Urdu Love Story Sex: اسلام آباد میں ماہنور کی چوت میں حمزہ کا لنڈ, خواب سے حقیقت تک کی چدائی
اس Urdu Love Story Sex میں ماہنور نے خواب میں دیکھا کہ وہ اسلام آباد کی ایک چھت پر کھڑی ہے اور حمزہ اس کے پیچھے سے آ کر اسے اپنی بانہوں میں لے لیتا ہے۔ خواب میں حمزہ نے اس کی گردن پر بوسہ دیا اور ماہنور کی سانسیں تیز ہو گئیں، اس کی چوت گیلی ہونے لگی۔ وہ نیند سے جاگی تو اس کا جسم کانپ رہا تھا اور اس کی انگلیاں خود بخود اپنی چوت کی طرف چلی گئیں۔ ماہنور ایک گرافک ڈیزائنر تھی اور حمزہ ایک فوٹوگرافر تھا، دونوں ایک ہی بلڈنگ میں کام کرتے تھے، لیکن ماہنور نے کبھی اس سے اپنے خواب کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اس کا شوہر لاہور میں رہتا تھا اور اس کی راتیں مہینوں سے تنہا گزر رہی تھیں۔
صبح دفتر میں ماہنور نے حمزہ کو دیکھا تو اس کا چہرہ لال ہو گیا۔ حمزہ نے پوچھا کہ کیا وہ ٹھیک ہے، اور ماہنور نے کہا کہ رات کو نیند ٹھیک سے نہیں آئی۔ حمزہ مسکرایا اور کہا کہ اس کی آنکھوں میں نیند کی کمی نہیں، کچھ اور نظر آ رہا ہے۔ ماہنور نے نظریں جھکا لیں، لیکن حمزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ وہ جانتا ہے، کیونکہ اس نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے۔ ماہنور حیران ہو گئی اور پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم، تو حمزہ نے کہا کہ خواب کبھی کبھی دو لوگوں کو ایک ساتھ آتے ہیں۔
دوپہر کو حمزہ ماہنور کے فلیٹ میں آیا، ایک فوٹو شوٹ کی فائلیں دینے کے بہانے۔ ماہنور نے دروازہ کھولا تو حمزہ نے اسے دیوار سے لگا لیا اور اس کے ہونٹوں پر ایک لمبا بوسہ دیا۔ ماہنور نے پہلے تو مزاحمت کی، لیکن پھر اس نے حمزہ کے بالوں میں ہاتھ ڈال دیے اور اس کا بوسہ واپس کر دیا۔ اس نے کہا کہ یہ غلط ہے، لیکن حمزہ نے کہا کہ غلط وہ ہے جو اس کا شوہر اس کے ساتھ کرتا ہے، اسے مہینوں سے چھوا تک نہیں۔ ماہنور کی آنکھیں بھر آئیں، کیونکہ یہ سچ تھا۔
حمزہ نے ماہنور کی قمیض کے اوپر سے ہی اس کے بوبس دبانے شروع کر دیے۔ ماہنور سسک اٹھی اور بولی کہ ایسے ہی دباؤ، اسے یہی چاہیے تھا۔ حمزہ نے اس کی قمیض کھولی اور اس کے ننگے بوبس کو اپنے ہاتھوں میں بھرا، ایک ایک نپل کو چوستے ہوئے اس کی کمر سہلائی۔ ماہنور نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے اور اس کی چھاتی پر اپنے ہونٹ پھیر دیے۔ اس کے ہاتھ حمزہ کی پینٹ کے اوپر سے اس کے کھڑے لنڈ کو محسوس کر رہے تھے، اور وہ اور گرم ہوتی جا رہی تھی۔
ماہنور نے حمزہ کو صوفے پر دھکیل دیا اور اس کی گود میں بیٹھ گئی۔ اس نے اس کی پینٹ کھولی اور اس کا موٹا لنڈ باہر نکالا، اسے ہاتھ میں لے کر اوپر نیچے کرنے لگی۔ حمزہ نے کہا کہ ماہنور، تمہارا ہاتھ تو جادو ہے، اور ماہنور نے مسکرا کر اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔ وہ اسے گہرائی تک چوس رہی تھی، اپنا سر آگے پیچھے کرتے ہوئے، اور حمزہ کی سانسیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے ماہنور کے بال پکڑے اور بولا کہ بس، اب وہ اور نہیں رک سکتا۔
