Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو ٹرین کی چدائی: ٹرین کے کوپے میں اس کی چوت میں میرا لنڈ

N
11 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

اردو ٹرین کی چدائی کی یہ رات دلی اسٹیشن پر اس وقت شروع ہوئی جب فاطمہ نے اپنا چھوٹا سا بیگ اوپر والی برتھ پر رکھا اور عمران نے فورا آواز لگائی کہ یہ جگہ اس کی ہے۔ فاطمہ نے پلٹ کر تیز لہجے میں کہا کہ اس نے یہ برتھ پہلے بک کرائی تھی اور کوئی بھی اسے اس طرح ہٹا نہیں سکتا۔ عمران نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر کہا کہ کوپے کا دروازہ بند رکھنا اس کی عادت ہے اور فاطمہ کی ضد اسے بالکل پسند نہیں آئی۔ دونوں کی آوازیں کوپے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں اور ٹرین کی سیٹی نے اس جھگڑے کو اور بھی تیز کر دیا۔

فاطمہ نے اپنا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے کہا کہ وہ پوری رات نیچے والی برتھ پر نہیں سو سکتی کیونکہ اسے کھڑکی کے پاس ہوا چاہیے۔ عمران نے ہنس کر کہا کہ اسے بھی ہوا چاہیے اور وہ کسی کے لیے اپنی جگہ نہیں چھوڑے گا۔ ٹرین آہستہ آہستہ چلنے لگی اور کوپے کی لائٹ کبھی جلتی اور کبھی بجھتی رہی۔ فاطمہ نے اپنا بیگ زور سے برتھ پر رکھا اور عمران کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔ ان کی آنکھیں ایک دوسرے سے ملیں اور جھگڑے کے بیچ ایک عجیب سی کشش پیدا ہو گئی۔

عمران نے دروازہ بند کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو فاطمہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ دروازہ کھلا رہے گا۔ عمران نے اس کی کلائی کو نرمی سے پکڑا اور کہا کہ بند کوپے میں سکون ہوتا ہے۔ فاطمہ نے مسکرا کر کہا کہ اسے بند جگہوں سے ڈر لگتا ہے مگر اس کی مسکراہٹ میں ڈر کم اور چیلنج زیادہ تھا۔ ٹرین کی رفتار بڑھنے لگی اور پہیوں کی آواز نے ان کی باتوں کو ایک تال دے دیا۔ دونوں اب بھی ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے تھے۔

فاطمہ نے اپنی چادر اوڑھتے ہوئے کہا کہ اسے نیند آ رہی ہے مگر وہ اوپر والی برتھ پر ہی سوئے گی۔ عمران نے کہا کہ وہ نیچے سو جائے گا اور اوپر والی برتھ فاطمہ کو دے دے گا۔ فاطمہ نے حیرت سے پوچھا کہ اچانک یہ مہربانی کیوں۔ عمران نے کہا کہ مہربانی نہیں ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ فاطمہ آرام سے سوئے۔ فاطمہ نے اس کے اس انداز پر مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا۔

فاطمہ اوپر والی برتھ پر چڑھنے لگی تو اس کا دوپٹہ عمران کے چہرے سے ٹکرا گیا۔ عمران نے دوپٹہ پکڑ لیا اور فاطمہ نے اسے واپس لینے کے لیے نیچے جھک کر اس کے قریب آ گئی۔ اس لمحے ان کے چہرے ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے اور دونوں کی سانسیں ٹکرا گئیں۔ فاطمہ نے آہستہ سے کہا کہ دوپٹہ واپس کرو اور عمران نے کہا کہ پہلے مسکرا کر مانگو۔ فاطمہ نے اس کے کان کے پاس آ کر سرگوشی میں دوپٹہ مانگا۔

فاطمہ نے خود آگے بڑھ کر عمران کے گال کو چھوا اور کہا کہ جھگڑے کے وقت اسے عمران کی آنکھیں اچھی لگی تھیں۔ عمران نے اس کے ہاتھ کو چوما اور فاطمہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ ٹرین کی ہلکی سی ہلچل نے ان کے جسموں کو ایک دوسرے کی طرف دھکیل دیا۔ فاطمہ نے عمران کی قمیض کا کالر پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ ان کے ہونٹ پہلی بار ملے اور یہ بوسہ آہستہ مگر گہرا تھا۔

فاطمہ نے بوسے کے دوران عمران کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور اسے اپنے قریب کھینچا۔ عمران نے فاطمہ کی کمر کو پکڑا اور اسے نیچے والی برتھ پر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ فاطمہ نے اس کے ہونٹوں کو دوبارہ چوما اور اس کی زبان سے کھیلنے لگی۔ کوپے کی مدھم بتی میں ان کے چہرے چمک رہے تھے۔ فاطمہ نے کہا کہ وہ یہی چاہتی تھی جب سے جھگڑا شروع ہوا تھا۔

