اردو آنٹی کہانی: بارش والی شام

N
15 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

پہلی بارش کی مٹی کی خوشبو، گیلی پٹی کی وہ مہک جو کھڑکی سے اندر گھس آئی تھی، اور اس میں ملا ہوا اس کی قمیض سے آنے والا بھیگا عطر، یہ تینوں خوشبوئیں اس اردو آنٹی کہانی کی وہ پہلی لائن تھیں جنہیں رخصانہ نے آنکھیں بند کر کے محسوس کیا جب اس نے دروازہ کھولا۔ عمران کھڑا تھا، قمیض کندھوں پر چپکی ہوئی، بال بھیگے ہوئے، اور اس کے چہرے پر وہ معصوم سی ناراضی جو کسی کو بھی پگھلا دے۔

آپ کا اے سی پانی گرا رہا ہے، باجی، اس نے کہا، اور اس کی آواز میں شکایت سے زیادہ حیرت تھی۔ میری چھت سے پانی ٹپک رہا ہے، میری کتابیں بھیگ گئیں۔ رخصانہ کی نظر پہلے اس کے چہرے پر گئی، پھر اس کی بھیگی قمیض پر جو اس کے سینے سے چپک کر اس کے جسم کی ہر لکیر دکھا رہی تھی، اور پھر واپس اس کے چہرے پر۔

ارے، اندر آؤ، اس نے جلدی سے کہا، اور دروازہ پورا کھول دیا۔ دیکھتی ہوں۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی، شاید اس لیے کہ آٹھ مہینے ہو گئے تھے فیصل کو دبئی گئے ہوئے، اور اس گھر میں کوئی مرد مہمان آیا ہی نہیں تھا۔ عمران اندر آیا اور اس کے ساتھ ہی بارش کی خوشبو اور اس کے عطر کی مہک کمرے میں پھیل گئی۔

اے سی دیوار پر لگا تھا، اس کے نیچے فرش پر پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب بن چکا تھا۔ عمران نے اوپر دیکھا، پھر رخصانہ کی طرف۔ پائپ نکل گیا ہے لگتا ہے، ڈرین کا۔ میں دیکھتا ہوں۔ اس نے اپنی آستینیں چڑھائیں، اور رخصانہ کو اس کے بازوؤں کی مضبوطی نظر آئی۔

میں کرسی لاتی ہوں، رخصانہ نے کہا، اور کمرے سے ایک پلاسٹک کی کرسی گھسیٹ لائی۔ عمران اس پر چڑھا اور اے سی کا پچھلا حصہ کھولنے لگا۔ رخصانہ اس کے بالکل پیچھے کھڑی تھی، اور اس کی قمیض سے آنے والا بھیگا عطر اس کے ناک میں بھر گیا۔ اس کی سانس رک سی گئی۔

مل گیا، عمران نے کہا، اور ایک ڈھیلا پائپ نکال کر دکھایا۔ یہ دیکھو، یہی مسئلہ ہے۔ پانی اسی سے نکل رہا تھا۔ اس نے پائپ کو واپس لگانے کی کوشش کی، اور اس کی کوشش میں اس کا جسم جھکا، اور رخصانہ نے دیکھا کہ اس کی قمیض پیچھے سے اوپر اٹھ گئی ہے، اس کی کمر کی ننگی جلد نظر آ رہی ہے۔

تمہارے ہاتھ تو بہت کام کے ہیں، رخصانہ کے منہ سے نکل گیا، اور پھر اس نے فوراً اپنے ہونٹ دبائے۔ عمران نے مڑ کر اسے دیکھا، اور اس کے ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ آئی جو کسی لڑکے کے چہرے پر نہیں، کسی مرد کے چہرے پر ہوتی ہے۔ آپ حکم کریں باجی، میں سب ٹھیک کر دوں گا، اس نے کہا، اور باجی لفظ اس کے منہ سے اس طرح نکلا کہ رخصانہ کے پیٹ میں کچھ ہل گیا۔

چائے پیو گے؟ رخصانہ نے پوچھا، بات بدلنے کے لیے۔ ضرور، عمران نے کہا، اور کرسی سے اتر آیا۔ وہ دونوں کچن کی طرف بڑھے، اور راستے میں ان کے کندھے آپس میں ٹکرائے۔ رخصانہ نے معذرت کی، عمران نے مسکرا کر سر ہلایا، لیکن اس کی آنکھوں میں وہ نظر تھی جو معذرت نہیں مانگتی۔

