اردو بھابھی سیکس: دیور کی واپسی

S
11 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

دروازہ پیچھے سے زور سے بند ہوا اور بلال کے ہاتھ سے ٹرالی بیگ چھوٹ کر فرش پر گرا۔ اس سے پہلے کہ وہ سانس بھی لیتا، فرح بھابھی کی بانہیں اس کی گردن کے گرد لپٹی ہوئی تھیں اور ان کے نرم ہونٹ اس کے گال پر دبے تھے۔ دو سال کی دوری ایک لمحے میں پگھل گئی، اور بلال کے دل نے کہا کہ یہ رات عام رات نہیں ہوگی۔ یہ اردو بھابھی سیکس کی وہ کہانی تھی جس کا دونوں نے دو سال سے انتظار کیا تھا۔

ائیرپورٹ پر وہ خود اسے لینے آئی تھیں۔ بھائی کاروباری دورے پر شہر سے باہر تھے، اس لیے فرح نے گاڑی خود چلائی تھی۔ ہلکے میک اپ میں چمکتا ان کا چہرہ اور عطر کی مدھم خوشبو دیکھ کر بلال کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔ پورے راستے اس کی نظریں ان کے چہرے سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔

گھر پہنچتے ہی فرح نے کہا تھا کہ کھانا انہوں نے خود بلال کی پسند کا بنایا ہے۔ دال گوشت کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی تھی اور میز پر گرم نان سجے تھے۔ بلال نے ہاتھ منہ دھوئے اور دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ اس وقت کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ کھانا صرف بھوک مٹانے کے لیے نہیں ہے۔

کھانے کے دوران فرح نے چھیڑتے ہوئے پوچھا، دبئی میں کوئی گوری میم تو نہیں پھنسا لی۔ بلال ہنسا اور بولا، میم تو نہیں، لیکن آپ کی یاد نے ہر رات ستایا۔ فرح کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اور انہوں نے دھیرے سے کہا، یاد تو مجھے بھی بہت آتی تھی۔ ان کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ بلال کے ہاتھ کا نوالہ ہوا میں ہی رک گیا۔

میز کے نیچے اچانک بلال نے محسوس کیا کہ فرح کا ننگا پاؤں اس کے پاؤں سے ٹکرا رہا ہے۔ پہلے اس نے سمجھا اتفاق ہے، لیکن جب وہ پاؤں اس کے ٹخنے سے اوپر سرکنے لگا تو اس کی سانس رک گئی۔ اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو فرح مسکرا رہی تھیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ بلال نے اپنا پاؤں ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

کھانا ختم ہوا تو فرح نے کہا، تم تھکے ہوگے، پہلے چائے پی لو۔ بلال صوفے پر بیٹھا اور فرح کچن میں چلی گئیں۔ کچن سے برتنوں کی کھنکھناہٹ آ رہی تھی اور بلال کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار وہی پاؤں کا لمس گھوم رہا تھا۔

چائے لے کر فرح اس کے برابر میں بیٹھ گئیں، اتنے قریب کہ ان کی ران بلال کی ران سے چھو رہی تھی۔ انہوں نے کپ اس کی طرف بڑھایا اور ان کی انگلیاں جان بوجھ کر اس کی انگلیوں سے ٹکرائیں۔ بلال نے کپ پکڑا مگر چائے کی طرف دھیان ہی نہیں گیا۔ اس کی ساری توجہ فرح کے قریب ہوتے جسم پر تھی۔

فرح نے دھیرے سے کہا، دو سال بہت لمبے ہوتے ہیں بلال۔ تمہارے بھائی تو ہر مہینے دس دن دورے پر رہتے ہیں، اور میں اس بڑے گھر میں اکیلی۔ ان کی آواز میں ایک ایسی تنہائی تھی کہ بلال کا دل بھر آیا۔ اس نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور بولا، اب میں آ گیا ہوں بھابھی۔

فرح نے اس کے ہاتھ کو دبایا اور پھر اچانک اس کا ہاتھ اپنی گود میں رکھ لیا۔ ان کی شلوار کے نرم کپڑے کے نیچے سے ان کی ران کی گرمی بلال کی ہتھیلی میں اتر گئی۔ بلال کی سانس تیز ہو گئی اور اس نے محسوس کیا کہ اس کا لنڈ شلوار میں تننے لگا ہے۔ فرح نے یہ دیکھ کر شرارت سے مسکراہٹ دبائی۔

