Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو بالغ کہانیاں: زینب اور حمزہ، حصہ 1

S
13 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

تم پھر اسی فون پر لگی ہو، زینب نے آصف کی آواز پر چونک کر سر اٹھایا، اور کچن کی میز پر رکھا ہوا چائے کا کپ ہل گیا۔ آصف دروازے پر کھڑا تھا، اس کی ٹائی ڈھیلی تھی، اور اس کی آنکھوں میں وہی پرانی تھکن تھی جو اب ہر شام اس کے چہرے پر رہتی تھی۔ زینب نے فون الٹا کر رکھ دیا، مگر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی، کیونکہ اسکرین پر حمزہ کا نام تھا۔

میں فون پر نہیں لگی، میں صرف ایک پرانا میسج پڑھ رہی تھی، زینب نے کہا، اور اس کی آواز میں وہ تیزی تھی جو بحث کو آگے بڑھاتی ہے۔ آصف نے ہنس کر کہا کہ پرانے میسج بھی اب تمہیں مجھ سے زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ زینب نے جواب دیا کہ تم تو گھر آتے ہی شکایت شروع کر دیتے ہو، کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ میرا دن کیسا گزرا۔

بحث اسی طرح بڑھتی گئی، کبھی آصف کے دیر سے آنے پر، کبھی زینب کی اسکول کی نوکری پر، کبھی اس فلیٹ کی تنگی پر جس میں دونوں رہتے تھے۔ زینب نے کہا کہ اسے لگتا ہے کہ ان کی شادی اب صرف ایک روٹین بن گئی ہے، صبح کا ناشتہ، شام کی چائے، اور رات کو ایک دوسرے سے منہ موڑ کر سونا۔ آصف خاموش ہو گیا، پھر بولا کہ وہ تھکا ہوا ہے، اور بحث کل پر چھوڑ کر کمرے میں چلا گیا۔

زینب کچن میں اکیلی رہ گئی، اور اس نے پھر فون اٹھایا۔ حمزہ کا میسج تھا، میں کراچی واپس آ گیا ہوں، اور تمہاری بلڈنگ میں ہی ایک فلیٹ لے لیا ہے۔ زینب کے ہاتھ کانپ گئے، کیونکہ حمزہ یونیورسٹی کا وہ دوست تھا جس کے ساتھ اس کی دوستی کبھی صرف دوستی نہیں رہی تھی۔ اس نے میسج کا جواب لکھا، پھر مٹا دیا، پھر دوبارہ لکھا، کب مل رہے ہو۔

اگلی شام زینب اسکول سے واپس آئی تو لفٹ کے سامنے حمزہ کھڑا تھا، ہاتھ میں ایک ڈبہ، اور چہرے پر وہی مسکراہٹ جو آٹھ سال پہلے ہوا کرتی تھی۔ حمزہ نے کہا کہ وہ سامنے والا فلیٹ لے رہا ہے، اور اسے ایک کپ چائے کی ضرورت ہے۔ زینب نے ہنس کر کہا کہ چائے تو تمہیں اب بھی اسی طرح چاہیے، بغیر چینی کے، اور حمزہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ تمہیں اب بھی یاد ہے۔

زینب نے اسے اپنے فلیٹ میں بلایا، اور کچن میں چائے بناتے ہوئے اس کی نظریں حمزہ پر ٹکی رہیں۔ حمزہ اب پہلے سے زیادہ مضبوط لگتا تھا، اس کی قمیص کی آستینیں اوپر تھیں، اور اس کے ہاتھوں پر کیمرے کی گرفت کی نشان تھے۔ وہ فوٹوگرافر بن گیا تھا، اور اس نے بتایا کہ وہ شہر کی گلیوں کی تصویریں لیتا ہے، اور رات کو اکثر اکیلا گھومتا ہے۔

چائے پیتے ہوئے دونوں نے یونیورسٹی کے دن یاد کیے، وہ لائبریری، وہ بارش والی شام، وہ آخری دن جب حمزہ نے زینب سے کچھ کہنا چاہا تھا اور زینب نے بات بدل دی تھی۔ حمزہ نے آہستہ سے کہا کہ اس نے وہ بات آج تک نہیں کہی، اور زینب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور محسوس کیا کہ اس کے جسم میں ایک پرانی آگ پھر سے جل اٹھی ہے۔

