دیسی اردو سیکس اسٹوری: آدھی رات کے کالز، حصہ ۲
فرحان کی آنکھیں فون کی اسکرین پر جمی تھیں اور اسکرین پر اب بھی کال کا ٹائمر چل رہا تھا، نام صاف نظر آ رہا تھا: عمران۔ یہ دیسی اردو سیکس اسٹوری اب اپنے سب سے خطرناک موڑ پر تھی۔ سامنا کا دل سینے میں اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگ رہا تھا فرحان بھی سن لے گا۔ "یہ... یہ عمران کون ہے؟" فرحان کی آواز میں وہ سرد لہجہ تھا جو سامنا نے پندرہ سال کی شادی میں کبھی نہیں سنا تھا۔
سامنا نے جلدی سے فون چھیننے کی کوشش کی مگر فرحان نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ "رونگ نمبر تھا،" سامنا کی آواز کانپ رہی تھی۔ "کوئی غلطی سے لگ گیا تھا، میں تو بس... میں تو نیند میں تھی، تم نے مجھے جگا دیا۔" فرحان نے کال کاٹ دی۔ اسکرین اندھیری ہو گئی مگر اس کا چہرہ اور اندھیرا ہو گیا۔ "رونگ نمبر؟ آدھی رات کو؟ اور تم کان میں فون لگائے ہنس رہی تھیں؟ سامنا، میں بےوقوف نہیں ہوں۔"
سامنا کے ذہن میں طوفان چل رہا تھا۔ عمران کی آواز اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی، اس کی وہ باتیں جو اس نے پچھلے دس دنوں میں اسے بتائی تھیں، وہ سب یادیں جو اس نے اس کے جسم پر لفظوں سے لکھی تھیں۔ اس نے ایک گہری سانس لی۔ "وہ... وہ میرا کالج کا دوست ہے۔ عمران۔ پندرہ سال بعد اچانک فون لگ گیا۔ بس پرانی یادیں تازہ ہو رہی تھیں۔" یہ آدھا سچ تھا، اور آدھا سچ کبھی کبھی پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
فرحان نے فون میز پر پھینکا۔ "پندرہ سال پرانا دوست، اور تم اس سے رات کو ایک بجے بات کرتی ہو؟" اس نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور کھڑکی کی طرف چلا گیا۔ باہر لکھنؤ کی گلی سنسان تھی، صرف ایک کتے کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔ "میں بینک میں رات کی شفٹ کرتا ہوں تاکہ تمہیں ہر سہولت مل سکے، اور تم..." اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
سامنا اس کے پیچھے گئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "فرحان، میری قسم، اس میں ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو۔" جھوٹ اس کے منہ سے اتنی آسانی سے نکلا کہ اسے خود حیرت ہوئی۔ فرحان نے اس کا ہاتھ ہٹا دیا مگر اس کی آنکھوں میں غصے کے ساتھ ساتھ ایک درد بھی تھا۔ "میں کل سے دن کی شفٹ لے لیتا ہوں۔ رات کو میں گھر پر رہوں گا۔" یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا اور مہمانوں والے کمرے میں سو گیا۔
سامنا بستر پر لیٹی رہی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے فون اٹھایا اور عمران کو میسج لکھا: "فرحان نے دیکھ لیا۔" جواب فوراً آیا: "میں کل لکھنؤ پہنچ رہا ہوں۔ صبح گیارہ بجے۔ تم تیار رہنا۔" سامنا نے میسج ڈیلیٹ کر دیا اور فون تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ اس رات اسے نیند نہیں آئی۔ اس کے جسم میں ایک عجیب سی آگ تھی، ڈر اور چاہت کا ملا جلا احساس۔
صبح ناشتے پر فرحان خاموش تھا۔ اس نے اخبار اٹھایا مگر ایک لفظ بھی نہیں پڑھا۔ "میں نے بینک فون کر دیا ہے،" اس نے کہا۔ "آج سے میں رات کو گھر پر ہوں گا۔" سامنا نے چائے کا کپ اٹھایا، اس کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔ "تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟" فرحان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "بھروسہ توڑا نہیں جاتا سامنا، وہ تو بس... ختم ہو جاتا ہے۔"
