Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو ہوٹل روم کی چدائی: شوہر کے دوست کے ساتھ پوری رات

N
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

عائشہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک ہوٹل کے کمرے میں ہے، سفید چادروں والا بستر، ہلکی روشنی، اور سامنے بلال کھڑا ہے۔ خواب میں بلال نے اس کا ہاتھ پکڑا، اس کی گردن پر بوسہ دیا، اور عائشہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ خواب اتنا حقیقی تھا کہ جب عائشہ کی آنکھ کھلی تو اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور اس کا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ وہ دہلی کے اسی ہوٹل کے کمرے میں تھی، جہاں وہ ایک شادی کے لیے آئی تھی، اور بلال اس کے شوہر کا دوست تھا، جو اسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔

عائشہ نے اپنے آپ کو سنبھالا، باتھ روم میں جا کر منہ دھویا، اور آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا۔ اس کے شوہر نے اسے شادی میں اکیلا بھیجا تھا، کیونکہ وہ دبئی میں کام کرتا تھا۔ بلال نے شادی میں اس کا بہت خیال رکھا تھا، اس کے لیے کھانا لایا تھا، اس کے ساتھ ناچا تھا، اور ہر بار جب ان کی نظریں ملتیں تو دونوں مسکرا دیتے تھے۔ عائشہ نے سوچا کہ خواب صرف خواب ہے، لیکن اس کا دل کچھ اور ہی کہہ رہا تھا۔

شام کو بلال نے عائشہ کے کمرے کے دروازے پر دستک دی، اس کے ہاتھ میں دو کپ کافی تھی۔ "شادی کی تھکان اتارنے کے لیے،" بلال نے مسکرا کر کہا، اور عائشہ نے اسے اندر بلا لیا۔ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے، کافی پی، اور شادی کی باتیں کرنے لگے۔ بلال نے عائشہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا، اور عائشہ نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں، اور کمرے کی ہوا بدل گئی۔

بلال نے عائشہ کو قریب کھینچا، اور اس کے ہونٹوں پر ایک گہرا بوسہ دیا۔ عائشہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں، اور دونوں ایک دوسرے میں کھو گئے۔ بلال نے اس کی ساڑی کا پلو ہٹایا، اور اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ عائشہ نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے، اور اس کے سینے پر بوسے دینے لگی۔ صوفے پر ہی دونوں کے جسموں میں آگ بھڑک اٹھی۔

بلال نے عائشہ کو اٹھا کر بستر پر لٹا دیا، اور اس کی ساڑی آہستہ آہستہ اتار دی۔ اب عائشہ صرف بلاؤز اور پیٹی کوٹ میں تھی، بلال نے اس کا بلاؤز کھولا، اس کی چھاتیاں اس کے ہاتھوں میں آ گئیں، اور اس نے انہیں دبا کر چوسنا شروع کر دیا۔ عائشہ نے زور سے کراہ کر کہا، "بلال، ایسے ہی، رکو مت۔" بلال نے دوسری چھاتی کو بھی اسی طرح چوسا، اور اس کا ہاتھ عائشہ کے پیٹ سے نیچے سرکتا ہوا اس کی چوت تک پہنچ گیا۔

عائشہ کی چوت پہلے سے ہی گیلی تھی، بلال کی انگلی نے جیسے ہی اس کے دانے کو چھوا، عائشہ کا پورا جسم کانپ گیا۔ "تم تو پہلے سے ہی تیار ہو،" بلال نے شرارت سے کہا، اور عائشہ نے اس کی پینٹ کی زپ پر ہاتھ رکھ دیا۔ عائشہ نے بلال کی پینٹ اور انڈرویئر اتار دیے، اور اس کا کھڑا لن اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ وہ موٹا، لمبا اور گرم تھا، عائشہ نے اسے آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا، اور بلال نے آنکھیں بند کر کے کراہنا شروع کر دیا۔

"تمہارا لن مجھے ہمیشہ پاگل کر دیتا ہے،" عائشہ نے کہا، حالانکہ اس نے بلال کا لن پہلی بار دیکھا تھا، لیکن خواب میں وہ اسے دیکھ چکی تھی۔ اس نے لن کو اپنے منہ میں لے لیا، اور اسے اندر باہر کرتے ہوئے چوسنے لگی۔ بلال نے اس کے سر کو پکڑ لیا، عائشہ کی زبان لن کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ کمرے میں دونوں کی کراہیں گونج رہی تھیں۔

