اردو سالی کہانی: بہنوئی عمران نے سالی زینب کی چوت میں لنڈ ڈال کر ساری رات چودا
زینب نے دروازہ زور سے بند کیا اور عمران کی طرف مڑ کر بولی، تم نے پھر میری بات کو مذاق بنا دیا، اس گھر میں میری کوئی عزت نہیں ہے کیا۔ عمران نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکنے کی کوشش کی، مگر زینب کی آواز اور تیز ہو گئی اور اس کی آنکھوں میں غصہ اور ایک چھپی ہوئی چمک دونوں نظر آئے۔ وہ کمرے کے بیچ میں کھڑی تھی، اس کا دوپٹہ ایک کندھے سے سرک چکا تھا، اور عمران کی نظریں بے اختیار اس کی طرف اٹھ گئیں۔ اس نے کہا، لڑائی کا مطلب یہ نہیں کہ تم ہر بات پر جیت جاؤ گی، اور زینب نے جواب میں اس کے قریب آ کر اس کی شرٹ کا کالر پکڑ لیا۔ اسی رات سے یہ اردو سالی کہانی شروع ہوئی۔
عمران نے اس کا ہاتھ پکڑا تو زینب نے اسے جھٹکنے کی کوشش کی، مگر اس کی گرفت ڈھیلی نہیں ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے۔ اس کی سانسیں عمران کے چہرے پر لگ رہی تھیں، اور عمران نے محسوس کیا کہ اس بحث کے پیچھے کچھ اور بھی چھپا ہوا ہے۔ زینب نے دھیمی آواز میں کہا، تم ہمیشہ اپنی بیوی کی طرف داری کرتے ہو، کبھی میری بات نہیں سنتے، اور عمران نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کرا دیا۔ اس لمس پر زینب تھم گئی، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور اس کے ہونٹ تھوڑے سے کھل گئے۔
عمران نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تو زینب نے پہلے تو اسے دھکا دیا، پھر اچانک اس کے گلے میں بازو ڈال دیے۔ ان کا بوسہ بحث کی تلخی سے شروع ہوا اور آہستہ آہستہ ایک گرم خواہش میں بدل گیا، زینب نے اس کی گردن پر اپنے ناخن چلائے۔ عمران نے اس کی کمر کو پکڑ کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا، اس کا جسم اس کے جسم سے لگ گیا اور دونوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ زینب نے اس کے کان میں سرگوشی کی، یہ غلط ہے، مگر عمران نے جواب دیا، تمہاری آنکھیں کچھ اور کہہ رہی ہیں۔
زینب نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے، اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں مگر اس کا ارادہ صاف تھا۔ عمران نے اس کا دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور اس کے کندھوں پر بوسے دینے لگا، زینب کی سانسیں اور گہری ہو گئیں۔ اس نے اس کی قمیض کو اوپر اٹھایا اور اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، زینب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے کی طرف لے گئی۔ عمران نے اس کے سینے کو دونوں ہاتھوں سے دبایا اور اس کی قمیض کے اوپر سے ہی اسے چومنے لگا، زینب نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں۔
زینب نے اپنی قمیض خود اتاری اور عمران کے سامنے کھڑی ہو گئی، اس کے سینے کی گولائی اس کی نظروں کو قید کر گئی۔ عمران نے اس کے ایک سینے کو منہ میں لے کر چوسا تو زینب نے اس کے سر کو دبا کر اور زور سے چوسنے کو کہا۔ اس کی دوسری چھاتی کو اس نے ہاتھ سے دبایا اور اس کے نپل کو انگلیوں سے مسلا، زینب کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ عمران نے اس کی شلوار کی ڈوری کھولی اور اسے نیچے سرکایا، زینب نے اس کی مدد کرتے ہوئے اپنی ٹانگیں ہلکی سی کھول دیں۔
عمران نے اس کی چوت کو دیکھا تو وہ پہلے سے گیلی تھی، اس نے انگلی سے اسے چھوا تو زینب نے اپنی کمر کو آگے کی طرف دھکیلا۔ اس نے اپنی انگلی اندر ڈالی اور آہستہ آہستہ حرکت دی، زینب نے اس کے کندھے کو پکڑ کر اپنی ٹانگیں اور کھول دیں۔ عمران نے گھٹنوں پر بیٹھ کر اس کی چوت کو چاٹنا شروع کیا، اس کی زبان نے اس کے اوپر والے حصے کو چھیڑا تو زینب کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے اس کے بال پکڑ کر اس کا منہ اور قریب کیا اور بولی، اور کرو، رکونا مت۔
زینب کی پہلی منزل قریب آئی تو اس نے عمران کا سر اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا، اس کا جسم ایک لہر کی طرح ہلا اور اس کی آہ لمبی ہو گئی۔ عمران نے اسے سنبھال کر بستر پر لٹایا اور اس کے پیٹ پر بوسے دیے، زینب نے مسکرا کر اس کی پینٹ کی بیلٹ کھولی۔ اس نے اس کا لنڈ باہر نکالا تو وہ سخت اور کھڑا تھا، زینب نے اسے ہاتھ میں لے کر اوپر نیچے حرکت دی۔ اس نے اسے منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگی، عمران نے بستر کی چادر کو مٹھی میں پکڑ لیا۔
