اردو چاچی کی کہانی: آدھی رات کی کھیر
رات کے ساڑھے گیارہ بجے دروازے پر دستک ہوئی تو میں نے سوچا شاید ہوا سے کھڑکی بج رہی ہے، مگر جب میں نے دروازہ کھولا تو سامنے رخسانہ چاچی کھڑی تھیں، ہاتھ میں کھیر کا پیالہ اور آنکھوں میں وہ چمک جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، اور اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہ اردو چاچی کی چدائی والی وہ رات ہے جو میری زندگی بدل دے گی۔
باہر ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی اور ان کے دوپٹے کے کنارے بھیگے ہوئے تھے، وہ مسکرائیں اور بولیں کہ راشد چاچا کراچی گئے ہوئے ہیں، گھر میں اکیلی نیند نہیں آ رہی تھی، سوچا تمہیں کھیر کھلا دوں، تمہیں میٹھا بہت پسند ہے ناں۔
میں ایک طرف ہٹا اور وہ اندر آ گئیں، ان کے قدموں کی آہٹ میرے چھوٹے سے فلیٹ میں گونجنے لگی، انہوں نے بھیگا دوپٹہ اتار کر کرسی پر ڈالا اور ان کی نیلی قمیض ان کے جسم سے چپک گئی تھی، میری نظریں بے اختیار ان کے سینے پر ٹھہر گئیں۔
تم ایسے کیا دیکھ رہے ہو جنید، انہوں نے شرارت سے کہا، کیا تمہاری چاچی آج کچھ زیادہ ہی اچھی لگ رہی ہیں، میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ چاچی آپ تو ہمیشہ اچھی لگتی ہیں، آج بس بارش نے آپ کو اور بھی حسین بنا دیا ہے۔
وہ صوفے پر بیٹھ گئیں اور پیالہ میری طرف بڑھایا، میں ان کے پاس بیٹھ گیا، انہوں نے اپنے ہاتھ سے چمچ بھر کر میرے منہ کے قریب کیا، کھیر گرم اور میٹھی تھی، مگر ان کی انگلیاں میرے ہونٹوں کو چھو گئیں تو میٹھاس سے زیادہ ان کے چھونے کی گرمی محسوس ہوئی۔
ایک چمچ، دو چمچ، اور پھر انہوں نے پیالہ میز پر رکھ دیا اور میرے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا، ان کی آنکھوں میں سوال تھا اور میرے دل میں طوفان، میں نے ان کے ہاتھوں کو چوم لیا تو وہ ہلکی سی کانپ گئیں۔
جنید، یہ غلط ہے، انہوں نے سرگوشی کی، مگر ان کے ہاتھ میرے چہرے سے نہیں ہٹے، میں نے کہا کہ چاچی، غلط تو یہ ہے کہ آپ اتنی خوبصورت ہیں اور راشد چاچا مہینوں آپ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔
ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور پھر اچانک انہوں نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے، وہ بوسہ پہلے نرم تھا، پھر بھوکا، پھر بے قابو، ان کی زبان میرے منہ میں گھس آئی اور میں نے انہیں اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔
میں نے ان کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، رک جاؤ، انہوں نے کہا، اور پھر خود اپنی قمیض اتار دی، ان کا سفید برا ان کے بھرے سینے کو بمشکل سنبھالے ہوئے تھا، میں نے برا کا ہک کھولا اور ان کے ممے آزاد ہو گئے۔
ان کے نپل سخت اور کھڑے تھے، میں نے ایک کو منہ میں لے لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے مسلنے لگا، وہ زور سے کراہیں اور میرا سر اپنے سینے میں دبا لیا، جنید، آہ، اتنے سالوں بعد کوئی مجھے ایسے چھو رہا ہے۔
میں نے ان کی شلوار کا ناڑا کھولا اور وہ صوفے پر لیٹ گئیں، ان کی سفید پینٹی گیلی ہو چکی تھی، میں نے اسے ایک طرف ہٹایا اور ان کی چوت کو دیکھا، وہ پھولی ہوئی اور گیلی تھی، میں نے اپنی انگلی اندر ڈالی تو وہ چیخ پڑیں۔
