اردو گرم کہانی: شبنم کی بے چین رات
رات کے گیارہ بجے شبنم نے اوپر والے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور بولی، تم یہ غزل بند کرو گے یا میں نیچے سے ہی چلّا کر تمہاری نیند خراب کروں؟ دروازہ کھلا تو دانیال مسکرا رہا تھا، ہاتھ میں قلم اور کرتے کی آستین پر سیاہی کا دھبہ۔ محلے کی عورتیں بعد میں اس رات کو ایک اردو گرم کہانی کہہ کر سنائیں گی، مگر اس وقت شبنم کو صرف یہ معلوم تھا کہ اوپر سے آتی غزل کی آواز اس کی نیند چرا رہی ہے اور اس آدمی کی مسکراہٹ اس کے دل کی دھڑکن چرا رہی ہے۔
تمہاری نیند خراب ہوئی، اس کے لیے معافی، دانیال نے کہا، مگر اس غزل کا آخری مصرعہ ابھی باقی ہے اور مصرعے رات کو ہی پورے ہوتے ہیں۔ شبنم نے اس کے کمرے میں جھانکا۔ میز پر کاغذ بکھرے تھے، روشنائی کی شیشی کھلی تھی، اور ایک کاغذ پر اس کا نام لکھا تھا۔ شبنم۔ اس نے کاغذ کی طرف دیکھا اور دانیال نے جلدی سے اسے پلٹ دیا، مگر شبنم کی آنکھوں میں شرارت آ گئی۔ تم میرے نام کی مشق کر رہے تھے؟
تمہارا نام لکھنا آسان نہیں، دانیال نے آہستہ کہا۔ شین میں جو خم ہے، وہ کسی اور لفظ میں نہیں آتا۔ شبنم ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی میں وہ تھکن نہیں تھی جو دن بھر بوتیک میں گاہکوں سے بات کرتے ہوئے آتی ہے۔ اس کے بال ابھی گیلے تھے، نہا کر وہ صرف ایک ہلکی سی شلوار قمیض پہنے اوپر آئی تھی، اور دوپٹہ اس کے کندھے سے سرک رہا تھا۔ دانیال کی نظر اس کے کندھے پر رکی، پھر اس نے نظر جھکا لی، مگر شبنم نے وہ رکنا دیکھ لیا تھا۔
چائے پیو گی؟ دانیال نے پوچھا۔ شبنم نے کہا، صرف پانچ منٹ۔ وہ اس کے کمرے میں بیٹھ گئی۔ چھوٹا سا کمرہ تھا، مگر صاف ستھرا۔ کھڑکی سے لکھنؤ کی پرانی گلیوں کی ہوا آ رہی تھی، نیچے کہیں دور سے رکشے کی آواز آئی، اور کمرے میں صرف کیٹلی کی سیٹی اور ان دونوں کی سانسیں تھیں۔ دانیال نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا اور ان کی انگلیاں چھو گئیں۔ شبنم نے ہاتھ پیچھے نہیں کھینچا۔
تمہارے شوہر کب آ رہے ہیں؟ دانیال نے پوچھا، اور پھر فورا بولا، معاف کرنا، یہ میرا سوال نہیں تھا۔ شبنم نے کپ میز پر رکھا۔ دو سال سے دبئی میں ہیں، اس نے کہا۔ شروع میں ہر ہفتے فون آتا تھا، اب مہینے میں ایک بار۔ وہ پیسے بھیجتے ہیں، مگر پیسے سے گھر نہیں چلتا، گھر تو آواز سے چلتا ہے۔ اس کی آواز میں شکایت نہیں تھی، صرف ایک سچائی تھی جسے وہ پہلی بار کسی کے سامنے بول رہی تھی۔ دانیال نے کچھ نہیں کہا، صرف اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
اس کا ہاتھ گرم تھا، اور شبنم کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ وہ اٹھ کر جانے لگی، مگر دانیال نے اس کا ہاتھ تھامے رکھا۔ شبنم، اس نے کہا، تم نیچے جاؤ گی تو پھر یہ رات ویسے ہی گزر جائے گی جیسے پچھلی سو راتیں گزری ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ رات بھی ویسے ہی گزرے۔ شبنم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ان آنکھوں میں وہی بے چینی تھی جو اس کے اپنے اندر تھی، دو سال سے دبی ہوئی، اب اچانک جاگ اٹھی تھی۔
