اردو خالہ کی چدائی: لکھنؤ میں خالہ سے جھگڑا
"تم نے مجھے سب کے سامنے شرمندہ کیا ہے دانش!" خالہ شبانہ کی آواز صحن میں گونج رہی تھی، ان کی انگلیاں ہوا میں لہر رہی تھیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی میں اردو خالہ کی چدائی جیسی کوئی رات آئے گی، لیکن اس شام خالہ کے ساتھ ہونے والا جھگڑا سب کچھ بدلنے والا تھا۔
سب مہمان ایک دم چپ ہو گئے تھے، کوئی دسترخوان پر ہاتھ دھو رہا تھا، کوئی چائے کا کپ منہ سے لگائے رک گیا تھا۔ امی میری طرف دیکھ رہی تھیں، ان کی آنکھوں میں التجاء تھی کہ میں خاموش رہوں، مگر خالہ شبانہ کی زبان تو کبھی رکتی نہیں تھی۔
"امی کا امین آباد والا فلیٹ تمہاری امی نے اکیلے ہڑپ کر لیا، اور تم مجھے کہتے ہو کہ میں غلط ہوں؟" خالہ نے اپنے دوپٹے کو کندھے سے کھینچا، ان کا چہرہ غصے سے لال تھا۔ ان کی عمر پینتیس کے لگ بھگ تھی، مگر غصے میں وہ اور بھی جوان لگ رہی تھیں۔
"خالہ، آپ بات کو بڑھا رہی ہیں،" میں نے آواز اونچی کی، "امی نے نانی کے علاج پر لاکھوں خرچ کیے، یہ فلیٹ ان کا حق ہے۔"
"حق؟" وہ ہنسی، تیکھی ہنسی، "تمہیں حق کی بات کرتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ تم تو ابھی بچے ہو دانش، تمہیں کیا پتا جائیداد کے کھیل کا؟"
"بچہ؟" میرا خون کھول اٹھا، "میں چوبیس سال کا ہوں خالہ، اور میں جانتا ہوں کہ آپ ہر شادی بیاہ میں یہی رونا روتی ہیں۔"
صحن میں سناٹا چھا گیا، خالہ کی آنکھیں چھوٹی ہو گئیں، وہ ایک قدم آگے بڑھی، ان کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ "تم نے آج حد پار کر دی دانش، میں یہ کبھی نہیں بھولوں گی۔"
"میں بھی نہیں بھولوں گا کہ آپ نے میری امی کو چور کہا،" میں نے جواب دیا، ہماری سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں، فاصلہ اتنا کم تھا کہ ان کے عطر کی خوشبو میرے نتھنوں میں بھر گئی۔
نانی نے بیچ میں آ کر معاملہ رفع دفع کیا، "بس کرو دونوں، مہمان دیکھ رہے ہیں،" مگر خالہ کی نظریں مجھ پر جمی رہیں، ان میں غصے کے ساتھ کوئی اور چنگاری بھی تھی جسے میں اس وقت سمجھ نہیں پایا۔
رات کا کھانا عجیب خاموشی میں گزرا، خالہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی تھیں، ان کی نظریں بار بار مجھ پر اٹھتی تھیں۔ جب بھی ہماری آنکھیں ملتیں، وہ جلدی سے نظر ہٹا لیتیں، مگر ان کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آ جاتی۔
کھانے کے بعد امی نے کہا، "دانش، خالہ کا صندوق اوپر والے مہمان کمرے میں رکھ دو، وہ آج یہیں رکیں گی۔" میرا دل زور سے دھڑکا، خالہ نے میری طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں وہی چنگاری تھی۔
صندوق بھاری تھا، ہم دونوں نے مل کر اٹھایا، سیڑھیوں پر ان کا ہاتھ میرے ہاتھ سے ٹکرایا، انہوں نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ مہمان کمرے میں صرف ایک پیلا بلب جل رہا تھا، دیواروں پر پرانے کیلنڈر لٹکے تھے۔