حمزہ نے ماہنور کو اٹھایا اور بیڈ روم میں لے گیا، اسے بستر پر پٹک دیا۔ اس نے اس کی شلوار پوری کھول دی اور اس کی پینٹی ایک طرف سرکا دی۔ ماہنور کی چوت گیلی تھی اور چمک رہی تھی۔ حمزہ نے اپنی دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈال دیں اور ماہنور نے اپنی کمر اٹھا دی۔ اس نے کہا کہ اور اندر ڈالو، اسے پورا چاہیے۔ حمزہ نے انگلیوں کو تیز چلایا اور اپنے انگوٹھے سے اس کے دانے کو رگڑا، جس سے ماہنور کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج گئیں۔
ماہنور نے کہا کہ اب مت تڑپاؤ، اندر ڈال دو، اور حمزہ نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رگڑا۔ ایک دھکے میں اس نے پورا لنڈ اس کی چوت میں اتار دیا اور ماہنور چلا اٹھی۔ وہ دھیرے دھیرے دھکے لگانے لگا، ہر دھکے کے ساتھ ماہنور کی چوت اس کے لنڈ کو اور کس کر پکڑ رہی تھی۔ ماہنور نے اپنی ٹانگیں حمزہ کی کمر پر لپیٹ لیں اور ہر دھکے پر اپنی کمر اٹھانے لگی۔ اس کے بوبس اوپر نیچے ہل رہے تھے اور حمزہ انہیں پکڑ کر دبا رہا تھا۔
حمزہ نے دھکوں کی رفتار بڑھا دی اور بستر ہلنے لگا۔ ماہنور نے کہا کہ ایسے ہی چودو، وہ برسوں سے اس چدائی کی پیاسی تھی۔ اس کی چوت سے پانی نکلنے لگا اور حمزہ کے لنڈ پر چمکنے لگا۔ ماہنور نے اپنے ناخن حمزہ کی پیٹھ میں گاڑ دیے اور کہا کہ وہ جھڑنے والی ہے۔ حمزہ نے اور زور سے دھکے مارے اور ماہنور زور سے چلا کر جھڑ گئی، اس کی چوت نے حمزہ کے لنڈ کو جکڑ لیا اور اس کا پانی بہ نکلا۔
حمزہ نے پوزیشن بدلی اور ماہنور کو گھوڑی بنا دیا۔ اس نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا اور اس کے کولہوں کو پکڑ کر زور زور سے دھکے مارنے لگا۔ ماہنور کے بوبس آگے پیچھے ہل رہے تھے اور وہ ہر دھکے پر سسک رہی تھی۔ حمزہ نے اس کے بال کھینچے اور اس کی گردن پر کاٹ لیا، جس سے ماہنور اور مشتعل ہو گئی۔ اس نے کہا کہ اسے یہ پوزیشن سب سے زیادہ پسند ہے، کیونکہ اس میں لنڈ سب سے اندر تک جاتا ہے۔
ماہنور نے کہا کہ حمزہ، اب اسے ایک بار اور چاہیے، اور حمزہ نے اسے پلٹ کر مشنری میں پھر سے چودا۔ اس بار دھکے دھیمے اور گہرے تھے، ہر دھکا ماہنور کی چوت کے اندر تک جا رہا تھا۔ حمزہ نے اس کے ہونٹ چومے اور کہا کہ اس کی چوت اتنی ٹائٹ اور گرم ہے کہ وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ ماہنور نے مسکرا کر کہا کہ جب تک اس کا شوہر واپس نہیں آتا، یہ چوت اسی کی ہے۔ حمزہ نے یہ سنتے ہی پوری طاقت سے دھکے مارنے شروع کر دیے۔
آخر حمزہ نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور ماہنور کے پیٹ پر اپنا پانی چھوڑ دیا، گرم دھاریں اس کی ناف تک بہ گئیں۔ ماہنور نے اپنی انگلی سے اس پانی کو اٹھا کر چاٹ لیا اور کہا کہ یہ ذائقہ اسے سب سے زیادہ اچھا لگا۔ حمزہ اس کے برابر میں لیٹ گیا اور دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ماہنور نے کہا کہ آج کی رات نے اسے وہ سب دے دیا جو اس کا شوہر سالوں میں نہیں دے پایا۔
تھوڑی دیر بعد ماہنور حمزہ کے لنڈ پر بیٹھ گئی اور دھیرے دھیرے اپنی چوت میں اتار لیا، اوپر نیچے ہلتے ہوئے اس کے کندھوں کو پکڑ لیا۔ اس کی چوت حمزہ کے لنڈ پر پوری طرح بیٹھ رہی تھی اور ہر اٹھان پر پانی کی آواز آ رہی تھی۔ ماہنور نے کہا کہ اسے یہی پوزیشن سب سے زیادہ پسند ہے، کیونکہ اس میں وہ خود کنٹرول کر سکتی ہے۔ حمزہ نے اس کے نپل چوسے اور ماہنور کی رفتار اور تیز ہو گئی، جب تک وہ دوسری بار جھڑ نہیں گئی۔