حمزہ نے زینب کا ہاتھ پکڑا، اور زینب نے ہاتھ نہیں چھڑایا۔ اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا، اور اسے لگا کہ آصف کی موجودگی کے باوجود اس گھر میں وہ کتنی اکیلی تھی۔ حمزہ نے اس کے ہاتھ کی پشت کو چوما، اور زینب نے آنکھیں بند کر لیں، کیونکہ اس لمس میں وہ سب کچھ تھا جو اسے مہینوں سے نہیں ملا تھا۔

اگلے دن آصف نے بتایا کہ اسے نائٹ شفٹ پر جانا ہے، اور زینب نے خود کو یہ سوچتے ہوئے پکڑا کہ اس خبر پر اسے خوشی ہوئی ہے۔ اس نے حمزہ کو میسج کیا کہ آج رات وہ اکیلی ہوگی، اور حمزہ نے صرف ایک لفظ لکھا، آ رہا ہوں۔ زینب نے شام کو اچھا کھانا بنایا، اپنے بال کھولے، اور ایک ہلکی سی قمیص پہنی جس میں اس کا جسم صاف نظر آتا تھا۔

رات کو آٹھ بجے دروازے کی گھنٹی بجی، اور حمزہ اندر آیا، ہاتھ میں پھول نہیں، بلکہ ایک کیمرہ تھا۔ اس نے کہا کہ وہ زینب کی ایک تصویر لینا چاہتا ہے، ایسی تصویر جو صرف اس کے لیے ہو۔ زینب نے شرما کر کہا کہ وہ اب ویسی نہیں رہی، اور حمزہ نے جواب دیا کہ وہ اب پہلے سے زیادہ خوبصورت لگتی ہے۔

حمزہ نے کیمرہ میز پر رکھا، اور زینب کو اپنے قریب کھینچ لیا۔ اس نے زینب کے ہونٹوں کو چوما، پہلے آہستہ، پھر زور سے، اور زینب نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسے اور قریب کر لیا۔ زینب کے منہ سے ایک آہ نکلی، اور حمزہ نے اس کی کمر کو سہلاتے ہوئے اسے صوفے کی طرف لے گیا۔

صوفے پر حمزہ نے زینب کی قمیص کے بٹن کھولے، ایک ایک کر کے، اور ہر بٹن کے ساتھ زینب کی سانس تیز ہوتی گئی۔ اس نے زینب کے سینے کو چوما، اس کے بوبز کو ہاتھوں میں لیا، اور نپلز کو زبان سے سہلایا۔ زینب نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالے، اور بولی کہ اور زور سے کرو، مجھے یہی چاہیے تھا۔

حمزہ نے زینب کی شلوار اتاری، اور اس کی چوت کو دیکھ کر رک گیا۔ زینب کی چوت گیلی ہو چکی تھی، اور اس کی ٹانگیں خود بخود کھل گئیں۔ حمزہ نے اپنی انگلیوں سے اسے سہلایا، پہلے آہستہ، پھر تیز، اور زینب نے صوفے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کے منہ سے مسلسل آہیں نکل رہی تھیں، اور اس کا جسم حمزہ کے ہاتھوں کی طرف اٹھ رہا تھا۔

زینب نے حمزہ کی پینٹ کھولی، اور اس کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ سخت اور گرم تھا، اور زینب نے اسے ہاتھ میں لے کر آہستہ سے ہلایا۔ پھر اس نے اسے منہ میں لیا، اور حمزہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر آہ بھری۔ زینب کی زبان حمزہ کے لنڈ پر گھوم رہی تھی، اور حمزہ بار بار کہہ رہا تھا کہ بس، اور مت روکو۔

حمزہ نے زینب کو اٹھایا، اور اسے صوفے پر لٹا کر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس نے اپنا لنڈ زینب کی چوت پر رکھا، اور آہستہ سے اندر دھکیلا۔ زینب نے ایک لمبی آہ بھری، کیونکہ اسے یہ بھراؤ مہینوں بعد ملا تھا۔ حمزہ نے دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز اور گہرے، اور زینب کی آوازیں پورے فلیٹ میں گونجنے لگیں۔