دروازہ بند ہوتے ہی خالہ مڑیں، "تم نے مجھے سب کے سامنے شرمندہ کیا دانش،" ان کی آواز اب دھیمی تھی، مگر اس میں غصے سے زیادہ کوئی اور آگ تھی۔ "میں نے سوچا تھا تم سمجھدار ہو۔"
"اور میں نے سوچا تھا آپ بڑی ہیں،" میں نے کہا، "مگر آپ نے امی کو سب کے سامنے چور کہا۔"
وہ ایک قدم قریب آئیں، اتنی قریب کہ ان کے سینے کی گرمی مجھے محسوس ہوئی، "تو اب کیا کرو گے؟ معافی مانگو گے؟" ان کی آواز میں چیلنج تھا، ان کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے بس ایک سانس کی دوری پر تھے۔
"معافی؟" میں نے مسکرا کر کہا، مگر اس سے پہلے کہ میں کچھ اور بولتا، خالہ نے میری گردن پکڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ ان کا بوسہ غصے جیسا تھا، دانتوں والا، بھوکا، ان کی زبان میرے منہ میں گھس آئی۔
میں نے ان کی کمر پکڑ کر انہیں اپنے سے چپکا لیا، ان کے نرم دودھ میرے سینے سے دب گئے، ان کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ خالہ نے میری قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
میں نے ان کی کرتی کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے، ان کی سفید برا میرے سامنے تھی، ان کے بڑے گول دودھ اس میں قید تھے۔ میں نے برا کا ہک کھولا، ان کے دودھ آزاد ہو کر باہر نکل آئے، گلابی نپل تنے ہوئے تھے، میں نے ایک نپل منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا۔
"آہ دانش۔۔۔" خالہ کی آواز نکلی، انہوں نے میرا سر اپنے سینے سے دبا لیا، ان کی انگلیاں میرے بالوں میں گھس گئیں۔ میں نے دوسرے دودھ کو ہاتھ سے مسلنا شروع کیا، نپل کو انگلیوں سے مروڑا، وہ تڑپ اٹھیں۔
خالہ نے میری پتلون کا بیلٹ کھولا، میرا سخت لنڈ ان کے ہاتھ میں آیا، انہوں نے اسے دیکھا اور مسکرائیں، "اتنا بڑا؟ تم تو واقعی بچے نہیں رہے۔" انہوں نے گھٹنے ٹیک دیے اور میرے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔
ان کا منہ گرم تھا، وہ میرے لنڈ کو چوس رہی تھیں، ان کی زبان میرے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی، میں نے ان کے بال پکڑ لیے۔ "خالہ۔۔۔ آہ۔۔۔" میری آواز نکلی، وہ اور بھی زور سے چوسنے لگیں، ان کا تھوک میرے لنڈ پر بہہ رہا تھا۔
میں نے انہیں اٹھایا اور بستر پر لٹا دیا، ان کی شلوار اتاری، ان کی کالی چوت میرے سامنے تھی، گیلی اور پھولی ہوئی۔ میں نے اپنی انگلی ان کی چوت میں ڈالی، وہ چیخ پڑیں، "دانش، مت تڑپاؤ، اب ڈال دو۔"
میں نے اپنا لنڈ ان کی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک جھٹکے میں اندر ڈال دیا، خالہ کی آنکھیں پھیل گئیں، ان کے ناخن میری پیٹھ میں گھس گئے۔ "آہ، بہت بڑا ہے، آہستہ۔۔۔" مگر میں رکنے والا نہیں تھا، میں نے دھکے لگانے شروع کیے۔
