اردو بھابھی کہانی: لکھنؤ میں شبانہ بھابھی کی چوت میں عمران کا لنڈ، اچانک آمد کی رات

N
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

شبانہ دروازہ کھولنے گئی تو سامنے عمران کھڑا تھا، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ، چہرے پر تھکن اور مسکراہٹ ایک ساتھ۔ اس نے کوئی خبر نہیں دی تھی، کوئی فون نہیں کیا تھا، بس اچانک لکھنؤ کے اس گھر میں آ گیا تھا۔ شبانہ کا شوہر ساجد دبئی میں کام کرتا تھا، اور گھر میں شبانہ اکیلی رہتی تھی۔ عمران ساجد کا چھوٹا بھائی تھا، 26 سال کا، دہلی میں پڑھتا تھا، اور آج اس کی اچانک آمد نے شبانہ کے دل کی دھڑکن تیز کر دی تھی۔ یہ اردو بھابھی کہانی اب صرف اس کے دماغ میں نہیں، اس کے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی۔

شبانہ 29 سال کی تھی، لمبی، گوری، اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو عمران نے پہلی نظر میں ہی پہچان لی۔ اس نے عمران کو اندر بلایا، چائے بنائی، اور دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ عمران نے بتایا کہ اس کی ٹرین چھوٹ گئی تھی، اس لیے وہ بس سے آیا ہے، اور دو دن یہیں رہے گا۔ شبانہ نے کہا کہ یہ گھر اس کا بھی ہے، جب چاہے آ سکتا ہے۔ باتوں کے دوران عمران کی نظریں بار بار شبانہ کے ہونٹوں پر، اس کی گردن پر، اس کے ہاتھوں پر ٹھہر رہی تھیں، اور شبانہ کو یہ سب محسوس ہو رہا تھا۔

رات کے کھانے کے بعد جب شبانہ برتن دھو رہی تھی، تو عمران کچن میں آیا اور اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اس نے شبانہ کی کمر پر ہاتھ رکھا، اور شبانہ کا ہاتھ رک گیا۔ "بھابھی، آپ کو پتہ ہے میں آپ کو کب سے چاہتا ہوں؟" عمران نے سرگوشی کی۔ شبانہ نے مڑ کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں حیرت تھی، لیکن انکار نہیں تھا۔ اس نے عمران کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے کمرے میں لے گئی، دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ "دیور جی، آج رات آپ میرے ہو،" اس نے کہا، اور عمران کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔

پہلا بوسہ دھیما تھا، پھر بھوکا ہو گیا۔ عمران نے شبانہ کی قمیض کے بٹن کھولے، اس کی برا اوپر اٹھائی، اور اس کے سینے کو منہ میں لے لیا۔ شبانہ نے ایک لمبی آہ بھری اور اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں۔ اس کے نپل سخت ہو گئے تھے، اور عمران کی زبان انہیں چھیڑ رہی تھی۔ شبانہ نے کہا، "آہستہ، دیور جی، پڑوسی سن لیں گے،" لیکن اس کی اپنی آواز کانپ رہی تھی۔ عمران نے اسے گود میں اٹھایا اور بستر پر لٹا دیا۔

بستر پر لٹاتے ہی اس نے شبانہ کی شلوار کا ناڑا کھینچ دیا۔ شبانہ کی چوت پہلے سے گیلی تھی، اور عمران نے انگلیوں سے اسے چھوا تو شبانہ کی کمر اچھل پڑی۔ اس نے دو انگلیاں اندر ڈالیں اور آہستہ آہستہ چلائیں۔ شبانہ نے چادر کو مٹھیوں میں بھینچ لیا اور بولی، "اور تیز، عمران، اور تیز۔ ایک سال سے کسی نے مجھے چھوا تک نہیں ہے۔" عمران نے انگلیوں کی رفتار بڑھا دی، اور شبانہ کا بدن کانپنے لگا۔ اس نے انگلیاں باہر نکالیں، انہیں چاٹا، اور پھر اپنی زبان شبانہ کی چوت پر رکھ دی۔