زینب نے حمزہ کی پیٹھ کو ناخنوں سے پکڑا، اور اس کی کمر ہر دھکے کے ساتھ اوپر اٹھتی گئی۔ حمزہ نے اس کے بوبز کو چومتے ہوئے دھکے جاری رکھے، اور زینب نے کہا کہ اور تیز کرو، مجھے پورا چاہیے۔ حمزہ نے اس کی بات مان لی، اور صوفہ ان دونوں کے زور سے ہلنے لگا۔

کچھ دیر بعد زینب کا جسم کانپنے لگا، اور اس کی چوت نے حمزہ کے لنڈ کو مضبوطی سے جکڑ لیا۔ اس نے چیخ کر کہا کہ میں جھڑ رہی ہوں، اور اس کا پانی نکل گیا۔ حمزہ نے بھی اپنی رفتار بڑھا دی، اور چند گہرے دھکوں کے بعد اس کا پانی بھی زینب کے اندر نکل گیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے، اور زینب نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ہیں۔

اس رات کے بعد زینب اور حمزہ کا ملنا معمول بن گیا۔ آصف جب نائٹ شفٹ پر جاتا، حمزہ سامنے والے فلیٹ سے آ جاتا، اور دونوں کبھی کچن میں، کبھی بیڈروم میں، ایک دوسرے میں کھو جاتے۔ زینب نے خود کو پہلے سے زیادہ زندہ محسوس کیا، اس کی چال بدل گئی، اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی، اور آصف نے بھی ایک شام پوچھا کہ تم آج کل اتنی خوش کیوں رہتی ہو۔

زینب نے ہنس کر جواب دیا کہ اسکول میں سب اچھا چل رہا ہے، مگر اس کے دل میں ڈر بھی تھا، کیونکہ جھوٹ جتنا بڑھتا ہے، پکڑے جانے کا ڈر بھی اتنا ہی بڑھتا ہے۔ حمزہ نے اسے سمجھایا کہ وہ محتاط رہیں گے، مگر زینب جانتی تھی کہ اس بلڈنگ میں دیواریں پتلی ہیں، اور پڑوسیوں کی نظریں تیز ہیں۔ ایک شام نیچے والی آنٹی نے زینب سے پوچھا کہ سامنے والے فلیٹ میں کون آیا ہے، اور زینب نے بات ٹال دی، مگر اس رات اسے نیند نہیں آئی۔

اگلی ملاقات میں حمزہ نے زینب کو بیڈروم میں لے جا کر بستر پر لٹایا، اور اس کے کپڑے آہستہ آہستہ اتارے۔ اس نے زینب کے پورے جسم کو چوما، اس کی گردن سے لے کر اس کے پیٹ تک، اور زینب نے اس کے ہر لمس پر آہ بھری۔ حمزہ نے اس کی چوت کو زبان سے چاٹا، اور زینب نے بستر کی چادر کو مٹھی میں پکڑ لیا۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، اور اس نے حمزہ کے سر کو اپنے قریب دبا لیا۔

زینب نے حمزہ کو اوپر کھینچا، اور اسے اپنے اوپر لے لیا۔ حمزہ نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا، اور اس بار زینب نے خود کمر ہلائی، اوپر نیچے، تیز اور گہری۔ حمزہ نے اس کی کمر کو پکڑا، اور اس کے بوبز کو چوستے ہوئے کہا کہ تم کتنی گرم ہو۔ زینب نے اس کی بات پر مسکرا کر اور تیز ہو گئی، اور دونوں کی سانسیں ایک ہو گئیں۔

پھر حمزہ نے زینب کو پلٹا کر پیچھے سے لیا، اس کی کمر کو پکڑ کر، اور گہرے دھکے لگائے۔ زینب نے تکیے میں منہ چھپا کر آہیں بھریں، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ آواز باہر نہ جائے۔ حمزہ نے اس کی گردن پر کاٹا، اور زینب کا جسم پھر سے کانپ اٹھا۔ اس نے کہا کہ میں پھر جھڑ رہی ہوں، اور حمزہ نے اسی لمحے اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔

دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے بستر پر لیٹے رہے، اور حمزہ نے زینب سے کہا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، اور یہ بات صرف جسمانی نہیں ہے۔ زینب نے اس کی بات سن کر آنکھیں بند کر لیں، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ محبت کا لفظ سب کچھ اور مشکل بنا دیتا ہے۔ اس نے حمزہ سے کہا کہ آصف کو کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے، اور حمزہ نے وعدہ کیا کہ وہ کبھی سامنے نہیں آئے گا۔

