اردو سیکس کہانی: فیضہ اور جاوید، بالکونی والی لڑائی
"اوپر سے پانی گرانا بند کرو!" فیضہ نے بالکونی کی ریلنگ سے سر باہر نکال کر اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے چلایا۔ یہ اردو سیکس کہانی اسی ایک جملے سے شروع ہوئی تھی، اور اسے کیا معلوم تھا کہ یہ معمولی سا جھگڑا اس کی زندگی کی سب سے تپتی ہوئی گرمیوں کا دروازہ کھول دے گا۔
"معاف کیجیے گا!" اوپر والی بالکونی سے ایک مردانہ آواز آئی، اور پھر ایک چہرہ ریلنگ پر جھکا۔ پینتیس کے لگ بھگ، گیلے بال، گلے میں تولیہ، اور ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ جو معافی سے زیادہ شرارت لگ رہی تھی۔ "بالکونی دھو رہا تھا، خیال نہیں رہا۔"
فیضہ کی دھلی ہوئی قمیض پر پانی کے چھینٹے پڑے تھے۔ وہ بتیس سال کی تھی، دو بچوں کی ماں نہیں، بس ایک ایسی عورت جس کا شوہر دو سال سے دبئی میں تھا اور جو اسلام آباد کے اس فلیٹ میں اکیلی گرمیاں کاٹ رہی تھی۔ "خیال رکھا کریں،" اس نے سخت لہجے میں کہا، مگر اس کی نظریں اس کے بھیگے ہوئے بازوؤں پر ایک لمحے سے زیادہ ٹھہر گئیں۔
"جاوید،" اس نے اپنا تعارف کرایا، جیسے یہ ملاقات کسی دعوت میں ہو رہی ہو۔ "اوپر والا فلیٹ میرا ہے۔ اور آپ؟"
"فیضہ،" اس نے مختصر جواب دیا اور اندر چلی گئی، مگر دل کی دھڑکن اسے خود بھی عجیب لگ رہی تھی۔ دو سال سے اس نے کسی مرد کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا۔
اگلی شام دروازے کی گھنٹی بجی۔ فیضہ نے دروازہ کھولا تو جاوید کھڑا تھا، ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ۔ "کل کے پانی کے چھینٹوں کا جرمانہ،" اس نے مسکرا کر کہا۔ "چائے پیوں گا، اگر اجازت ہو۔"
فیضہ نے ایک لمحہ ہچکچاہٹ محسوس کی۔ اکیلی عورت، شام کا وقت، اور پڑوسی مرد۔ پھر اس نے سوچا کہ ڈبہ لے کر دروازہ بند کرنا زیادہ عجیب لگے گا۔ "آئیے،" اس نے کہا اور ایک طرف ہٹ گئی۔
چائے کی پیالیوں کے درمیان باتیں کھلتی گئیں۔ جاوید طلاق یافتہ تھا، بیوی ایک سال پہلے چلی گئی تھی۔ اکیلا رہتا تھا، کسی سوفٹ ویئر کمپنی میں کام کرتا تھا۔ اس کی آنکھیں بات کرتے ہوئے فیضہ کے چہرے سے ہٹتی نہیں تھیں، اور فیضہ کو یہ توجہ بری نہیں لگ رہی تھی۔
"دبئی سے کب آتے ہیں آپ کے میاں؟" اس نے پوچھا۔
"عید پر آئے تھے، اب اگلے سال،" فیضہ نے کہا، اور اپنی آواز میں جو خالی پن تھا اسے وہ خود بھی چھپا نہ سکی۔ جاوید نے کچھ نہ کہا، بس اسے دیکھتا رہا، اور اس دیکھنے میں کوئی ہمدردی نہیں تھی، کچھ اور تھا۔
اس کے بعد کے دنوں میں بالکونی ایک میدان جنگ بن گئی، مگر ہتھیار بدل چکے تھے۔ شام کو جب جاوید اوپر پودوں کو پانی دیتا، اکثر بغیر قمیض کے ہوتا، تو فیضہ نیچے اپنی بالکونی سے کپڑے سمیٹنے کے بہانے کھڑی رہتی۔ اس کے سینے پر پسینے کی بوندیں شام کی دھوپ میں چمکتیں، اور فیضہ کی انگلیاں کپڑوں پر بے وجہ الجھتی رہتیں۔
ایک دن اس نے خود کو آئینے کے سامنے کھڑے پایا، وہ سبز سوٹ پہنے جو اس نے عید کے بعد سے نہیں پہنا تھا۔ "یہ میں کیا کر رہی ہوں،" وہ بڑبڑائی، مگر سوٹ نہ بدلا۔
