Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو ٹیچر سیکس کہانی: استانی کا راز (پارٹ 2)

N
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

رات کے دس بجے عائشہ کے فون نے ہلکی سی آواز کے ساتھ وائبریٹ کیا اور اسکرین پر پھر وہی انجان نمبر چمک اٹھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے میسج کھولا تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ لکھا تھا، کل شام تک پانچ ہزار روپے نہیں ملے تو یہ تصویر پرنسپل کے کمرے میں پہنچ جائے گی۔ اسے لگا جیسے اس کی یہ اردو ٹیچر سیکس کہانی اب پورے کالج میں پھیل جائے گی اور اس کی عزت مٹی میں مل جائے گی۔

تصویر وہی تھی جس نے پچھلے ہفتے اس کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ خالی کلاس روم میں عمران کے ساتھ اس کا وہ لمحہ، جو کسی نے چھپ کر کھینچ لیا تھا۔ عائشہ نے فون سینے سے لگا لیا اور دیر تک اندھیرے کمرے میں بیٹھی رہی۔ اس کے شوہر دلی میں تھے، گھر خالی تھا، اور اس کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ اسے اپنی ہی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔

اس نے عمران کو کال کی۔ پہلی ہی بیل پر اس نے اٹھا لیا، جیسے وہ بھی جاگ رہا ہو۔ عائشہ نے دھیمی آواز میں سارا میسج پڑھ کر سنایا اور عمران کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے کہا، گھبراؤ نہیں، کل شام لائبریری میں ملو، ہم اس نمبر والے کا پتہ لگائیں گے۔ اس کی آواز میں وہی ٹھہراؤ تھا جس نے پہلے دن سے عائشہ کو کھینچا تھا۔

اگلی شام کالج ختم ہونے کے بعد عائشہ لائبریری کی طرف گئی۔ راہداری خالی تھی اور شام کی دھوپ کھڑکیوں سے اندر آ رہی تھی۔ عمران پرانی کتابوں والی قطار کے پاس کھڑا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی ڈائری تھی۔ اس نے عائشہ کو دیکھ کر مسکرایا اور بولا، میں نے نمبر کے بارے میں پتہ کر لیا ہے، یہ نمبر کالج کے قریب کی دکان سے لیا گیا پری پیڈ ہے، مگر بھیجنے والا کوئی اپنا ہی ہے۔

عائشہ نے پوچھا، اپنا کون۔ عمران نے کہا، جو بھی ہے، وہ کل شام پرانی لائبریری کے پیچھے پیسے لینے آئے گا، اور ہم وہاں پہلے سے موجود ہوں گے۔ عائشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی، اگر وہ تصویر پرنسپل تک پہنچ گئی تو میری نوکری، میری عزت، سب ختم ہو جائے گا۔ عمران نے اس کے ہاتھ کو دبایا اور کہا، تصویر وہیں ختم ہو گی جہاں سے شروع ہوئی تھی، میں وعدہ کرتا ہوں۔

وہ دونوں لائبریری کی میز پر بیٹھ گئے۔ عمران نے غزل کی کتاب کھولی اور دھیمی آواز میں ایک شعر پڑھا۔ عائشہ نے اس کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں میں وہی شرارت دیکھی جو پہلی بار کلاس روم میں دیکھی تھی۔ اس نے کہا، تمہیں ڈر نہیں لگتا۔ عمران نے جواب دیا، ڈر لگتا ہے، مگر تمہارے ساتھ ہر ڈر چھوٹا لگتا ہے۔ عائشہ ہنس پڑی اور اس کی ہنسی لائبریری کی خاموشی میں گونج گئی۔

اگلی شام وہ دونوں وقت سے پہلے پرانی لائبریری کے پیچھے پہنچ گئے۔ وہاں نیم اندھیرا تھا اور درختوں کی شاخیں ہوا میں ہل رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد قدموں کی آواز آئی اور کالج کا چپڑاسی رفیق سامنے آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں وہی فون تھا اور اس کے چہرے پر لالچ اور گھبراہٹ دونوں تھیں۔ عائشہ نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے جو شام کو کلاس روموں کی صفائی کرتا تھا۔

عمران نے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑ لیا اور سختی سے پوچھا، تصویر کس نے کھینچی۔ رفیق نے پہلے انکار کیا، پھر ٹوٹ گیا۔ اس نے بتایا کہ ایک شام اس نے وینٹی لیٹر سے جھانک کر دونوں کو دیکھ لیا تھا اور لالچ میں آ کر تصویر کھینچ لی تھی۔ عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اس کی آواز مضبوط تھی۔ اس نے کہا، تصویر ابھی اسی وقت میرے سامنے ڈیلیٹ کرو۔

رفیق نے کانپتے ہاتھوں سے فون نکالا اور تصویر ڈیلیٹ کر دی۔ عمران نے اس کا فون لے کر گیلری بھی چیک کی اور میسج بھی صاف کر دیے۔ رفیق نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہا، میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا، مجھے معاف کر دیں۔ عمران نے اسے چھوڑ دیا اور رفیق اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ عائشہ نے لمبی سانس لی اور پہلی بار کئی دنوں بعد اس کے کندھوں سے بوجھ اترا۔

رفیق کے جانے کے بعد عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ عمران نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، اب سب ختم ہو گیا، تصویر بھی گئی اور ڈر بھی گیا۔ عائشہ نے اس کی شرٹ کو مٹھی میں پکڑ لیا اور بولی، تم نہ ہوتے تو میں یہ بوجھ اکیلی کیسے اٹھاتی۔ عمران نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، تم کبھی اکیلی نہیں ہو گی، یہ میرا وعدہ ہے۔

