اردو ناٹی کہانیاں: ماہ نور کی مشاعرے والی رات
تم تو ایسے شعر سناتے ہو جیسے کوئی اردو ناٹی کہانیاں سنا رہا ہو، ماہ نور نے ہنستے ہوئے کہا اور دانش کے ہاتھ سے مائیک چھین لیا۔
لکھنؤ کے اس چھوٹے سے مشاعرے میں بتیاں مدھم تھیں اور سامعین کی سانسیں شعر کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ دانش نے مسکرا کر جواب دیا کہ شعر تو بہانہ ہے، اصل کہانی تو تمہاری آنکھوں میں چھپی ہے۔ ماہ نور کی ہنسی رک گئی، اس کا دل زور سے دھڑکا اور اس نے مائیک واپس کرتے ہوئے اس کی انگلیوں کو جان بوجھ کر چھو لیا۔
ماہ نور انتیس سال کی اردو ٹیچر تھی، شہر کے ایک پرانے اسکول میں پڑھاتی تھی اور شام کو مشاعروں میں اپنی غزلیں سناتی تھی۔ دانش اکتیس سال کا ریڈیو ہوسٹ تھا، اس کی آواز شہر کی راتوں میں گونجتی تھی اور لڑکیاں اس کی آواز پر فدا تھیں۔ دونوں کی ملاقات اسی مشاعرے میں ہوئی تھی، مگر آج کی رات کچھ الگ تھی، آج ان کی نظریں ایک دوسرے سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔
مشاعرہ ختم ہونے کے بعد دانش نے ماہ نور کو کافی کی پیشکش کی۔ وہ دونوں ایک چھوٹے سے کیفے میں بیٹھ گئے، کھڑکی کے پاس والی میز پر، جہاں باہر کی ٹھنڈی ہوا ان کے چہروں کو چھو رہی تھی۔ دانش نے کہا کہ تمہاری آواز میں ایک ایسی گرمی ہے جو ریڈیو پر بھی نہیں ملتی۔ ماہ نور نے جواب دیا کہ تمہاری آواز سن کر تو اچھی خاصی لڑکیاں رات کو جاگتی ہیں۔
کافی کے دوران دانش نے اپنا فون نکالا اور ماہ نور کو اپنا نیا پروگرام سنایا، ایک رات کا شو جس میں لوگ اپنی محبت کی کہانیاں بھیجتے ہیں۔ ماہ نور نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر میں نے اپنی کہانی بھیج دی تو تمہارا شو بند ہو جائے گا۔ دانش نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ میں چاہتا ہوں تم اپنی کہانی مجھے خود سناؤ، براہ راست، بغیر کسی مائیک کے۔
ماہ نور کے گال سرخ ہو گئے۔ اس نے ہاتھ نہیں چھڑایا، بلکہ اس کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ میں دبا لیا۔ اس نے دھیرے سے کہا کہ کہانی سنانے کے لیے تنہائی چاہیے، اور تنہائی میرے فلیٹ میں ملے گی۔ دانش کی آنکھوں میں چمک آ گئی، اس نے بل ادا کیا اور دونوں ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر ماہ نور کے فلیٹ کی طرف چل پڑے۔
فلیٹ کا دروازہ کھلتے ہی ماہ نور نے دانش کو اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔ کمرے میں مدھم روشنی تھی، کتابوں کی خوشبو تھی اور کھڑکی سے چاندنی اندر آ رہی تھی۔ دانش نے ماہ نور کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ ماہ نور نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور ایک لمبا، گہرا بوسہ لیا۔
بوسہ اتنا شدید تھا کہ دونوں کی سانسیں پھول گئیں۔ دانش نے ماہ نور کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، اور ہر بٹن کے ساتھ اس کی گردن پر بوسے دیتا گیا۔ ماہ نور نے اس کی قمیض کو اس کے کندھوں سے اتار دیا اور اس کے سینے پر اپنے ہاتھ پھیرے۔ اس کا سینہ گرم تھا، مضبوط تھا، اور ماہ نور کو اس کی گرمی اپنی انگلیوں میں محسوس ہو رہی تھی۔
