اردو ولگر کہانیاں: عائشہ اور عمران کی اسٹوڈیو والی رات
"تم اردو ولگر کہانیاں پڑھ کر آئی ہو کیا، جو آج اتنی بے چین لگ رہی ہو؟" عمران نے مائیک کے سامنے سے مسکرا کر کہا، اور عائشہ کی سانس ایک لمحے کو اٹک گئی۔ ریکارڈنگ اسٹوڈیو کی سبز روشنی میں اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، مگر اس نے نظریں نہیں جھکائیں۔ "میری بے چینی تمہاری آواز کی وجہ سے ہے، کہانی کی وجہ سے نہیں،" اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا، اور عمران کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
عائشہ تیس سال کی تھی، دہلی کے ایک اردو رسالے میں ایڈیٹر، اور اس ہفتے اس کی لکھی ہوئی کہانی کی آڈیو ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ عمران تینتیس سال کا وائس آرٹسٹ تھا، جس کی آواز میں ایک عجیب سی گرمی تھی، ایسی گرمی جو سیدھی ریڑھ کی ہڈی میں اتر جاتی تھی۔ وہ تین دن سے اسٹوڈیو میں مل رہے تھے، اور ہر ملاقات میں ان کے درمیان کچھ نہ کچھ بجلی سا دوڑ جاتا تھا۔
ریکارڈنگ کے دوران عمران نے ایک جملہ کچھ زیادہ ہی آہستہ، کچھ زیادہ ہی قریب سے بولا، جیسے وہ جملہ عائشہ کے کان میں کہہ رہا ہو۔ عائشہ نے ہیڈ فون اتارے اور شیشے کے اس پار اسے گھورا۔ "یہ لائن ایسے نہیں تھی،" اس نے کہا۔ "یہ لائن بالکل ایسی ہی تھی، تم نے ہی لکھی ہے،" عمران نے جواب دیا، اور دونوں ہنس پڑے۔ انجینئر نے وقفے کا اعلان کیا تو اسٹوڈیو میں صرف وہ دونوں رہ گئے۔
گرین روم میں عمران نے دو کپ چائے منگوائی۔ "تمہاری کہانیوں کی ہیروئن ہمیشہ اتنی بے باک کیوں ہوتی ہے؟" اس نے پوچھا۔ عائشہ نے کپ ہونٹوں سے لگایا اور بولی، "کیونکہ میں خود بے باک ہونا چاہتی ہوں، مگر موقع نہیں ملتا۔" یہ جملہ کہتے ہی اسے احساس ہوا کہ اس نے کچھ زیادہ ہی کہہ دیا ہے، مگر عمران کی آنکھوں میں جو چمک آئی، اس نے اسے روکا نہیں۔
عمران نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما۔ اس کے انگلیوں کی گرمی عائشہ کی کلائی تک پہنچی۔ "تو آج موقع لے لو،" اس نے کہا۔ عائشہ نے اپنا ہاتھ نہیں چھڑایا۔ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور بولی، "تم بہت خطرناک آدمی ہو، عمران۔" عمران نے ہنس کر کہا، "خطرناک تو تم ہو، جو ایسی کہانیاں لکھتی ہو اور پھر معصوم بن جاتی ہو۔"
ریکارڈنگ ختم ہونے کے بعد عمران نے اسے اپنے فلیٹ تک چھوڑنے کی پیشکش کی، مگر عائشہ نے الٹا اسے اپنے فلیٹ کی چائے کی دعوت دے دی۔ راستے میں گاڑی میں خاموشی تھی، مگر وہ خاموشی بوجھل نہیں تھی، وہ خاموشی توقع سے بھری ہوئی تھی۔ فلیٹ پہنچ کر عائشہ نے دروازہ کھولا اور عمران اندر آیا، تو اس نے دروازہ بند کرتے ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دیوار سے لگا دیا۔
"یہ تم نے شروع کیا ہے،" عمران نے اس کے کان میں کہا۔ "ہاں، میں نے شروع کیا ہے، اور میں ہی ختم کروں گی،" عائشہ نے جواب دیا، اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ دھیما تھا، محتاط تھا، مگر دوسرا بوسہ بھوکا تھا۔ عمران نے اس کی کمر کو اپنی طرف کھینچا اور عائشہ نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔
عائشہ کی انگلیاں عمران کے سینے پر پھر رہی تھیں، اور اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ عمران نے اس کی قمیض کے اوپر سے ہی اس کے سینے کو دبایا تو عائشہ کے منہ سے ایک ہلکی سی آہ نکلی۔ "آہستہ،" اس نے کہا، مگر اس کی آواز میں روکنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ عمران نے اس کی قمیض اتاری اور اس کے برا کے اوپر سے اس کے نپلوں کو چوما، پہلے ایک کو، پھر دوسرے کو، اور عائشہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں۔