فاطمہ نے خود اپنی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے اور عمران سے کہا کہ وہ مدد کرے۔ عمران نے اس کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے اور فاطمہ کی جلد سامنے آ گئی۔ فاطمہ نے اپنی قمیض اتار دی اور صرف اندرونی لباس میں عمران کے سامنے بیٹھ گئی۔ عمران نے اس کے سینے کو دیکھا اور اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر نرمی سے دبایا۔ فاطمہ نے اس کے ہاتھوں کو اپنے سینے پر دبائے رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔

فاطمہ نے عمران کی پینٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسے کھولنے لگی۔ عمران نے اس کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا کہ کیا وہ واقعی یہ چاہتی ہے۔ فاطمہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا کہ وہ پوری رات یہی چاہتی ہے اور کوئی ڈر نہیں ہے۔ عمران نے اس کی بات سن کر مسکرایا اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ فاطمہ نے اس کی پینٹ کھول دی اور اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

فاطمہ نے عمران کا لنڈ اپنے منہ میں گہرائی تک لیا اور اس کی زبان سے اسے چھیڑتی رہی۔ عمران نے اس کے بال پکڑے اور اس کی رفتار کو دیکھتا رہا۔ فاطمہ نے اسے چوستے ہوئے اپنی آنکھیں اوپر کر کے عمران کو دیکھا۔ عمران نے اس کے چہرے کو پکڑا اور کہا کہ اس کا انداز اسے پاگل کر رہا ہے۔ فاطمہ نے مسکرا کر اسے اور گہرائی میں لیا اور اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔

عمران نے فاطمہ کو اٹھایا اور اسے برتھ پر لٹا دیا۔ اس نے فاطمہ کی شلوار کا ناڑا کھولا اور اسے آہستہ سے نیچے کھینچا۔ فاطمہ نے اپنی ٹانگیں تھوڑی سی کھولیں اور عمران نے اس کی چوت کو دیکھا۔ عمران نے اس کی چوت کو اپنی انگلیوں سے چھوا اور فاطمہ نے ایک لمبی سسکی لی۔ اس نے اس کی چوت کی نمی کو محسوس کیا اور اپنی انگلی کو آہستہ سے اندر داخل کیا۔

فاطمہ نے عمران کی انگلی کو اپنی چوت میں محسوس کیا اور اس کی کمر کو اوپر اٹھایا۔ عمران نے دوسری انگلی بھی داخل کی اور اسے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔ فاطمہ نے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور کہا کہ اور تیز کرو۔ عمران نے اپنی رفتار بڑھائی اور فاطمہ کی چوت سے گیلا پن اس کے ہاتھ پر آ گیا۔ فاطمہ نے اپنی ٹانگیں اور کھول دیں اور عمران کو اپنی طرف کھینچا۔

عمران نے فاطمہ کی چوت کو چوما اور اپنی زبان سے اسے چاٹنے لگا۔ فاطمہ نے اس کے سر کو اپنی چوت سے لگا لیا اور اس کی زبان کی ہر حرکت پر سسکیاں لینے لگی۔ عمران نے اس کی چوت کے دانے کو زبان سے چھیڑا اور فاطمہ کی کمر برتھ سے اٹھ گئی۔ اس نے عمران کے بالوں کو زور سے پکڑا اور کہا کہ رکے نہیں۔ عمران نے اپنی زبان اور تیز چلائی اور فاطمہ کا جسم کانپنے لگا۔

فاطمہ نے عمران کو اوپر کھینچا اور کہا کہ اب وہ اس کا لنڈ اپنی چوت میں چاہتی ہے۔ عمران نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دبایا۔ فاطمہ نے اس کے لنڈ کے داخل ہونے پر ایک گہری سانس لی اور اس کی پیٹھ کو پکڑ لیا۔ عمران نے اسے آہستہ آہستہ پورا اندر کیا اور فاطمہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ دونوں ایک لمحے کے لیے رکے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا۔

عمران نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے اور فاطمہ نے ہر دھکے پر سسکی لی۔ ٹرین کی رفتار کے ساتھ ان کے دھکوں کی تال بھی بن گئی۔ فاطمہ نے عمران کی پیٹھ پر ناخن چلائے اور اسے اور تیز کرنے کو کہا۔ عمران نے اپنی رفتار بڑھائی اور اس کا لنڈ فاطمہ کی چوت میں گہرائی تک جانے لگا۔ فاطمہ کی چوت نے اس کے لنڈ کو کس کر پکڑا اور دونوں کی سانسیں ایک ہو گئیں۔

