دیور بھابھی کی کہانی: سعدیہ کی شام

N
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

سعدیہ بھابھی سیڑھیوں سے پھسلنے والی تھیں کہ دانش نے لپک کر انہیں کمر سے پکڑ لیا، اور یہ اردو دیور بھابھی سیکس کہانی اسی ایک لمحے سے شروع ہوئی، جب اس کی انگلیوں نے پہلی بار بھابھی کے بدن کی گرمی محسوس کی۔

شام کے چھ بج رہے تھے۔ کراچی کے اس پرانے مکان میں بجلی ویسے بھی آنکھ مچولی کھیل رہی تھی، اور سیڑھیوں والی بتی بند تھی۔ سعدیہ کے ہاتھ میں کپڑوں کی ٹوکری تھی۔ ان کا پاؤں پھسلا، ٹوکری ہوا میں اچھلی، اور وہ چیختی ہوئی پیچھے گریں۔ دانش نیچے کھڑا تھا۔ اس نے دونوں بازو پھیلا دیے اور سعدیہ اس کی بانہوں میں آ گریں۔

ایک پل کے لیے دونوں ساکت ہو گئے۔ دانش کے ہاتھ سعدیہ کی کمر پر تھے، قمیض کے باریک کپڑے کے اوپر سے۔ سعدیہ کا بدن اس سے لپٹا ہوا تھا، ان کی چھاتیاں اس کے سینے سے دبی ہوئی تھیں۔ ان کی سانسیں تیز تھیں، ڈر سے یا کسی اور وجہ سے، یہ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔

"بھابھی! آپ ٹھیک ہیں؟" دانش نے جلدی سے کہا، لیکن اس کے ہاتھ نہیں ہٹے۔

سعدیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اکتیس سال کی عمر، دبئی میں رہنے والے شوہر سے دو سال کی دوری، اور ایک جوان دیور کی بانہوں میں۔ ان کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔ "ہاں... ہاں ٹھیک ہوں۔" وہ آہستہ سے الگ ہوئیں، لیکن ان کے گال سرخ تھے۔ "شکریہ، دانش۔"

وہ کپڑے سمیٹنے لگیں۔ دانش نے بھی مدد کی۔ جب اس نے ایک دوپٹہ اٹھا کر دیا تو ان کی انگلیاں چھو گئیں۔ دونوں نے ہاتھ کھینچ لیے، لیکن وہ چھون بجلی کی طرح لگی۔

رات کا کھانا خاموشی سے گزرا۔ امی ابا اپنے کمرے میں تھے۔ دانش اور سعدیہ صحن میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ہوا میں نمی تھی، دور کہیں اذان کی آواز آ رہی تھی۔

"عمران کا فون آیا تھا؟" دانش نے پوچھا۔

"ہاں، دوپہر کو۔" سعدیہ نے چائے کا کپ رکھا۔ "کہہ رہا تھا اگلے سال چھٹی پر آئے گا۔" ان کی آواز میں تھکاوٹ تھی۔ "دو سال ہو گئے، دانش۔ دو سال سے میں اس گھر میں اکیلی... مطلب، تم سب ہو، لیکن..." وہ چپ ہو گئیں۔

دانش سمجھ گیا۔ چوبیس سال کا جوان، وہ خود بھی تو اکیلا تھا۔ اس نے سعدیہ کو دیکھا۔ ہلکے نیلے سوٹ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ ان کے بال کھلے تھے، چہرے پر تھکاوٹ اور حسن دونوں۔

"بھابھی، آپ اداس مت ہوں۔" اس نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "میں ہوں نا۔"

سعدیہ نے اس کا ہاتھ نہیں چھڑایا۔ انہوں نے اس کی انگلیوں کو دیکھا، پھر اس کی آنکھوں میں۔ "تم بڑے ہو گئے ہو، دانش۔" ان کی آواز دھیمی تھی۔ "کبھی کبھی لگتا ہے تم ہی اس گھر کے مرد ہو۔"

یہ سن کر دانش کے بدن میں آگ دوڑ گئی۔ اس نے ان کا ہاتھ دبایا۔ سعدیہ اٹھیں اور اندر جانے لگیں۔ دروازے پر رک کر انہوں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ نظر... وہ نظر میں دعوت تھی، صاف دعوت۔

دانش کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ اٹھا اور ان کے پیچھے چلا۔ سعدیہ اسٹور روم کی طرف گئی تھیں، جہاں شام کو کپڑے رکھے تھے۔ کمرہ چھوٹا تھا، ایک بلب جل رہا تھا۔ سعدیہ الماری کے سامنے کھڑی کپڑے طے کر رہی تھیں۔