ماہ نور نے دانش کی پینٹ کی بیلٹ کھولی اور اسے نیچے سرکا دیا۔ دانش کا لنڈ سخت ہو چکا تھا، لمبا اور گرم، اور ماہ نور نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس نے دھیرے دھیرے اسے سہلایا، اوپر سے نیچے تک، اور دانش نے ایک گہری آہ بھری۔ ماہ نور نے مسکرا کر کہا کہ تمہاری آواز تو ریڈیو پر بھی اتنی سیکسی نہیں لگتی جتنی اب لگ رہی ہے۔
دانش نے ماہ نور کو اٹھا کر بیڈ پر لٹا دیا اور اس کی شلوار اتار دی۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی، اس کے بالوں میں نمی تھی اور اس کی خوشبو کمرے میں پھیل رہی تھی۔ دانش نے اپنی انگلیاں اس کی چوت پر پھیریں، دھیرے دھیرے، اور ماہ نور نے اپنی کمر کو اوپر اٹھا لیا۔ اس نے کہا کہ اور اندر، دانش، اور اندر کرو۔
دانش نے دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈال دیں اور اندر باہر کرنے لگا۔ ماہ نور کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں، اس نے دانش کے بالوں کو پکڑ لیا اور اس کے سر کو اپنی طرف کھینچا۔ دانش نے اس کے بوبز کو چوسنا شروع کیا، ایک کو منہ میں لے کر چوستے ہوئے دوسرے کو ہاتھ سے دباتے ہوئے۔ ماہ نور کا جسم کانپنے لگا، اس کی ٹانگیں دانش کی کمر کے گرد لپٹ گئیں۔
ماہ نور نے دانش کو اپنے اوپر کھینچ لیا اور کہا کہ اب اور انتظار نہیں ہوتا، اپنا لنڈ اندر ڈالو۔ دانش نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور دھیرے سے اندر دھکیلا۔ ماہ نور نے ایک لمبی آہ بھری، اس کی چوت نے دانش کے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا۔ دانش نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز۔
ہر دھکے کے ساتھ ماہ نور کی آواز بلند ہوتی گئی۔ اس نے دانش کی پیٹھ پر اپنے ناخن گاڑ دیے اور کہا کہ اور تیز، دانش، اور تیز کرو، مجھے پورا چاہیے۔ دانش نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور گہرے دھکے لگانے لگا۔ ماہ نور کی چوت سے پانی بہنے لگا، اس کا جسم پسینے سے بھیگ گیا اور اس کی آہیں اب چیخوں میں بدل رہی تھیں۔
دانش نے اسے پلٹا کر گھوڑی بنا دیا۔ ماہ نور نے اپنے ہاتھ بیڈ پر ٹکا دیے اور اپنی کمر کو نیچے جھکا لیا۔ دانش نے پیچھے سے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا اور زور زور سے دھکے لگانے لگا۔ ماہ نور کے بوبز ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے، اس کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ اس نے کہا کہ ہاں، ایسے ہی، رکنا مت۔
کچھ دیر بعد ماہ نور کا جسم اکڑ گیا، اس کی چوت نے دانش کے لنڈ کو زور سے بھینچ لیا اور وہ زور سے چلا اٹھی۔ اس کا پانی نکل گیا، اس کا جسم کانپتا ہوا بیڈ پر گر گیا۔ دانش نے رکنے کے بجائے دھکے جاری رکھے، اس کی سانسیں تیز تھیں اور اس کا لنڈ اب پھٹنے کے قریب تھا۔