چائے بناتے ہوئے رخصانہ کی ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے خود سے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، وہ سینتیس سال کی شادی شدہ عورت تھی، اس کا شوہر دبئی میں محنت کر رہا تھا، اور یہ لڑکا، یہ تو اس سے آٹھ سال چھوٹا تھا۔ لیکن اس کی قمیض سے آنے والا عطر، اس کے بازو، اس کی وہ نظر، سب کچھ اس کے دماغ میں گھوم رہا تھا۔

چائے کا کپ تھامتے ہوئے ان کی انگلیاں آپس میں چھو گئیں۔ عمران نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ رخصانہ نے بھی نہیں۔ دو سیکنڈ، تین سیکنڈ، پھر رخصانہ نے ہاتھ کھینچ لیا اور کپ میز پر رکھ دیا۔ تمہاری چھت اب نہیں ٹپکے گی، اس نے کہا، آواز میں ہلکی سی لرزش تھی۔

عارضی ٹھیک کیا ہے، عمران نے کہا، چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے۔ پائپ پرانا ہے، بدلنا پڑے گا۔ کل میں نیا پائپ لے آؤں گا، پھر پکا ٹھیک ہو جائے گا۔ رخصانہ نے سر ہلایا۔ ٹھیک ہے، اس نے کہا، اور سوچا کہ کل کا انتظار اسے کتنا لمبا لگے گا۔

دروازے تک چھوڑتے ہوئے عمران رکا۔ آپ اکیلی رہتی ہیں؟ اس نے پوچھا۔ میرے شوہر دبئی میں ہیں، رخصانہ نے کہا۔ آٹھ مہینے ہو گئے۔ عمران نے اسے دیکھا، گہری نظر سے۔ مشکل ہوتا ہوگا، اس نے آہستہ کہا۔ رخصانہ نے جواب نہیں دیا، صرف دروازہ بند کر دیا، لیکن اس کی وہ نظر دروازے کے اس پار بھی اس کے ساتھ رہی۔

رات بھر بارش ہوتی رہی۔ رخصانہ بستر پر لیٹی چھت کو دیکھتی رہی۔ اس کے کانوں میں بارش کی آواز تھی، اور اس کے ناک میں اب بھی اس کا عطر تھا، حالانکہ وہ جا چکا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو چھوا، پہلے گردن، پھر سینہ، اور پھر نیچے۔ اس کی انگلیاں گیلی ہو گئیں۔ اس نے سوچا عمران کے بارے میں، اس کے ہاتھوں کے بارے میں، اور اس کی سانس تیز ہو گئی۔

اگلی شام وہ وقت پر آیا۔ ہاتھ میں نیا پائپ، چہرے پر وہی مسکراہٹ۔ بارش پھر ہو رہی تھی، ہلکی ہلکی۔ رخصانہ نے اسے اندر بلایا۔ آج اس نے ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا تھا، بال کھلے تھے۔ عمران کی نظر اس پر ٹھہری، اور اس نے نظر نہیں ہٹائی۔

آپ آج بہت اچھی لگ رہی ہیں، اس نے کہا، کرسی پر چڑھتے ہوئے۔ رخصانہ کا چہرہ لال ہو گیا۔ کام کرو، اس نے کہا، لیکن اس کی آواز میں ڈانٹ نہیں تھی، کچھ اور تھا۔ عمران نے پرانا پائپ نکالا، نیا لگایا، اور اس بار اس نے جان بوجھ کر زیادہ وقت لیا۔

رخصانہ اس کے نیچے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی قمیض آج بھی گیلی تھی، بارش کی وجہ سے، اور اس کے سینے کی سختی صاف نظر آ رہی تھی۔ ہو گیا، عمران نے آخر میں کہا، اور نیچے اتر آیا۔ وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا، اتنا قریب کہ رخصانہ اس کی سانس محسوس کر سکتی تھی۔

شکریہ، رخصانہ نے کہا، اور پھر بولی، رکو، میں نے کھیر بنائی ہے۔ وہ کچن میں گئی اور ایک پیالہ کھیر لے آئی۔ یہ تمہارے لیے، اس نے کہا۔ عمران نے پیالہ لیا، ان کی انگلیاں پھر چھوئیں، اور اس بار دونوں نے ہاتھ نہیں ہٹائے۔