میں نے ان کی چوت کو چاٹنا شروع کیا، میری زبان ان کے دانے پر گھوم رہی تھی، وہ میرے بال نوچ رہی تھیں اور ان کی کمر صوفے سے اٹھ رہی تھی، ان کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور میں اسے چاٹ چاٹ کر پی رہا تھا۔
بس کرو جنید، اب برداشت نہیں ہوتا، انہوں نے کہا اور میری پینٹ کھولنے لگیں، میرا لنڈ پہلے سے تنا ہوا تھا، انہوں نے اسے ہاتھ میں لیا اور حیرت سے دیکھا، اتنا بڑا، انہوں نے سرگوشی کی۔
انہوں نے میرے لنڈ کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگیں، ان کا منہ گرم اور گیلا تھا، وہ اوپر نیچے ہو رہی تھیں اور میں جنت میں تھا، میں نے ان کے بال پکڑے اور ان کے منہ میں دھکے لگانے لگا۔
پھر وہ صوفے پر لیٹیں اور ٹانگیں پھیلا دیں، آ جاؤ جنید، انہوں نے کہا، اپنی چاچی کی پیاس بجھا دو، میں ان کے اوپر آیا اور اپنا لنڈ ان کی چوت کے منہ پر رکھا، ایک زور کے دھکے سے میں اندر گھس گیا۔
وہ چیخیں اور مجھے جکڑ لیا، ان کی چوت ٹائٹ اور گرم تھی، میں نے دھکے لگانے شروع کیے، ہر دھکے کے ساتھ وہ کراہ رہی تھیں، صوفہ چرچرا رہا تھا اور باہر بارش تیز ہو گئی تھی۔
میں نے ان کے ممے چوستے ہوئے دھکے تیز کر دیے، ان کی چوت میرے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی، وہ بار بار کہہ رہی تھیں کہ اور زور سے، اور زور سے جنید، میں نے ان کی کمر کے نیچے تکیہ رکھا اور پوری طاقت سے چودنے لگا۔
اچانک ان کا جسم اکڑ گیا اور وہ زور سے کانپنے لگیں، ان کی چوت سے پانی کا فوارہ نکلا اور وہ چیخ پڑیں، میں بھی نہ رک سکا اور ان کی چوت میں ہی جھڑ گیا، ہم دونوں پسینے میں شرابور ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔
کچھ دیر بعد وہ اٹھیں اور کچن میں گئیں، میں نے ان کے پیچھے جا کر انہیں پکڑ لیا، وہ صرف میری قمیض پہنے ہوئے تھیں، میں نے ان کی گردن کو چوما اور میرا لنڈ پھر کھڑا ہونے لگا۔
انہوں نے چائے کا پانی چڑھایا اور میری طرف مڑیں، تم تو بہت بھوکے ہو، انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، میں نے انہیں کچن کی سلیب پر بٹھایا اور ان کی ٹانگیں پھیلا دیں، ان کی چوت اب بھی گیلی تھی۔
میں نے کھڑے کھڑے اپنا لنڈ ان کی چوت میں ڈال دیا اور دھکے لگانے لگا، وہ سلیب پر لیٹی تھیں اور ان کے ممے ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے، میں نے ان کے نپل کو دانتوں سے کاٹا تو وہ مزے سے کراہ اٹھیں۔
چائے کا پانی ابلنے لگا مگر ہمیں کوئی پروا نہیں تھی، میں نے انہیں گود میں اٹھایا اور بیڈروم لے گیا، انہیں بستر پر پٹخا اور ان کے اوپر چڑھ گیا، اب دوسری باری تھی اور اس بار میں نے کوئی جلدی نہیں کی۔
میں نے ان کے پورے جسم کو چوما، ان کی گردن، ان کے کندھے، ان کی ناف، اور پھر ان کی چوت، میں نے ان کی چوت کو اتنا چاٹا کہ وہ دو بار جھڑ گئیں، ان کی چیخیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔
