اردو چچی سیکس کہانی: کولر والی دوپہر کا راز

A
14 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

یہ اردو چچی سیکس کہانی اس دوپہر سے شروع ہوتی ہے جب سیڑھی کا لوہا اتنا گرم تھا کہ دانیال کی ہتھیلی جلنے لگی۔ اوپر چھت سے شبانہ چچی کی آواز آئی، "آرام سے بیٹا، جلدی مت کر، گر جائے گا۔" اس نے بیگ کا پٹا کندھے پر اور کس لیا اور آخری ڈنڈا چڑھ گیا۔

چھت پر پیر رکھتے ہی گرمی نے اسے گھیر لیا۔ مئی کی دوپہر تھی اور لکھنؤ کا آسمان آگ برسا رہا تھا۔ کونے میں بنا چھوٹا سا پارلر روم دھوپ میں تپ رہا تھا، اس کی ٹین کی چھت سے لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔

شبانہ چچی دروازے پر کھڑی تھی۔ ہلکے گلابی سوٹ میں، دوپٹہ ایک کندھے پر، ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں۔ اس نے مسکرا کر کہا، "آ گیا میرا مستری۔ اندر آ، باہر کھڑا جل جائے گا۔"

دانیال تئیس سال کا تھا، بی کام کا طالب علم، اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا کام اسی کے ذمے آتا تھا۔ چاچا سلیم ٹرک لے کر دس دن کے لمبے سفر پر گئے تھے۔ گھر میں چچی اکیلی تھی، اور اس کے پارلر کا کولر صبح سے بند پڑا تھا۔

"پمپ جل گیا ہوگا چچی،" دانیال نے بیگ زمین پر رکھا۔ "میں نے نیا پمپ خرید لیا ہے۔ آدھے گھنٹے میں ٹھنڈی ہوا چلے گی۔"

شبانہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "تو نہ ہوتا تو میں کیا کرتی۔ اندر آ، پہلے ٹھنڈا شربت پی لے۔"

پارلر روم چھوٹا تھا مگر صاف ستھرا۔ ایک طرف میک اپ والی کرسی، شیشہ، دیوار پر دلہنوں کی تصویریں۔ کونے میں کولر کھڑا تھا، اس کا پانی خشک ہو چکا تھا۔ دانیال نے آستینیں چڑھائیں اور کولر کے پیچھے بیٹھ گیا۔

شبانہ کمرے سے باہر گئی اور ٹھنڈے شربت کا گلاس لے آئی۔ "پی لے پہلے۔ گرمی میں چکر آ جائے گا۔"

دانیال نے ایک ہی سانس میں آدھا گلاس ختم کیا۔ "چچی، آپ کا پارلر تو چھت پر ہے، یہاں تو کولر کے بغیر بیٹھنا ناممکن ہے۔"

"تبھی تو تجھے بلایا۔" شبانہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے سوٹ کا گلا پسینے سے بھیگا تھا۔ "چاچا ہوتے تو وہی ٹھیک کرتے، مگر وہ تو دس دن بعد آئیں گے۔"

دانیال نے پرانا پمپ نکالا اور نیا لگانے لگا۔ اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔ شبانہ اسے دیکھتی رہی، پھر بولی، "سنا ہے تیری کوئی گرل فرینڈ بن گئی ہے کالج میں۔"

دانیال کا ہاتھ رک گیا۔ "کس نے کہا آپ سے؟"

"محلے میں سب پتہ چل جاتا ہے۔" شبانہ ہنسی۔ اس کی ہنسی میں ایک شرارت تھی جو دانیال نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ "بتا، کیسی ہے؟ خوبصورت ہے؟"

"چچی، آپ بھی نا۔" دانیال نے نظریں جھکا لیں۔ "کوئی نہیں ہے۔"

"جھوٹ مت بول۔ تیری عمر میں سب کے کوئی نہ کوئی ہوتی ہے۔" شبانہ کرسی سے اٹھی اور اس کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔ "مجھے بتا، میں کسی کو نہیں بتاوں گی۔"

