اردو نوکرانی کہانی: بھور کی چائے میں گھلی شرارت

A
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

«رات بھر جاگ کر آنکھیں لال کر لی ہیں،» نور جہاں نے چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا، «کال سینٹر کی نوکری ہے یا چاندنی راتوں کا کوئی راز؟» حمزہ نے تھکی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ پیالی تھامی، اور اسے کیا خبر تھی کہ اسی بھور کی چائے سے اس اردو نوکرانی کہانی کی شروعات ہونے والی ہے۔

کانپور کے پرانے محلے میں حمزہ کے گھر کا صحن ابھی نیم اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ فجر کی اذان کو کچھ دیر باقی تھی۔ حمزہ نائٹ شفٹ سے لوٹا تھا، کندھے جھکے ہوئے، آنکھوں میں نیند بھری۔ صحن کے کونے میں ہینڈ پمپ کے پاس نور جہاں کھڑی تھی، چونتیس سال کی عمر، مضبوط بدن، اور آنکھوں میں ایسی شرارت جو نیند اڑا دے۔

نور جہاں اس گھر میں تین سال سے کام کر رہی تھی۔ جھاڑو پونچھا، برتن، کپڑے، اور صبح کی چائے، یہ سب اس کے ذمے تھا۔ حمزہ کی ماں کو اس پر پورا بھروسہ تھا۔ مگر حمزہ نے کبھی غور نہیں کیا تھا کہ جب وہ چائے دیتی ہے تو اس کی انگلیاں پیالی پر کتنی دیر ٹھہرتی ہیں۔

اس صبح اس نے غور کیا۔ نور جہاں نے پیالی اس کے ہاتھ میں دی تو اس کی نرم گرم انگلیاں حمزہ کی ہتھیلی سے ٹکرائیں اور ایک لمحے کو وہیں رک گئیں۔ اس کا دوپٹہ کندھے سے ڈھلک کر کہنی تک آیا ہوا تھا، اور قمیض کے گلے سے اس کے بھرے ہوئے سینے کی لکیر صاف دکھ رہی تھی۔ حمزہ کی تھکی آنکھیں اچانک جاگ اٹھیں۔

«کیا دیکھ رہے ہو؟» نور جہاں نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے پوچھا۔ «میں دیکھ رہا ہوں کہ تم صبح صبح اتنی تازہ کیسے لگتی ہو،» حمزہ نے جواب دیا۔ وہ ہنس پڑی، ایسی ہنسی جس میں دعوت بھی تھی اور چیلنج بھی۔ «تازگی کا راز ہے، کبھی فرصت میں بتاؤں گی۔»

اگلی صبح حمزہ جان بوجھ کر جلدی گھر آیا۔ نور جہاں صحن میں کپڑے سکھا رہی تھی۔ «تمہارے میاں کہاں ہیں؟ کبھی دیکھا نہیں،» حمزہ نے پوچھا۔ نور جہاں کے ہاتھ ایک لمحے کو رکے۔ «ٹرک ڈرائیور ہے۔ مہینے میں بیس دن سڑک پر۔ گھر آتا ہے تو دو دن میں پھر نکل جاتا ہے۔» اس کی آواز میں ایک ان کہی پیاس تھی جسے حمزہ نے صاف محسوس کیا۔

اب یہ معمول بن گیا۔ حمزہ شفٹ سے لوٹتا، نور جہاں صحن میں چائے لے کر انتظار کرتی۔ گھر کے سب سو رہے ہوتے، صرف یہ دو جاگتے۔ باتیں بڑھیں، ہنسی بڑھی، اور فاصلہ گھٹنے لگا۔ ایک صبح اس نے حمزہ کے کندھے دبائے، «کتنے اکڑ گئے ہیں،» اور اس کے انگوٹھے اس کی گردن کی جڑ میں گہرائی تک اتر گئے۔ حمزہ کی سانس رک سی گئی۔

«تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے،» حمزہ نے کہا۔ «ہاتھوں میں ہی نہیں،» نور جہاں نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی، اس کی گرم سانس اس کی گردن پر محسوس ہوئی۔ حمزہ نے پلٹ کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔ نور جہاں نے مزاحمت نہیں کی، بلکہ اس کے اور قریب ہو گئی۔ اس کے سینے کا بھاری پن اس کے سینے سے ٹکرایا۔