میں نیچے چلتا ہوں، عمران نے کہا، آواز دھیمی تھی۔ آپ بھی آئیں، کھیر تو گرم کھانی چاہیے۔ رخصانہ نے ایک لمحہ سوچا۔ اس کے دل نے کہا مت جاؤ، اس کے جسم نے کہا جاؤ۔ وہ اس کے ساتھ سیڑھیاں اتر گئی، پیالہ ہاتھ میں لیے۔

اس کا فلیٹ چھوٹا تھا، صاف ستھرا۔ بارش کھڑکی سے نظر آ رہی تھی۔ عمران نے کھیر کا ایک چمچ کھایا۔ بہت میٹھی ہے، اس نے کہا، اور رخصانہ کو دیکھا۔ آپ کے ہاتھ میں جادو ہے۔ رخصانہ نے مسکرایا۔ تم باتیں بہت بناتے ہو، اس نے کہا۔

سچ کہہ رہا ہوں، عمران نے کہا، اور اس کے قریب آیا۔ وہ صوفے پر بیٹھے تھے، ان کے گھٹنے آپس میں چھو رہے تھے۔ رخصانہ نے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ رکو، اس نے کہا۔ صرف ایک منٹ۔

رخصانہ کی سانس رک گئی۔ عمران کا چہرہ اس کے چہرے کے اتنا قریب تھا کہ اسے اس کے عطر کی خوشبو صاف آ رہی تھی، وہی بھیگا عطر جو کل اسے پاگل کر گیا تھا۔ اس کے ہونٹ کھلے، اور عمران نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، ڈرتا ہوا، لیکن دوسرے ہی لمحے رخصانہ نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال دیے اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔

اس کی زبان اس کے منہ میں گھس گئی، اور رخصانہ نے اسے چوسا، اس کے ذائقے کو محسوس کیا۔ عمران کے ہاتھ اس کی کمر پر تھے، پھر نیچے، اس کے کولہوں پر۔ اس نے انہیں دبایا، اور رخصانہ کے منہ سے ایک آہ نکلی۔ آٹھ مہینے کی پیاس ایک ہی لمحے میں جاگ اٹھی تھی۔

عمران نے اس کے سوٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، جلدی نہیں، ہر بٹن پر اس کی انگلیاں اس کی جلد کو چھوتی گئیں۔ رخصانہ کی چھاتیاں اس کے برا میں کس رہی تھیں۔ عمران نے برا کا ہک کھولا، اور اس کے دودھ آزاد ہو گئے، بڑے، گول، نپل کھڑے۔

کتنی خوبصورت، عمران نے سرگوشی کی، اور اپنا منہ اس کے دودھ پر رکھ دیا۔ اس نے ایک نپل کو چوسا، زبان سے گھمایا، دانتوں سے ہلکے سے کاٹا۔ رخصانہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال دیے اور اس کا سر اپنے سینے پر دبایا۔ اور، اس نے کہا، اور چوسو۔

عمران کا ایک ہاتھ نیچے گیا، اس کی شلوار کے اندر۔ اس کی انگلیاں اس کی چوت پر پہنچیں، جو پوری طرح گیلی تھی۔ تم تو تیار ہو، اس نے مسکرا کر کہا۔ رخصانہ نے اس کی قمیض پکڑ کر کھینچی۔ تم بھی، اس نے کہا، اور اس کی قمیض کے بٹن کھول دیے۔

اس کا سینہ چوڑا تھا، پیٹ سخت۔ رخصانہ نے اپنے ہونٹ اس کے سینے پر رکھے، نیچے اترتی گئی، اس کے پیٹ پر، اور پھر اس کی پینٹ کا بٹن کھولا۔ اس کا لنڈ باہر نکلا، لمبا، موٹا، کھڑا، اوپر سے گیلا۔ رخصانہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔

اتنا بڑا، اس نے کہا، اور اسے ہاتھ میں لیا۔ گرم تھا، دھڑک رہا تھا۔ اس نے اسے ہلایا، اوپر نیچے، اور عمران کے منہ سے آہ نکلی۔ رخصانہ نے پھر اپنا منہ کھولا اور اس کے لنڈ کا سر اپنے منہ میں لے لیا۔ اس نے چوسا، زبان سے اس کے سر کو گھمایا، اور گہرائی تک لیا۔

