Urdu Sex Kahani PDF: کراچی میں زینب کی چوت میں دانش کا لنڈ
تو پھر یہ اردو سیکس کہانی PDF آپ خود لے کر آئے ہیں، یا میں یہ سمجھوں کہ آپ صرف بہانہ بنا کر پھر میری دکان میں آ گئے ہیں، دانش صاحب؟ زینب نے کتابوں کے ڈھیر کے پیچھے سے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے کہا اور اس کی آواز میں وہ شرارت تھی جو وہ صرف اس ایک گاہک کے سامنے کھولتی تھی۔ دانش نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل کو میز پر رکھا اور بولا کہ بہانہ ہوتا تو وہ ہر ہفتے ایک نئی کتاب نہ خریدتا، وہ تو بس اس دکان کی خوشبو اور اس کی مالکن کی مسکراہٹ کا عادی ہو گیا ہے۔ زینب ہنس پڑی اور اس کی ہنسی دکان کے پچھلے کمرے تک گونج گئی۔
زینب اٹھائیس سال کی تھی اور کراچی کے ایک پرانے محلے میں اس کی چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی جس میں لکڑی کی الماریاں، پرانی کتابوں کی خوشبو اور ایک پرانا پنکھا تھا جو ہمیشہ ہلکی آواز میں چلتا رہتا تھا۔ دانش تینتیس سال کا تھا، وہ ایک دفتر میں کام کرتا تھا اور ہر جمعرات کی شام وہ اس دکان میں آتا تھا، کبھی کوئی ناول خریدتا تھا اور کبھی صرف زینب سے باتیں کرنے کے لیے رک جاتا تھا۔ دونوں کے درمیان مہینوں سے ایک ایسی کشش پل رہی تھی جس کا نام کسی نے نہیں لیا تھا، لیکن ہر ملاقات میں وہ کشش اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔
آج دانش ایک PDF لے کر آیا تھا جسے وہ پرنٹ کروا کر جلد بندھوانا چاہتا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ ایک پرانی کتاب کا اسکین ہے جو بازار میں نہیں ملتی اور وہ اسے اپنی لائبریری میں رکھنا چاہتا ہے۔ زینب نے فائل کھولی اور صفحات پلٹنے لگی، اس کی انگلیاں کی بورڈ پر چل رہی تھیں اور دانش اس کے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے جان بوجھ کر کہا کہ پرنٹنگ میں وقت لگے گا، اس لیے دانش کو پچھلے کمرے میں بیٹھ کر انتظار کرنا ہوگا جہاں چائے بھی مل جائے گی۔
پچھلا کمرہ چھوٹا تھا، اس میں ایک میز، دو کرسیاں اور کتابوں کے بنڈل رکھے تھے۔ دانش کرسی پر بیٹھ گیا اور زینب نے دروازہ آدھا بند کر دیا تاکہ دکان کی گھنٹی سنائی دیتی رہے لیکن کوئی اندر نہ جھانک سکے۔ اس نے چائے بنائی اور دو کپ لے کر آئی، اس کا دوپٹہ ذرا سا سرک گیا تھا اور دانش کی نظر اس کے گلے اور سینے کے اوپری حصے پر ٹھہر گئی۔ زینب نے یہ نظر محسوس کی اور شرمانے کے بجائے اور قریب آ کر بیٹھ گئی۔
تم ہر بار اتنی دیر کیوں رکتے ہو، دانش؟ زینب نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا اور اس کی آواز دھیمی ہو گئی تھی۔ دانش نے کپ تھاما اور اس کی انگلیاں جان بوجھ کر زینب کی انگلیوں سے ٹکرا گئیں۔ اس نے کہا کہ وہ رکتا اس لیے ہے کیونکہ اس دکان میں اسے وہ سکون ملتا ہے جو کہیں اور نہیں ملتا۔ زینب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور بولی کہ سکون کا بہانہ تو بہت پرانا ہو گیا ہے، اب سچ بولو۔
زینب نے آگے بڑھ کر دانش کا ہاتھ تھاما اور اس کی ہتھیلی پر اپنی انگلی سے ہلکے دائرے بنانے لگی۔ دانش نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے جا کر چوم لیا اور زینب نے ایک گہری سانس لی۔ اس نے کہا کہ دکان بند ہونے میں ابھی وقت ہے لیکن پچھلے کمرے کا دروازہ بند کیا جا سکتا ہے۔ دانش نے سر ہلایا اور زینب اٹھ کر دروازہ بند کر آئی اور کنڈی لگا دی۔ واپس آ کر وہ دانش کی گود میں بیٹھ گئی۔
