اردو چاچی کی کہانی: شبنم چاچی کی گرمیوں کی رات

S
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

آم کے آخری ٹکڑے پر جھگڑا شروع ہوا۔ دانش نے کہا کہ وہ ٹکڑا اس کا ہے کیونکہ اس نے آم کاٹے تھے۔ شبنم چاچی نے ہنس کر کہا کہ اس گھر میں آخری ٹکڑا ہمیشہ اسی کا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے یہ اردو چاچی کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

لاہور کی گرمی اپنے عروج پر تھی۔ دانش گرمیوں کی چھٹیوں میں چاچی کے گھر آیا تھا۔ اس کے چاچا دبئی میں کام کرتے تھے۔ گھر میں صرف شبنم چاچی اور ایک ملازمہ ہوتی تھی۔ دانش کو اوپر والا کمرہ دیا گیا تھا۔

شبنم کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ وہ ہلکے گلابی رنگ کا لان کا سوٹ پہنتی تھی۔ اس کے بال لمبے اور کالے تھے۔ جب وہ ہنستی تھی تو اس کے گالوں میں گڑھے پڑتے تھے۔ دانش اسے پہلی بار اس گرمی میں اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا۔

"تم شہر کے لڑکے بس باتیں کرتے ہو،" شبنم نے کہا۔ "آم کاٹنا بھی تمہیں نہیں آتا۔" دانش نے جواب دیا، "چاچی، آپ صرف اس لیے جیت رہی ہیں کیونکہ آپ چاچی ہیں۔" شبنم نے اس کی طرف آم کا چھلکا پھینکا۔ دونوں ہنس پڑے۔

دوپہر کو کولر خراب ہو گیا۔ شبنم نے دانش سے کہا کہ وہ اسے دیکھے۔ دانش کولر کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے پانی کی ٹینکی کھولی۔ اچانک پانی کی ایک دھار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر شبنم کے سوٹ پر گر گئی۔

شبنم کا سوٹ سینے کے پاس گیلا ہو گیا۔ ہلکا کپڑا اس کے جسم سے چپک گیا۔ دانش کی نظر وہیں رک گئی۔ شبنم نے اسے دیکھا اور مسکرائی۔ "کیا دیکھ رہے ہو؟" اس نے پوچھا۔ دانش نے جلدی سے نظر ہٹا لی۔

"کچھ نہیں چاچی، بس کولر ٹھیک ہو گیا ہے،" دانش نے کہا۔ اس کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔ شبنم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "تم بہت شرمیلے ہو گئے ہو،" اس نے کہا۔ "پہلے تو تم بہت بولتے تھے۔"

شام کو شبنم نے کھانا بنایا۔ دانش نے اس کی مدد کی۔ وہ روٹیاں بیلتا رہا اور وہ سالن چکھتی رہی۔ ایک بار اس نے چمچ دانش کے منہ تک لے جا کر کہا، "بتاؤ نمک ٹھیک ہے؟" دانش نے اس کی انگلیوں کو دیکھا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

کھانے کے بعد شبنم نے کہا کہ اس کے کندھے دکھ رہے ہیں۔ "ذرا دبا دو،" اس نے کہا۔ دانش نے ہچکچاہٹ سے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ وہ صوفے پر بیٹھی تھی۔ اس کے بال ایک طرف گرے ہوئے تھے۔

دانش نے اس کے کندھے دبانا شروع کیے۔ پہلے آہستہ، پھر تھوڑا زور سے۔ شبنم نے آنکھیں بند کر لیں۔ "ہاں، ایسے ہی،" اس نے کہا۔ اس کی آواز نرم ہو گئی تھی۔ دانش کے ہاتھ اس کی گردن تک پہنچ گئے۔

شبنم نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی چھاتی پر رکھ دیا۔ دانش کا سانس رک گیا۔ "چاچی؟" اس نے سرگوشی کی۔ شبنم نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا۔ "چاچی مت کہو،" اس نے کہا۔ "آج رات صرف شبنم کہو۔"

دانش نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ پہلے ہلکا، پھر گہرا۔ شبنم نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال دیے۔ ان کی زبانیں آپس میں ملیں۔ دانش کا ہاتھ اس کی کمر پر پھسل گیا۔ شبنم نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنا شروع کر دیے۔