برا بھی اتر گیا تو عمران نے اس کے ننگے سینے کو دونوں ہاتھوں میں لیا اور دباتے ہوئے چومنے لگا۔ عائشہ کی کمر کمان کی طرح مڑ گئی۔ اس نے عمران کی پینٹ کی زپ کھولی اور اس کا لنڈ ہاتھ میں لیا، سخت، گرم، اور اس کی مٹھی میں دھڑک رہا تھا۔ "یہ تو تمہاری آواز سے بھی زیادہ گرم ہے،" اس نے ہنس کر کہا، اور عمران نے اسے اٹھا کر صوفے پر لٹا دیا۔
صوفے پر عمران نے اس کی شلوار اتاری اور اس کی چوت کو دیکھا، گیلی، پھولی ہوئی، اس کی بے چینی کی گواہی دیتی ہوئی۔ اس نے اپنی زبان اس کی چوت پر رکھی اور آہستہ آہستہ چاٹنے لگا۔ عائشہ نے صوفے کی گدی کو مٹھی میں بھینچ لیا اور اس کی ٹانگیں خود بخود کھل گئیں۔ عمران کی زبان اندر تک جا رہی تھی، اور عائشہ کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔
"بس، اب اور نہیں،" عائشہ نے ہانپتے ہوئے کہا، "اب اندر آؤ۔" عمران نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دھکیلا۔ پہلا جھٹکا دھیما تھا، مگر عائشہ کی چوت نے اسے پورا نگل لیا۔ پھر عمران نے رفتار بڑھائی، ہر دھکے کے ساتھ عائشہ کی آہیں تیز ہوتی گئیں۔ اس کے ہاتھ عمران کی پیٹھ پر ناخن گاڑ رہے تھے، اور اس کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹی ہوئی تھیں۔
جب عائشہ کا جسم کانپا اور اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو بھینچا تو اس کی چیخ صوفے کی گدی میں دب گئی۔ عمران نے چند اور زوردار جھٹکے لگائے اور اپنا پانی اس کے اندر ہی چھوڑ دیا۔ دونوں پسینے میں بھیگے، ایک دوسرے سے لپٹے، دیر تک صوفے پر پڑے رہے۔ "یہ ریکارڈنگ تو میں کبھی نہیں بھولوں گا،" عمران نے کہا، اور عائشہ نے اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔
اگلی صبح عائشہ نے اسٹوڈیو میں عمران کو دیکھا تو دونوں کی نظریں ملیں اور دونوں مسکرا دیے۔ ریکارڈنگ کے دوران عمران نے ایک لائن کچھ زیادہ ہی جذبات سے بولی تو عائشہ نے مائیک پر ہی کہہ دیا، "یہ لائن کل رات والی لگ رہی ہے۔" انجینئر نے حیرت سے دیکھا، مگر عمران نے صرف آنکھ ماری۔ اس دن کے بعد ان کی ملاقاتیں معمول بن گئیں، کبھی اسٹوڈیو کے گرین روم میں، کبھی عائشہ کے فلیٹ کی چھت پر۔
ایک شام چھت پر چاندنی میں عمران نے عائشہ کو دیوار سے لگا کر اس کی ساڑی کا پلو ہٹایا۔ چاند کی روشنی میں اس کا سینہ چمک رہا تھا۔ عمران نے اس کے بلاؤز کے اوپر سے ہی اس کے سینے کو چوما اور عائشہ نے اس کی گردن پر دانت گاڑ دیے۔ اس رات چھت پر ہی، ستاروں کے نیچے، عمران نے اسے پیچھے سے لیا، اس کی ساڑی کمر تک اٹھا کر، اور عائشہ نے دیوار کو تھام کر ہر جھٹکے کا جواب اپنی کمر ہلا کر دیا۔
عائشہ کی آہیں چھت کی خاموشی میں گونج رہی تھیں، اور جب وہ جھڑی تو اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ عمران نے اسے گود میں اٹھا لیا اور کرسی پر بٹھا کر پھر سے اس کے اندر آیا، اس بار آمنے سامنے، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔ اس رات دونوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ یہ سلسلہ رکے گا نہیں، چاہے ریکارڈنگ ختم ہو جائے۔
اگلے ہفتے کے آخر میں عمران نے عائشہ کو اپنے فلیٹ بلایا، اور اس بار اس نے دروازے پر ہی اسے بانہوں میں بھر لیا۔ باتھ روم میں شاور کے نیچے گرم پانی گرتا رہا اور عمران نے عائشہ کی گیلی جلد پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے دیوار سے لگا دیا۔ پانی کی دھار میں اس کے سینے چمک رہے تھے، اور عمران نے ایک ایک کر کے دونوں کو منہ میں لے کر چوسا، جب تک عائشہ کی ٹانگیں کانپنے نہ لگیں۔