"بھابھی،" دانش نے دروازہ بند کر دیا۔ کنڈی نہیں لگائی، بس بند کیا۔

سعدیہ مڑیں۔ "دانش، یہ کیا کر رہے ہو؟"

"وہی جو آپ چاہتی ہیں۔" وہ ان کے قریب آیا۔ "میں نے آپ کی آنکھوں میں دیکھا ہے، بھابھی۔ وہی پیاس جو میری آنکھوں میں ہے۔"

سعدیہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ "یہ غلط ہے۔ میں تمہاری بھابھی ہوں۔"

"اور میں آپ کا دیور ہوں۔" دانش نے ان کے گال کو چھوا۔ "لیکن آج شام سے جو ہو رہا ہے، وہ رکے گا نہیں۔ آپ بھی جانتی ہیں۔"

سعدیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، جیسے ہٹانا چاہتی ہوں، لیکن انہوں نے اسے اپنے گال پر ہی رکھا۔ ان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ "عمران... میرا شوہر..."

"دو سال سے دبئی میں ہے۔" دانش نے دھیمی آواز میں کہا۔ "اور آپ یہاں، جوان، خوبصورت، پیاسی۔ بھابھی، میں آپ کو تکلیف نہیں دوں گا۔ میں صرف... آپ کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔"

پھر اس نے انہیں چوم لیا۔ پہلے ہلکا، ہونٹوں پر۔ سعدیہ نے مزاحمت کی، ایک سیکنڈ کے لیے، پھر ان کے ہونٹ کھل گئے۔ ان کی زبان ملی۔ سعدیہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اسے اپنے سے بھینچ لیا۔ دو سال کی پیاس ایک بوسے میں پھٹ پڑی۔

دانش کے ہاتھ ان کی کمر سے نیچے سرکے، ان کے کولہوں پر۔ اس نے انہیں دبایا۔ سعدیہ کے منہ سے "امم" نکلا۔ انہوں نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ ان کی انگلیاں کانپ رہی تھیں، لیکن ارادہ پکا تھا۔

"تمہیں پتا ہے،" سعدیہ نے اس کی قمیض اتارتے ہوئے کہا، ان کی آواز میں شرم اور چاہت دونوں تھے، "میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ ہوگا۔ لیکن جب تم نے مجھے سیڑھیوں پر پکڑا... میں نے محسوس کیا... تم مرد ہو گئے ہو۔"

دانش نے ان کی قمیض کے بٹن کھولے۔ نیچے سفید برا میں قید ان کی چھاتیاں بھری ہوئی تھیں۔ اس نے برا کا ہک کھولا۔ سعدیہ کی ننگی چھاتیاں روشنی میں آ گئیں، بڑی، نرم، نوک سخت۔ دانش نے ایک کو منہ میں لے لیا۔

"آہ... دانش..." سعدیہ نے اس کا سر پکڑ لیا۔ "چوسو... زور سے..."

وہ چوستا رہا، زبان سے گول گول گھماتا، کبھی ہلکا کاٹتا۔ دوسرے ہاتھ سے دوسری چھاتی مسلتا رہا۔ سعدیہ کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ انہوں نے اسے دیوار سے لگا دیا۔

دانش نے ان کا ٹراؤزر نیچے سرکایا۔ نیچے کالی پینٹی، گیلی ہو چکی تھی۔ اس نے پینٹی اتار دی۔ سعدیہ کی چوت ابھری ہوئی، چکنی، رس سے بھیگی ہوئی تھی۔ دانش نے انگلی سے چھوا۔ سعدیہ اچھل پڑیں۔

"کتنی گیلی ہو آپ،" دانش نے حیرت سے کہا۔

"تمہارے لیے،" سعدیہ نے شرما کر کہا، لیکن ان کی آنکھوں میں آگ تھی۔ "سیڑھیوں والے لمحے سے۔"

دانش گھٹنوں پر بیٹھ گیا اور اپنا چہرہ ان کی ٹانگوں کے بیچ لے گیا۔ اس نے پہلے ان کی رانوں کو چوما، پھر زبان سعدیہ کی چوت پر پھیری۔ سعدیہ کی چیخ نکل گئی۔ "آہ! دانش!" اس نے ان کی چوت کو چاٹنا شروع کیا، زبان اندر باہر، دانے کو چوستا ہوا۔ سعدیہ کی انگلیاں اس کے بال نوچنے لگیں۔ ان کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں۔

"رکو... میں... میں فارغ ہونے والی ہوں..." سعدیہ نے کہا۔ دانش رکا نہیں۔ اس نے زبان اور تیز چلائی، انگلی چوت میں ڈال دی۔ سعدیہ کا بدن ایک جھٹکے سے اٹھا اور وہ چیخ پڑیں۔ ان کا پہلا ارگزم، دیور کی زبان پر۔ وہ ہانپتی ہوئی دیوار سے لگی رہیں۔