اس کی خوشبو دانیال کی ناک میں گھسی۔ پسینے اور عطر کی ملی جلی مہک۔ دانیال کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے جلدی سے پمپ کا تار جوڑا اور بولا، "ہو گیا۔ اب پانی ڈال کر چلاوں گا۔"

شبانہ نے بالٹی اٹھائی اور کولر میں پانی ڈالنے لگی۔ اس کے جھکنے پر اس کے سوٹ کا گلا اور کھل گیا۔ دانیال کی نظر بے اختیار وہیں ٹھہر گئی۔ اس نے فورا نظریں ہٹا لیں، مگر شبانہ نے دیکھ لیا تھا۔

اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ "کیا دیکھ رہا ہے؟"

"کچھ نہیں چچی، وہ۔۔۔ پانی بہہ رہا ہے۔" دانیال نے جلدی سے کولر کا نل بند کیا۔

شبانہ نے کولر کا بٹن دبایا۔ پہلے گرم ہوا نکلی، پھر آہستہ آہستہ ٹھنڈک آنے لگی۔ "واہ، چل گیا۔ تو تو سچ میں مستری نکلا۔"

ٹھنڈی ہوا نے کمرے کو بھر دیا۔ دانیال نے راحت کی سانس لی۔ "اب آپ کا پارلر پھر سے چلے گا۔"

شبانہ کولر کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ٹھنڈی ہوا سے اس کا دوپٹہ اڑنے لگا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ "کتنا سکون ملا۔" پھر اس نے دانیال کی طرف دیکھا۔ "ادھر آ، تو بھی ٹھنڈی ہوا کھا لے۔"

دانیال اس کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ دونوں کولر کے سامنے تھے۔ شبانہ نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے گال پر رکھ دیا۔ "دیکھ، کتنا ٹھنڈا ہو گیا میرا چہرہ۔"

دانیال کے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی۔ اس کا گال نرم اور ٹھنڈا تھا۔ "ہاں چچی، ٹھنڈا ہے۔"

"تو پھر ہاتھ کیوں کانپ رہا ہے تیرا؟" شبانہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ شرارت نہیں تھی، کچھ اور تھا۔ کچھ گہرا۔

دانیال کچھ بول نہ سکا۔ شبانہ نے اس کا ہاتھ اپنے گال سے ہٹا کر اپنے ہونٹوں پر رکھ دیا۔ "بتا، تیری گرل فرینڈ تجھے ایسے چھوتی ہے؟"

دانیال کی سانس رک گئی۔ "چچی۔۔۔ یہ۔۔۔"

"شش۔" شبانہ نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔ "چاچا دس دن بعد آئیں گے۔ دس دن۔ تجھے پتہ ہے اکیلی عورت پر دس دن کیسے گزرتے ہیں؟"

دانیال نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ دیا۔ یہ پہلا قدم تھا، اور اس کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ شبانہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

"یہی تو میں چاہتی تھی۔" اس نے سرگوشی کی۔ "کہ تو خود آگے بڑھے۔"

دانیال نے اسے اپنی طرف کھینچا۔ ان کے ہونٹ ملے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، جھجھکتا ہوا۔ پھر شبانہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں اور بوسہ گہرا ہو گیا۔ اس کی زبان دانیال کے منہ میں گھسی۔

ٹھنڈی ہوا ان کے پسینے بھرے جسموں پر چل رہی تھی۔ دانیال کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر پھر رہے تھے۔ شبانہ نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔

"دروازہ۔۔۔" دانیال نے ہانپتے ہوئے کہا۔

شبانہ نے دروازے کی کنڈی لگا دی اور واپس آئی۔ "اب کوئی نہیں آئے گا۔ چھت پر اس وقت کوئی نہیں آتا۔"

اس نے دانیال کی قمیض اتار دی۔ اس کا سینہ پسینے سے چمک رہا تھا۔ شبانہ نے اس کے سینے پر ہونٹ رکھ دیے اور نیچے کی طرف بڑھنے لگی۔ دانیال نے اس کے بال پکڑ لیے۔