فاطمہ نے عمران کو روکا اور خود اوپر آ گئی۔ وہ اس کے لنڈ پر بیٹھ گئی اور اپنی چوت کو اس پر آہستہ سے نیچے کیا۔ عمران نے اس کی کمر کو پکڑا اور فاطمہ نے اوپر نیچے ہونا شروع کیا۔ اس کے سینے ہل رہے تھے اور عمران نے انہیں اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا۔ فاطمہ نے اپنی رفتار بڑھائی اور اس کی چوت سے گیلا پن عمران کی ٹانگوں پر بہنے لگا۔

فاطمہ نے عمران کے لنڈ پر تیزی سے اوپر نیچے ہوتے ہوئے کہا کہ اسے یہ پوزیشن سب سے زیادہ پسند ہے۔ عمران نے اس کی کمر کو پکڑ کر اسے اور گہرائی میں دبایا۔ فاطمہ کا جسم کانپنے لگا اور اس نے عمران کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو زور سے جکڑا اور وہ پہلی بار جھڑ گئی۔ اس کے جسم سے پانی نکلا اور وہ عمران کے اوپر ہی لیٹ گئی۔

عمران نے فاطمہ کو پلٹا کر اسے گھوڑی کی طرح برتھ پر کھڑا کیا۔ اس نے پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ داخل کیا اور اس کی کمر کو پکڑ لیا۔ فاطمہ نے برتھ کا کنارہ پکڑا اور ہر دھکے پر آگے پیچھے ہونے لگی۔ عمران نے اس کی چوت میں تیز دھکے لگائے اور اس کے کولہوں کو اپنے ہاتھوں سے دبایا۔ فاطمہ نے چیخ کر کہا کہ اور زور سے کرو اور عمران نے اپنی رفتار اور بڑھا دی۔

عمران نے فاطمہ کو نیچے لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس نے اس کی چوت میں اپنا لنڈ گہرائی تک داخل کیا اور تیز دھکے لگانے لگا۔ فاطمہ نے اس کے ہاتھوں کو پکڑا اور ہر دھکے پر اپنی کمر اوپر اٹھائی۔ اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو کس لیا اور وہ دوسری بار جھڑنے کے قریب آ گئی۔ عمران نے اپنی رفتار کم نہیں کی اور فاطمہ کا جسم برتھ پر کانپنے لگا۔

فاطمہ دوسری بار جھڑ گئی اور اس کی چوت سے پانی عمران کے لنڈ پر بہہ گیا۔ عمران نے اسے دیکھا اور اس کے چہرے کو چوما۔ فاطمہ نے کہا کہ وہ تھک گئی ہے مگر عمران ابھی رکا نہیں تھا۔ عمران نے اس کی چوت میں دھکے جاری رکھے اور اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ فاطمہ نے اس کی پیٹھ کو پکڑا اور کہا کہ وہ اس کے اندر ہی جھڑے۔

عمران نے آخری تیز دھکے لگائے اور فاطمہ کی چوت میں ہی جھڑ گیا۔ اس کا پانی فاطمہ کی چوت میں بھرا اور دونوں ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔ فاطمہ نے عمران کو اپنے اوپر سے ہٹائے بغیر اس کے چہرے کو چوما۔ عمران نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا اور دونوں کی سانسیں آہستہ آہستہ ٹھیک ہونے لگیں۔ ٹرین اب بھی اندھیرے میں دوڑ رہی تھی۔

فاطمہ نے چادر اوڑھی اور عمران کے ساتھ برتھ پر لیٹ گئی۔ عمران نے کوپے کا دروازہ بند کیا اور فاطمہ نے ہنس کر کہا کہ آخرکار دروازہ بند ہو ہی گیا۔ فاطمہ نے اس کے کان میں کہا کہ اوپر والی برتھ کا جھگڑا اس کی زندگی کا سب سے اچھا جھگڑا تھا۔ عمران نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ لکھنؤ پہنچنے سے پہلے وہ ایک بار اور چاہے گا۔ فاطمہ نے مسکرا کر کہا کہ دروازہ بند ہے اور رات ابھی باقی ہے۔

🔒 Bonus Scene locked

لکھنؤ پہنچنے سے پہلے کوپے میں ایک اور راز کھلتا ہے جو اس رات کو مکمل کر دیتا ہے۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو ٹرین کی چدائی: ٹرین کے کوپے میں اس کی چوت میں میرا لنڈ” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views