر خاموش ہوا تو دانش دبے قدموں سے زینب کے کمرے میں آیا اور زینب نے اسے دیکھتے ہی اپنی بانہیں پھیلا دیں۔ دانش نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور کہا کہ اس رات کی یاد اسے ہر رات ستاتی ہے، اور زینب نے اس کی بات سن کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔
دانش نے زینب کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر بوسے دینے لگا، اور زینب نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر اسے اور قریب کر لیا۔ اس نے زینب کے پیٹ پر زبان پھیری اور اس کی کمر کو اپنے ہاتھوں سے سہلایا، اور زینب کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ دانش نے زینب کی شلوار نیچے سرکائی اور اس کی چوت کو اپنے ہاتھ سے سہلایا، اور زینب نے اس کی کلائی پکڑ کر کہا کہ وہ جلدی کرے۔
زینب نے دانش کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس پر ہلکے ہلکے بوسے دیے، اور پھر اسے اپنے منہ میں لے کر آہستہ آہستہ چوسنے لگی۔ دانش نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کی زبان کی حرکت پر اپنی سانس روک لی، اور زینب نے مسکرا کر اسے اور گہرائی تک لے لیا۔ کچھ دیر بعد دانش نے زینب کو اوپر اٹھایا اور اسے بستر پر لٹا کر اس کی چوت پر اپنے لنڈ کو رگڑنے لگا، اور زینب نے اپنی ٹانگیں کھول دیں۔
دانش نے اپنا لنڈ زینب کی چوت میں داخل کیا اور تیز دھکے لگانے لگا، اور زینب نے اس کی پیٹھ کو اپنے ناخنوں سے پکڑ لیا۔ ہر دھکے کے ساتھ زینب کی آہیں بڑھ رہی تھیں، اور دانش نے اس کے سینے کو چومتے ہوئے اپنی رفتار اور بڑھا دی۔ زینب نے دانش کو پلٹایا اور اس کے اوپر بیٹھ کر اس کے لنڈ پر اوپر نیچے حرکت کرنے لگی، اور دانش نے اس کی کمر کو پکڑ کر اس کی حرکت کا ساتھ دیا۔
زینب کا جسم ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ جھڑ گیا اور اس کی چوت نے دانش کے لنڈ کو مضبوطی سے جکڑ لیا، اور دانش نے چند اور دھکے لگا کر اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر لیٹ گئے اور زینب نے دانش کے سینے پر سر رکھ کر کہا کہ یہ رات بھی اتنی ہی خاص تھی۔ دانش نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور دونوں نے خاموشی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا۔
Readers who enjoyed “اردو دیور کی چدائی: زینب کی چوت میں دانش کا لنڈ، آخری رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