شبنم نے اپنی قمیض اتار دی۔ اس کے ممے سامنے آئے۔ دانش نے انہیں دونوں ہاتھوں سے پکڑا۔ وہ نرم اور بھاری تھے۔ اس نے ایک کو منہ میں لے کر چوسا۔ شبنم نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔

"آہستہ، دانش، آہستہ،" شبنم نے کہا۔ لیکن اس کی ٹانگیں خود بخود کھل گئیں۔ دانش نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی۔ دانش نے اپنی انگلی سے اسے چھوا۔ شبنم نے ایک لمبی آہ بھری۔

دانش نے اس کی چوت کو چاٹنا شروع کیا۔ اس کی زبان اندر باہر ہو رہی تھی۔ شبنم نے صوفے کی پشت کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ "بس، بس، اب اندر آؤ،" اس نے کہا۔ دانش نے اپنی پینٹ اتاری۔ اس کا لنڈ سخت ہو چکا تھا۔

شبنم نے اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لے کر ہلایا۔ پھر اس نے اسے منہ میں لے لیا۔ دانش نے اس کے بال پکڑے۔ شبنم کی زبان اس کے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ کچھ دیر یہی سلسلہ چلتا رہا۔

پھر دانش نے شبنم کو صوفے پر لٹا دیا۔ اس کی ٹانگیں کھولیں۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں آہستہ سے ڈالا۔ شبنم نے گہری سانس لی۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا۔

پہلے آہستہ، پھر تیز۔ دانش نے دھکے لگانا شروع کیے۔ شبنم نے اس کی پیٹھ کو پکڑا۔ ان کے جسم آپس میں ٹکرا رہے تھے۔ صوفہ ہل رہا تھا۔ شبنم کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔

"اور تیز، دانش، اور تیز،" شبنم نے کہا۔ دانش نے رفتار بڑھا دی۔ اس کی چوت سے گیلی آوازیں آ رہی تھیں۔ شبنم کا جسم کانپنے لگا۔ وہ پہلے فارغ ہوئی۔ اس کی چیخ نکل گئی۔

دانش نے رکنا نہیں چاہا۔ اس نے شبنم کو اوپر بٹھا دیا۔ شبنم نے اس کے لنڈ پر بیٹھ کر اوپر نیچے ہونا شروع کیا۔ اس کے ممے ہوا میں ہل رہے تھے۔ دانش نے انہیں پکڑ کر دبایا۔

شبنم کی رفتار تیز ہو گئی۔ اس کے بال اس کے چہرے پر آ گئے۔ دانش نے اس کی کمر کو تھاما۔ دونوں کا پسینہ ایک ہو گیا تھا۔ کچھ دیر بعد دانش بھی فارغ ہوا۔ اس نے اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔

دونوں ہانپتے ہوئے صوفے پر گر گئے۔ شبنم نے دانش کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "یہ بات کسی کو نہیں بتانی،" اس نے کہا۔ دانش نے سر ہلایا۔ "کبھی نہیں،" اس نے کہا۔

اچانک شبنم کا فون بجا۔ اس کے شوہر کا فون تھا۔ شبنم نے جلدی سے چادر اوڑھی اور فون اٹھایا۔ "جی، سب ٹھیک ہے،" اس نے نارمل آواز میں کہا۔ دانش نے اس کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔

فون بند کرنے کے بعد شبنم نے دانش کی طرف دیکھا۔ "ڈر گئے تھے؟" اس نے پوچھا۔ دانش نے ہنس کر کہا، "تھوڑا سا۔" شبنم نے اس کے گال پر چٹکی کاٹی۔ "اب تم میرے ہو،" اس نے کہا۔

رات کو دانش اپنے کمرے میں گیا۔ لیکن آدھی رات کو اس کے دروازے پر دستک ہوئی۔ شبنم نائٹی میں کھڑی تھی۔ "نیند نہیں آ رہی،" اس نے کہا۔ دانش نے اسے اندر بلا لیا۔