مگر وعدے اکثر اسی وقت ٹوٹتے ہیں جب انہیں نبھانا سب سے مشکل ہو۔ اگلی شام آصف جلدی گھر آ گیا، اس نے بتایا کہ اس کی شفٹ بدل گئی ہے، اور اب وہ رات کو گھر پر ہی رہے گا۔ زینب کا چہرہ پیلا پڑ گیا، اور اس نے فورا حمزہ کو میسج کیا کہ کچھ دن مت آنا۔ حمزہ نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے، مگر اس کے میسج میں اداسی تھی۔

دو دن بعد آصف نے زینب سے کہا کہ سامنے والے فلیٹ کا لڑکا اس سے ملا تھا، اور اس نے زینب کا نام لیا تھا۔ زینب نے دل کی دھڑکن کو قابو کرنے کی کوشش کی، اور کہا کہ وہ بس پڑوسی ہے، اسکول کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ آصف نے اسے غور سے دیکھا، اور کہا کہ ٹھیک ہے، مگر اس کی نظروں میں شک تھا۔

اس رات زینب اکیلی بالکونی میں کھڑی تھی، جب اس کے فون پر حمزہ کا میسج آیا، میں تم سے ملے بغیر نہیں رہ سکتا، آج رات آخری بار آ رہا ہوں۔ زینب نے میسج پڑھا، اور اس کا دل چاہا کہ وہ منع کر دے، مگر اس کے ہاتھوں نے خود بخود لکھ دیا، دروازہ کھلا رہے گا۔ اسی لمحے اسے لگا کہ یہ فیصلہ سب کچھ بدل دے گا۔

رات کے گیارہ بجے آصف سو چکا تھا، اور زینب نے آہستہ سے بیڈروم کا دروازہ بند کیا۔ وہ ڈرائنگ روم میں حمزہ کا انتظار کر رہی تھی، اس کا جسم پہلے سے ہی گرم تھا، اور اس کے ذہن میں صرف حمزہ کا لمس تھا۔ اس نے ایک ہلکی سی قمیص پہنی تھی، اور اس کے نیچے کچھ نہیں تھا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وقت کم ہے۔

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، اور زینب نے دروازہ کھولا۔ حمزہ اندر آیا، اور اس نے زینب کو دیوار سے لگا کر چومنا شروع کر دیا۔ زینب نے اس کی قمیص کھینچی، اور حمزہ نے اس کی قمیص اوپر کر کے اس کے بوبز کو ہاتھوں میں لے لیا۔ دونوں کی سانسیں تیز تھیں، اور زینب نے سرگوشی میں کہا کہ جلدی کرو، آصف اندر سو رہا ہے۔

حمزہ نے زینب کو صوفے پر جھکایا، اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا۔ زینب نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی آواز روکی، مگر اس کا جسم ہر دھکے پر آگے پیچھے ہو رہا تھا۔ حمزہ نے آہستہ مگر گہرے دھکے لگائے، اور زینب کی چوت گیلی ہو کر اس کے لنڈ کو آسانی سے لے رہی تھی۔

اچانک بیڈروم سے آواز آئی، زینب، پانی دینا۔ زینب کا جسم جم گیا، اور حمزہ بھی رک گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا، اور زینب نے سرگوشی میں کہا کہ چپ رہو، وہ نیند میں بول رہا ہے۔ مگر اسی لمحے بیڈروم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی، اور قدموں کی چاپ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھنے لگی۔

زینب نے حمزہ کو دھکا دے کر پردے کے پیچھے چھپنے کو کہا، اور خود جلدی سے قمیص ٹھیک کی۔ اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا کہ آصف اسے سن لے گا۔ قدم قریب آتے گئے، اور زینب نے دروازے کی طرف دیکھا، جہاں آصف کا سایہ نظر آنے لگا تھا۔

اگلا حصہ جلد آ رہا ہے۔

🔒 Bonus Scene locked

حمزہ کے جانے کے بعد زینب کو ایک پیغام ملتا ہے، اور وہ رات ابھی ختم نہیں ہوئی۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
📖 The story continues

اردو بالغ کہانیاں: زینب اور حمزہ، حصہ 2

Continue to Part 2 →
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو بالغ کہانیاں: زینب اور حمزہ، حصہ 1” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views