اردو ودھوا کی کہانی: شازیہ کی چوت میں میرا لنڈ، دروازے پر آئی بیوہ
دروازے پر دستک ہوئی تو میں نے دروازہ کھولا۔ سامنے شازیہ کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ تھی اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ اس نے کہا کہ آج اس نے زیادہ کھانا بنا لیا ہے۔ میں نے اسے اندر آنے کو کہا۔ وہ اس شام میرے دروازے پر آئی تھی، اور اسی آمد سے یہ اردو ودھوا کی کہانی شروع ہوئی۔
میرا نام دانش ہے۔ عمر اٹھائیس سال۔ میں لکھنؤ کے ایک محلے میں رہتا ہوں۔ شازیہ میرے پڑوس میں رہتی ہے۔ اس کے شوہر کا دو سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ تب سے وہ اکیلی رہتی ہے۔ اس کی عمر تیس سال ہے۔
شازیہ اندر آئی اور پلیٹ میز پر رکھ دی۔ اس نے ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا تھا۔ اس کے بال کھلے تھے۔ میں نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔ ہم دونوں باتیں کرنے لگے۔
باتوں باتوں میں شازیہ چپ ہو گئی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ اسے اکیلا رہنا بہت مشکل لگتا ہے۔ رات کو اسے نیند نہیں آتی۔ اس کی آواز میں ایک درد تھا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے ہاتھ پیچھے نہیں ہٹایا۔
میں اس کے قریب سرک گیا۔ میں نے اس کے گال کو چھوا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلے وہ پیچھے ہٹنا چاہتی تھی، لیکن پھر اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ اس کے ہونٹ نرم تھے۔
میں نے اس کے سوٹ کی ڈوری کھولی۔ اس کے کندھے نظر آنے لگے۔ میں نے اس کے کندھے پر بوسہ لیا اور آہستہ آہستہ نیچے آیا۔ شازیہ نے میرے بال پکڑ لیے۔ اس نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ لیکن اس کا جسم کچھ اور کہہ رہا تھا۔
میں نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے۔ اس کی سفید برا نظر آئی۔ میں نے برا کھول کر اس کے دودھ منہ میں لیے۔ شازیہ نے آہ بھری۔ میں ایک دودھ چوسنے لگا اور دوسرے کو ہاتھ سے دبانے لگا۔ اس کے نپل سخت ہو گئے۔
شازیہ نے میری قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر میری چھاتی سہلانے لگی۔ میں نے اس کی شلوار اوپر کی۔ اس کی ٹانگیں گوری تھیں۔ میں نے اس کی رانوں پر ہاتھ پھیرا۔ وہ کانپ اٹھی۔ میں نے اس کی پینٹی ایک طرف کی اور اس کی چوت کو انگلی سے چھوا۔
اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی۔ میں نے انگلی سے اس کی چوت سہلائی اور ایک انگلی اندر ڈالی۔ شازیہ نے میرے کندھے پر سر رکھ دیا اور آہستہ آہستہ کراہنے لگی۔ میں نے انگلی اندر باہر کرنے لگا۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا۔
میں نے اس کی چوت چاٹنا شروع کی۔ میری زبان اس کی گیلی چوت پر گھوم رہی تھی۔ شازیہ نے میرے بال کس کر پکڑ لیے اور اپنی ٹانگیں پھیلا دیں۔ میں نے اس کی چوت چوسی اور اس کے دانے کو زبان سے چھیڑا۔ اس کا بدن اینٹھنے لگا۔
شازیہ نے کہا کہ بس اب اور نہیں، اسے میرا لنڈ چاہیے۔ میں نے اپنی پینٹ اتاری۔ میرا لنڈ پوری طرح کھڑا تھا۔ شازیہ نے اسے ہاتھ میں لیا اور سہلانے لگی۔ اس کے ہاتھ کی نرمی نے مجھے پاگل کر دیا۔
میں نے اسے بستر پر لٹایا۔ اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت پر رگڑا۔ شازیہ نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ آہستہ کرو۔ میں نے آہستہ سے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈال دیا۔
اس کی چوت ٹائٹ تھی اور گیلی تھی۔ لنڈ اندر جاتے ہی شازیہ چیخ اٹھی۔ میں رک گیا اور اسے سنبھلنے دیا۔ پھر آہستہ آہستہ دھکے مارنے لگا۔ ہر دھکے کے ساتھ شازیہ کی آواز تیز ہوتی گئی۔