"چچی۔۔۔" اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

شبانہ نے اس کی پینٹ کا بٹن کھولا۔ اس کا لنڈ پہلے سے تنا ہوا تھا، قمیض کے نیچے سے صاف دکھ رہا تھا۔ شبانہ نے اسے باہر نکالا اور حیرت سے دیکھا۔ "اتنا بڑا۔۔۔ تیری گرل فرینڈ تو بہت خوش نصیب ہے۔"

"کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے چچی۔" دانیال نے کہا۔ "آج سے آپ ہی ہیں۔"

شبانہ ہنسی اور اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس نے آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا۔ دانیال نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ہاتھ کا لمس نرم مگر ماہر تھا۔

پھر شبانہ نے اسے منہ میں لے لیا۔ دانیال کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ اس کی زبان لنڈ کے اوپر گھوم رہی تھی۔ وہ کبھی اوپر نیچے ہوتی، کبھی صرف سرے کو چوستی۔

دانیال نے اس کے سر کو پکڑا۔ "چچی، میں۔۔۔ میں نکلنے والا ہوں۔"

شبانہ نے منہ ہٹایا۔ "ابھی نہیں۔ ابھی تو شروعات ہے۔" اس نے اپنی قمیض اتار دی۔ اس کے ممے ننگے ہو گئے، بڑے اور بھرے ہوئے، پسینے کی بوندوں سے چمکتے ہوئے۔

دانیال کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کے ممے پکڑ لیے۔ نرم، گرم، بھاری۔ اس نے ایک کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ شبانہ نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔

"ہاں۔۔۔ ایسے ہی۔۔۔ چوس۔۔۔" اس کی آواز میں ایک بے چینی تھی۔

دانیال نے دوسرے ممے کو ہاتھ سے دبایا۔ اس کی انگلیاں اس کے نپل کے گرد گھوم رہی تھیں۔ شبانہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔

اس نے اپنی شلوار کا ناڑا کھولا۔ شلوار نیچے گری۔ اس کی چوت دانیال کے سامنے تھی، گیلی اور تیار۔ دانیال نے انگلی سے چھوا۔ وہ پوری طرح بھیگی ہوئی تھی۔

"چچی، آپ تو۔۔۔"

"دس دن سے اکیلی ہوں۔" شبانہ نے اس کی انگلی کو اندر دھکیلا۔ "اور تو نے مجھے اور پاگل کر دیا ہے۔"

دانیال نے دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈال دیں۔ اندر بہت گرم اور گیلا تھا۔ اس نے انگلیاں آگے پیچھے کیں۔ شبانہ کی کمر مڑنے لگی۔

"بس۔۔۔ اب بس۔۔۔" شبانہ نے اسے میک اپ والی کرسی پر بٹھایا۔ "اب میری باری۔"

وہ اس کی گود میں بیٹھ گئی۔ اس نے دانیال کے لنڈ کو پکڑا اور اپنی چوت پر رکھا۔ آہستہ آہستہ وہ نیچے بیٹھی۔ لنڈ اس کی چوت میں اترنے لگا۔

دونوں کے منہ سے ایک ساتھ سسکی نکلی۔ شبانہ نے اس کے کندھوں کو پکڑا اور اوپر نیچے ہونے لگی۔ کرسی چرچرانے لگی۔

"آہستہ چچی۔۔۔ کرسی ٹوٹ جائے گی۔"

"ٹوٹنے دے۔" شبانہ کی رفتار بڑھ گئی۔ "آج سب ٹوٹنے دے۔"

دانیال نے اس کی کمر پکڑی اور نیچے سے دھکے دینے لگا۔ اس کا لنڈ اس کی چوت میں پورا اتر رہا تھا۔ شبانہ کا سر پیچھے کی طرف جھک گیا۔ اس کے بال بکھر گئے۔

ٹھنڈی ہوا ان کے ننگے جسموں پر چل رہی تھی، مگر دونوں کے جسم آگ کی طرح تپ رہے تھے۔ پسینہ بہہ رہا تھا۔

اچانک چھت پر کسی کے قدموں کی آواز آئی۔ دونوں جم گئے۔ شبانہ نے فورا دانیال کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