کچھ دیر بعد بلال نے عائشہ کو روکا، "اب میری باری ہے، لیٹ جاؤ۔" اس نے عائشہ کی ٹانگیں پھیلائیں، اور اس کی چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ اس کی زبان عائشہ کی چوت کے اندر باہر ہو رہی تھی، عائشہ نے بستر کی چادر کو کس کر پکڑ لیا، اور زور زور سے کراہنے لگی۔ "بلال، میں جھڑنے والی ہوں،" عائشہ نے کہا، لیکن بلال نے رک کر اس کی چوت میں دو انگلیاں ڈال دیں، اور انہیں اندر باہر کرنے لگا۔

عائشہ کا جسم اکڑ گیا، اس نے زور سے چیخ کر اپنا پہلا پانی چھوڑ دیا، اور اس کی چوت سے رس بہہ کر بستر پر پھیل گیا۔ بلال نے اس کی چوت کو چاٹ کر صاف کیا، اور پھر اس کے اوپر آ گیا۔ "اب اندر ڈالو، اور دیر مت کرو،" عائشہ نے بے صبری سے کہا۔ بلال نے اپنے لن کو عائشہ کی چوت کے منہ پر رکھا، اور آہستہ سے اندر دھکیل دیا۔

عائشہ نے زور سے کراہ کر بلال کو کس کر پکڑ لیا، اس کا لن اس کی چوت میں پورا سما گیا تھا، اور دونوں کے جسم ایک دوسرے سے چپک گئے تھے۔ بلال نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے، ہر دھکے کے ساتھ عائشہ کی چھاتیاں ہل رہی تھیں، اور اس کی کراہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ "اور تیز، بلال، اور تیز،" عائشہ نے کہا، اور بلال نے اپنی رفتار بڑھا دی۔

بلال نے عائشہ کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں، جس سے اس کا لن اور بھی گہرائی تک جانے لگا۔ عائشہ نے اپنی کمر اٹھا کر ہر دھکے کا جواب دینا شروع کر دیا، دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں گھل گئی تھیں۔ "تمہاری چوت کتنی ٹائٹ اور گرم ہے،" بلال نے کہا، اور عائشہ نے شرما کر اسے چوم لیا۔ دھکوں کی آواز اور عائشہ کی کراہیں مل کر کمرے کو بھر رہی تھیں۔

کچھ دیر بعد بلال نے پوزیشن بدلی، اس نے عائشہ کو گھوڑی بننے کو کہا، اور عائشہ نے فوراً گھٹنوں پر آ کر اپنی کمر جھکا دی۔ بلال نے پیچھے سے اس کی چوت میں لن ڈال دیا، اور اس کی کمر پکڑ کر زور زور سے دھکے لگانے لگا۔ عائشہ کی چھاتیاں نیچے لٹک کر ہل رہی تھیں، اور وہ ہر دھکے پر "ہاں، ہاں، ایسے ہی" کہہ رہی تھی۔ بلال نے ایک ہاتھ سے اس کی چھاتی کو پکڑ لیا، اور دوسرے ہاتھ سے اس کی چوت کے دانے کو رگڑنے لگا۔

عائشہ دوسری بار جھڑنے کے قریب آ گئی، اس کا جسم کانپنے لگا، اور اس نے زور سے چیخ کر اپنا پانی چھوڑ دیا۔ بلال نے بھی اپنی رفتار بڑھائی، اور کچھ ہی دھکوں میں اس نے اپنا گرم ویرج عائشہ کی چوت کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے بستر پر گر پڑے، پسینے سے تر، ایک دوسرے کی بانہوں میں۔ "یہ تو صرف شروعات تھی،" بلال نے کہا، اور عائشہ ہنس پڑی۔

دونوں نے مل کر باتھ روم میں شاور لیا، جہاں گرم پانی کے نیچے بلال نے عائشہ کو پھر سے چومنا شروع کر دیا۔ عائشہ نے اس کے لن کو ہاتھ سے ہلایا، اور شاور کے نیچے ہی بلال نے اسے دیوار سے سٹا کر پھر سے چودنا شروع کر دیا۔ پانی کی دھار اور دونوں کی کراہیں مل گئیں، عائشہ نے بلال کی پیٹھ پر ناخن گاڑ دیے۔ شاور کے بعد دونوں نے تولیوں میں لپٹ کر ڈنر کیا، لیکن ڈنر کے بیچ بھی بلال کا ہاتھ عائشہ کی جانگھ پر ہی رہا۔