پھر وہ شام آئی جب بجلی چلی گئی۔ جون کی گرمی میں فلیٹ تندور بن گیا۔ فیضہ چھت پر ہوا کھانے گئی تو دیکھا کہ ایک چارپائی پر جاوید لیٹا تھا، ہاتھ میں پانی کی بوتل۔
"آپ بھی بھاگ آئیں؟" اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔ "آئیے، چارپائی بڑی ہے۔"
اندھیرے میں وہ دونوں چارپائی پر بیٹھ گئے۔ نیچے شہر کی بتیاں ٹمٹما رہی تھیں، اور ہوا میں رات کی رانی کی خوشبو تھی۔ جاوید نے پانی کی بوتل اس کی طرف بڑھائی، اور بوتل لیتے ہوئے اس کی انگلیاں جاوید کی انگلیوں سے چھو گئیں۔
نہ اس نے ہاتھ ہٹایا، نہ جاوید نے۔ ایک لمحہ، دو لمحے۔ پھر جاوید نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنی ہتھیلی میں دبا لیا۔ "تمہارے ہاتھ ٹھنڈے ہیں،" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
"اور تمہارے گرم،" فیضہ نے کہا، اور اسے اپنی آواز اجنبی لگی۔
جاوید نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا۔ فیضہ کی سانس رک گئی۔ پھر اس نے فیضہ کو اپنی طرف کھینچا، اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی، اس کے ہونٹ فیضہ کے ہونٹوں پر تھے۔
یہ بوسہ معافی والا نہیں تھا۔ یہ دو سال کی پیاس کا بوسہ تھا۔ جاوید کا ایک ہاتھ اس کی کمر پر تھا، دوسرا اس کے بالوں میں۔ فیضہ نے اس کی قمیض کو مٹھیوں میں بھینچ لیا، جیسے ڈوبتی ہوئی عورت تنکے کو پکڑتی ہے۔
اس کا ہاتھ جب فیضہ کے سینے پر آیا اور اس کے دودھ کو قمیض کے اوپر سے دبایا، تو فیضہ کے منہ سے ایک سسکی نکلی جو اندھیرے میں گونج گئی۔ "جاوید،" وہ بولی، "کوئی آ جائے گا۔"
"تو آنے دو،" اس نے اس کی گردن پر ہونٹ رکھتے ہوئے کہا، مگر فیضہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روک دیا۔ اس کی سانسیں تیز تھیں، ہونٹ سوجے ہوئے تھے۔ "آج نہیں،" وہ بولی، "مگر کل۔۔۔ کل شام کو دروازہ کھلا رہے گا۔"
وہ چارپائی سے اٹھی اور سیڑھیاں اتر گئی، مگر اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ اس رات وہ دیر تک جاگتی رہی، اور جب اس نے اپنی انگلیاں اپنے جسم پر پھیرائیں تو اسے جاوید کا لمس یاد آیا، اور اس کا اپنا ہاتھ ناکافی لگا۔
اگلی شام فیضہ نے دروازہ کھلا رکھا۔ سات بجے دستک ہوئی، اور جاوید اندر آیا۔ اس نے دروازہ بند کیا، کنڈی لگائی، اور پھر فیضہ کی طرف مڑا۔ کوئی بات نہیں ہوئی۔ باتوں کا وقت گزر چکا تھا۔
جاوید نے اسے دیوار سے لگا لیا اور اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا۔ اس کے ہاتھ فیضہ کے سوٹ کے بٹن کھولنے لگے، ایک ایک کر کے، جلدی میں مگر بے رحمی سے نہیں۔ جب قمیض زمین پر گری، تو جاوید ایک قدم پیچھے ہٹا اور اسے دیکھا۔
"تم بہت خوبصورت ہو،" اس نے کہا، اور یہ کوئی فلمی جملہ نہیں تھا، اس کی آنکھوں میں سچ تھا۔
فیضہ نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے۔ اس کا سینہ چوڑا تھا، ہلکے بالوں سے ڈھکا۔ اس نے اپنی ہتھیلیاں اس کے سینے پر رکھیں اور اس کی دھڑکن محسوس کی، جو اس کے اپنے دل کی طرح تیز تھی۔ پھر اس نے جھک کر اس کے نپل کو منہ میں لے لیا۔
جاوید کے منہ سے ایک گہری آہ نکلی۔ اس نے فیضہ کا چہرہ اوپر اٹھایا اور اسے بیڈروم کی طرف لے گیا۔ بستر پر گراتے ہی وہ اس پر جھک گیا، اور اس بار کوئی جلدی نہیں تھی۔