دس بجے فرحان بینک کے لیے نکلا۔ اس کے جاتے ہی سامنا نے عمران کو کال کی۔ "تم کہاں ہو؟" "لکھنؤ اسٹیشن۔ بس نکل رہا ہوں۔" عمران کی آواز میں وہی گرمی تھی جو سامنا کو دس راتوں سے جگا رہی تھی۔ "کہاں ملو گے؟" سامنا نے پوچھا، اس کی آواز میں ہچکچاہٹ تھی۔ "حضرت گنج کے پاس جو ہوٹل ہے، وہیں۔ کمرہ نمبر 304۔ ایک بجے۔" فون کٹ گیا۔
سامنا نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ چونتیس سال کی عمر، دو بچوں کی ماں، مگر آج اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو کالج کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ اس نے گہرے نیلے رنگ کی ساری پہنی، ہلکا سا پرفیوم لگایا، اور گھر سے نکلتے وقت نوکرانی سے کہا کہ وہ اپنی سہیلی کے گھر جا رہی ہے۔ رکشے میں بیٹھ کر اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
ہوٹل کے کمرے کا دروازہ کھلا اور عمران سامنے کھڑا تھا۔ چھتیس سال کا عمران، دبئی کی دھوپ میں تھوڑا سانولا، مگر وہی مسکراہٹ، وہی آنکھیں۔ "سامنا..." اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اندر کھینچ لیا۔ دروازہ بند ہوتے ہی عمران نے اسے دیوار سے لگا لیا۔ "دس راتوں سے میں صرف تمہاری آواز سنتا آیا ہوں،" اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ "آج میں تمہیں چھونا چاہتا ہوں۔"
سامنا کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ عمران کے ہونٹ اس کی گردن پر تھے، اس کے ہاتھ اس کی کمر پر۔ ساری کا پلو کندھے سے سرک گیا۔ "عمران..." سامنا کی آواز میں التجا تھی۔ عمران نے اسے گود میں اٹھایا اور بستر پر لٹا دیا۔ اس کے ہاتھ سامنا کے بلاؤز کے بٹن کھول رہے تھے، ایک ایک کر کے، آہستہ آہستہ، جیسے وہ اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے یاد رکھنا چاہتا ہو۔
بلاؤز کھلا تو سامنا کی چھاتیاں ننگی ہو گئیں۔ عمران نے ایک لمحے کے لیے انہیں دیکھا، پھر اپنا چہرہ ان میں دبا دیا۔ اس کی زبان سامنا کے نپل کے گرد گھوم رہی تھی، کبھی ہلکے سے کاٹتی، کبھی چوستی۔ سامنا کی کمر بستر سے اٹھ گئی۔ "آہ... عمران..." اس کے ہاتھ عمران کے بالوں میں تھے، اسے اور زور سے دبا رہی تھی۔
عمران کا ہاتھ نیچے سرکا۔ اس نے سامنا کی ساری اوپر کی اور اس کی پینٹی کے اوپر سے اس کی چوت کو سہلایا۔ گیلی پینٹی اس کے لمس کو اور محسوس کرا رہی تھی۔ "تم تو پوری گیلی ہو رہی ہو،" عمران نے مسکرا کر کہا۔ اس نے پینٹی ایک طرف کی اور اپنی انگلی اس کی چوت میں ڈال دی۔ سامنا کی چیخ نکل گئی۔ انگلی اندر باہر ہو رہی تھی، اور عمران کا انگوٹھا اس کے دانے کو رگڑ رہا تھا۔
سامنا کا جسم کانپ رہا تھا۔ "عمران، پلیز... اب اور مت تڑپاؤ۔" عمران نے اپنے کپڑے اتارے۔ اس کا لنڈ تنا ہوا تھا، لمبا اور موٹا۔ سامنا نے اسے ہاتھ میں لیا اور آہستہ سے ہلایا۔ پھر اس نے اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ اس کی زبان لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی، کبھی پورا اندر لیتی، کبھی صرف چوستی۔ عمران کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ "سامنا... تم تو... آہ..."
