اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 1

S
14 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

رات کے گیارہ بجے جب میں نے کراچی کے گلشن اقبال والے فلیٹ کی ڈور بیل بجائی تو دروازہ میری خالہ شازیہ نے خود کھولا، اور اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہ میری اردو خالہ کی کہانی کا وہ موڑ ہے جہاں سے سب کچھ بدلنے والا تھا۔ ان کے بال بھیگے ہوئے تھے، جسم پر صرف ایک پتلی سی لان کی نائٹی تھی جو نمی سے ان کے جسم سے چپک گئی تھی، اور ان کی آنکھوں میں وہ شرارت تھی جو میں نے بچپن میں بھی دیکھی تھی مگر اب اس کے معنی کچھ اور لگ رہے تھے۔ "ارے دانیال، اندر آؤ،" انہوں نے دروازہ پورا کھولتے ہوئے کہا، "اتنی دیر کیوں لگا دی، میں تو سوچ رہی تھی تم ائیرپورٹ سے ہی واپس لوٹ گئے۔"

میں سوٹ کیس گھسیٹتا ہوا اندر داخل ہوا تو لاونج میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا۔ خالہ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مجھے صوفے کی طرف دھکیلا۔ "بیٹھو، میں چائے بناتی ہوں،" انہوں نے کہا اور کچن کی طرف مڑیں۔ ان کی نائٹی کی پچھلی طرف سے ان کے کولہوں کا ابھار صاف نظر آ رہا تھا، اور میں نے فوراً اپنی نظریں ہٹا لیں، مگر دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔ میں چھببیس سال کا تھا، لکھنؤ میں بینک میں نوکری کرتا تھا، اور کراچی ایک ملٹی نیشنل بینک کے انٹرویو کے لیے آیا تھا۔ خالہ کے شوہر طارق خالو شپنگ کمپنی میں مینیجر تھے اور آج کل پورٹ پر رات کی ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔

خالہ چائے کے دو کپ لے کر آئیں اور میرے سامنے والے صوفے پر نہیں، بلکہ میرے پاس ہی بیٹھ گئیں۔ ان کی ران میری ران سے ٹکرائی اور انہوں نے معذرت کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ "تو بتاؤ، لکھنؤ میں کوئی لڑکی وڑکی ہے یا ابھی تک خالہ کی دعاؤں کا انتظار ہے،" انہوں نے چھیڑتے ہوئے پوچھا۔ میں ہنسا اور بولا کہ نوکری پکی ہو جائے تو امی خود ڈھونڈ لیں گی۔ خالہ نے میری طرف دیکھا، ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ "نوکری تو ہو جائے گی، مگر لڑکی ڈھونڈنے کا کام تم خود کرو، امیوں کو کیا پتا آج کل کے لڑکوں کو کیسی لڑکی چاہیے،" انہوں نے کہا اور چائے کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے میری طرف دیکھتی رہیں۔

اس رات مجھے مہمانوں والا کمرہ ملا۔ خالہ نے خود بستر بچھایا، تکیہ ٹھیک کیا، اور جاتے جاتے دروازے پر رک کر بولیں، "کچھ چاہیے ہو تو شرمانا مت، خالہ ہوں تمہاری، ماں جیسی۔" ماں جیسی کہتے ہوئے ان کے ہونٹوں پر جو مسکراہٹ تھی وہ ماں جیسی بالکل نہیں تھی۔ میں بستر پر لیٹا تو نیند نہیں آئی۔ پنکھے کی آواز کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں ان کی بھیگی نائٹی اور ان کی ران کا لمس گھوم رہا تھا۔ میں نے خود کو ڈانٹا کہ یہ میری خالہ ہیں، مگر جسم کی بے چینی عقل کی بات کہاں سنتی ہے۔

اگلے دن صبح میرا انٹرویو تھا۔ میں تیار ہو کر نکلا تو خالہ ناشتے کی میز پر بیٹھی اخبار پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور بولیں، "واہ، ٹائی میں تو تم بالکل افسر لگ رہے ہو۔" پھر وہ اٹھیں، میرے قریب آئیں اور میری ٹائی کی گرہ ٹھیک کرنے لگیں۔ ان کی انگلیاں میری گردن کو چھو رہی تھیں، ان کے سینے کا ابھار میری شرٹ سے ٹکرا رہا تھا، اور ان کے بالوں سے شیمپو کی خوشبو آ رہی تھی۔ "آل دی بیسٹ،" انہوں نے میری ٹائی پر ہلکا سا تھپتھپا کر کہا، مگر ان کی انگلیاں ایک لمحہ زیادہ رکیں۔