اس نے فیضہ کی شلوار اتاری، اور پھر ایک لمحے کو رک کر اسے دیکھا۔ پھر اس نے اس کی رانوں کو چومنا شروع کیا، اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے، یہاں تک کہ اس کے ہونٹ اس کی چوت پر پہنچ گئے۔
فیضہ کی کمر بستر سے اٹھ گئی۔ "اوہ۔۔۔" اس کے منہ سے نکلا۔ جاوید کی زبان نے اسے وہاں چھوا جہاں دو سال سے کوئی لمس نہیں پہنچا تھا۔ وہ اسے چاٹتا رہا، چوستا رہا، اور فیضہ کی انگلیاں اس کے بالوں میں گڑ گئیں۔
جب فیضہ کا جسم کانپنے لگا اور اس کی چیخ نکلنے والی تھی، تو جاوید اوپر آیا، اس کی ٹانگیں پھیلائیں، اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ وہ موٹا اور سخت تھا، اور فیضہ نے اسے اندر لیتے ہوئے اپنی سانس روک لی۔
"آہستہ،" وہ بولی، مگر جاوید نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی۔ اس نے ایک ہی جھٹکے میں اپنا پورا لنڈ اس کے اندر اتار دیا، اور فیضہ کے منہ سے ایک دبی ہوئی چیخ نکلی جو تکیے میں دب گئی۔
پھر وہ چودنے لگا، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ بستر چرچرانے لگا۔ فیضہ کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹ گئیں۔ ہر جھٹکے کے ساتھ وہ اس کے اندر گہرائی تک جاتا، اور فیضہ کو لگتا جیسے وہ دو سال کی تنہائی کو ایک ایک کر کے مٹا رہا ہو۔
"اور زور سے،" فیضہ نے کہا، اور یہ کہتے ہوئے اسے شرم نہ آئی۔ جاوید نے اس کی یہ فرمائش پوری کی۔ اس نے فیضہ کو پلٹا، اسے گھوڑی بنایا، اور پیچھے سے اس میں گھس گیا۔
اس پوزیشن میں ہر دھکا فیضہ کی گہرائیوں کو چھوتا تھا۔ اس کے دودھ جھول رہے تھے، اور جاوید نے آگے جھک کر انہیں اپنے ہاتھوں میں لے لیا، انہیں دباتے ہوئے، ان کے نپلوں کو انگلیوں سے مروڑتے ہوئے۔
فیضہ کا جسم اکڑنے لگا۔ "میں۔۔۔ میں جھڑنے والی ہوں،" وہ ہانپی۔ "مت روکو،" جاوید نے اس کے کان میں کہا، اور اس کے دھکے اور تیز ہو گئے۔
پھر وہ آیا، وہ لمحہ جس کا فیضہ دو سال سے انتظار کر رہی تھی۔ اس کی چوت نے جاوید کے لنڈ کو اندر ہی اندر بھینچ لیا، اس کا پورا جسم کانپا، اور اس کے منہ سے جاوید کا نام نکلا۔ جاوید نے بھی اپنے آپ کو نہ روکا، اور اس کا گرم پانی اس کے اندر بہہ گیا۔
وہ دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے، پسینے میں بھیگے، سانسیں پھولی ہوئی۔ جاوید نے اسے اپنی بانہوں میں لیا، اور فیضہ نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔ اس کی دھڑکن سن کر اسے رونا آیا، مگر یہ خوشی کے آنسو تھے۔
"چائے بناؤں؟" اس نے پوچھا، اور دونوں ہنس پڑے۔
اس رات کے بعد ان کے درمیان کوئی دیوار نہ رہی۔ ہر شام مغرب کے بعد جاوید نیچے آتا، یا فیضہ اوپر چلی جاتی۔ کبھی وہ اس کے فلیٹ میں چائے پیتے، کبھی وہ اس کے فلیٹ میں۔ محلے کی نظروں سے بچنے کے لیے وہ محتاط تھے، مگر احتیاط کے باوجود ان کی آنکھوں میں جو چمک تھی وہ چھپتی نہیں تھی۔
پھر بارشوں کا موسم آیا۔ ایک رات موسلا دھار بارش ہو رہی تھی، بجلی کڑک رہی تھی۔ فیضہ اوپر جاوید کے فلیٹ میں تھی۔ بارش کی آواز میں ان کی آہیں دب جاتی تھیں، اور اس رات انہیں کوئی ڈر نہ تھا۔