رات کے بارہ بجے دونوں پھر بیڈروم میں آ گئے، اس بار عائشہ اوپر آئی۔ اس نے بلال کے لن پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونا شروع کیا، اس کی چھاتیاں بلال کے چہرے کے سامنے ہل رہی تھیں، بلال نے انہیں منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ عائشہ نے اپنی رفتار بڑھائی، اس کے بال بکھر گئے، اور وہ زور زور سے کراہتے ہوئے جھڑ گئی۔ بلال نے اسے پلٹ کر پھر سے مشنری میں چودا، اور اس بار دونوں ساتھ میں جھڑے۔

رات کے دو بجے عائشہ نے بلال کے لیے چائے بنائی، دونوں کچن میں ننگے ہی کھڑے ہو کر چائے پی رہے تھے، اور بیچ بیچ میں ایک دوسرے کو چوم رہے تھے۔ "تمہارے ہوٹل کے کمرے میں چائے بھی الگ لگ رہی ہے،" بلال نے کہا، اور عائشہ نے اسے چپت لگائی۔ چائے ختم ہوتے ہی بلال نے عائشہ کو کچن کے سلیب پر بٹھا لیا، اس کی ٹانگیں پھیلائیں، اور وہیں کھڑے کھڑے اس کی چوت میں لن ڈال دیا۔ عائشہ نے سلیب کو پکڑ کر دھکوں کا ساتھ دیا، اور کچن میں بھی اس کی کراہیں گونج گئیں۔

صبح کے چار بجے دونوں تھک کر بستر پر لیٹ گئے، عائشہ نے بلال کی چھاتی پر سر رکھ دیا، اور بولی، "کاش میرے شوہر ایک دن اور دبئی میں رک جاتے۔" بلال نے ہنس کر کہا، "تو میں ایک دن اور رک جاتا، لیکن تمہاری حالت دیکھو، تم چل بھی نہیں پاؤ گی۔" عائشہ نے اسے چوم کر کہا، "تمہاری وجہ سے ہی تو یہ حالت ہے، اور مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔" دونوں کی آنکھیں بند ہونے لگیں، لیکن نیند آنے سے پہلے بلال نے عائشہ کی چوت میں انگلی ڈال کر اسے ایک بار پھر گرم کر دیا۔

صبح کے پانچ بجے، جب باہر ہلکی روشنی ہونے لگی، بلال نے عائشہ کو جگایا، اور کہا، "ایک آخری بار، پھر میں نکل جاؤں گا۔" عائشہ نے نیند میں ہی اپنی ٹانگیں پھیلا دیں، بلال اس کے اوپر آ گیا، اور آہستہ آہستہ اسے چودنے لگا۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا میں دونوں کے جسم پھر سے گرم ہو گئے، عائشہ نے کراہتے ہوئے بلال کو کس کر پکڑ لیا۔ اس بار دھکے آہستہ تھے، لیکن ہر دھکا گہرا تھا، اور دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ساتھ میں پانی چھوڑا۔

صبح کے چھ بجے بلال نے کپڑے پہنے، عائشہ نے اسے دروازے تک چھوڑا، اور جاتے جاتے بلال نے اس کے ہونٹوں پر ایک لمبا بوسہ دیا۔ "آج رات پھر؟" بلال نے پوچھا، اور عائشہ نے کہا، "میرے شوہر کل شام تک آئیں گے، آج رات بھی ہوٹل خالی ہے۔" دونوں ہنس پڑے، عائشہ نے دروازہ بند کیا، اور بستر پر جا کر گر پڑی، اس کے جسم پر بلال کی ہر چھون کی یاد تازہ تھی۔ ہوٹل کے اس کمرے میں بتائی یہ پوری رات اس کی زندگی کی سب سے گرم رات بن گئی تھی۔

عائشہ نے بستر پر لیٹ کر سوچا کہ خواب نے اسے سچ دکھایا تھا، اور اب وہ خواب ہر رات دیکھنا چاہتی تھی۔ اس نے بلال کا نمبر اپنے فون میں محفوظ کیا، اور اس کے نام کے ساتھ ایک دل کا نشان لگا دیا۔ باہر دہلی کی صبح ہو رہی تھی، لیکن عائشہ کے کمرے میں ابھی بھی رات کی گرمی باقی تھی۔

🔒 Bonus Scene locked

اگلی شام عائشہ نے بلال کو پھر بلایا، آگے کیا ہوا یہ صرف شیئر کرنے والوں کو معلوم ہوگا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو ہوٹل روم کی چدائی: شوہر کے دوست کے ساتھ پوری رات” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views