پھر فرح نے وہ کیا جس کا بلال نے خواب بھی نہ دیکھا تھا۔ انہوں نے اپنا ہاتھ اس کی ران پر رکھا اور دھیرے دھیرے اوپر کی طرف سرکایا۔ جب ان کی انگلیاں اس کے تنے ہوئے لنڈ سے ٹکرائیں تو بلال کے منہ سے ایک ہلکی سی آہ نکل گئی۔ فرح نے اس کے کان کے قریب ہو کر سرگوشی کی، دبئی میں یہ بھی مجھے یاد کرتا تھا کیا۔

بلال نے بے اختیار ان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، لیکن اگلے ہی لمحے فرح نے اس کے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا اور بوسہ جنگلی ہو گیا۔ ان کی زبان اس کے منہ میں گھس آئی اور دونوں ایک دوسرے کا ذائقہ چکھنے لگے۔ بلال کے ہاتھ ان کی کمر پر پھسل رہے تھے۔

فرح نے بوسہ توڑے بغیر اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔ ان کی انگلیاں اس کے سینے پر دوڑ رہی تھیں اور بلال کی جلد پر رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ جب قمیض اتری تو فرح نے اس کے سینے پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور اس کے نپل کو زبان سے چھیڑا۔ بلال نے ان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے انہیں اور قریب کھینچ لیا۔

اس کے بعد فرح گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گئیں۔ انہوں نے اس کی شلوار کا ازار بند کھولا اور اس کا تنا ہوا لنڈ باہر نکال لیا۔ دو سال کی پیاس ان کی آنکھوں میں صاف نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے پہلے اس کے لنڈ کے سرے کو ہونٹوں سے چھوا، پھر دھیرے سے چاٹا، اور بلال کے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔

فرح نے اس کے لنڈ کو آہستہ آہستہ اپنے منہ میں لیا۔ ان کی گرم زبان اس کے لنڈ کے گرد گھوم رہی تھی اور ان کا سر آگے پیچھے ہو رہا تھا۔ بلال نے صوفے کی پشت کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اور اس کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں۔ فرح نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور اس نظر نے بلال کو پاگل کر دیا۔

کچھ دیر بعد بلال نے انہیں اٹھایا اور ان کے ہونٹوں پر ایک گہرا بوسہ دیا۔ اب باری اس کی تھی۔ اس نے فرح کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے اور ان کے ممے برا کے اندر سے ابھرے ہوئے دیکھے۔ اس نے برا کا ہک کھولا تو ان کے گورے نرم ممے اس کے سامنے تھے۔ بلال نے ایک ممے کو منہ میں لے لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے دبانے لگا۔

فرح کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ بلال ان کے نپلوں کو چوس رہا تھا، کبھی ہلکے سے کاٹتا اور کبھی زبان سے گھماتا۔ اس کا ایک ہاتھ ان کی شلوار کے اندر سرک چکا تھا اور اس کی انگلیاں ان کی گیلی چوت کو چھو رہی تھیں۔ فرح کی چوت پانی سے تر تھی اور ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔

بلال نے انہیں صوفے پر لٹا دیا اور ان کی شلوار اتار دی۔ ان کی ننگی چوت اس کے سامنے تھی، گیلی اور پھولی ہوئی۔ اس نے اپنا چہرہ ان کی رانوں کے درمیان رکھ دیا اور ان کی چوت کو چاٹنے لگا۔ فرح نے اس کے سر کو اپنی چوت پر دبا لیا اور ان کے منہ سے زور زور سے آہیں نکلنے لگیں۔

بلال کی زبان ان کی چوت کے دانے پر گھوم رہی تھی اور اس کی دو انگلیاں ان کی چوت کے اندر باہر ہو رہی تھیں۔ فرح کا جسم اینٹھنے لگا اور اچانک ان کی کمر اٹھی اور وہ زور سے جھڑ گئیں۔ ان کی چوت سے رس بہہ نکلا جسے بلال نے چاٹ لیا۔ فرح ہانپ رہی تھیں اور ان کی آنکھوں میں نشہ تھا۔

فرح نے بھی اسے چھوڑا نہیں۔ انہوں نے کروٹ بدل کر اس کے لنڈ کو دوبارہ اپنے منہ میں لے لیا جبکہ بلال ان کی چوت چاٹتا رہا۔ دونوں ایک دوسرے کو چوس رہے تھے اور کمرہ ان کی ملی جلی آوازوں سے بھر گیا تھا۔ یہ کھیل دونوں کو پاگل کیے دے رہا تھا۔