قدموں کی آواز قریب آئی، پھر دور چلی گئی۔ پڑوس کی چھت پر کوئی کپڑے سکھا کر چلا گیا تھا۔ دونوں نے راحت کی سانس لی۔

"یہاں خطرہ ہے۔" دانیال نے سرگوشی کی۔

شبانہ اس کے اوپر سے اٹھی۔ اس کا لنڈ ابھی بھی تنا ہوا تھا، چوت کے پانی سے چمک رہا تھا۔ "نیچے چل۔ میرے کمرے میں۔ وہاں کوئی نہیں آئے گا۔"

دونوں نے جلدی جلدی کپڑے پہنے۔ شبانہ نے پارلر کا دروازہ باہر سے بند کیا اور کولر چلتا چھوڑ دیا۔ "تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔"

سیڑھیاں اترتے ہوئے دانیال کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ نیچے کا گھر ٹھنڈا اور خاموش تھا۔ شبانہ اسے اپنے بیڈروم میں لے گئی اور دروازے کی کنڈی لگا دی۔

کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ پنکھا چل رہا تھا۔ شبانہ نے پلنگ پر بیٹھ کر اپنی قمیض اتار دی۔ "اب یہاں کوئی جلدی نہیں۔ آرام سے۔"

دانیال نے اپنے کپڑے اتارے اور اس کے پاس لیٹ گیا۔ اس نے شبانہ کو اپنی بانہوں میں لیا۔ ان کے ننگے جسم آپس میں چپک گئے۔

"تو ڈرتا تو نہیں؟" شبانہ نے اس کے چہرے کو دیکھا۔

"آپ کے ساتھ؟ کبھی نہیں۔" دانیال نے اس کے ہونٹوں کو چوما۔

اس بار بوسہ اور گہرا تھا۔ دانیال کے ہاتھ اس کے جسم پر گھوم رہے تھے۔ اس نے اس کے مموں کو چوما، چوسا، دبایا۔ شبانہ کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں۔

دانیال نیچے بڑھا۔ اس نے اس کی چوت کو چوما۔ شبانہ نے اس کے بال پکڑ لیے۔ "ہاں۔۔۔ وہیں۔۔۔"

اس کی زبان اس کی چوت پر گھوم رہی تھی۔ شبانہ کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے دانیال کے سر کو اور دبایا۔ "اور۔۔۔ اور زور سے۔۔۔"

دانیال نے اپنی زبان اندر ڈالی۔ شبانہ کا جسم اکڑ گیا۔ اس کی چوت سے پانی بہنے لگا۔ "میں۔۔۔ میں جھڑنے والی ہوں۔۔۔"

ایک تیز لہر اس کے جسم میں دوڑی۔ شبانہ نے دانیال کے سر کو اپنی ٹانگوں میں جکڑ لیا۔ اس کی سسکیاں تیز ہو گئیں، پھر آہستہ آہستہ تھم گئیں۔

"کتنے دنوں بعد۔۔۔" اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "کتنے دنوں بعد کسی نے مجھے ایسے چھوا۔"

دانیال اوپر آیا۔ اس کا لنڈ اس کی ران سے ٹکرا رہا تھا۔ شبانہ نے اسے پکڑا۔ "اب میری باری ختم۔ اب تیری۔"

اس نے دانیال کو پلنگ پر لٹایا اور اس کے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔ اس بار وہ رکی نہیں۔ اس کی رفتار تیز تھی۔ دانیال نے چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔

"چچی۔۔۔ میں اب نہیں رک سکوں گا۔۔۔"

"مت رک۔" شبانہ نے منہ ہٹایا اور اس کے اوپر چڑھ گئی۔ اس نے لنڈ کو اپنی چوت میں ڈالا اور تیزی سے اوپر نیچے ہونے لگی۔

پلنگ چرچرانے لگا۔ دانیال نے اس کے مموں کو پکڑا۔ وہ اچھل رہے تھے۔ اس نے ایک نپل کو منہ میں لیا۔