پھر عمران نے سامنا کو بستر پر سیدھا لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں پورا اندر ڈال دیا۔ سامنا کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "آہہہ..." درد اور مزے کا ملا جلا احساس اس کے پورے جسم میں دوڑ گیا۔ عمران آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا، ہر جھٹکے کے ساتھ اس کی رفتار بڑھ رہی تھی۔
کمرے میں صرف ان کی سانسوں اور بستر کے چرچراہٹ کی آواز تھی۔ عمران نے سامنا کو پلٹا اور اسے گھوڑی بنا دیا۔ پیچھے سے اس نے ایک زوردار جھٹکا مارا۔ سامنا کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ "ہاں... ایسے ہی... اور زور سے..." اس کے کولہے ہل رہے تھے، عمران کے ہاتھ اس کی چھاتیوں کو دبا رہے تھے۔ ہر دھکا اسے پاگل کر رہا تھا۔
پھر عمران نے اسے اپنی گود میں بٹھایا۔ سامنا اس کے لنڈ پر بیٹھی تھی، خود اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، پسینہ اس کے ماتھے پر تھا۔ "میں... میں آنے والی ہوں..." اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا۔ ایک زوردار لہر اس کے جسم میں دوڑی اور وہ چیختی ہوئی جھڑ گئی۔ اس کا پانی بہہ نکلا۔
عمران نے بھی اپنی رفتار بڑھا دی۔ "میں بھی... آہ..." اس نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور سامنا کے پیٹ پر اپنا پانی چھوڑ دیا۔ دونوں ہانپ رہے تھے۔ عمران سامنا کے پاس لیٹ گیا اور اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ "میں تمہیں دبئی لے جانا چاہتا ہوں،" اس نے کہا۔ "یہ چھپ چھپ کر ملنا... میں اس سے تھک گیا ہوں۔" سامنا کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
اسی لمحے دروازے پر زوردار دستک ہوئی۔ دونوں کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ "سامنا! دروازہ کھولو! میں جانتا ہوں تم اندر ہو!" فرحان کی آواز تھی۔ سامنا کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ عمران نے جلدی سے چادر اٹھائی۔ "پچھلا دروازہ..." اس نے سرگوشی کی۔ مگر فرحان نے ہوٹل کے عملے کے ساتھ ماسٹر کی سے دروازہ کھول دیا تھا۔
فرحان کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی نظریں بستر پر پڑیں، ننگے جسموں پر، بکھرے کپڑوں پر۔ اس کا چہرہ پہلے سرخ ہوا، پھر سفید۔ "تو یہ ہے تمہارا کالج کا دوست،" اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ "دس راتوں کی کالوں کا راز یہ تھا۔" سامنا نے چادر اپنے گرد لپیٹی۔ "فرحان، میری بات سنو..." "بس!" فرحان نے ہاتھ اٹھایا۔ "میں نے سب سن لیا۔ بینک سے میں نے تمہارا پیچھا کیا تھا۔"
عمران نے اپنی شرٹ پہنی۔ "دیکھو بھائی، میں..." "تم چپ رہو!" فرحان نے اس کی طرف دیکھا۔ "تمہیں شرم نہیں آتی؟ کسی کی بیوی کے ساتھ؟" عمران نے سامنا کی طرف دیکھا۔ "شرم اس بات کی کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں؟ پندرہ سال سے کرتا آیا ہوں۔" کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف سامنا کی سسکیوں کی آواز تھی۔
فرحان نے ایک لفافہ میز پر پھینکا۔ "طلاق کے کاغذات۔ میں نے آج صبح ہی وکیل سے بات کر لی تھی۔" سامنا نے چونک کر اسے دیکھا۔ "تم... تم پہلے سے جانتے تھے؟" "میں نے تمہارے فون میں میسج دیکھے تھے۔ ڈیلیٹ کرنے سے پہلے۔" فرحان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "میں نے سوچا تھا شاید میں غلط ہوں۔ مگر آج... آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔"