وہ دونوں واپس لائبریری آئے اور دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ عائشہ نے عمران کی طرف دیکھا اور بولی، آج مجھے لگا تھا سب ختم ہو گیا، مگر تم نے سب بچا لیا۔ عمران نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور کہا، تم میری ذمہ داری ہو، میں تمہیں کسی طوفان میں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ عائشہ نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور دونوں کے درمیان کئی دنوں کی دبی ہوئی پیاس پھٹ پڑی۔

عمران نے اسے میز کے سہارے کھڑا کیا اور اس کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولنے لگا۔ عائشہ نے اس کی شرٹ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کے سینے پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ اس کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے عمران کے کان میں سرگوشی کی، آج رکو مت، آج مجھے پورا چاہیے۔ عمران نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے جسم کو اپنے قریب کر لیا۔

عائشہ نے اس کی بیلٹ کھولی اور اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ وہ گرم اور سخت تھا اور اس کے چھونے سے عمران کے منہ سے ہلکی سی آہ نکلی۔ عائشہ نے اسے دھیرے دھیرے سہلایا اور پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ عمران نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال دیا اور اس کی زبان کی ہر حرکت پر اس کا جسم کانپنے لگا۔ عائشہ نے اسے چوسا، چاٹا اور اپنے ہونٹوں سے اسے پورا گھیر لیا۔

عمران نے اسے اٹھایا اور اس کی شلوار اتار دی۔ اس نے اس کی چوت پر ہاتھ رکھا تو وہ گیلی تھی اور اس کی انگلیوں کے لمس سے عائشہ کی ٹانگیں کانپ گئیں۔ اس نے اپنی انگلی اندر ڈالی اور عائشہ نے اس کے کندھے پر دانت گاڑ دیے۔ عمران نے انگلی کو آہستہ آہستہ اندر باہر کیا اور عائشہ کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں۔ اس نے کہا، بس، اب اور انتظار نہیں ہوتا۔

عمران نے اسے میز پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور دھیرے سے اندر دھکیلا۔ عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کے ہونٹوں سے ایک لمبی آہ نکلی۔ عمران نے پہلے آہستہ دھکے لگائے، پھر رفتار بڑھا دی۔ میز ہلنے لگی اور دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں گھلنے لگیں۔

عائشہ نے اس کی کمر کو اپنے پیروں سے جکڑ لیا اور ہر دھکے پر اس کا جسم اوپر اٹھنے لگا۔ اس نے کہا، اور زور سے، مجھے تمہارا پورا زور چاہیے۔ عمران نے اس کی یہ بات سن کر رفتار اور بڑھا دی اور اس کی چوت سے گیلی آوازیں آنے لگیں۔ عائشہ نے اس کے سینے پر ناخن گاڑ دیے اور اس کا جسم اکڑنے لگا۔ اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا اور وہ جھڑ گئی۔

عمران نے رکا نہیں۔ اس نے عائشہ کو اٹھا کر دیوار کے سہارے کھڑا کر دیا اور پیچھے سے اس کی چوت میں پھر داخل ہو گیا۔ اس نے اس کے بال پکڑ لیے اور اس کی گردن پر بوسے دیتے ہوئے زور زور سے دھکے لگائے۔ عائشہ نے دیوار پر ہاتھ ٹیک دیے اور اس کی آوازیں لائبریری میں گونجنے لگیں۔ اس کے بوبز ہر دھکے پر ہل رہے تھے اور عمران نے ایک ہاتھ سے اس کا بوب دبایا۔

کچھ دیر بعد عمران نے اسے گھمایا اور اسے کرسی پر بٹھا دیا۔ عائشہ اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کا لنڈ اپنی چوت میں لے لیا۔ وہ اوپر نیچے ہونے لگی اور اس کی رفتار کے ساتھ عمران کی سانسیں بھی تیز ہو گئیں۔ عائشہ نے اس کے ہونٹ چومے اور اس کی زبان کو اپنے منہ میں لے لیا۔ دونوں کے جسم پسینے سے بھیگ گئے اور ان کی حرکت ایک تال میں بندھ گئی۔

عائشہ نے رفتار اور بڑھا دی اور اس کی چوت سے پانی نکلنے لگا۔ اس نے عمران کا نام لے کر چیخ ماری اور دوسری بار جھڑ گئی۔ عمران نے اسے زور سے پکڑ لیا اور چند گہرے دھکوں کے بعد اس کا پانی بھی اس کی چوت کے اندر نکل گیا۔ دونوں کچھ دیر اسی حالت میں بیٹھے رہے، ایک دوسرے کی سانسیں سنتے ہوئے۔

پھر عائشہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولی، آج کے بعد کالج میں یہ سب نہیں ہو گا۔ عمران نے مسکرا کر کہا، کالج میں نہیں، مگر کہیں اور ضرور ہو گا۔ عائشہ نے اس کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو پہلی ملاقات میں تھی۔ اس نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور عمران نے اس کی قمیض کے بٹن بند کرنے میں مدد کی۔

وہ دونوں لائبریری سے نکلے اور کالج کے گیٹ کی طرف چل پڑے۔ شام کی اذان کی آواز دور سے آ رہی تھی اور ہوا میں مٹی کی خوشبو تھی۔ گیٹ پر پہنچ کر عائشہ نے عمران کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور بولی، کل پھر اسی وقت، اسی جگہ، مگر اب ڈر کے بغیر۔ عمران نے اس کا ہاتھ دبایا اور دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔

🔒 Bonus Scene locked

اس رات عائشہ کے گھر میں ایک ایسا لمحہ آیا جس کا ذکر وہ کبھی کسی سے نہیں کرے گی۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو ٹیچر سیکس کہانی: استانی کا راز (پارٹ 2)” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views