"زور سے۔۔۔ اور زور سے دھکا دے۔۔۔" شبانہ چلا رہی تھی۔

دانیال نے اسے پلٹا۔ اب وہ اوپر تھا۔ اس نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور پورے زور سے دھکے دینے لگا۔ اس کا لنڈ اس کی چوت میں گہرائی تک جا رہا تھا۔

شبانہ کی آوازیں بے قابو ہو گئیں۔ "ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ ایسے ہی۔۔۔ مجھے پھاڑ دے۔۔۔"

دانیال نے اسے کتے کی طرح موڑا۔ وہ گھٹنوں کے بل ہو گئی۔ اس نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ یہ پوزیشن سب سے گہری تھی۔ شبانہ نے تکیے کو دانتوں سے کاٹ لیا۔

"آہ۔۔۔ بہت اندر جا رہا ہے۔۔۔"

"اچھا لگ رہا ہے نا؟" دانیال نے اس کے بال پکڑے۔

"بہت۔۔۔ بہت اچھا۔۔۔ مت رک۔۔۔"

دانیال کی رفتار اور بڑھ گئی۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں اور جسموں کی آواز گونج رہی تھی۔ شبانہ کا جسم پھر سے اکڑنے لگا۔

"میں پھر سے۔۔۔ میں پھر سے جھڑ رہی ہوں۔۔۔"

اس کی چوت نے دانیال کے لنڈ کو جکڑ لیا۔ ایک گرم لہر نے دانیال کو بھی گھیر لیا۔ اس نے آخری زور دار دھکے دیے اور اس کی چوت میں ہی جھڑ گیا۔

دونوں پسینے میں شرابور پلنگ پر گر پڑے۔ پنکھے کی ہوا ان کے جسموں کو ٹھنڈا کر رہی تھی۔ کافی دیر تک کوئی کچھ نہ بولا۔

پھر شبانہ نے کروٹ بدلی اور دانیال کے سینے پر سر رکھ دیا۔ "تو نے آج مجھے وہ دیا جو میں دس دن سے ترس رہی تھی۔"

"دس دن تو بہت لمبے ہیں چچی۔" دانیال نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔ "کولر تو میں نے ٹھیک کر دیا، مگر اب مجھے ہر دوپہر آنا پڑے گا۔ چیک کرنے کہ کہیں پھر سے خراب نہ ہو جائے۔"

شبانہ ہنسی۔ "ہر دوپہر؟ چاچا کو شک ہو جائے گا۔"

"چاچا دس دن بعد آئیں گے۔" دانیال نے اس کے ہونٹوں کو چوما۔ "اور ویسے بھی، مستری کو تو آنا ہی پڑتا ہے۔"

شبانہ اٹھی اور الماری سے ایک چابی نکالی۔ اس نے چابی دانیال کے ہاتھ میں رکھ دی۔ "یہ پارلر کی چابی ہے۔ اب تجھے بلانے کی ضرورت نہیں۔ جب کولر خراب ہو، خود آ جانا۔"

دانیال نے چابی کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ "کولر تو اب کبھی خراب نہیں ہوگا چچی۔ میں اسے اتنا ٹھیک کر دوں گا کہ اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔"

"بدمعاش۔" شبانہ نے اس کے سینے پر ہلکی سی چپت لگائی۔ "چل، اب جا۔ شام کو کوئی گاہک آ جائے گی۔ اور ہاں۔۔۔"

"ہاں؟"

"کل دوپہر کو پھر آنا۔ کولر کی آواز کچھ عجیب آ رہی تھی۔" اس کی آنکھوں میں وہی شرارت واپس آ گئی تھی۔

دانیال نے کپڑے پہنے اور دروازے تک گیا۔ جاتے جاتے اس نے مڑ کر دیکھا۔ شبانہ پلنگ پر بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی، چادر اس کے سینے تک تھی۔

"چچی، یہ دوپہر تو ابھی شروع ہوئی ہے۔" دانیال نے چابی جیب میں رکھی اور سیڑھیاں اتر گیا۔

شبانہ نے تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔ "جا بدمعاش۔ کل دوپہر۔ وقت پر۔"

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Ahmed Khan

View all →

Readers who enjoyed “اردو چچی سیکس کہانی: کولر والی دوپہر کا راز” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views