پھر فرح نے اسے کھینچ کر اپنے اوپر لٹا لیا۔ اب وہ دونوں ننگے تھے اور ان کے جسم ایک دوسرے سے چپکے ہوئے تھے۔ فرح نے اس کے لنڈ کو پکڑ کر اپنی چوت کے منہ پر رکھا اور سرگوشی کی، اندر ڈالو بلال، اب اور انتظار نہیں ہوتا۔ بلال نے ایک جھٹکے میں اپنا لنڈ ان کی چوت میں اتار دیا۔

فرح کی چوت گرم اور تنگ تھی، اور بلال کا لنڈ اس میں پوری طرح سما گیا۔ دونوں کے منہ سے ایک ساتھ آہ نکلی۔ بلال نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے اور ہر دھکے کے ساتھ فرح کی کمر اٹھنے لگی۔ ان کے ممے ہل رہے تھے اور بلال انہیں چومتے ہوئے چود رہا تھا۔

رفتار بڑھتی گئی اور کمرے میں صرف ان کی سسکیوں اور جسموں کے ٹکرانے کی آواز گونج رہی تھی۔ فرح نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں تاکہ اس کا لنڈ اور گہرائی تک جائے۔ بلال ہر دھکے میں پوری طاقت لگا رہا تھا اور فرح کی چوت اس کے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔

اچانک فرح نے اسے روکا اور خود اس کے اوپر آ گئیں۔ وہ اس کے لنڈ پر سوار ہو گئیں اور ان کی چوت نے اس کے لنڈ کو نگل لیا۔ اب وہ اوپر نیچے ہو رہی تھیں اور ان کے ممے بلال کے چہرے کے سامنے اچھل رہے تھے۔ بلال نے ان کے ممے پکڑ لیے اور نیچے سے دھکے لگانے لگا۔

فرح کی رفتار تیز ہوتی گئی اور وہ جنگلی ہو گئیں۔ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے اور پسینہ ان کے ماتھے پر چمک رہا تھا۔ اچانک ان کا جسم اکڑ گیا اور وہ زور سے چیخ کر اس کے لنڈ پر ہی جھڑ گئیں۔ ان کی چوت نے اس کے لنڈ کو بھینچ لیا اور وہ اس کے سینے پر گر کر ہانپنے لگیں۔

پھر فرح نے کہا، پیچھے سے کرو، مجھے گھوڑی بنا کر چودو۔ وہ گھوڑی بن گئیں اور بلال ان کے پیچھے آ گیا۔ اس نے ان کی کمر پکڑی اور اپنا لنڈ ایک ہی جھٹکے میں ان کی چوت میں ڈال دیا۔ فرح چیخ پڑیں اور بلال نے زور زور سے دھکے لگانے شروع کر دیے۔

بلال ان کے چوتڑوں کو دباتے ہوئے انہیں چود رہا تھا اور فرح ہر دھکے پر آگے پیچھے ہو رہی تھیں۔ ان کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور بلال کا لنڈ پوری طرح گیلا تھا۔ فرح بار بار کہہ رہی تھیں، اور زور سے، اور اندر تک۔ بلال کی رفتار اور بڑھ گئی۔

آخر میں بلال نے محسوس کیا کہ اس کا جوش عروج پر ہے۔ اس نے فرح کو پلٹ کر سیدھا کیا اور ان کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ چند گہرے دھکوں کے بعد وہ ان کی چوت میں ہی جھڑ گیا۔ گرم رس ان کی چوت میں اتر گیا اور دونوں ایک ساتھ کانپ اٹھے۔ فرح نے اسے زور سے گلے لگا لیا۔

کچھ دیر وہ دونوں ایسے ہی لیٹے رہے، پسینے میں بھیگے ہوئے، ایک دوسرے کی دھڑکن سنتے ہوئے۔ فرح نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولیں، دو سال کا انتظار آج ختم ہوا۔ بلال نے مسکرا کر کہا، اور اب میں کہیں نہیں جا رہا۔ ان کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔

رات کے دو بجے فرح نے اسے اپنے بیڈروم میں لے جانے کا اشارہ کیا۔ مہمانوں والا کمرہ خالی پڑا رہ گیا اور بلال فرح کے بستر پر ان کی بانہوں میں سو گیا۔ سونے سے پہلے فرح نے اس کے کان میں سرگوشی کی، صبح تمہارے بھائی کی فلائٹ دوپہر کو لینڈ ہوگی، اس سے پہلے ایک بار اور۔

🔒 Bonus Scene locked

اگلی صبح بھائی کی فلائٹ لینڈ ہونے سے پہلے فرح نے بلال کو کچن میں روک لیا۔ اندر کیا ہوا، جاننے کے لیے شیئر کر کے انلاک کریں۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو بھابھی سیکس: دیور کی واپسی” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views