اس نے آہستہ سے کہا، دروازہ بند کر دو۔ دانیال نے دروازہ بند کیا اور اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ شبنم نے اس کے کرتے کا بٹن کھولا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ اس کی چھاتی پر ہلکے بال تھے اور پسینے کی ہلکی سی خوشبو۔ دانیال نے اس کی قمیض کے اوپر سے ہی اس کے سینے کو چھوا اور شبنم نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا جسم دو سال سے کسی مرد کے ہاتھ کا انتظار کر رہا تھا، اور اب جب وہ ہاتھ اسے چھو رہا تھا تو اس کی سانس تیز ہو گئی۔
دانیال نے اس کی قمیض اتاری اور اس کی برا کا ہک کھولا۔ اس کے ممے آزاد ہوئے تو دانیال نے انہیں دونوں ہاتھوں میں لیا اور آہستہ سے دبایا۔ شبنم کے منہ سے ایک ہلکی سی آہ نکلی۔ دانیال نے اس کے ایک ممے کو منہ میں لیا اور اس کی نپل کو زبان سے چھیڑا، پھر دوسرے کو۔ شبنم نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اس کا سر اپنے سینے پر دبا لیا۔ اس کی چوت گیلی ہو رہی تھی، شلوار کے اندر سے ہی اسے اپنی گیلی پن محسوس ہو رہی تھی۔
شبنم نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور اس کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ سخت اور گرم تھا، اور اس کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ شبنم نے اسے ہاتھ میں لیا اور آہستہ سے ہلایا۔ دانیال نے اس کی شلوار بھی اتار دی اور اس کی چوت پر ہاتھ رکھا۔ اس کی چوت پوری گیلی تھی، اور دانیال کی انگلیاں اس کی گیلی میں ڈوب گئیں۔ اس نے ایک انگلی اندر ڈالی اور شبنم نے اس کے کندھے کو دانتوں سے کاٹ لیا۔
دانیال نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں کھولیں۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دباؤ ڈالا۔ شبنم نے اس کی کمر کو پکڑ لیا اور بولی، آہستہ مت کرو، اب آہستہ کی ضرورت نہیں۔ دانیال نے ایک جھٹکے میں اپنا لنڈ اس کی چوت میں اتار دیا۔ شبنم کی چیخ اس کے گلے میں ہی رہ گئی اور اس نے دانیال کو اپنے اوپر کھینچ لیا۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو چاروں طرف سے جکڑ لیا تھا۔
دانیال نے دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ہر دھکے کے ساتھ شبنم کی آہیں بلند ہوتی گئیں۔ اس کے ممے ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے اور دانیال ان پر جھک کر انہیں چوم رہا تھا۔ شبنم نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور اسے اور گہرائی میں لینے لگی۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور بستر کی چادر گیلی ہو رہی تھی۔ دانیال کی رفتار بڑھتی گئی اور شبنم کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔
شبنم نے اسے پلٹ دیا اور اس کے اوپر آ گئی۔ اب وہ اوپر تھی، اور اس نے اپنی مرضی سے رفتار طے کی۔ وہ اس کے لنڈ پر آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہو رہی تھی، کبھی گہرائی تک بیٹھتی، کبھی صرف سرے پر۔ دانیال نے اس کی کمر کو تھاما اور اس کے مموں کو نیچے سے چوما۔ شبنم کی آنکھیں بند تھیں اور اس کے چہرے پر وہ خوشی تھی جو دو سال سے اس سے چھینی گئی تھی۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو نچوڑنا شروع کر دیا اور اس کے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی۔