شبانہ چیخ پڑی، لیکن اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔ عمران کی زبان کبھی دھیمی، کبھی تیز، کبھی اندر، کبھی اس کے دانے کو چھیڑتے ہوئے چل رہی تھی۔ شبانہ کی آنکھیں بند ہو گئیں، اور اس نے عمران کے سر کو اپنی رانوں کے درمیان دبا لیا۔ "رکنا مت، دیور جی، بس ایسے ہی،" وہ سرگوشی میں بولی۔ کچھ ہی منٹ میں شبانہ کا پہلا جھڑنا آ گیا، اس کا بدن اینٹھ گیا، اور اس کی چوت سے پانی نکل کر عمران کے چہرے پر لگ گیا۔ عمران نے اسے چاٹ لیا اور اوپر آ کر شبانہ کے ہونٹوں کو چوم لیا، تاکہ وہ اپنا ہی ذائقہ چکھ سکے۔

پھر شبانہ نے عمران کی پینٹ کھولی۔ اس کا لنڈ لمبا اور موٹا تھا، اور شبانہ نے اسے ہاتھ میں لے کر سہلایا۔ اس نے اسے منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگی، زبان سے اس کے ٹوپے کو چھیڑتے ہوئے۔ عمران نے اس کے بال پکڑ لیے اور ہلکے دھکے دینے لگا۔ شبانہ کو اس کا ذائقہ اچھا لگ رہا تھا، اور وہ اسے اور گہرا لے رہی تھی۔ جب عمران کی سانسیں تیز ہو گئیں، تو اس نے شبانہ کو روکا اور کہا، "بھابھی، اب میں اندر آنا چاہتا ہوں۔"

عمران نے شبانہ کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر ٹکا دیا۔ ایک دھکے میں وہ آدھا اندر گیا، اور شبانہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "اوہ، عمران، کتنا موٹا ہے،" وہ کراہی۔ عمران نے دوسرا دھکا دیا اور پورا لنڈ اندر اتر گیا۔ شبانہ کی چوت اسے کس کر جکڑ رہی تھی، اور عمران نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ بستر ہل رہا تھا، اور شبانہ کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں، لیکن وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔

عمران نے رفتار بڑھائی۔ اب اس کے دھکے تیز اور گہرے تھے، اور شبانہ کی چھاتیاں ہر دھکے کے ساتھ اچھل رہی تھیں۔ عمران نے اس کی چھاتیاں پکڑ لیں اور انہیں دباتے ہوئے چودنے لگا۔ شبانہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر پر لپیٹ لیں اور نیچے سے بھی دھکے دینے لگی۔ "اور زور سے، عمران، اور زور سے چودو مجھے،" وہ دبی آواز میں چلائی۔ عمران نے اس کی بات مانی اور اتنی زور سے چودا کہ شبانہ کی آنکھوں سے پانی آ گیا، لیکن وہ رکنا نہیں چاہتی تھی۔

پھر عمران نے شبانہ کو گھوڑی بنایا۔ وہ چاروں ہاتھ پیروں پر آ گئی، اور عمران نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ اس پوزیشن میں لنڈ اور گہرا جا رہا تھا، اور شبانہ کی ہر آہ لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ عمران نے اس کے بال پکڑ لیے اور پیچھے سے دھکے مارنے لگا، کبھی اس کے چوتڑوں پر ہلکا تھپڑ مارتے ہوئے۔ شبانہ کی چوت سے پانی ٹپک رہا تھا، اور عمران کا لنڈ اس گیلاپن میں اور آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا۔ "تمہاری چوت کتنی ٹائٹ ہے، بھابھی،" عمران نے کہا، "میں اس میں ساری رات رہ سکتا ہوں۔"

شبانہ نے کہا، "تو رہو، مت نکلو، ساری رات ایسے ہی چودو۔" عمران نے اسے پلٹ کر پھر سے سیدھا لٹایا اور اس کی ایک ٹانگ اوپر اٹھا کر چودنے لگا۔ اب شبانہ کا دوسرا جھڑنا قریب تھا۔ اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں، اس کی انگلیاں عمران کی پیٹھ پر ناخن گاڑ رہی تھیں۔ عمران نے محسوس کیا اور رفتار اور بڑھا دی۔ شبانہ چیخ کر جھڑی، اس کا بدن اینٹھ گیا، اور اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو اتنی زور سے جکڑا کہ عمران بھی رک نہیں پایا۔