میں نے دھکوں کی رفتار بڑھا دی۔ شازیہ نے میری پیٹھ پکڑ لی۔ اس کی چوت میرے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ میں نے اس کے دودھ دبائے اور اس کے نپل منہ میں لیے۔ شازیہ پاگلوں کی طرح کراہ رہی تھی۔
میں نے اسے پلٹ کر گھوڑی بنایا۔ اس کی گول گانڈ میرے سامنے تھی۔ میں نے اس کی چوت میں پیچھے سے لنڈ ڈالا اور تیز دھکے مارنے لگا۔ شازیہ کے منہ سے مسلسل آوازیں نکل رہی تھیں۔ بستر ہلنے لگا۔
اس کی چوت سے گیلا پن بہہ رہا تھا۔ میں نے اس کے بال پکڑے اور اور تیز چودا۔ تبھی شازیہ کا بدن کانپنے لگا۔ اس کی چوت نے میرے لنڈ کو کس لیا اور وہ جھڑ گئی۔ اس کا پانی میرے لنڈ پر بہہ گیا۔ وہ چلائی کہ وہ جھڑ گئی ہے۔
میں نے دھکے جاری رکھے۔ میرا بھی نکلنے والا تھا۔ میں نے اس کی چوت میں آخری تیز دھکے مارے اور اپنا سارا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔ میرا لنڈ جھٹکے کھاتا رہا۔ شازیہ ہانپتے ہوئے بستر پر گر پڑی۔
کچھ دیر ہم دونوں خاموش لیٹے رہے۔ شازیہ نے میرے سینے پر سر رکھا۔ اس نے کہا کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس نے سوچا تھا کہ اس کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔ آج اسے لگا کہ وہ پھر سے زندہ ہے۔
میں نے اسے گلے لگایا۔ اس نے میرے ماتھے پر بوسہ لیا۔ اس نے کہا کہ یہ رات وہ کبھی نہیں بھولے گی۔ میں نے کہا کہ میں بھی نہیں بھولوں گا۔ اس رات نے ہم دونوں کی زندگی بدل دی۔
اگلی صبح شازیہ نے مجھے پیغام بھیجا۔ اس نے لکھا کہ شکریہ۔ میں نے جواب دیا کہ میں ہمیشہ اس کے ساتھ ہوں۔ اس نے مسکراہٹ بھیجی۔ اس دن سے ہمارے پیغامات روزانہ چلنے لگے۔
ایک ہفتے بعد شازیہ پھر میرے دروازے پر آئی۔ اس نے کہا کہ اسے پھر سے اکیلا لگ رہا ہے۔ میں سمجھ گیا۔ میں نے اسے اندر بلایا۔ اس رات ہم نے پھر ایک دوسرے سے محبت کی۔
اس رات شازیہ نے مجھے ایک نئی بات سکھائی۔ اس نے میرے لنڈ کو منہ میں لے کر چوسا۔ اس کی زبان میرے لنڈ پر گھوم رہی تھی۔ میں نے اس کے بال پکڑے۔ اس نے میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔
میں نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس پوز میں میرا لنڈ اس کی چوت میں اور گہرا جا رہا تھا۔ شازیہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ہر دھکے پر اس کا منہ کھل جاتا تھا۔
میں نے اس کے دودھ دونوں ہاتھوں سے دبائے اور دھکوں کی رفتار بڑھا دی۔ شازیہ کی آہیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں۔ اس کی چوت میرے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ اس کا پانی میری رانوں پر بہہ رہا تھا۔
شازیہ کا بدن پھر کانپنے لگا۔ وہ دوسری بار جھڑ گئی اور اس کی چوت نے میرے لنڈ کو کس لیا۔ میں نے بھی آخری دھکے مارے اور اپنا پانی پھر اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔ ہم دونوں تھک کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔
اس دن سے شازیہ اور میں اکثر ملنے لگے۔ محلے میں کسی کو پتہ نہیں چلا۔ سب سمجھتے تھے کہ ہم اچھے پڑوسی ہیں۔ اصل بات صرف ہم دونوں جانتے تھے۔
ایک اتوار کو شازیہ نے مجھے دوپہر کے کھانے پر بلایا۔ میں اس کے گھر گیا۔ اس نے میرے لیے خاص کھانا بنایا تھا۔ کھانے کے بعد ہم بالکونی میں بیٹھے۔ لکھنؤ کی شام خوبصورت تھی۔
شازیہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اسے میرے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں نے اسے قریب کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر بوسہ لیا۔ اس نے میری گردن میں ہاتھ ڈالے۔ ہم بالکونی سے بیڈروم میں چلے گئے۔
