اردو دکاندار کی بیوی: فرح کی چوت میں بلال کا لنڈ

N
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

کانپور کی پرانی مارکیٹ میں راشد کی دکان کے سامنے جب فرح اور راشد کا جھگڑا شروع ہوا، تو وہیں سے اردو دکاندار کی بیوی کی یہ کہانی شروع ہوئی۔ فرح چلا رہی تھی کہ راشد صبح سے رات تک دکان میں رہتا ہے، اور اسے بیوی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ راشد بھی چلا رہا تھا کہ دکان کے بغیر گھر نہیں چلے گا۔ دکان پر کھڑا بلال یہ سب سن رہا تھا، اور اس کی نظر فرح کے چہرے پر تھی، جو غصے میں اور بھی حسین لگ رہی تھی۔

جھگڑے کے بعد فرح روتی ہوئی گھر چلی گئی، اور راشد دکان پر ہی رہ گیا۔ بلال، جو روز دکان پر آتا تھا، اس دن فرح کے پیچھے گیا اور اسے سمجھانے لگا۔ اس نے کہا کہ راشد کی غلطی ہے، بیوی کو وقت دینا چاہیے۔ فرح نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ اس کی زندگی میں اب کوئی خوشی نہیں بچی ہے۔ بلال نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور فرح نے ہاتھ نہیں چھڑایا۔

اگلے دن بلال دکان پر آیا، اور راشد نے اسے چائے پلائی۔ فرح بھی دکان پر آئی، اور بلال نے اسے دیکھ کر مسکرایا۔ فرح کا دل زور سے دھڑکنے لگا، کیونکہ بلال کی آنکھوں میں اس کے لیے کچھ خاص تھا۔ شام کو جب راشد گودام گیا، تو بلال نے فرح سے کہا کہ وہ اس سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہے۔ فرح نے اسے گھر کے اندر بلایا، اور دروازہ بند کر دیا۔

گھر کے اندر بلال نے فرح کو بانہوں میں بھر لیا اور اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ فرح پہلے چونکی، پھر اس نے بلال کو زور سے پکڑ لیا۔ بلال نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ فرح نے اس کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈال دیا اور اس کی پیٹھ سہلانے لگی۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں، اور بلال نے فرح کو بیڈروم میں لے گیا۔

بیڈروم میں بلال نے فرح کی شلوار کھولی اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا، اس کی زبان اندر تک جا رہی تھی۔ فرح کی کمر اٹھنے لگی، اس نے بلال کے بال پکڑ کر اسے اور اندر دبانے لگی۔ اس کی چوت سے پانی بہنے لگا، اور وہ زور سے سسکنے لگی۔ بلال نے رک کر اسے تڑپایا، پھر دوبارہ چاٹنا شروع کر دیا۔

فرح نے اب بلال کی شلوار کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکال لیا۔ وہ موٹا اور گرم تھا، اور فرح نے اسے ہاتھ میں لے کر ہلانا شروع کیا۔ پھر اس نے اسے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی، اس کی زبان لنڈ کے چاروں طرف گھوم رہی تھی۔ بلال نے فرح کے بال پکڑ لیے اور ہلکے سے اس کے منہ میں دھکے لگانے لگا۔ فرح کی آنکھیں بند ہو گئیں، اور اس نے لنڈ کو پورا اندر لینے کی کوشش کی۔

بلال نے فرح کو بستر پر سیدھا لٹایا اور اس کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ اس نے اپنا لنڈ فرح کی چوت پر رکھا اور دھیرے سے اندر دھکیل دیا۔ فرح نے آہ بھری اور بلال کی پیٹھ کو ناخنوں سے پکڑ لیا۔ بلال نے دھکوں کی رفتار بڑھا دی، اور فرح کی چوت اس کے لنڈ کو کس کر پکڑنے لگی۔ ہر دھکے کے ساتھ بستر ہلنے لگا، اور فرح کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں۔