سامنا نے کاغذات اٹھائے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے فرحان کی طرف دیکھا، پھر عمران کی طرف۔ پندرہ سال کی شادی، دو بچے، ایک گھر۔ اور دوسری طرف وہ آواز جس نے اسے دس راتوں سے جگایا تھا، وہ لمس جس نے آج اسے پاگل کر دیا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور قلم اٹھایا۔
دستخط کرتے وقت اس کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکا۔ پھر اس نے اپنا نام لکھ دیا۔ فرحان نے کاغذات اٹھائے اور دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازے پر وہ رکا۔ "بچے... بچے میرے پاس رہیں گے۔" سامنا نے سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ فرحان چلا گیا۔
کمرے میں صرف سامنا اور عمران رہ گئے۔ عمران نے اس کے آنسو پونچھے۔ "تم نے صحیح فیصلہ کیا۔" سامنا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "میں نے فیصلہ نہیں کیا عمران۔ میں نے بس... سچ کا ساتھ دیا۔" اس نے اپنی ساری ٹھیک کی۔ باہر لکھنؤ کی دھوپ تیز تھی۔ عمران نے اس کا ہاتھ تھاما۔ "چلو۔ نئی زندگی شروع کرتے ہیں۔" سامنا نے ایک آخری بار کمرے کو دیکھا، پھر اس کا ہاتھ تھام لیا اور باہر نکل گئی۔ آدھی رات کے کالز اب ختم ہو چکے تھے، کیونکہ اب انہیں چھپنے کی ضرورت نہیں تھی۔
ہوٹل کے کمرے سے نکلنے کے بعد عمران سامنا کو اپنے فلیٹ پر لے گیا۔ دروازہ بند ہوتے ہی سامنا نے اسے دیوار سے لگا لیا۔ "آج رات کوئی ڈر نہیں، کوئی چھپنا نہیں،" اس نے کہا۔ اس کے ہاتھ عمران کی شرٹ کے بٹن کھول رہے تھے۔
عمران نے اس کی ساری کا پلو کھینچا اور اسے گود میں اٹھا کر بیڈروم میں لے گیا۔ بستر پر لٹاتے ہی اس نے اس کا بلاؤز پھاڑ دیا۔ بٹن فرش پر بکھر گئے۔ "آج میں تمہیں ویسے پیار کروں گا جیسے ان دس راتوں میں فون پر بتاتا تھا،" اس نے سرگوشی کی۔
اس کی زبان سامنا کے پورے جسم پر گھوم رہی تھی۔ گردن سے شروع ہو کر چھاتیوں تک، پھر پیٹ سے ہوتی ہوئی اس کی چوت تک۔ اس نے اپنی زبان اس کی چوت میں ڈال دی اور چاٹنے لگا۔ سامنا کی ٹانگیں اس کے کندھوں پر تھیں، اس کا جسم اینٹھ رہا تھا۔ "آہ... عمران... وہیں... ہاں وہیں..."
سامنا کا پانی اس کے منہ میں بہہ رہا تھا اور وہ پیے جا رہا تھا۔ پھر وہ اوپر آیا اور اپنا لنڈ اس کی چوت میں ایک ہی جھٹکے میں ڈال دیا۔ اس بار کوئی جلدی نہیں تھی۔ آہستہ آہستہ، گہرے جھٹکے، ہر دھکے کے ساتھ سامنا کا نام۔
پھر سامنا نے اسے نیچے کیا اور خود اوپر آ گئی۔ وہ اس کے لنڈ پر بیٹھی اچھل رہی تھی، اس کے بال اس کے چہرے پر تھے۔ دونوں کا پسینہ ایک ہو رہا تھا۔ "میں تمہاری ہوں، صرف تمہاری،" وہ چیخ رہی تھی۔ عمران نے اس کے کولہے پکڑے اور نیچے سے زور زور سے دھکے مارنے لگا۔
دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ سامنا کی چیخ پورے فلیٹ میں گونجی۔ وہ اس کی چھاتی پر گر پڑی، دونوں ہانپ رہے تھے۔ باہر لکھنؤ کی رات گہری ہو رہی تھی، مگر اس کمرے میں اب کوئی کال نہیں آنی تھی۔ اب وہ ایک دوسرے کے پاس تھے، ہمیشہ کے لیے۔
Readers who enjoyed “دیسی اردو سیکس اسٹوری: آدھی رات کے کالز، حصہ ۲” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