میں جھڑنے والی ہوں، شبنم نے ہانپتے ہوئے کہا۔ دانیال نے اسے پکڑ کر پھر نیچے لٹایا اور تیزی سے دھکے لگانے لگا۔ چند ہی دھکوں میں شبنم کا جسم اکڑ گیا، اس کی چوت نے زور سے سکڑ کر اس کے لنڈ کو جکڑ لیا، اور وہ چیخ کے ساتھ جھڑ گئی۔ اس کا پانی بہہ نکلا اور دانیال نے بھی چند تیز دھکوں کے بعد اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔ دونوں پسینے میں بھیگے ایک دوسرے سے لپٹے رہے، اور کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی۔
کچھ دیر بعد شبنم نے کہا، چائے تو ٹھنڈی ہو گئی۔ دانیال ہنسا اور بولا، چائے پھر بن جائے گی، یہ رات پھر نہیں بنے گی۔ وہ دونوں چھت پر گئے اور شبنم نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ نیچے گلی میں ایک کتا بھونکا، دور کہیں سے اذان کی آواز آئی، اور شبنم نے محسوس کیا کہ اس کے اندر جو خالی پن تھا، وہ آج رات پہلی بار بھرا ہے۔ دانیال نے اس کا ہاتھ تھاما اور بولا، کل پھر غزل لکھوں گا، مگر اب اس میں تمہارا نام نہیں چھپاؤں گا۔
صبح کے قریب جب شبنم نیچے جانے لگی تو دانیال نے اسے روک لیا۔ اس نے اس کی قمیض پھر اتاری اور اسے دیوار سے لگا کر اس کی چوت کو زبان سے چاٹا۔ شبنم نے اس کے سر کو پکڑ لیا اور اس کی زبان کی ہر حرکت پر اس کا جسم کانپنے لگا۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور دانیال اسے پی رہا تھا۔ جب شبنم دوسری بار جھڑی تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور وہ دانیال کے سہارے ہی کھڑی رہ سکی۔
پھر دانیال نے اسے پیچھے سے لیا، اس کی کمر کو جھکا کر، اس کے بالوں کو پکڑ کر۔ اس کا لنڈ اس کی چوت میں پیچھے سے گہرائی تک جا رہا تھا اور شبنم ہر دھکے پر آگے جھک رہی تھی۔ دانیال نے اس کے مموں کو پیچھے سے پکڑا اور دباتے ہوئے دھکے لگائے۔ شبنم کی آہیں اب بے قابو تھیں اور اس نے دانیال کا نام لے کر اسے اور تیز کرنے کو کہا۔ دانیال نے آخری چند زوردار دھکوں کے ساتھ اپنا پانی پھر اس کی چوت میں چھوڑا اور دونوں بستر پر گر پڑے۔
شبنم نیچے اپنے کمرے میں آئی تو اس نے دانیال کی لکھی غزل کا کاغذ اپنی بوتیک کے دراز میں رکھ دیا۔ اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نیند کی کمی تھی، مگر اس کے چہرے پر ایک چمک تھی جو دو سال سے غائب تھی۔ نیچے بوتیک کا شٹر اٹھانے کا وقت ہو گیا تھا، اور شبنم نے مسکراتے ہوئے شٹر اٹھایا۔ اوپر سے پھر غزل کی آواز آئی، مگر اس بار آواز دھیمی تھی، جیسے دانیال بھی جانتا ہو کہ اب اس کی غزل سننے والی نیچے ہی ہے۔
شام کو جب بوتیک بند ہوئی تو شبنم نے اوپر جانے سے پہلے اپنے بال سنوارے اور ایک ہلکی سی خوشبو لگائی۔ دانیال دروازے پر اس کا انتظار کر رہا تھا، ہاتھ میں ایک نیا کاغذ۔ اس نے کاغذ اس کی طرف بڑھایا اور شبنم نے اسے پڑھے بغیر ہی اپنے سینے سے لگا لیا۔ دانیال نے اسے اندر کھینچا اور دروازہ بند کر دیا، اور شبنم جانتی تھی کہ آج کی رات بھی کل کی رات جیسی ہی لمبی اور گیلی ہونے والی ہے۔