پھر بلال نے فرح کو گھوڑی بنایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ فرح نے چادر کس کر پکڑ لی، اور بلال نے اس کی کمر پکڑ کر تیز دھکے لگانے شروع کیے۔ فرح کے بوبس ہل رہے تھے، اور بلال ایک ہاتھ سے اس کے بوبس دبا رہا تھا۔ فرح کی چوت سے پانی بہ رہا تھا، اور وہ ہر دھکے پر اور زور سے کراہ رہی تھی۔

فرح اب بلال کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کا لنڈ اپنی چوت میں خود ڈال لیا۔ وہ اوپر نیچے ہونے لگی، اس کے بوبس اچھل رہے تھے، اور بلال نے انہیں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ فرح کی رفتار بڑھتی گئی، اور وہ چلا کر جھڑ گئی، اس کا بدن بلال پر ہی ڈھیلا پڑ گیا۔ بلال نے اسے چوم کر شانت کیا اور پھر اسے بستر پر لٹایا۔

آخر میں بلال نے فرح کی چوت میں گہرے دھکے لگائے اور زور سے جھڑ گیا، اس کا پانی فرح کی چوت میں بھر گیا۔ فرح نے اسے کس کر پکڑ لیا اور اس کے ہونٹ چوم لیے۔ دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے ایک دوسرے کی بانہوں میں پڑے رہے، اور کھڑکی سے رات کی ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی۔

اس رات کے بعد فرح اور بلال کا ملنا روز کا ہو گیا۔ جب راشد دکان پر ہوتا، بلال گھر آ جاتا، اور فرح دروازہ بند کر کے اسے اندر لے لیتی۔ کبھی کچن میں، کبھی بیڈروم میں، کبھی غسل خانے میں، ان کا کھیل چلتا ہی رہتا۔ فرح اب شرماتی نہیں تھی، وہ خود بلال کے کمرے میں جا کر اس کا لنڈ چوستی، اور بلال اسے نئی نئی پوزیشنوں میں چودتا۔

ایک دن راشد جلدی گھر آ گیا، اور فرح ڈر گئی۔ لیکن بلال اس وقت دکان پر تھا، اور فرح نے عام منہ بنا کر چائے بنائی۔ راشد کو کچھ سمجھ نہیں آیا، اور وہ پھر کام پر چلا گیا۔ اس رات فرح نے بلال سے کہا کہ انہیں اور احتیاط کرنی ہوگی، اور بلال نے ہنس کر اس کے ہونٹ چوم لیے۔

اس رات بلال فرح کو چھت پر لے گیا، اور کھلے آسمان کے نیچے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ فرح ریلنگ پکڑ کر کھڑی تھی، اور بلال پیچھے سے اسے چود رہا تھا۔ تاروں کی روشنی میں فرح کا بدن چمک رہا تھا، اور وہ زور زور سے کراہ رہی تھی۔ بلال نے اس کے بوبس دباتے ہوئے اسے جھڑا دیا، اور پھر خود اس کی چوت میں جھڑ گیا۔

ایک دوپہر جب راشد گودام گیا ہوا تھا، بلال نے فرح کو غسل خانے میں بلایا۔ فرح اندر جاتے ہی بلال نے اسے دیوار سے لگا کر اس کے ہونٹ چومنے شروع کر دیے۔ اس نے فرح کی قمیض اوپر اٹھائی اور اس کے بوبس کو ہاتھوں میں لے لیا۔ فرح نے بلال کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی چوت پر رکھ دیا، اور بلال کی انگلی اس کی چوت میں اندر باہر ہونے لگی۔ غسل خانے کی ٹھنڈی دیوار فرح کی پیٹھ سے لگی تھی، پر اس کا بدن آگ کی طرح گرم ہو رہا تھا۔