حمزہ نے ماہنور کی چوت کو چاٹا، اس کی زبان اس کے دانے پر گھوم رہی تھی، اور ماہنور نے اس کا سر اپنی رانوں کے بیچ دبا لیا۔ اس نے کہا کہ وہ پھر سے جھڑنے والی ہے، اور حمزہ نے چاٹنا جاری رکھا جب تک ماہنور کا جسم کانپ کر پرسکون نہیں ہو گیا۔ رات گہری ہو گئی اور دونوں بستر پر ننگے لیٹے رہے۔ ماہنور نے کہا کہ حمزہ کو اب جانا چاہیے، لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ کل رات پھر آنا۔
حمزہ نے جاتے وقت دروازے پر ماہنور کو پھر سے چوما اور کہا کہ اسلام آباد کے اس فلیٹ میں اسے وہ سب مل گیا جو وہ مہینوں سے ڈھونڈ رہا تھا۔ ماہنور نے دروازہ بند کیا اور اپنے بستر پر لیٹ گئی، اپنی چوت پر ہاتھ رکھ کر مسکرائی۔ اس نے فون پر حمزہ کا میسج دیکھا اور لکھا کہ کل کی رات آج سے بھی لمبی ہوگی۔ ماہنور جانتی تھی کہ اس کی اصلی کہانی اب شروع ہوئی ہے، اور اس کہانی میں شرم کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
صبح جب ماہنور اٹھی تو اس کے جسم پر حمزہ کے دیے نشان صاف دکھ رہے تھے، اور اس کی چوت اب بھی ہلکی سوجن کے ساتھ دھڑک رہی تھی۔ اس نے آئینے میں خود کو دیکھا اور پہلی بار اپنے آپ کو شرماتے ہوئے نہیں، بلکہ ایک چاہت سے بھری عورت کے روپ میں دیکھا۔ اس نے حمزہ کو میسج کیا کہ رات کی کہانی اس کے دماغ سے اتر نہیں رہی، اور حمزہ نے جواب دیا کہ وہ شام کو پھر آئے گا۔ ماہنور نے دن بھر دفتر کا کام کیا، لیکن ہر کام کے بیچ اس کی انگلیاں بار بار اپنی قمیض کے نیچے چلی جاتی تھیں۔
شام کو حمزہ پھر آیا تو ماہنور نے دروازہ کھولتے ہی اسے اندر کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر بوسہ دے دیا۔ اس نے کہا کہ آج وہ کوئی خواب نہیں دیکھے گی، آج وہ خود کہانی لکھے گی۔ حمزہ نے اسے گود میں اٹھا لیا اور بیڈ روم تک لے گیا، جہاں ماہنور نے اپنی شلوار خود اتار دی اور بستر پر لیٹ گئی۔ حمزہ نے اس کی چوت کو پھر سے چاٹا اور پھر اپنا لنڈ اندر ڈال کر اسے تب تک چودا جب تک دونوں ایک ساتھ نہیں جھڑ گئے۔ ماہنور نے اس کی بانہوں میں کہا کہ اب یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔
اگلے دن ماہنور نے حمزہ کو ایک وائس نوٹ بھیجا، جس میں اس نے دھیمی آواز میں کہا کہ اس کی چوت اب بھی اس کے لنڈ کو یاد کر رہی ہے۔ حمزہ نے فورا جواب دیا کہ وہ دوپہر میں ہی آ جائے گا، اور ماہنور نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔ حمزہ آیا تو ماہنور کچن میں کھڑی تھی، اور اس نے پیچھے سے اسے پکڑ لیا۔ اس نے اس کی شلوار اوپر اٹھائی اور کچن کے سلیب سے لگا کر اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا، زور زور سے دھکے مارتے ہوئے۔ ماہنور نے سلیب پکڑ لیا اور کہا کہ اسے یہ خطرناک جگہ سب سے زیادہ پسند ہے۔
کچن میں چدائی کے بعد ماہنور نے حمزہ کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے کر صاف کیا، اسے چوستے ہوئے کہا کہ اب وہ ہر روز اس کا ذائقہ لینا چاہتی ہے۔ حمزہ نے اس کے بوبس دبائے اور کہا کہ ماہنور، تم تو پوری آگ ہو۔ ماہنور ہنس پڑی اور بولی کہ آگ تو اس کے شوہر نے جلائی تھی، لیکن اسے بجھایا حمزہ نے ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چوما اور ماہنور نے کہا کہ آج کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، کل پھر سے لکھی جائے گی۔