عمران نے اس کے بال پکڑے۔ ہاں، ایسے ہی، اس نے کہا۔ رخصانہ نے تیز کیا، اس کا سر اوپر نیچے کیا، اور اس کے لنڈ کا پانی اس کے منہ میں آنے لگا۔ اس نے اسے نگلا، اور مزید چوسا۔ عمران کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔

رکو، عمران نے کہا، اور اسے اٹھایا۔ اب میری باری۔ اس نے رخصانہ کی شلوار اتاری، اسے صوفے پر لٹایا، اور اس کی ٹانگیں کھول دیں۔ اس کی چوت اس کے سامنے تھی، گیلی، پھولی ہوئی، اس کے ہونٹ کھلے ہوئے۔ عمران نے اپنا منہ وہیں رکھ دیا۔

اس کی زبان اس کی چوت پر پھری، اوپر سے نیچے، اور رخصانہ چیخ پڑی۔ اس نے اس کے دانے کو چوسا، زبان سے تیز تیز ہلایا، اور اپنی ایک انگلی اس کے اندر ڈال دی۔ رخصانہ کا جسم اکڑ گیا۔ عمران، رک مت، اس نے کہا، اور اپنی کمر اٹھائی۔

عمران نے دوسری انگلی ڈالی، اور اس کی زبان دانے پر تیزی سے چلتی رہی۔ رخصانہ کی چوت سے پانی بہنے لگا، اس کی رانوں پر۔ اس کا جسم کانپا، اور پھر ایک زوردار لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ وہ جھڑ گئی، چیختی ہوئی، عمران کے سر کو اپنی چوت پر دباتی ہوئی۔

عمران اٹھا، اس کے ہونٹ گیلے تھے۔ اب اصل کام، اس نے کہا، اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ رخصانہ نے اپنی ٹانگیں اور کھول دیں۔ اندر ڈالو، اس نے کہا۔ پورا۔ عمران نے دھکیا، اور اس کا لنڈ آہستہ آہستہ اس کی چوت میں گھسنے لگا۔

رخصانہ نے اپنی سانس روکی۔ وہ اتنا موٹا تھا کہ اس کی چوت پوری طرح بھر گئی۔ آہ، اس نے کہا۔ عمران نے پورا اندر ڈال دیا، جڑ تک، اور ایک لمحہ رکا۔ پھر اس نے دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز۔

اس کے دھکے گہرے تھے، ہر دھکا اس کی چوت کی دیواروں سے رگڑتا ہوا۔ رخصانہ نے اس کی کمر میں ناخن گاڑ دیے۔ تیز، اس نے کہا۔ اور تیز۔ عمران نے رفتار بڑھائی، اس کا بستر چرچرانے لگا، ان کی سانسیں تیز ہو گئیں۔

رخصانہ کی چوت اس کے لنڈ کو کس رہی تھی، ہر دھکے پر پانی نکل رہا تھا۔ عمران نے اس کی ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھی، اور اب اس کا لنڈ اور گہرائی تک جانے لگا۔ رخصانہ کی آنکھیں بند تھیں، اس کے منہ سے مسلسل آہیں نکل رہی تھیں۔

میں آنے والا ہوں، عمران نے کہا، سانس پھولی ہوئی۔ رخصانہ نے اسے کس کر پکڑا۔ اندر ہی، اس نے کہا۔ میرے اندر ہی نکالو۔ عمران نے چند زوردار دھکے لگائے، اور پھر اس کا جسم اکڑ گیا۔ اس کا گرم پانی اس کی چوت میں بہنے لگا، اور رخصانہ نے اسے محسوس کیا، اور وہ بھی اسی لمحے دوبارہ جھڑ گئی۔

وہ دونوں ہانپ رہے تھے، پسینے میں بھیگے ہوئے۔ عمران اس کے اوپر گرا، اس کا لنڈ اب بھی اس کے اندر تھا، نرم ہوتا ہوا۔ رخصانہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ تم تو کمال ہو، اس نے کہا۔ عمران نے مسکرایا۔ آپ بھی کم نہیں، باجی، اس نے کہا، اور رخصانہ نے اس کے بازو پر ہلکے سے مارا۔

اب باجی مت کہو، رخصانہ نے کہا۔ عمران ہنسا۔ ٹھیک ہے، رخصانہ، اس نے کہا، اور اس کا نام اس کے منہ سے سن کر رخصانہ کے دل میں کچھ ہوا۔ وہ اٹھے، اور عمران نے اسے اپنی بانہوں میں لیا۔ بارش اب بھی ہو رہی تھی، کھڑکی سے اس کی آواز آ رہی تھی۔