جمعے کی صبح گھر میں گہری خاموشی تھی۔ سب سو رہے تھے۔ نور جہاں نے حمزہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے صحن کے پچھلے کونے والے اسٹور روم کی طرف کھینچا۔ «کوئی آ جائے گا،» حمزہ نے کہا۔ «سب سو رہے ہیں۔ اور تم بھی تو جاگنا چاہتے ہو،» اس نے دروازہ اندر سے بند کرتے ہوئے کہا۔ کمرے میں پرانے سامان کی بو تھی اور ایک چھوٹی سی کھڑکی سے بھور کی ہلکی روشنی آ رہی تھی۔

نور جہاں نے اسے دیوار سے لگایا اور اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی۔ اس کا بوسہ بھوکا تھا، برسوں کی پیاس لیے ہوئے۔ حمزہ نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے۔ اس کے ممے آزاد ہوتے ہی اس کے ہاتھوں میں آ گئے، بھرے ہوئے، گرم، نپلوں پر اس کی انگلیاں پھرتے ہی نور جہاں کی سانس تیز ہو گئی۔ «آہستہ نہیں، زور سے،» وہ بولی۔

نور جہاں گھٹنوں پر بیٹھی اور حمزہ کی پینٹ کھولی۔ اس کا لنڈ پہلے سے تنا ہوا تھا۔ اس نے اسے منہ میں لیا، پہلے آہستہ، پھر گہرائی تک۔ اس کی زبان اس کے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ حمزہ نے اس کے بال پکڑے۔ «بس، اور اندر لو،» وہ کراہا۔ نور جہاں کی آنکھوں میں شرارت تھی، وہ جانتی تھی کہ وہ کیا کر رہی ہے۔

پھر حمزہ نے اسے اٹھایا، اس کی شلوار اتاری اور اسے پرانے صوفے پر لٹایا۔ اس کی چوت اس کے سامنے تھی، گیلی اور پھولی ہوئی۔ حمزہ نے اپنی زبان اس کی چوت پر رکھی۔ نور جہاں کی کمر اٹھ گئی۔ «ہاں، وہیں،» وہ چیخی، پھر فوراً اپنا منہ دبایا۔ اس کی چوت کا پانی اس کی زبان پر تھا، نمکین اور میٹھا۔

حمزہ نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر ڈالیں اور اپنا لنڈ اس کی چوت میں اتارا۔ نور جہاں کی آنکھیں پھیل گئیں۔ «کتنا بڑا ہے،» وہ ہانپی۔ حمزہ نے دھکے مارنے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ پرانا صوفا چرچرانے لگا۔ نور جہاں نے اس کی پیٹھ پر ناخن گاڑ دیے۔ «اور زور سے چودو،» وہ بولی، «برسوں سے کوئی نہیں چھوا۔»

اس نے اسے پلٹا، گھوڑی بنایا۔ پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالتے ہی نور جہاں کی چیخ نکلی۔ حمزہ نے اس کے کولہے پکڑے اور پوری طاقت سے چودنے لگا۔ اس کے ممے ہوا میں ہل رہے تھے۔ «میں جھڑنے والی ہوں،» وہ چیخی۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو کس کر پکڑا، اور دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ اس کا پانی اس کی رانوں پر بہہ رہا تھا۔

دونوں ہانپ رہے تھے۔ نور جہاں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ «یہ صرف شروعات ہے،» وہ بولی۔ اسی لمحے باہر صحن میں کسی کے قدموں کی آہٹ ہوئی۔ دونوں کی سانس رک گئی۔ حمزہ کی ماں فجر کے لیے اٹھی تھی۔ نور جہاں نے جلدی سے کپڑے سنبھالے، دروازہ کھولا اور ہینڈ پمپ کی طرف چلی گئی جیسے پانی بھرنے آئی ہو۔ حمزہ پچھلے دروازے سے اپنے کمرے میں گھسا۔

اس دن حمزہ سو نہ سکا۔ اس کے کانوں میں نور جہاں کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں۔ شام کو جب وہ شفٹ کے لیے نکلا تو نور جہاں نے اسے دروازے پر روکا۔ «ڈرو نہیں،» اس نے مسکرا کر کہا، «اگلی بار اور محفوظ جگہ ہوگی۔» اس نے اس کی ہتھیلی میں ایک چابی دبا دی۔ «پچھلی گلی والا کوارٹر۔ میرا ہے۔»