انٹرویو اچھا ہوا۔ شام کو جب میں واپس آیا تو خالہ لاونج میں میرا انتظار کر رہی تھیں۔ "کیسا رہا،" انہوں نے پوچھا۔ میں نے بتایا کہ دو راؤنڈ کلیئر ہو گئے، فائنل راؤنڈ پرسوں ہے۔ خالہ خوشی سے بولیں، "مبارک ہو، آج تو دعوت بنتی ہے۔" انہوں نے کھانا لگایا۔ کھانے کے دوران انہوں نے طارق خالو کا ذکر کیا۔ "طارق آج بھی پورٹ پر ہیں، شپ کی لوڈنگ میں پھنسے ہوئے ہیں، کہہ رہے تھے دو دن لگ جائیں گے۔" یہ کہتے ہوئے ان کے لہجے میں کوئی شکایت نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سی بے پرواہی تھی۔

کھانے کے بعد خالہ نے میری شرٹ استری کرنے کی ذمہ داری خود لے لی۔ "کل کے لیے ایک اور شرٹ تیار رکھو،" انہوں نے کہا۔ میں صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب وہ استری کا تختہ لے کر آئیں اور میرے سامنے شرٹ پھیلانے لگیں۔ استری کرتے ہوئے وہ جھکتیں تو ان کے گلے سے ان کے سینے کی گہرائی صاف نظر آتی۔ میں نے کئی بار نظریں چرائیں، مگر ایک بار ہماری آنکھیں ملیں اور خالہ نے شرارت سے پوچھا، "کیا دیکھ رہے ہو۔" میں گھبرا کر بولا، "کچھ نہیں خالہ، بس۔" وہ ہنس پڑیں، "اچھا، تو میں اتنی بری لگ رہی ہوں کہ دیکھنے کے قابل بھی نہیں۔" ان کی اس بات پر میں اور گھبرایا، "نہیں خالہ، آپ تو بہت خوبصورت ہیں۔" یہ سنتے ہی ان کی ہنسی رک گئی اور انہوں نے مجھے گہری نظروں سے دیکھا۔

تیسرے دن کی شام کو طارق خالو کا فون آیا۔ میں لاونج میں تھا جب خالہ نے فون اٹھایا۔ "اچھا، ٹھیک ہے،" انہوں نے کہا اور فون رکھ دیا۔ میری طرف مڑ کر بولیں، "طارق کہہ رہے ہیں شپ کی ان لوڈنگ میں مسئلہ ہو گیا ہے، آج رات بھی پورٹ پر ہی رہیں گے، کل دوپہر تک آئیں گے۔" پھر انہوں نے ایک گہری سانس لی اور بولیں، "چلو، آج رات ہم دونوں کی دعوت ہے۔" انہوں نے بریانی بنائی۔ کھانے کے دوران باتیں ہوتی رہیں، اور میں نے محسوس کیا کہ خالہ آج کچھ زیادہ ہی خوش تھیں، ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔

کھانے کے بعد خالہ اپنے کمرے میں گئیں اور جب واپس آئیں تو انہوں نے کپڑے بدل لیے تھے۔ اب ان کے جسم پر ایک ہلکی گلابی نائٹی تھی جو گھٹنوں سے ذرا اوپر تک آتی تھی۔ "گرمی بہت ہے،" انہوں نے کہا، جیسے صفائی پیش کر رہی ہوں۔ ہم دونوں ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے۔ کوئی ڈرامہ چل رہا تھا، مگر میری توجہ اسکرین پر نہیں تھی۔ خالہ نے اپنے پاؤں صوفے پر سمیٹ لیے تھے اور ان کی ننگی پنڈلی میری ران سے ٹکرا رہی تھی۔ انہوں نے اسے ہٹایا نہیں۔

ڈرامے میں ہیرو ہیروئن کا رومانٹک سین آیا تو خالہ نے ہنس کر کہا، "دیکھو تو، آج کل کے ڈراموں میں بھی شرم نہیں رہی۔" میں نے کہا، "خالہ، زمانہ بدل گیا ہے۔" وہ میری طرف مڑیں، "اچھا، تو تمہیں یہ سب پسند ہے۔" ان کی آواز میں چھیڑ تھی۔ میں نے شرارت میں کہا، "پسند ناپسند کی بات نہیں، بس دیکھ لیتا ہوں۔" خالہ نے میری ران پر ہلکی سی چٹکی کاٹی، "جھوٹے، تمہاری آنکھیں بتا رہی ہیں کہ تمہیں بہت پسند ہے۔" ان کی چٹکی والی جگہ پر میری جلد سنسنا رہی تھی۔