شبنم اس کے بستر پر بیٹھ گئی۔ دانش نے اسے پیچھے سے پکڑا۔ اس نے اس کی گردن پر بوسے دیے۔ شبنم کی نائٹی اوپر سرک گئی۔ دانش کا ہاتھ اس کی چوت تک پہنچ گیا۔ وہ پھر سے گیلی تھی۔

دانش نے اسے بستر پر اوندھا لٹا دیا۔ اس کی گانڈ اوپر اٹھی ہوئی تھی۔ دانش نے پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈالا۔ شبنم نے تکیے کو منہ سے دبا لیا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔

دانش نے اس کے بال پکڑے۔ اس کے دھکے گہرے اور تیز تھے۔ شبنم کا جسم بستر پر ہل رہا تھا۔ اس کی آہیں تکیے میں دب رہی تھیں۔ دانش نے اس کی گانڈ پر ہلکا سا تھپڑ مارا۔ شبنم نے اور زور سے آہ بھری۔

کچھ دیر بعد شبنم پھر سے فارغ ہوئی۔ اس کا جسم کانپا۔ دانش نے اس کے اندر ہی اپنا پانی چھوڑا۔ دونوں بستر پر گر گئے۔ شبنم نے دانش کے سینے پر سر رکھ دیا۔

"کل پھر؟" دانش نے پوچھا۔ شبنم نے مسکرا کر کہا، "کل تم بازار سے آم لے کر آنا۔ آخری ٹکڑا میرا ہوگا۔" دانش نے ہنس کر کہا، "آخری ٹکڑا ہمیشہ آپ کا ہی ہوتا ہے۔" دونوں ہنس پڑے۔

صبح کو دانش نے ناشتہ بنایا۔ شبنم نے اسے دیکھ کر آنکھ ماری۔ ملازمہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ دانش نے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا۔ شبنم نے اس کی انگلیوں کو چھو لیا۔

دن گزرتے گئے۔ ہر رات شبنم دانش کے کمرے میں آتی۔ کبھی وہ صوفے پر، کبھی بستر پر، کبھی غسل خانے میں۔ ان کا یہ راز صرف ان دونوں کے درمیان تھا۔ چھٹیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔

ایک دن بارش ہو رہی تھی۔ شبنم غسل خانے میں نہا رہی تھی۔ دانش نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ شبنم نے دروازہ کھولا اور اسے اندر کھینچ لیا۔ پانی کی دھار دونوں پر گر رہی تھی۔ شبنم کے بال گیلے ہو کر اس کے سینے سے چپک گئے۔

دانش نے اسے دیوار سے لگا دیا۔ اس نے اس کی ٹانگ اٹھا کر اپنے لنڈ کو اس کی چوت میں ڈالا۔ پانی اور ان کی آہیں ایک ساتھ بہہ رہی تھیں۔ شبنم نے اس کی پیٹھ کو پکڑا۔ اس کے ناخن اس کی جلد پر نشان چھوڑ گئے۔

کچھ دیر بعد دونوں فارغ ہوئے۔ شبنم نے تولیہ اٹھا کر دانش کو دیا۔ "اب جاؤ، ملازمہ آ جائے گی،" اس نے کہا۔ دانش نے اس کے ہونٹوں پر ایک آخری بوسہ دیا اور باہر نکل گیا۔

آخری دن دانش نے اپنا بیگ پیک کیا۔ شبنم نے اسے ایک ڈبہ دیا۔ اس میں آم تھے۔ "آخری ٹکڑا تمہارا،" اس نے کہا۔ دانش نے ڈبہ لیا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ وہ دروازے تک اسے چھوڑنے آئی۔

دانش نے مڑ کر دیکھا۔ شبنم دروازے پر کھڑی مسکرا رہی تھی۔ اس نے ہاتھ ہلایا۔ دانش نے بھی ہاتھ ہلایا۔ بس کے انتظار میں اس کے دل میں صرف ایک بات تھی کہ اگلی گرمیوں میں وہ پھر یہیں آئے گا۔

🔒 Bonus Scene locked

اگلی گرمیوں میں دانش پھر لاہور آیا، اور شبنم کے گھر کا دروازہ اس بار پہلے سے کھلا تھا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو چاچی کی کہانی: شبنم چاچی کی گرمیوں کی رات” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views