تین دن حمزہ نے بے چینی میں گزارے۔ ہر صبح چائے پر نور جہاں کی آنکھوں میں وہی دعوت تھی۔ چوتھے دن بھور میں وہ پچھلی گلی کے کوارٹر پہنچا۔ دروازہ کھلا تھا۔ اندر نور جہاں انتظار کر رہی تھی، صرف ایک پتلی سی نائٹی میں۔ اس کے بدن کی ہر لکیر اس کپڑے سے جھلک رہی تھی۔

اس بار کوئی جلدی نہیں تھی۔ نور جہاں نے اسے چارپائی پر بٹھایا اور اس کے کپڑے خود اتارے۔ «آج میں تمہیں چودوں گی،» اس نے کہا۔ وہ اس کی گود میں بیٹھی، اس کا لنڈ اپنی چوت میں خود ڈالا، اور اوپر نیچے ہونے لگی۔ اس کے ممے حمزہ کے چہرے کے سامنے اچھل رہے تھے۔ حمزہ نے ایک نپل منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔

نور جہاں کی رفتار بڑھتی گئی۔ اس کی چوت حمزہ کے لنڈ کو نگل رہی تھی۔ «دیکھو، کیسے لیتی ہوں،» وہ بولی۔ پھر وہ لیٹی، ٹانگیں حمزہ کے کندھوں پر رکھیں۔ حمزہ نے اس کی چوت میں لنڈ پوری گہرائی تک اتارا۔ نور جہاں کی آنکھیں الٹ گئیں۔ «ہاں، ایسے ہی، میری چوت پھاڑ دو۔»

حمزہ نے اسے کھڑا کیا، دیوار سے لگایا، ایک ٹانگ اٹھا کر پیچھے سے چودنے لگا۔ نور جہاں کی چیخیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ «کوئی سن لے گا،» حمزہ نے کہا۔ «سننے دو،» وہ بولی، «آج میں سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں زندہ ہوں۔» اس کے الفاظ نے حمزہ کو اور بھڑکا دیا۔ اس نے اسے چارپائی پر پٹخا اور اس پر چڑھ گیا۔

آخری بار جب دونوں جھڑے تو نور جہاں کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور حمزہ کا پسینہ اس کے بدن پر تھا۔ وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹی۔ «تمہارا میاں کب آئے گا؟» حمزہ نے پوچھا۔ «دو ہفتے بعد۔ مگر فکر نہ کرو، میں نے اسے فون پر کہہ دیا ہے کہ گھر کی مرمت میں دیر لگے گی۔ وہ ایک ہفتہ اور رکے گا۔» اس کی ہنسی میں شرارت تھی۔

حمزہ نے اسے دیکھا۔ یہ عورت صرف ایک نوکرانی نہیں تھی، یہ ایک پیاسی، زندہ دل عورت تھی جس نے اپنی زندگی اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ «اور اس کے بعد؟» اس نے پوچھا۔ نور جہاں نے اس کی ٹھوڑی اٹھائی۔ «اس کے بعد بھی بھور کی چائے رہے گی۔ اور چائے میں چینی میں خود ڈالوں گی۔»

وہ کوارٹر سے نکلا تو آسمان پر ہلکی سی لالی پھیل رہی تھی۔ گلی میں کوئی نہیں تھا، صرف ایک کتا کسی دروازے کے پاس سویا تھا۔ حمزہ کے قدموں میں عجیب سی ہلکی پن تھی، جیسے وہ ہوا میں چل رہا ہو۔ اس کی قمیض پر نور جہاں کے بالوں کی خوشبو لگی تھی۔ اس نے سوچا، کال سینٹر کی نوکری سے لوٹ کر اب ہر بھور اس کا انتظار کرے گی۔

اگلی صبح صحن میں جب اس نے چائے کی پیالی بڑھائی تو اس میں چینی واقعی زیادہ تھی۔ میٹھی چائے، میٹھی مسکراہٹ، اور آنکھوں میں وہی دعوت۔ حمزہ نے پیالی تھامی اور دل میں کہا، یہ اردو نوکرانی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، یہ تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ «کل صبح پھر،» نور جہاں نے سرگوشی کی، «چائے میں چینی زیادہ ڈال کر۔»

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Ahmed Khan

View all →

Readers who enjoyed “اردو نوکرانی کہانی: بھور کی چائے میں گھلی شرارت” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views