شاور کے نیچے ہی عمران نے اسے اٹھا کر اپنی کمر سے لگایا اور اپنا لنڈ اس کی چوت میں اتار دیا۔ پانی، پسینہ اور ان کی آہیں سب ایک ہو گئے۔ عائشہ نے اس کی گردن کو دانتوں سے کاٹا اور عمران نے ہر جھٹکے کے ساتھ اسے اوپر اچھالا۔ جب وہ دونوں ایک ساتھ جھڑے تو شاور کی آواز میں ان کی چیخیں دب گئیں، اور وہ گیلی ٹائلوں پر ایک دوسرے سے لپٹے بیٹھ گئے۔
اگلی صبح ناشتے کی میز پر عمران نے عائشہ سے کہا، "تمہاری اگلی کہانی کی ہیروئن کا نام کیا ہوگا؟" عائشہ نے ہنس کر کہا، "عائشہ ہی رہے گا، کیونکہ اب یہ کہانی میری اپنی ہے۔" عمران نے اس کا ہاتھ چوما اور بولا، "تو پھر اس کہانی کا ہر حصہ میں تمہارے ساتھ لکھوں گا، آواز کے ساتھ، اور کبھی کبھی بغیر آواز کے بھی۔" دونوں ہنس پڑے، اور اس ہنسی میں اگلی رات کا وعدہ چھپا ہوا تھا۔
اس شام عائشہ نے اپنے رسالے کے لیے ایک نیا صفحہ لکھا، جس میں ہیروئن کی آواز بالکل عمران جیسی تھی، اور ہر سطر میں ان کی راتوں کی گرمی چھپی ہوئی تھی۔ اس نے مسکرا کر وہ صفحہ محفوظ کیا، جانتے ہوئے کہ اگلی ریکارڈنگ میں یہ سطریں پھر سے زندہ ہو جائیں گی۔
ریکارڈنگ کے آخری دن اسٹوڈیو میں سب نے تالیاں بجائیں، مگر عائشہ اور عمران کی تالیاں سب سے آہستہ تھیں، کیونکہ ان کے ذہن میں اگلی رات کا منصوبہ چل رہا تھا۔ عمران نے جاتے ہوئے اس کے کان میں کہا، "آج رات میری باری ہے تمہیں کچھ نیا سنانے کی۔" عائشہ نے مسکرا کر کہا، "سناؤ، مگر اس بار مائیک بند رکھنا۔" دونوں ہنس پڑے، اور اسٹوڈیو کا دروازہ ان کے پیچھے بند ہو گیا، مگر ان کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
ایک رات عمران نے عائشہ سے کہا کہ وہ اس کے لیے ایک خاص ریکارڈنگ کرنا چاہتا ہے، صرف اس کے لیے، کوئی انجینئر نہیں، کوئی مائیک کا ڈر نہیں۔ عائشہ نے اپنے فلیٹ میں ہی ایک چھوٹا سا کونا بنایا، نرم روشنی میں، اور عمران نے اس کے کان میں وہی لائنیں بولیں جو اس نے کہانی میں لکھی تھیں، مگر اس بار ہر لفظ کے ساتھ اس کے ہونٹ اس کی گردن کو چھو رہے تھے۔
عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں اور عمران کی آواز اس کے جسم میں اترتی گئی۔ جب اس نے اس کے بلاؤز کے بٹن کھولے تو عائشہ نے ریکارڈر بند نہیں کیا، بلکہ اسے چلنے دیا، تاکہ اس رات کی ہر آہ محفوظ ہو جائے۔ عمران نے اس کے سینے کو چوما اور اس کی چوت کو ہاتھ سے سہلایا، جب تک عائشہ کی سانسیں ریکارڈر کی آواز سے بھی تیز نہ ہو گئیں۔
پھر عمران نے اسے گود میں اٹھا کر کھڑکی کے پاس لے گیا، جہاں شہر کی روشنیاں نیچے چمک رہی تھیں۔ کھڑکی کے شیشے کے سامنے، اس کا عکس دیکھتے ہوئے، عمران نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں اتارا اور آہستہ آہستہ حرکت دینے لگا۔ عائشہ نے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا، سرخ، بے چین، اور اس نے عمران کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دیا۔
جب وہ دونوں ایک ساتھ جھڑے تو ریکارڈر میں ان کی آہیں اور شہر کی دور کی آوازیں ایک ہو گئیں۔ عمران نے ریکارڈر بند کیا اور عائشہ کے کان میں کہا، "یہ ریکارڈنگ صرف تمہاری ہے، کوئی اور اسے کبھی نہیں سنے گا۔" عائشہ نے مسکرا کر کہا، "اچھا ہے، کیونکہ اس میں میری اصلی آواز ہے، وہ جو میں صرف تمہارے سامنے نکالتی ہوں۔"
اس رات کے بعد عائشہ نے وہ ریکارڈنگ کئی بار سنی، اکیلے میں، اور ہر بار اسے وہی رات یاد آئی، وہی کھڑکی، وہی شیشہ، وہی آواز۔ اور جب بھی عمران اسٹوڈیو میں کوئی لائن بولتا تو عائشہ کو لگتا جیسے وہ لائن صرف اس کے لیے بولی جا رہی ہو، اور اس کا دل پھر سے اسی رفتار سے دھڑکنے لگتا۔
Readers who enjoyed “اردو ولگر کہانیاں: عائشہ اور عمران کی اسٹوڈیو والی رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