رات کو ماہنور نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ آج اسے سمجھ آیا، محبت اور خواہش ایک ساتھ ہوں تو ایک عورت کتنی طاقتور ہو جاتی ہے۔ اس نے لکھا کہ حمزہ صرف اس کا جسم نہیں چاہتا، وہ اس کا دل بھی چاہتا ہے، اور یہی ان کی کہانی کو الگ بناتا ہے۔ ماہنور نے ڈائری بند کر کے سونے گئی، لیکن نیند میں بھی اس نے حمزہ کے لنڈ کا خواب دیکھا، اور صبح اٹھ کر اس کی چوت پھر سے گیلی تھی۔
صبح ماہنور نے حمزہ کو ایک نیا میسج بھیجا، جس میں لکھا تھا کہ آج شام دفتر بند ہونے کے بعد اس کے گھر آؤ، دروازہ کھلا رہے گا۔ حمزہ میسج پڑھ کر مسکرایا، اور شام کو واقعی اس کے گھر گیا۔ ماہنور نے اسے بستر پر کھینچ لیا، اور دونوں نے ساری رات ایک دوسرے کو چودا، کبھی دھیرے، کبھی زور سے، جب تک صبح کی روشنی کھڑکی سے اندر نہیں آئی۔ ماہنور جانتی تھی کہ اس کہانی کا کوئی خاتمہ نہیں ہے۔
اگلی شام حمزہ ایک نئی تصویر لے کر آیا، لیکن ماہنور نے اسے پوری طرح دیکھنے سے پہلے ہی اسے اندر کھینچا اور دروازہ بند کر دیا۔ اس نے کہا کہ آج کہانی تصویر میں نہیں، بستر پر لکھی جائے گی۔ حمزہ نے اس کی قمیض کھولی اور اس کے بوبس کو ہاتھوں میں بھر کر دبانے لگا۔ ماہنور سسک اٹھی اور بولی کہ اسے یہی چاہیے، بغیر کسی دیر کے۔
ماہنور نے حمزہ کو بستر پر دھکیل دیا اور اس کے اوپر بیٹھ گئی، اپنی پینٹی ایک طرف سرکا کر اپنی گیلی چوت اس کے لنڈ پر رکھ دی۔ حمزہ نے اس کی کمر پکڑ لی اور نیچے سے دھکے مارنے لگا، ہر دھکے کے ساتھ ماہنور کی چوت اس کے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ ماہنور نے اپنے بوبس خود دبائے اور کہا کہ اسے یہی رفتار چاہیے، تیز اور گہری۔
حمزہ نے ماہنور کو پلٹا اور پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا، اس کے کولہوں کو پکڑ کر زور زور سے دھکے مارنے لگا۔ اس کے بوبس ہل رہے تھے اور وہ ہر دھکے پر سسک رہی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ جھڑنے والی ہے، اور حمزہ نے رفتار اور بڑھا دی، جب تک ماہنور کا پانی بستر پر بہ نہیں گیا۔
جھڑنے کے بعد ماہنور نے حمزہ کے لنڈ کو منہ میں لے کر چاٹا، اسے صاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ذائقہ اسے ہر شام چاہیے۔ حمزہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور کہا کہ وہ کل پھر آئے گا، ایک اور نئی تصویر کے ساتھ۔ ماہنور ہنس پڑی اور بولی کہ تصویر کوئی بھی ہو، انجام ہمیشہ بستر پر ہی ہوگا۔
رات کو ماہنور نے وہ تصویر ڈائری میں رکھ دی جہاں ان کی کہانی رکی تھی، اور سونے سے پہلے اپنی چوت پر ہاتھ رکھ کر مسکرائی۔ وہ جانتی تھی کہ حمزہ کے ساتھ اس کی ہر شام اب کسی بھی تصویر سے زیادہ دلچسپ ہوگی، اور اگلی شام کا انتظار ہی اس کی سب سے بڑی چاہت بن گیا تھا۔
Readers who enjoyed “Urdu Love Story Sex: اسلام آباد میں ماہنور کی چوت میں حمزہ کا لنڈ, خواب سے حقیقت تک کی چدائی” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