رات کے بارہ بجے کے قریب خالہ اٹھیں اور بولیں، "چلو، سو جاؤ، کل تمہارا فائنل راؤنڈ ہے۔" میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔ بستر پر لیٹا تو دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ خالہ کی نائٹی، ان کی پنڈلی کا لمس، ان کی چٹکی، سب کچھ میرے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ میرا لنڈ تن چکا تھا اور میں نے اسے دبانے کی کوشش کی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد میرے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

"دانیال، سو گئے،" خالہ کی آواز آئی۔ میں نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ خالہ دروازے پر کھڑی تھیں، ان کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔ "نیند نہیں آ رہی تھی، سوچا تمہیں پانی دے دوں،" انہوں نے کہا اور بغیر اجازت کے اندر داخل ہو گئیں۔ وہ میرے بستر کے کنارے بیٹھ گئیں اور گلاس میز پر رکھ دیا۔ کمرے میں صرف نائٹ لیمپ کی ہلکی روشنی تھی۔ خالہ کی نائٹی اس روشنی میں ان کے جسم سے چپکی ہوئی لگ رہی تھی۔ "تمہیں نیند کیوں نہیں آ رہی تھی،" انہوں نے پوچھا۔ میں نے کہا، "بس خالہ، کل کے انٹرویو کی ٹینشن ہے۔"

خالہ نے میری طرف دیکھا اور ان کا ہاتھ میرے گھٹنے پر آ کر ٹھہر گیا۔ "ٹینشن،" انہوں نے دھیرے سے کہا، "میں تمہاری ٹینشن دور کر دوں۔" ان کی انگلیاں میرے گھٹنے سے اوپر میری ران کی طرف سرکنے لگیں۔ میرا سانس رک گیا۔ "خالہ، یہ،" میں نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے اپنی ایک انگلی میرے ہونٹوں پر رکھ دی۔ "شش،" انہوں نے کہا، "آج میں تمہاری خالہ نہیں ہوں۔" یہ کہتے ہی انہوں نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے۔

ان کا بوسہ نرم تھا، مگر اس میں ایک بھوک تھی جو میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ ان کی زبان میرے منہ میں داخل ہوئی اور میری زبان سے الجھ گئی۔ ان کے ہاتھ میری شرٹ کے بٹن کھولنے لگے۔ میں نے ان کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور انہیں اپنے قریب کھینچ لیا۔ ان کے نرم ممے میری ننگی چھاتی سے ٹکرائے تو میرے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔ "خالہ،" میں نے بوسے کے درمیان سرگوشی کی۔ "شازیہ کہو،" انہوں نے کہا، "آج رات میں صرف شازیہ ہوں۔"

میں نے ان کی نائٹی کے اسٹریپ ان کے کندھوں سے سرکائے۔ نائٹی ان کے جسم سے پھسل کر بستر پر گر گئی۔ نائٹ لیمپ کی روشنی میں ان کا ننگا جسم میرے سامنے تھا۔ ان کے ممے بڑے اور گول تھے، ان کی نوکیں تن چکی تھیں۔ ان کا پیٹ ہلکا سا نکلا ہوا تھا، مگر ان کی کمر پتلی تھی اور ان کے کولہے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے ان کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور دبانے لگا۔ وہ سسکیں، "آہ دانیال،" اور ان کا سر پیچھے کی طرف جھک گیا۔

میں نے ان کی ایک نوک کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ میری زبان ان کی نوک کے گرد گھوم رہی تھی اور میرے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں ان کی دوسری نوک کو مسل رہی تھیں۔ خالہ کے ہاتھ میرے بالوں میں تھے اور وہ میرے سر کو اپنے سینے پر دبا رہی تھیں۔ "اور زور سے چوسو،" وہ سرگوشی میں بولیں۔ میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی۔ ان کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں اور ان کا جسم میرے نیچے مچل رہا تھا۔

پھر خالہ نے مجھے پیچھے دھکیلا اور میرے اوپر آ گئیں۔ انہوں نے میری پتلون کا بٹن کھولا اور اسے نیچے سرکایا۔ میرا لنڈ پوری طرح تن چکا تھا اور انڈرویئر سے باہر نکلنے کو بے تاب تھا۔ خالہ نے انڈرویئر بھی اتار دیا۔ انہوں نے میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے دھیرے دھیرے سہلانے لگیں۔ "اتنا بڑا،" انہوں نے حیرت اور خوشی سے کہا۔ پھر انہوں نے جھک کر اس کی ٹوپی کو چوما۔

میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔ خالہ نے میرے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگیں۔ ان کی زبان میری ٹوپی کے گرد گھوم رہی تھی، ان کے ہونٹ میرے لنڈ کے گرد کسے ہوئے تھے۔ وہ اسے اندر باہر کر رہی تھیں، کبھی گہرائی تک لے جاتیں، کبھی صرف ٹوپی کو چوستی۔ ان کا ایک ہاتھ میرے انڈوں کو سہلا رہا تھا۔ میں نے بستر کی چادر کو مٹھیوں میں بھینچ لیا۔ "خالہ، میں،" میں نے کہا۔ "ابھی نہیں،" انہوں نے منہ سے لنڈ نکالے بغیر کہا، "ابھی تمہیں جھڑنے نہیں دوں گی۔"

میں نے خالہ کو اپنے اوپر سے ہٹایا اور انہیں بستر پر لٹا دیا۔ میں ان کے پیروں کی طرف گیا اور ان کی رانیں پھیلائیں۔ ان کی چوت میرے سامنے تھی، گیلی اور پھولی ہوئی۔ میں نے اپنی ایک انگلی ان کی چوت پر پھیری تو وہ کراہ اٹھیں۔ میں نے اپنی زبان ان کی چوت پر رکھی اور چاٹنے لگا۔ ان کا ذائقہ نمکین اور میٹھا تھا۔ میری زبان ان کے دانے کے گرد گھوم رہی تھی اور میری ایک انگلی ان کی چوت کے اندر جا چکی تھی۔

"آہ، دانیال، وہیں، وہیں،" خالہ چیخنے لگیں۔ ان کے کولہے بستر سے اٹھ رہے تھے۔ میں نے اپنی دوسری انگلی بھی اندر ڈال دی اور دونوں انگلیوں سے ان کی چوت کے اندر کی دیواروں کو رگڑنے لگا۔ میری زبان ان کے دانے کو چوس رہی تھی۔ خالہ کا جسم اکڑنے لگا، ان کی ٹانگیں میرے سر کے گرد کسنے لگیں۔ "میں جھڑ رہی ہوں، میں جھڑ رہی ہوں،" وہ چلائیں اور پھر ان کا جسم ایک زوردار جھٹکے سے کانپا۔ ان کی چوت سے پانی بہہ نکلا جو میرے منہ اور انگلیوں کو بھگو گیا۔

وہ ہانپ رہی تھیں جب میں ان کے اوپر آیا۔ میں نے اپنے لنڈ کی ٹوپی ان کی گیلی چوت کے دہانے پر رکھی۔ خالہ نے میری آنکھوں میں دیکھا اور سر ہلایا۔ میں نے دھیرے سے دباؤ ڈالا۔ ان کی چوت کی گرمی اور تنگی نے میرے لنڈ کو جکڑ لیا۔ "آہ،" ہم دونوں ایک ساتھ کراہے۔ میں نے اور اندر دھکیلا یہاں تک کہ میرا پورا لنڈ ان کی چوت میں سما گیا۔ ان کی چوت کی دیواریں میرے لنڈ کے گرد کسی ہوئی تھیں۔

میں نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے۔ خالہ کی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپٹی ہوئی تھیں۔ ہر دھکے کے ساتھ ان کے ممے ہل رہے تھے۔ میں نے ان کی رفتار بڑھائی۔ کمرے میں صرف ہماری سانسوں اور جسموں کے ٹکرانے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ "اور زور سے، اور زور سے چودو مجھے،" خالہ بے خودی میں بولیں۔ میں نے ان کی یہ بات سن کر اپنے دھکے اور تیز کر دیے۔ ان کی چوت سے گیلی آوازیں آ رہی تھیں۔

میں جھڑنے کے قریب تھا۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں وہ جانی پہچانی سنسنی دوڑ رہی تھی۔ میں نے خالہ کی آنکھوں میں دیکھا، وہ بھی تیار تھیں۔ میں نے آخری زوردار دھکا لگانے کے لیے اپنے کولہے پیچھے کیے ہی تھے کہ اچانک فلیٹ کے مین ڈور کی ڈور بیل بجی۔ ٹن ٹن ٹن۔ ہم دونوں کے جسم ایک ساتھ اکڑ گئے۔ میرا لنڈ ابھی بھی ان کی چوت میں تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا۔ رات کے دو بجے کون ہو سکتا تھا۔ ڈور بیل پھر بجی، اس بار اور زور سے۔

اگلا حصہ جلد آ رہا ہے۔ رات کے دو بجے دروازے پر کون ہے، کیا طارق خالو واپس آ گئے ہیں، اور دانیال اور شازیہ کا یہ راز کھل جائے گا یا اور گہرا ہو گا، یہ سب جاننے کے لیے اردو خالہ کی کہانی کا پارٹ 2 پڑھیں۔

📖 The story continues

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

Continue to Part 2 →
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 1” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views