ماہ نور نے پلٹ کر دانش کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا اور زور زور سے چوسنے لگی۔ اس کی زبان دانش کے لنڈ کے اوپر گھوم رہی تھی، اس کے ہاتھ اس کے ٹٹوں کو سہلا رہے تھے۔ دانش نے اس کے بالوں کو پکڑ لیا اور کہا کہ بس، اب نکلنے والا ہے۔ ماہ نور نے اور تیز چوسا، اور دانش کا پانی اس کے منہ میں نکل گیا۔ اس نے مسکرا کر اسے نگل لیا اور کہا کہ تمہاری آواز سے زیادہ تمہارا ذائقہ اچھا ہے۔
دونوں بیڈ پر ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹ گئے، پسینے سے بھیگے ہوئے، سانسیں بھر رہے تھے۔ دانش نے ماہ نور کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا کہ یہ کہانی تو میرے شو سے بھی زیادہ گرم نکلی۔ ماہ نور نے ہنس کر کہا کہ یہ تو صرف پہلا حصہ تھا، اگلی بار میں تمہیں اپنی پوری ڈائری سناؤں گی۔
اگلی شام دانش نے ماہ نور کو اپنے ریڈیو اسٹوڈیو بلایا، رات کے شو کے بعد، جب اسٹوڈیو خالی ہوتا ہے۔ ماہ نور سرخ رنگ کی ساڑھی پہن کر آئی، اس کے بال کھلے تھے اور اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ اسٹوڈیو میں صرف ایک مدھم بتی جل رہی تھی، مائیک کے سامنے والی کرسی خالی تھی اور شیشے کے اس پار کنٹرول روم اندھیرے میں ڈوبا تھا۔
دانش نے دروازہ بند کیا اور ماہ نور کو مائیک والی کرسی پر بٹھا دیا۔ اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی کہ آج تم اپنی کہانی اس مائیک پر سناؤ گی، مگر ریکارڈنگ بند ہوگی۔ ماہ نور نے مائیک کو اپنے ہونٹوں کے قریب کیا اور دھیرے سے کہا کہ آج کی کہانی میں ایک لڑکی ہے جو اپنی آواز سے ایک مرد کو پاگل کر دیتی ہے۔ دانش نے اس کی ساڑھی کا پلّو ہٹا دیا اور اس کے پیٹ پر بوسے دینے لگا۔
ماہ نور نے مائیک پر اپنی آہیں سنانی شروع کر دیں، دھیرے دھیرے، جیسے کوئی کہانی سنا رہی ہو۔ دانش نے اس کی ساڑھی اوپر سرکا دی اور اس کی چوت پر اپنی زبان پھیر دی۔ ماہ نور نے مائیک کو کس کر پکڑ لیا، اس کی آواز کانپ رہی تھی اور اس کی کہانی اب آہوں میں بدل رہی تھی۔ اس نے کہا کہ کہانی کا اگلا حصہ یہ ہے کہ لڑکی اب چیخنے والی ہے۔
دانش نے اپنی زبان اس کی چوت کے اندر گھمائی، اوپر نیچے، اور ماہ نور کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے مائیک پر ایک لمبی آہ بھری اور کہا کہ یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوگی۔ دانش نے کھڑے ہو کر اپنا لنڈ نکالا اور ماہ نور کو کرسی پر ہی بیٹھے بیٹھے اپنے اوپر بٹھا لیا۔ ماہ نور نے اس کے لنڈ پر بیٹھ کر اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا، اس کے بوبز دانش کے چہرے کے سامنے ہل رہے تھے۔
دانش نے اس کے بوبز کو اپنے منہ میں لے لیا اور چوستے ہوئے اس کی کمر کو پکڑ لیا۔ ماہ نور کی رفتار تیز ہوتی گئی، اس کی چوت سے پانی بہہ کر دانش کی ٹانگوں پر آ رہا تھا۔ اس نے دانش کے کان میں کہا کہ تمہاری آواز اب کہاں گئی، اب تو صرف میری آواز گونج رہی ہے۔ دانش نے جواب میں اسے زور سے اپنی طرف کھینچا اور نیچے سے گہرے دھکے لگانے لگا۔