بیڈروم میں شازیہ نے خود اپنا سوٹ اتارا۔ وہ صرف انڈرگارمنٹس میں میرے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے اسے گلے لگایا اور اس کے دودھ چومے۔ وہ میرے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ اس کے منہ سے آہستہ آہستہ آواز آ رہی تھی۔
میں نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کی چوت چاٹی۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی۔ میں نے زبان اندر ڈالی اور اس کے دانے کو چھیڑا۔ شازیہ نے بیڈ شیٹ کس کر پکڑ لی۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
اس نے مجھے اوپر کھینچا اور کہا کہ اب اسے لنڈ چاہیے۔ میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا اور آہستہ آہستہ دھکے مارنے لگا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ اس کے چہرے پر خوشی صاف نظر آ رہی تھی۔
میں نے رفتار بڑھائی۔ شازیہ نے میری پیٹھ ناخنوں سے کھروچی۔ اس کی چوت میرے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ میں نے اسے پلٹا اور پیچھے سے چودا۔ اس کی گانڈ میرے دھکوں کے ساتھ ہل رہی تھی۔ وہ زور سے کراہ رہی تھی۔
اس کا بدن کانپا اور وہ جھڑ گئی۔ اس کا پانی بستر پر پھیل گیا۔ میں نے بھی آخری دھکے مارے اور اس کی چوت میں جھڑ گیا۔ ہم دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے تھے۔ شازیہ نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ یہ اتوار کی دوپہر اسے ہمیشہ یاد رہے گی۔
ایک دن شازیہ نے مجھ سے کہا کہ اسے اپنی زندگی میں پھر سے خوشی مل گئی ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے بھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ اس کی آمد نے میری زندگی بدل دی تھی۔
اگلے ہفتے شازیہ پھر میرے دروازے پر آئی۔ اس کے ہاتھ میں پھر ایک پلیٹ تھی۔ اس نے کہا کہ آج اس نے میری پسند کا کھانا بنایا ہے۔ میں نے اسے اندر بلایا۔
کھانا کھانے کے بعد وہ میرے قریب آ گئی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بیڈروم کی طرف لے گئی۔ اس نے اپنا سوٹ اتارا اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔ میں نے اسے گلے لگایا۔
ہم بستر پر گئے۔ میں نے اس کی چوت چاٹی اور پھر اسے چودا۔ وہ دو بار جھڑی۔ میں بھی اس کی چوت میں جھڑ گیا۔ اس رات ہم بہت دیر تک ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔
صبح میں گھر واپس آیا۔ شازیہ نے پیغام بھیجا کہ وہ میرا انتظار کرے گی۔ میں نے ہنس کر جواب دیا کہ میں بھی اس کا انتظار کروں گا۔ ہمارا یہ چھپا رشتہ لکھنؤ کے اس محلے میں محفوظ رہا۔
کچھ دن بعد شازیہ کے شوہر کی برسی آئی۔ وہ اداس تھی۔ میں اس کے گھر گیا اور اسے تسلی دی۔ اس نے مجھے گلے لگا کر رویا۔ پھر اس نے کہا کہ میرے آنے سے اس کی زندگی میں خوشی واپس آئی ہے۔
اس رات ہم نے آہستہ سے محبت کی۔ شازیہ نے کہا کہ وہ اب خوش ہے۔ میں نے اس کے ماتھے پر بوسہ لیا۔ ہماری کہانی اس دروازے کی دستک سے شروع ہو کر اب بھی جاری ہے۔
ایک مہینے بعد شازیہ نے مجھے ایک تحفہ دیا۔ وہ ایک نئی قمیض تھی۔ اس نے کہا کہ جب میں اسے پہنوں گا تو وہ مجھے یاد کرے گی۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔
اس رات ہم نے پھر محبت کی۔ شازیہ نے کہا کہ اس کی زندگی اب مکمل ہے۔ میں نے اسے گلے لگایا۔ ہماری کہانی اب بھی جاری ہے، ہر ہفتے ایک نئی آمد، ایک نئی رات۔
Readers who enjoyed “اردو ودھوا کی کہانی: شازیہ کی چوت میں میرا لنڈ، دروازے پر آئی بیوہ” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