ایک بار اور؟ عمران نے پوچھا، اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے۔ اس کا ہاتھ اس کی چوت پر تھا، انگلیاں پھر اس کے دانے کو سہلا رہی تھیں۔ رخصانہ نے جواب میں اس کا لنڈ پکڑ لیا، جو پھر کھڑا ہونے لگا تھا۔ تمہیں پوچھنے کی ضرورت نہیں، اس نے کہا۔

اس بار رخصانہ نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کے اوپر چڑھ گئی۔ اس نے اس کا لنڈ اپنی چوت میں خود ڈالا، اور اوپر نیچے ہونے لگی۔ اس کے دودھ ہل رہے تھے، عمران نے انہیں پکڑا، دبایا، نپلوں کو مروڑا۔ رخصانہ تیز ہوتی گئی، اس کی چیخیں کمرے میں گونجنے لگیں۔

پھر عمران نے اسے پلٹا، اسے گھوڑی بنایا۔ اس کی چوت پیچھے سے اس کے سامنے تھی، گیلی، کھلی۔ عمران نے اپنا لنڈ پیچھے سے ڈالا، ایک ہی دھکے میں پورا۔ رخصانہ چلائی۔ اس نے اس کے کولہوں کو پکڑا اور زور زور سے دھکے لگانے لگا۔

ہر دھکا اسے آگے دھکیلتا، اس کے دودھ لٹک کر ہلتے۔ عمران نے ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا دانہ پکڑا، اسے رگڑا، جبکہ اس کا لنڈ پیچھے سے اس کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا۔ رخصانہ کا جسم کانپنے لگا، اور وہ تیسری بار جھڑ گئی، اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو کسا، اور عمران بھی اس کے ساتھ ہی نکلا، اس کی چوت میں اپنا سارا پانی بہاتا ہوا۔

وہ بستر پر گرے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے۔ بارش رک گئی تھی۔ کھڑکی سے اب صرف گیلی مٹی کی خوشبو آ رہی تھی، اور کمرے میں ان کے پسینے اور ان کے جسموں کی ملی ہوئی مہک تھی۔ رخصانہ نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھا، اس کے دل کی دھڑکن سنی۔

تمہارا اے سی اب ٹھیک ہے؟ عمران نے پوچھا، ہنستے ہوئے۔ رخصانہ نے بھی ہنسی۔ میری چھت تو ٹھیک ہے، اس نے کہا، لیکن میری زندگی میں اب ہر شام پانی ٹپکے گا۔ عمران نے اسے کس کر پکڑا۔ تو میں ہر شام آؤں گا اسے ٹھیک کرنے، اس نے کہا۔

رخصانہ اٹھی، اپنے کپڑے پہنے۔ جاتے ہوئے دروازے پر وہ رکی۔ کل پھر آنا، اس نے کہا، اور اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو کل نہیں تھی۔ اے سی چیک کرنے۔ عمران نے اس کا ہاتھ پکڑا، اس کی ہتھیلی کو چوما۔ ضرور آؤں گا، اس نے کہا۔ اور کھیر بھی لانا مت بھولنا۔

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے رخصانہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ عمران دروازے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ۔ رخصانہ نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی، اسے اڑتا ہوا بوسہ دیا، اور اوپر چلی گئی۔ اس رات اسے نیند نہیں آئی، لیکن اس بار اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، ایک مسکراہٹ تھی۔

اگلی صبح اس نے اے سی کو دیکھا۔ پانی نہیں ٹپک رہا تھا۔ پائپ نیا تھا، مضبوط۔ رخصانہ نے مسکرا کر اسے چھوا۔ یہ پائپ تو ٹھیک ہو گیا، اس نے خود سے کہا، لیکن میرے دل کا جو پائپ آٹھ مہینے سے خشک تھا، وہ کل رات پھر سے بہنے لگا ہے۔ اور اسے معلوم تھا کہ یہ بہنا اب رکنے والا نہیں۔

🔒 Bonus Scene locked

وہ رات ختم نہیں ہوئی تھی۔ بارش رکنے کے بعد چھت پر جو ہوا، اس کا راز صرف یہاں کھلا ہے۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو آنٹی کہانی: بارش والی شام” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views