دانش نے زینب کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ دھیما تھا، پھر وہ گہرا ہوتا گیا اور دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ زینب نے دانش کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں اور اس کی گردن کو چومنے لگی۔ دانش کے ہاتھ اس کی قمیض کے اوپر سے اس کی پیٹھ پر پھر رہے تھے اور زینب اس کے سینے سے لگ کر اس کی دھڑکن محسوس کر رہی تھی۔
زینب نے دانش کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے اور ہر بٹن کے ساتھ اس کے سینے کو چومتی گئی۔ دانش نے اس کی قمیض کو اوپر اٹھایا اور اس کی کمر اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا، اس کی جلد نرم اور گرم تھی۔ زینب نے اپنا دوپٹہ اتار کر کرسی پر رکھ دیا اور دانش کو دیکھ کر مسکرائی۔ دانش نے اس کے سینے کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور ہلکے سے دبایا تو زینب نے اس کے کان میں سرگوشی کی کہ اور زور سے کرو۔
اس کے بعد زینب نے دانش کو کرسی سے اٹھایا اور میز کے سامنے کھڑا کر کے اس کی پینٹ کی زپ کھولی۔ دانش کا لنڈ پہلے ہی سخت ہو چکا تھا اور زینب نے اسے ہاتھ میں پکڑ کر ہلکے سے ہلایا۔ دانش نے اس کے ہاتھ کی گرفت محسوس کی اور اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ زینب نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے لنڈ کو چوما، پھر اس کی ٹوپی کو زبان سے چاٹا اور آہستہ آہستہ اسے اپنے منہ میں لے لیا۔
زینب کا منہ گرم اور نرم تھا، وہ دانش کے لنڈ کو آگے پیچھے کر کے چوس رہی تھی اور دانش اس کے بال پکڑ کر اس کی رفتار کو سنبھال رہا تھا۔ اس نے زینب سے کہا کہ وہ بہت اچھا چوس رہی ہے اور زینب نے مسکرا کر اور گہرائی تک لے لیا۔ دانش کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے زینب کو روک کر اٹھایا کیونکہ وہ ابھی جھڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے زینب کو میز پر بٹھایا اور اس کی شلوار اتارنے لگا۔
زینب نے اپنی شلوار خود اتار دی اور اپنی ٹانگیں کھول کر میز پر بیٹھ گئی۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی اور دانش نے اپنی انگلی سے اسے چھوا تو زینب نے ایک تیز آہ بھری۔ دانش نے دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈالیں اور آہستہ آہستہ آگے پیچھے کرنے لگا، زینب نے میز کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ اس کی چوت سے پانی بہنے لگا اور دانش نے اس کے دانے کو انگوٹھے سے مسلا تو زینب کا جسم کانپنے لگا۔
دانش نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر زینب کی چوت کو چوما اور چاٹا، اس کی زبان اندر تک جا رہی تھی اور زینب نے اس کے سر کو اپنی ٹانگوں سے دبا لیا۔ وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ اور چاٹو، مت رکو، اور دانش نے اس کی بات مانتے ہوئے اور تیز چاٹنا شروع کر دیا۔ زینب کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں اور پھر ایک زوردار لہر کے ساتھ وہ جھڑ گئی، اس کا پانی دانش کے منہ پر لگ گیا اور اس نے سب چاٹ لیا۔