دانش اٹھا اور اپنا ٹراؤزر اتار دیا۔ اس کا لنڈ پوری طرح سخت تھا، لمبا اور موٹا۔ سعدیہ نے اسے دیکھا اور ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔

"اتنا بڑا،" انہوں نے سرگوشی کی۔ "عمران سے بھی بڑا۔"

یہ سن کر دانش کا جوش اور بڑھ گیا۔ اس نے سعدیہ کو الماری سے لگا دیا۔ ان کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی۔ اس کا لنڈ ان کی چوت کے منہ پر رگڑا۔ سعدیہ نے اس کی کمر کو پکڑ لیا۔ "اندر ڈالو، دانش۔ پلیز۔ اب رہا نہیں جاتا۔"

دانش نے دھکا دیا۔ اس کا لنڈ سعدیہ کی تنگ چوت میں گھسنے لگا۔ سعدیہ کے منہ سے "آہ" نکلی۔ "آہستہ... تھوڑا آہستہ..." دانش رک گیا، ان کی گردن کو چوما، ان کی چھاتیوں کو سہلایا جب تک وہ ڈھیلی نہ پڑیں۔ پھر ایک اور دھکا، اور گہرا۔ سعدیہ کی چوت نے اسے پوری طرح نگل لیا۔

دانش نے دھکے لگانے شروع کیے۔ پہلے دھیرے، پھر تیز۔ ہر دھکے کے ساتھ سعدیہ کی چھاتیاں اچھلنے لگیں۔ ان کے منہ سے "آہ... آہ... دانش... اور تیز..." نکلتا رہا۔

"تمہاری چوت کتنی گرم ہے، بھابھی،" دانش نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "کتنی کس کر پکڑ رہی ہے میرا لنڈ۔"

"تو چودو نا زور سے،" سعدیہ نے کہا، ان کی آواز میں وہی آگ جو ان کی آنکھوں میں تھی۔ "اپنی بھابھی کو آج پورا خوش کر دو۔ دو سال کی پیاس بجھا دو۔"

دانش نے انہیں پلٹا دیا۔ سعدیہ الماری پر جھک گئیں۔ دانش نے پیچھے سے ان کی چوت میں لنڈ ڈال دیا اور ان کے بالوں کو پکڑ کر دھکے لگانے لگا۔ سعدیہ کی چیخیں اسٹور روم میں گونج گئیں۔ "ہاں... ایسے ہی... اور اندر... آہ!"

دانش نے ان کی چھاتیوں کو پیچھے سے پکڑا، نوکوں کو مسلا۔ سعدیہ کا بدن کانپنے لگا۔ "میں پھر سے... آہ... دانش میں آ رہی ہوں!" ان کا دوسرا ارگزم آیا، تیز، ان کی چوت نے دانش کے لنڈ کو کس کر جکڑ لیا۔ دانش بھی اب کنارے پر تھا۔ اس نے آخری کچھ تیز دھکے لگائے اور سعدیہ کی چوت میں ہی فارغ ہو گیا۔

دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ سعدیہ نے اس کے سینے پر سر رکھا۔ "یہ... یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔"

"لیکن ہوا،" دانش نے کہا، ان کے ماتھے کو چومتے ہوئے۔ "اور بھابھی، یہ آخری بار نہیں ہوگا۔ میں جانتا ہوں۔ آپ بھی جانتی ہیں۔"

سعدیہ نے اوپر دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی۔ "تم بہت بے شرم ہو گئے ہو، دیور جی۔" انہوں نے اس کے گال پر ہلکی سی چپت لگائی۔ "اب کپڑے پہنو، امی بلائیں گی کھانے پر۔"

وہ دونوں جلدی سے کپڑے پہننے لگے۔ سعدیہ نے آئینے میں اپنے بال ٹھیک کیے، چہرے کی سرخی چھپانے کی ناکام کوشش کی۔ دروازہ کھولنے سے پہلے انہوں نے دانش کا ہاتھ پکڑا۔ "یہ بات ہم دونوں کے بیچ رہے گی۔"

"ہمیشہ، بھابھی۔" دانش نے ان کا ہاتھ چوما۔ "لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ جب بھی آپ کو میری ضرورت ہو... میں یہیں ہوں۔"

سعدیہ باہر نکل گئیں، اور دانش کچھ دیر وہیں کھڑا رہا، ان کی خوشبو کو محسوس کرتا ہوا۔ اسٹور روم کا بلب ٹمٹما رہا تھا، اور اس کے چہرے پر وہ مسکراہٹ تھی جو صرف وہی سمجھ سکتا تھا جس نے ابھی جنت دیکھی ہو۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “دیور بھابھی کی کہانی: سعدیہ کی شام” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views