اگلی شام بوتیک بند ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے دانیال نیچے آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا اور اس کی آنکھوں میں وہی شرارت تھی جو کل رات تھی۔ شبنم نے آخری گاہک کو رخصت کیا اور شٹر آدھا گرا دیا۔ تم پھر آ گئے، اس نے کہا، اور دانیال نے کاغذ اس کی طرف بڑھایا۔ اس پر ایک غزل لکھی تھی، اور اس غزل کا ہر شعر شبنم کے نام پر ختم ہوتا تھا۔
شبنم نے کاغذ پڑھا اور اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے دانیال کو بوتیک کے پچھلے کمرے میں کھینچا، جہاں کپڑوں کے تھان رکھے تھے۔ وہاں اندھیرا تھا اور کپڑوں کی خوشبو تھی۔ دانیال نے اسے تھانوں کے درمیان دیوار سے لگایا اور اس کی قمیض کے بٹن کھولنے لگا۔ شبنم نے اس کے ہاتھ روک کر خود اپنی قمیض اتاری۔ میں آج خود کروں گی، اس نے کہا۔
دانیال نے اس کے مموں کو چوما اور اس کی نپل کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا۔ شبنم نے اس کی شلوار کھولی اور اس کا لنڈ ہاتھ میں لیا۔ وہ پھر سخت ہو چکا تھا۔ شبنم نے اسے منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگی۔ اس کی زبان اس کے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی اور دانیال نے اس کے بال پکڑ لیے۔ شبنم کی آنکھوں میں شرارت تھی اور وہ جانتی تھی کہ دانیال اب زیادہ دیر نہیں ٹکے گا۔
پھر شبنم نے اپنی شلوار اتاری اور ایک تھان پر بیٹھ گئی۔ اس نے ٹانگیں کھولیں اور دانیال کو اپنے پاس بلایا۔ دانیال نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا اور دھکے لگانے لگا۔ تھان ہر دھکے کے ساتھ ہل رہا تھا اور کپڑوں کی خوشبو میں ان کی سانسیں گھل رہی تھیں۔ شبنم نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اور گہرائی میں کھینچا۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی اور ہر دھکے پر اس سے آواز آ رہی تھی۔
دانیال نے اسے اٹھا کر دیوار سے لگایا اور اس کی ٹانگیں اپنی کمر پر رکھیں۔ اس حالت میں اس کا لنڈ اس کی چوت میں اور بھی گہرائی تک جا رہا تھا۔ شبنم نے اس کے کندھے پر سر رکھا اور اس کے کان میں بولی، اور تیز، دانیال، اور تیز۔ دانیال نے اپنی رفتار بڑھا دی اور چند ہی دیر میں شبنم کا جسم اکڑ گیا۔ وہ زور سے جھڑی اور اس کا پانی دانیال کے لنڈ پر بہہ گیا۔ دانیال نے بھی اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑا اور دونوں تھانوں پر ہی بیٹھ گئے۔
کچھ دیر بعد شبنم نے کاغذ اٹھایا اور اسے اپنے سینے سے لگایا۔ یہ غزل میں اپنی بوتیک میں رکھوں گی، اس نے کہا، تاکہ جب بھی میں اسے دیکھوں، مجھے یہ شام یاد آئے۔ دانیال نے مسکرا کر کہا، غزلیں تو اب روز لکھوں گا، تم بس شٹر وقت پر گراتی رہنا۔
Readers who enjoyed “اردو گرم کہانی: شبنم کی بے چین رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