عمران نے آخری کچھ زوردار دھکے مارے اور شبانہ کی چوت کے اندر ہی جھڑ گیا۔ اس کا گرم پانی شبانہ کے اندر بھر گیا، اور دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ شبانہ نے عمران کے سینے پر سر رکھا اور بولی، "یہ اردو بھابھی کہانی اب میری اصلی کہانی بن گئی ہے، دیور جی۔" عمران ہنسا اور بولا، "تو اس کا دوسرا حصہ کل رات لکھیں گے، اور اس بار تم کہانی کی ہیروئن ہوگی، سچ میں۔"

دوسری بار میں شبانہ نے پہل کی۔ اس نے عمران کو بستر پر لٹایا اور اس کے اوپر بیٹھ گئی، اس کی چوت میں لنڈ کو خود ہی اندر لیا۔ وہ آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی، اور عمران نے نیچے سے اس کی کمر پکڑ کر دھکے دینے شروع کیے۔ اس پوزیشن میں شبانہ کو پورا کنٹرول تھا، اور وہ کبھی تیز، کبھی دھیمی، کبھی رک کر عمران کو تڑپاتی تھی۔ عمران نے اس کی چھاتیوں کو منہ میں لیا اور نپلوں کو چوستے ہوئے نیچے سے زوردار دھکے مارے۔ شبانہ کی آہیں اب اور لمبی ہو گئی تھیں، اور جب وہ جھڑی تو اس نے عمران کے کندھوں کو اتنی زور سے پکڑا کہ اس کے ناخنوں کے نشان پڑ گئے۔ عمران بھی اس کے اندر ہی جھڑا، اور دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے ایک دوسرے پر گر پڑے۔

دوپہر میں جب سب سو رہے تھے، تو شبانہ عمران کو چھت والے کمرے میں لے گئی۔ وہاں پرانے صندوقوں کے درمیان، دھول کی خوشبو میں، عمران نے شبانہ کو دیوار سے لگایا اور اس کی شلوار نیچے کھینچ دی۔ کھڑے کھڑے اس نے شبانہ کی ایک ٹانگ اوپر اٹھائی اور اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ شبانہ نے اس کی گردن پکڑ لی اور ہر دھکے کے ساتھ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگی۔ چھت والے کمرے کی گرمی میں دونوں پسینے سے تر ہو گئے، اور شبانہ بہت جلد جھڑ گئی، اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو کس کر جکڑ لیا، اور عمران بھی اس کے اندر جھڑ گیا۔ دونوں ہنس پڑے، اور شبانہ نے کہا، "دیور جی، آپ کی اچانک آمد میری زندگی کا سب سے اچھا حادثہ ہے۔"

صبح جب شبانہ کی آنکھ کھلی، تو عمران اس کے بغل میں سو رہا تھا، اور اس کے فون پر ایک میسج تھا جس میں صرف اتنا لکھا تھا: آج رات پھر ملتے ہیں۔ شبانہ نے مسکرا کر میسج ڈیلیٹ کیا، عمران کو چائے دی، اور دونوں نے طے کیا کہ یہ کہانی گھر کے کسی کو کبھی پتہ نہیں چلے گی، لیکن ہر رات لکھی جائے گی۔ ناشتے کے وقت شبانہ نے عمران کے پیر پر اپنا پیر رکھ دیا، اور عمران نے میز کے نیچے اس کا ہاتھ دبا دیا، دونوں کی آنکھوں میں وہی رات کی شرارت تھی۔

🔒 Bonus Scene locked

شاور کے نیچے شبانہ اور عمران کی رات کیسے گذری، جاننے کے لیے شیئر کریں۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو بھابھی کہانی: لکھنؤ میں شبانہ بھابھی کی چوت میں عمران کا لنڈ، اچانک آمد کی رات” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views