جاوید نے اسے بالکونی کے دروازے کے پاس کھڑا کیا، بارش کی ٹھنڈی پھوار ان کے جسموں پر پڑ رہی تھی۔ اس نے پیچھے سے اس کی شلوار نیچے کی، اپنا لنڈ نکالا، اور کھڑے کھڑے اس میں گھس گیا۔ فیضہ نے ریلنگ کو پکڑ لیا۔
بارش میں بھیگتے ہوئے، بجلی کی کڑک کے ساتھ، جاوید اسے چودتا رہا۔ اس کے ہاتھ فیضہ کے بھیگے ہوئے دودھ پر تھے، اس کے ہونٹ اس کی گردن پر۔ فیضہ نے اپنا سر پیچھے اس کے کندھے پر ٹکا دیا، اور بارش کے پانی کے ساتھ اس کے اپنے جسم کا پانی بھی بہنے لگا۔
اس رات انہوں نے تین بار کیا۔ تیسری بار کے بعد فیضہ جاوید کی بانہوں میں لیٹی بارش کی آواز سن رہی تھی، اور اس نے سوچا کہ دبئی سے آنے والی تنخواہ سے یہ سکون نہیں خریدا جا سکتا۔
"تمہیں ڈر نہیں لگتا؟" جاوید نے پوچھا۔ "پکڑے گئے تو؟"
"لگتا ہے،" فیضہ نے کہا۔ "مگر اب رکنا میرے بس میں نہیں۔"
ایک شام جب وہ دونوں اس کے بیڈروم میں تھے، فیضہ کا فون بجا۔ اسکرین پر شوہر کا نام تھا، ویڈیو کال۔ فیضہ کا دل حلق میں آ گیا۔ جاوید نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
فیضہ نے کال کاٹ دی اور فون سائلنٹ پر لگا دیا۔ "بعد میں کہہ دوں گی سو رہی تھی،" وہ بولی، اور جاوید کی طرف مڑی۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ "جہاں تھے، وہیں سے شروع کرو۔"
جاوید نے اسے بستر پر گرایا۔ اس رات وہ پہلے سے زیادہ بے باک تھے، جیسے پکڑے جانے کا ڈر انہیں اور بھڑکا رہا ہو۔ فیضہ نے اس کا لنڈ اپنے منہ میں لیا اور اسے چوستی رہی یہاں تک کہ وہ اس کے منہ میں ہی جھڑ گیا، اور اس نے اس کا سارا پانی پی لیا۔
پھر جاوید نے اسے اٹھایا، دیوار سے لگایا، اس کی ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھی، اور اس میں گھس گیا۔ کھڑے کھڑے، دیوار کے سہارے، وہ اسے چودتا رہا۔ فیضہ کی پیٹھ دیوار سے رگڑ کھا رہی تھی، مگر اسے کوئی پرواہ نہ تھی۔
جب وہ دونوں ایک ساتھ جھڑے، تو فیضہ کی چیخ اس کے اپنے ہاتھ سے دب گئی جو اس نے اپنے منہ پر رکھا تھا۔ وہ ہنسنے لگی، روتے روتے ہنسنے لگی۔
اگلے دن محلے کی ایک عورت نے فیضہ سے کہا، "تم آج کل بہت خوش نظر آتی ہو۔ دبئی سے کوئی خوشخبری آئی ہے کیا؟"
فیضہ مسکرائی۔ "ہاں،" اس نے کہا۔ "بہت بڑی خوشخبری۔"
اس شام جاوید نیچے آیا تو فیضہ نے دروازہ کھولا اور اسے اندر کھینچ لیا۔ "آج چوکیدار نے پوچھا کہ اوپر والے صاحب روز شام کو کہاں جاتے ہیں،" وہ بولی۔
جاوید نے اسے بانہوں میں لیا۔ "تو کیا کہا تم نے؟"
"کہا کہ وہ چائے پینے آتے ہیں،" فیضہ نے اس کے ہونٹوں کے قریب سرگوشی کی۔ "اور اب یہ چائے روز بنے گی۔"
باہر پھر بادل گرجنے لگے تھے۔ جاوید نے فیضہ کو اٹھا کر بیڈروم کی طرف لے جانا شروع کیا، اور فیضہ نے دروازے کی کنڈی لگانے کا اشارہ کیا۔ اسی لمحے نیچے سے چوکیدار کی آواز آئی، "میڈم، آپ کا پارسل آیا ہے!"
دونوں رک گئے۔ پھر جاوید ہنسا، دبی ہوئی ہنسی۔ "پارسل بعد میں،" اس نے کہا۔ "پہلے یہ۔" اور اس نے فیضہ کو بیڈ پر گرا دیا۔
Readers who enjoyed “اردو سیکس کہانی: فیضہ اور جاوید، بالکونی والی لڑائی” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