غسل کے بعد بلال نے فرح کو بستر پر لٹایا اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا۔ فرح نے اس کے بال پکڑ لیے اور اپنی کمر اوپر اٹھانے لگی۔ جب فرح جھڑنے کے قریب پہنچی، تو بلال نے اسے اٹھایا اور کھڑے کھڑے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ فرح نے دیوار پکڑ لی اور اپنی ٹانگیں بلال کی کمر پر لپیٹ لیں۔ بلال نے اسے دیوار سے لگا کر تب تک چودا جب تک فرح کی ٹانگیں کانپنے نہیں لگیں۔

شام کو کچن میں فرح روٹی بیل رہی تھی، تب بلال پیچھے سے آیا اور اسے پکڑ لیا۔ اس نے فرح کی شلوار نیچے کھسکائی اور اس کی چوت میں انگلی ڈال دی، اور فرح بیلن پکڑ کر کانپنے لگی۔ بلال نے اس کی چوت میں انگلی چلاتے ہوئے اس کی گردن پر چومنا شروع کیا، اور فرح نے سرگوشی میں کہا کہ روٹی جل جائے گی۔ بلال نے ہنس کر گیس بند کی، اور فرح کو کچن کی سلیب پر بٹھا کر اس کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ سلیب پر ہی اس نے فرح کی چوت میں لنڈ ڈال کر زور زور سے دھکے لگانے شروع کر دیے، اور فرح سلیب پکڑ کر کراہنے لگی۔

سلیب کا کھیل ختم ہونے پر بلال نے فرح کو فرش پر لٹا دیا، اور اس کے اوپر آ کر پھر اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ فرح نے اپنی ٹانگیں بلال کی کمر میں جکڑ لیں، اور دونوں فرش پر ہی لوٹنے لگے۔ بلال کے دھکے جتنے بڑھ رہے تھے، فرح کی کراہیں اتنی ہی زور ہو رہی تھیں۔ آخر میں فرح دو بار جھڑ گئی، اور بلال اس کی چوت میں گہرائی سے جھڑ گیا۔ دونوں کچن کے فرش پر پسینے میں بھیگے پڑے رہے، اور فرح نے ہنس کر کہا کہ آج کی روٹی کل صبح بنے گی۔

اگلے ہفتے فرح بلال کے گھر کھانا لے کر گئی، اور دروازہ بند کر دیا۔ بلال اس وقت کتاب پڑھ رہا تھا، اور فرح اس کی گود میں بیٹھ کر اس کا لنڈ چوسنے لگی۔ بلال نے کتاب پھینک دی اور فرح کے بال پکڑ لیے، اور اس کے منہ میں دھکے لگانے لگا۔ پھر فرح نے اپنی شلوار اتار کر بلال کے اوپر بیٹھ گئی، اور لنڈ کو اپنی چوت میں ڈال کر دھیرے دھیرے ہلنے لگی۔ بلال اس کے بوبس دباتے ہوئے اس کے ہونٹ چوس رہا تھا، اور فرح اس کے کان میں کہہ رہی تھی کہ وہ اب صرف اس کی ہے۔

صبح ہونے سے پہلے بلال اپنے گھر لوٹ گیا، اور فرح اپنے بستر پر لیٹ کر مسکرائی۔ اسے معلوم تھا کہ اس جھگڑے کے دن سے اس کی زندگی بدل گئی ہے، اور یہ بدلاؤ وہ کبھی واپس نہیں لینا چاہتی۔ دروازے کے باہر بلال کے قدموں کی آواز مدھم ہوتے ہی فرح نے آنکھیں بند کیں، اور اس کی چوت میں ابھی بھی بلال کے لنڈ کی چھوون لگی ہوئی تھی۔

🔒 Bonus Scene locked

اگلی دوپہر جب راشد گودام گیا، تو بلال پھر گھر آیا، اور اس بار فرح نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو دکاندار کی بیوی: فرح کی چوت میں بلال کا لنڈ” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views