ان کی چوت میرے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی، ہر دھکے کے ساتھ بستر چرچرا رہا تھا، خالہ کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ میں نے ان کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں، میرا لنڈ اور بھی گہرائی تک گیا، وہ چیخنے لگیں، "ہاں، ایسے ہی، اور زور سے۔"
میں نے رفتار بڑھا دی، میرے لنڈ کا سرا ان کی چوت کی گہرائی میں ٹکرا رہا تھا، خالہ کا جسم کانپنے لگا، ان کی چوت نے میرا لنڈ اور بھی کس کر پکڑ لیا۔ "میں جھڑنے والی ہوں دانش، آہ۔۔۔" ان کا پانی نکل گیا، ان کا جسم ڈھیلا پڑ گیا، مگر میں نہیں رکا۔
میں نے انہیں پلٹ کر گھوڑی بنایا، ان کی گانڈ میرے سامنے تھی، میں نے پیچھے سے اپنا لنڈ ان کی چوت میں ڈال دیا۔ میں نے ان کے بال پکڑ کر دھکے لگائے، ان کی آوازیں اب چیخوں میں بدل گئی تھیں، "ہاں، اور زور سے دانش، مجھے ایسے ہی چاہیے۔"
چند منٹ کے بعد میرا جسم تن گیا، میں نے اپنا سارا پانی ان کی چوت میں چھوڑ دیا، ہم دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے، پسینے میں بھیگے ہوئے۔ خالہ نے میری طرف دیکھا اور مسکرائیں، "جھگڑا تو تم نے اچھا کیا تھا، مگر یہ اس سے بھی اچھا تھا۔"
ہم نے جلدی سے کپڑے پہنے، خالہ نے اپنے بال سنوارے، "نیچے چلو، کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے،" وہ بولیں، مگر ان کی آنکھوں میں ابھی بھی آگ تھی۔ ہم الگ الگ نیچے آئے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مہمان آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگے، امی باورچی خانے میں مصروف تھیں، خالہ نے میرے کان میں سرگوشی کی، "چھت پر آؤ، دس منٹ بعد۔" میرا دل پھر سے زور سے دھڑکنے لگا۔
چھت پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، آسمان میں تارے چمک رہے تھے، خالہ پہلے سے وہاں کھڑی تھیں، ان کا دوپٹا ہوا میں لہر رہا تھا۔ میں نے پیچھے سے انہیں گلے لگایا، میرے ہاتھ ان کے دودھ پر گئے، انہوں نے سر پیچھے ٹیک دیا۔
"تمہیں ڈر نہیں لگتا؟" انہوں نے پوچھا، "اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟" میں نے ان کی گردن پر بوسہ دیا، "اب ڈر کیسا خالہ، جو ہونا تھا ہو گیا۔" وہ مڑیں اور میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑیں۔
میں نے انہیں دیوار سے لگایا، ان کی کرتی اوپر اٹھائی، ان کے دودھ میرے ہاتھوں میں تھے، میں نے انہیں مسلا، نپلوں کو چوسا۔ خالہ نے میری پتلون کھولی، میرا لنڈ پھر سے سخت ہو چکا تھا، انہوں نے اسے ہاتھ میں لے کر ہلانا شروع کیا۔
"نیچے بیٹھو،" میں نے کہا، خالہ گھٹنوں پر بیٹھ گئیں اور میرے لنڈ کو منہ میں لے لیا، چھت کی ٹھنڈی ہوا اور ان کے گرم منہ کا امتزاج مجھے پاگل کر رہا تھا۔ وہ میرے لنڈ کو گہرائی تک لے رہی تھیں، ان کی آنکھیں مجھے دیکھ رہی تھیں۔
میں نے انہیں اٹھا کر دیوار کی طرف موڑا، ان کی شلوار گھٹنوں تک اتاری، میں نے پیچھے سے اپنا لنڈ ان کی گیلی چوت میں ڈال دیا۔ خالہ نے دیوار کو پکڑ لیا، میں نے دھکے لگانے شروع کیے، ان کی گانڈ میرے ہر دھکے کے ساتھ ہل رہی تھی۔