پھر میں نے انہیں گھوڑی بنایا، وہ بستر پر ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل تھیں، میں نے پیچھے سے ان کی چوت میں لنڈ ڈالا اور ان کے کولہوں کو پکڑ کر دھکے لگانے لگا، ان کے کولہے نرم اور گول تھے۔
میں نے ایک انگلی ان کی گانڈ کے سوراخ پر رکھی تو وہ کانپ گئیں، نہیں جنید، وہاں نہیں، انہوں نے کہا، میں نے کہا کہ ڈرو مت چاچی، صرف باہر سے، اور میں دھکے لگاتا رہا۔
ان کی چوت سے پانی بہہ کر ان کی رانوں پر آ رہا تھا، میں نے دھکے تیز کیے اور ان کے بال کھینچے، وہ جانوروں کی طرح کراہ رہی تھیں، یہی تو میں چاہتی تھی جنید، کوئی مجھے ایسے چودے۔
میں نے انہیں پلٹا اور ان کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اس پوزیشن میں میرا لنڈ ان کی چوت کی گہرائی تک جا رہا تھا، ہر دھکے کے ساتھ وہ چیخ رہی تھیں، بستر چرچرا رہا تھا۔
میں نے محسوس کیا کہ میں جھڑنے والا ہوں، میں نے لنڈ باہر نکالا اور ان کے پیٹ پر جھڑ گیا، سفید پانی ان کے پیٹ اور ناف پر پھیل گیا، وہ ہانپ رہی تھیں اور مسکرا رہی تھیں۔
کچھ دیر سستانے کے بعد رخسانہ چاچی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا، ان کا دل اب بھی زور سے دھڑک رہا تھا، انہوں نے کہا کہ جنید، آج سے پہلے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اپنے شوہر کے سوا کسی اور کے بارے میں سوچوں گی، مگر تم نے مجھے عورت ہونے کا احساس دلا دیا۔
میں نے ان کے آنسو پونچھے اور کہا کہ چاچی، آپ دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہیں، اور آج کی رات ہم دونوں کی ہے، انہوں نے مسکرا کر میرے لنڈ کو ہاتھ میں لیا جو پھر سے سخت ہونے لگا تھا، تمہارا یہ تو ابھی تھکا نہیں، انہوں نے شرارت سے کہا۔
وہ میرے اوپر آئیں اور میرے لنڈ پر بیٹھ گئیں، ان کی چوت نے میرے لنڈ کو نگل لیا، وہ اوپر نیچے ہونے لگیں اور ان کے لمبے بال میرے چہرے پر گر رہے تھے، میں نے ان کے کولہوں کو پکڑا اور نیچے سے دھکے لگانے لگا۔
اس پوزیشن میں وہ خود اپنی مرضی سے رفتار بڑھا گھٹا رہی تھیں، کبھی تیز، کبھی آہستہ، ان کے ممے میرے چہرے کے سامنے جھول رہے تھے، میں نے باری باری دونوں کو چوسا اور وہ مزے سے چیختی رہیں۔
جب وہ تیسری بار جھڑیں تو ان کا پورا جسم میرے اوپر گر پڑا، ہم دونوں ہانپ رہے تھے، انہوں نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ جنید، تم نے آج مجھے تین بار جنت دکھائی، اب میں تمہاری ہو گئی ہوں۔
ہم ایک دوسرے سے لپٹ کر لیٹ گئے، باہر بارش رک چکی تھی، انہوں نے کہا کہ راشد جمعے کو واپس آئیں گے، اس سے پہلے ہمارے پاس تین راتیں اور ہیں، میں نے ان کے ماتھے کو چوما اور کہا کہ ہر رات آپ کی ہے چاچی۔
انہوں نے کپڑے پہنے اور خالی پیالہ اٹھایا، دروازے پر انہوں نے مڑ کر دیکھا اور کہا کہ کھیر تو بہانہ تھی جنید، اصل میں مجھے تم چاہیے تھے، میں نے مسکرا کر کہا کہ مجھے پہلے ہی پتہ تھا۔
وہ چلی گئیں اور میں دروازہ بند کر کے بستر پر واپس آیا، تکیے کے پاس ان کی ایک بالی پڑی تھی، میں نے اسے اٹھایا اور ہونٹوں سے لگایا، کل رات پھر یہی وقت، یہی دروازہ، اور میری چاچی۔
Readers who enjoyed “اردو چاچی کی کہانی: آدھی رات کی کھیر” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