ماہ نور کا جسم پھر سے اکڑ گیا، اس نے مائیک کے سامنے ایک زوردار آہ بھری اور اس کا پانی نکل گیا۔ دانش نے اسے کرسی سے اٹھا کر میز پر لٹا دیا اور اس کی ٹانگیں کھول کر پھر سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا۔ میز پر پڑے کاغذ بکھر گئے، ایک گلاس گر کر ٹوٹ گیا، مگر دونوں کو کسی چیز کی پروا نہیں تھی۔
دانش کے دھکے اب بے قابو ہو رہے تھے، اس کی سانسیں پھول رہی تھیں اور ماہ نور کی آہیں اسٹوڈیو کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں۔ آخر میں دانش نے ایک زوردار دھکا لگایا اور اس کا پانی ماہ نور کی چوت میں نکل گیا۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے میز پر لیٹ گئے، پسینے میں بھیگے، ہانپتے ہوئے۔
ماہ نور نے دانش کے کان میں سرگوشی کی کہ اگلی کہانی میں مائیک آن ہوگا، اور پورا شہر سنے گا۔ دانش نے ہنس کر کہا کہ پھر تو مجھے اپنا شو بند کرنا پڑے گا۔ دونوں کی ہنسی اسٹوڈیو میں گونجی، اور باہر شہر کی رات اپنی رفتار سے چلتی رہی۔
تیسری رات ماہ نور نے دانش کو اپنی ڈائری دی اور کہا کہ آج تم پڑھو گے نہیں، سنو گے۔ وہ بستر پر بیٹھ گئی، ڈائری کھولی اور اپنی آواز میں پڑھنے لگی، وہ صفحہ جس میں اس نے پہلی ملاقات کی رات کے بارے میں لکھا تھا۔ دانش نے اس کی ٹانگوں پر ہاتھ رکھا اور دھیرے دھیرے اوپر کی طرف بڑھنے لگا، جبکہ ماہ نور پڑھتی رہی، اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
ڈائری کے ہر جملے کے ساتھ دانش کے ہاتھ آگے بڑھتے گئے۔ اس نے ماہ نور کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے بوبز کو چومنے لگا، جبکہ ماہ نور نے پڑھنا جاری رکھا، اب اس کی آواز آہوں میں ٹوٹ رہی تھی۔ جب وہ اس جملے پر پہنچی جس میں اس نے لکھا تھا کہ دانش کا لنڈ کیسا لگا تھا، تو دانش نے اس کی شلوار اتار دی اور اپنی زبان اس کی چوت پر پھیر دی۔
ماہ نور نے ڈائری بند کر کے ایک طرف رکھ دی اور دانش کو اپنے اوپر کھینچ لیا۔ اس نے کہا کہ اب ڈائری کی اگلی لائن تم لکھو گے، اپنے لنڈ سے۔ دانش نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا اور دھیرے دھیرے دھکے لگانے لگا، جبکہ ماہ نور نے اس کے کان میں وہ جملے کہے جو اس نے ڈائری میں کبھی نہیں لکھے تھے۔ دونوں کی سانسیں تیز ہوتی گئیں، اور جب ماہ نور کا پانی نکلا تو اس نے دانش کے ہاتھ میں ڈائری تھما دی اور کہا کہ اب اس رات کا صفحہ تم لکھنا۔
صبح کو ماہ نور نے چائے بنائی اور دانش کو بالکونی میں بلا لیا، جہاں صبح کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ دانش نے ڈائری کھولی اور ایک اور صفحہ بلند آواز سے پڑھنا شروع کر دیا، وہ صفحہ جس میں ماہ نور نے لکھا تھا کہ وہ چاہتی ہے کہ کوئی اسے صبح کے وقت بھی ویسے ہی چاہے جیسے رات کو چاہتا ہے۔ ماہ نور نے اس کے ہاتھ سے ڈائری لے لی، اسے میز پر رکھا اور دانش کو کرسی پر بٹھا کر اس کی گود میں بیٹھ گئی۔ صبح کی روشنی میں، چائے ٹھنڈی ہوتی گئی، اور دونوں کی سانسیں پھر سے تیز ہوتی گئیں۔
Readers who enjoyed “اردو ناٹی کہانیاں: ماہ نور کی مشاعرے والی رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