"آہستہ دانش، کوئی سن لے گا،" وہ سرگوشی میں بولیں، مگر ان کی چوت میرے لنڈ کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھی۔ میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھا اور دھکے جاری رکھے، ان کی آوازیں میرے ہاتھ میں دب گئیں، ان کا جسم کانپنے لگا۔
خالہ کا پانی پھر سے نکل گیا، ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، میں نے انہیں سہارا دیا، میرا لنڈ ابھی بھی ان کے اندر تھا۔ "تم تو جانور ہو،" وہ ہنسیں، "مگر مجھے ایسے ہی جانور پسند ہیں۔"
رات کے گیارہ بجے سب سو گئے، میں دبے پاؤں مہمان کمرے کی طرف گیا، دروازہ کھلا تھا، خالہ بستر پر لیٹی میرا انتظار کر رہی تھیں۔ "مجھے پتا تھا تم آؤ گے،" وہ مسکرائیں، انہوں نے صرف ایک پتلی نائٹی پہنی تھی۔
میں بستر پر چڑھ گیا، میں نے ان کی نائٹی اتار دی، ان کا ننگا جسم بلب کی پیلی روشنی میں چمک رہا تھا۔ میں نے ان کے پورے جسم کو چوما، گردن سے لے کر دودھ، پیٹ، اور پھر ان کی چوت تک، میں نے ان کی چوت کو چاٹنا شروع کیا۔
"آہ دانش، وہیں، ہاں وہیں،" خالہ تڑپنے لگیں، ان کی انگلیاں میرے بالوں میں تھیں، میں نے ان کی چوت کے دانے کو زبان سے چھیڑا، وہ چیخ پڑیں۔ ان کا پانی میرے منہ میں آیا، نمکین اور گرم، میں نے سب چاٹ لیا۔
خالہ میرے اوپر چڑھ گئیں، انہوں نے میرا لنڈ اپنی چوت میں ڈال لیا اور خود ہی ہلنے لگیں، ان کے دودھ میرے چہرے کے سامنے اچھل رہے تھے۔ میں نے ان کے دودھ پکڑ لیے، وہ اور بھی تیز ہلنے لگیں، "ہاں، ایسے ہی، میں تمہاری ہوں آج کی رات۔"
میں نے انہیں نیچے لٹایا اور ان کے اوپر آ گیا، میں نے ان کی ٹانگیں چوڑی کیں اور اپنا لنڈ پوری طاقت سے اندر باہر کرنے لگا۔ خالہ کی آنکھیں بند تھیں، ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، ان کی چوت نے میرا لنڈ کس لیا۔
"میں آنے والا ہوں خالہ،" میں نے کہا، "اندر ہی چھوڑ دو،" انہوں نے جواب دیا، میں نے آخری زور دار دھکے لگائے اور اپنا سارا پانی ان کی چوت میں بہا دیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے لپٹے رہے، ان کی سانسیں میرے سینے پر محسوس ہو رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد خالہ نے میری طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں اب غصہ نہیں تھا، صرف ایک شرارت تھی۔ "اب یہ جائیداد والی بات بھول جاؤ،" وہ بولیں، "اب تم میرے قرضدار ہو، اور یہ قرض ہر بار ایسے ہی چکایا جائے گا۔"
میں نے مسکرا کر انہیں اپنے سے چپکا لیا، باہر لکھنؤ کی رات خاموش تھی، مگر اس کمرے میں ہماری دھڑکنیں ابھی بھی تیز تھیں۔ خالہ نے بلب بند کیا، اندھیرے میں ان کی سرگوشی آئی، "کل صبح ناشتے پر امی کے سامنے آنکھیں مت جھکانا، ورنہ سب سمجھ جائیں گے۔"
Readers who enjoyed “اردو خالہ کی چدائی: لکھنؤ میں خالہ سے جھگڑا” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