زینب نے دانش کو اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے چوما اور بولی کہ اب اس کی باری ہے، وہ اس کا لنڈ اپنی چوت میں لینا چاہتی ہے۔ دانش نے اسے میز پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس نے اپنے لنڈ کو زینب کی چوت کے منہ پر رگڑا، زینب گیلی تھی اس لیے لنڈ آسانی سے اندر پھسل گیا۔ زینب نے دونوں ہاتھوں سے دانش کی پیٹھ پکڑ لی اور پہلے دھکے کے ساتھ اس نے ایک لمبی آہ بھری۔
دانش نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے، ہر دھکے کے ساتھ اس کا لنڈ زینب کی چوت میں گہرائی تک جا رہا تھا۔ زینب نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور ہر دھکے پر اپنی کمر اوپر اٹھانے لگی۔ میز ہلنے لگی اور کتابوں کے بنڈل ہلکے سے ہل گئے، لیکن دونوں کو اس کی پروا نہیں تھی۔ زینب بار بار کہہ رہی تھی کہ اور زور سے، اور گہرا، اور دانش نے اپنی رفتار بڑھا دی۔
زینب نے دانش کے کان میں کہا کہ وہ پھر جھڑنے والی ہے اور دانش نے اس کی کمر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اور تیز دھکے لگائے۔ ایک تیز لہر کے ساتھ زینب پھر جھڑ گئی، اس کی چوت سکڑی اور اس کا پانی بہنے لگا، دانش نے اس لمحے کو محسوس کیا اور اسے اور کس کر پکڑ لیا۔ زینب نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور بولی کہ دانش نے اسے وہ خوشی دی ہے جس کا وہ خواب دیکھتی تھی۔
اس کے بعد دونوں نے کپڑے پہنے اور زینب نے دکان کا دروازہ کھولا، باہر شام کا وقت تھا اور گلی میں لوگ آ جا رہے تھے۔ دانش نے کہا کہ وہ زینب کے فلیٹ پر شام کو آئے گا، وہاں وہ آرام سے باتیں کریں گے اور پرنٹ کی ہوئی کتاب بھی دیکھیں گے۔ زینب نے ہنس کر کہا کہ فلیٹ پر باتیں کم اور وہ کام زیادہ ہوگا جو ابھی ادھورا رہ گیا ہے۔ دانش نے اس کی بات پر سر ہلایا اور دکان سے نکل گیا۔
شام کو دانش زینب کے فلیٹ پر پہنچا، فلیٹ چھوٹا لیکن صاف ستھرا تھا، اس میں کتابوں کی الماری، ایک صوفہ اور کچن تھا۔ زینب نے دروازہ کھولا تو وہ ایک ہلکی قمیض میں تھی اور اس کے بال کھلے ہوئے تھے۔ اس نے دانش کو اندر بلایا اور دروازہ بند کرتے ہی اس سے لپٹ گئی۔ دانش نے اسے دیوار سے لگا کر چوما اور اس کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر اس کے مموں کو دبایا۔
دانش نے زینب کو اٹھا کر بیڈ روم میں لے گیا اور اسے بستر پر لٹا دیا۔ اس نے زینب کی قمیض اور شلوار اتار دیں اور اس کے ننگے جسم کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ زینب نے مسکرا کر اپنی ٹانگیں کھول دیں اور بولی کہ دیکھنا بند کرو اور اندر آؤ۔ دانش نے اس کی چوت کو چاٹا، اسے انگلیوں سے کھولا اور پھر اپنا لنڈ اس میں ڈال دیا۔ زینب نے بستر کی چادر مٹھی میں پکڑ لی۔
اس بار دانش نے پیچھے سے کرنے کا کہا اور زینب نے گھٹنوں کے بل ہو کر اپنی کمر اوپر اٹھا لی۔ دانش نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا اور دھکے لگانے لگا، اس پوزیشن میں ہر دھکا اور گہرا لگ رہا تھا۔ دانش نے زینب کی کمر کو پکڑا اور اس کے کولہوں پر ہلکے تھپڑ مارے تو زینب نے آہ بھری اور بولی کہ اور کرو۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور دونوں کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔
دانش کی رفتار اب بہت تیز ہو گئی تھی، اس کے دھکے گہرے اور زوردار تھے اور زینب ہر دھکے پر آہ بھر رہی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ بھی جھڑنے والا ہے اور زینب نے اسے کہا کہ وہ اس کی چوت میں ہی جھڑے، وہ یہی چاہتی ہے۔ دانش نے چند اور زوردار دھکے لگائے اور پھر ایک لمبی آہ کے ساتھ اس کی چوت میں جھڑ گیا، اس کا پانی اندر تک بہہ گیا اور زینب نے اسے اپنی باہوں میں کس کر پکڑ لیا۔
رات گئے دونوں نے چائے پی اور پرنٹ کی ہوئی کتاب کے صفحات دیکھے، زینب نے کتاب کو جلد میں باندھ کر دانش کو دی اور دانش نے اسے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔ جاتے وقت دانش نے دروازے پر زینب کو پھر چوما اور کہا کہ اگلی جمعرات وہ پھر آئے گا، اس بار کوئی نیا بہانہ لے کر نہیں بلکہ سیدھا اس سے ملنے۔ زینب نے دروازہ بند کیا اور مسکراتی ہوئی بستر پر لیٹ گئی، اس کے چہرے پر وہ سکون تھا جو صرف پوری ہوئی خواہش کے بعد آتا ہے۔
اگلی جمعرات کو زینب نے دکان معمول سے جلدی بند کر دی اور دانش کے آنے سے پہلے ہی پچھلے کمرے میں چائے بنا کر رکھ دی۔ دانش جیسے ہی اندر آیا، زینب نے دروازہ بند کیا اور اس سے لپٹ گئی۔ اس نے دانش کی گردن کو چوما اور اس کے کان میں کہا کہ آج وہ کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ دانش نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کھینچ لیا اور اس کے ہونٹوں پر ایک گہرا بوسہ دیا۔
زینب نے دانش کو کرسی پر بٹھایا اور اس کی گود میں بیٹھ گئی، اس نے اپنی قمیض اوپر اٹھائی اور دانش کے ہاتھ اپنے مموں پر رکھ دیے۔ دانش نے اس کے مموں کو دبایا اور نپل کو انگلیوں سے مسلا تو زینب نے آہ بھری۔ اس نے دانش کی پینٹ کی زپ کھولی اور اس کے سخت لنڈ کو ہاتھ میں لے کر ہلانے لگی۔ دانش نے اس کی چوت کو شلوار کے اوپر سے ہی مسلا اور زینب گیلی ہو گئی۔
زینب نے شلوار اتار دی اور دانش کے لنڈ پر بیٹھ گئی، لنڈ آہستہ آہستہ اس کی چوت میں اتر گیا اور زینب نے ایک لمبی آہ بھری۔ وہ اوپر نیچے ہونے لگی اور دانش نے اس کی کمر پکڑ کر اس کی رفتار سنبھالی۔ ہر بار جب وہ نیچے آتی، لنڈ اور گہرا جاتا اور زینب کے ممے دانش کے چہرے سے ٹکراتے۔ دانش نے اس کے مموں کو چوسا اور زینب نے اپنی رفتار اور تیز کر دی۔
کچھ دیر بعد زینب نے دانش کو میز پر لٹایا اور خود اس کے اوپر آ کر پھر دھکے لگانے لگی، اس بار وہ دانش کے لنڈ کو اپنی چوت میں کس کر پکڑ رہی تھی۔ دانش نے اس کے کولہوں کو پکڑا اور نیچے سے دھکے لگائے تو دونوں کی آہیں ایک ساتھ نکلنے لگیں۔ زینب نے کہا کہ وہ جھڑنے والی ہے اور دانش نے اسے اور کس کر پکڑ لیا۔
ایک زوردار لہر کے ساتھ زینب جھڑ گئی اور اس کے فورا بعد دانش نے بھی اس کی چوت میں اپنا پانی چھوڑ دیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے اور زینب نے دانش کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا کہ اگلی جمعرات پھر یہی ہوگا، بس تم وقت پر آ جانا۔
Readers who enjoyed “Urdu Sex Kahani PDF: کراچی میں زینب کی چوت میں دانش کا لنڈ” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