زینب نے اس کے لنڈ کو اپنی زبان سے چاروں طرف چاٹا اور اس کی نوک کو چوسا، عمران کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے اسے روکنے کو کہا۔ اس نے مسکرا کر اسے چھوڑا اور بستر پر لیٹ گئی، اپنی ٹانگیں کھول کر عمران کو اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا۔ عمران اس کے اوپر آیا اور اپنے لنڈ کی نوک کو اس کی چوت کے منہ پر رگڑا، زینب نے اس کی کمر پکڑ کر اسے اندر کھینچ لیا۔ وہ آہستہ آہستہ پورا اندر گیا تو دونوں نے ایک ساتھ لمبی سانس لی، اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو مضبوطی سے جکڑ لیا۔
عمران نے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کیا، زینب نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ ہر دھکے کے ساتھ اس کا جسم اوپر اٹھتا تھا، اس کے سینے عمران کے سینے سے رگڑ کھاتے تھے۔ عمران نے اس کے سینوں کو چوسنا جاری رکھا اور اس کی چوت میں اپنا لنڈ گہرائی تک ڈالا، زینب کی آہیں اور بلند ہو گئیں۔ اس نے اس کے کان میں کہا، تمہاری چوت بہت گرم ہے، اور زینب نے جواب میں اس کی پیٹھ پر ناخن چلائے۔
عمران نے رفتار بڑھائی تو زینب نے اپنی کمر کو اٹھا کر اس کے ہر دھکے کا جواب دیا، دونوں کا تال ایک ہو گیا۔ اس نے اپنی ٹانگیں اس کے کندھوں پر رکھیں تو اس کا لنڈ اور گہرائی میں گیا، زینب نے آنکھیں بند کر کے اس گہرائی کو محسوس کیا۔ اس کی چوت کی نمی دونوں کی رانوں پر پھیل گئی، اور ان کے جسموں کی آواز کمرے میں بھر گئی۔ زینب نے کہا، اور تیز کرو، اور عمران نے اپنی پوری طاقت سے اسے چودنا شروع کر دیا۔
زینب نے اچانک عمران کو دھکا دے کر اس کے اوپر بیٹھ گئی، اس نے اس کا لنڈ اپنی چوت میں رکھ کر آہستہ آہستہ نیچے آئی۔ اس نے اپنی کمر کو اوپر نیچے حرکت دی تو اس کے سینے عمران کے چہرے کے سامنے ہلنے لگے، عمران نے انہیں منہ میں لے لیا۔ اس کی رفتار بڑھتی گئی، اس کے بال اس کے چہرے پر گر گئے، اس نے انہیں ہٹا کر عمران کو دیکھ کر مسکرائی۔ عمران نے نیچے سے اس کی کمر کو اٹھا کر دھکے لگائے، دونوں کی حرکت ایک تال میں مل گئی۔
اس حالت میں زینب پھر منزل پر پہنچی، اس کا جسم عمران پر جھک گیا اور کانپنے لگا، اس کی آہ اس کے کان میں لمبی ہو گئی۔ عمران نے اسے گلے لگا کر اس کی پیٹھ پر بوسے دیے، اس کی سانسیں ٹھیک ہونے تک وہ رکا رہا۔ پھر زینب نے اس کے کان میں کہا، ابھی ختم نہیں ہوا، اور عمران نے ہنس کر اسے دوبارہ بستر پر لٹا دیا۔ اس نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اس کی چوت کو دیکھا، وہ ابھی بھی گیلی اور تیار تھی۔
عمران نے زینب کو الٹا لٹایا اور اس کی کمر کو اوپر اٹھایا، زینب نے مسکرا کر تکیے میں منہ چھپا لیا۔ وہ اس کے پیچھے گھٹنوں پر آیا اور اس کی چوت میں دوبارہ داخل ہوا، اس بار اس کے دھکے گہرے اور تیز تھے۔ اس کا چہرہ تکیے میں تھا مگر اس کی آہیں صاف سنائی دے رہی تھیں، عمران کے ہاتھوں نے اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ ہر بار اندر جاتے ہوئے اس کا جسم آگے کی طرف ہلتا تھا، اس کے ہاتھ چادر کو کھینچ رہے تھے۔
زینب نے مڑ کر دیکھا اور کہا، اور تیز، اور عمران نے اس کی بات سن کر اپنی پوری جان سے اسے چودا۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو سختی سے جکڑ لیا، عمران نے محسوس کیا کہ اس کی منزل قریب ہے۔ اس نے رفتار کم کر کے اس لذت کو لمبا کرنے کی کوشش کی، مگر زینب نے اپنی کمر کو اس کی طرف دھکیل کر اسے پھر تیز کر دیا۔ دونوں کی سانسیں ایک ساتھ تیز ہو گئیں، کمرے میں صرف ان کے جسموں کی آواز تھی۔
عمران نے آخر میں اس کی چوت میں گہرائی تک دھکا لگا کر اپنا پانی چھوڑ دیا، اس کا جسم کانپتے ہوئے اس پر جھک گیا۔ زینب نے اسے گلے لگا کر اس کی پیٹھ سہلائی، اس کے ہونٹ اس کی گردن پر نرم بوسے دے رہے تھے۔ دونوں کچھ دیر اسی حالت میں رہے، ان کا پسینہ ایک ہو گیا تھا، ان کی سانسیں آہستہ آہستہ ٹھیک ہوئیں۔ زینب نے ہنس کر کہا، لڑائی سے شروع ہونے والی رات ایسی ہو گی، یہ میں نے سوچا نہیں تھا۔
رات آدھی گزرنے پر زینب غسل خانے سے واپس آئی، اس کے گیلے بال اس کے کندھوں پر گر رہے تھے۔ عمران نے اسے دیکھ کر پھر قریب کھینچ لیا، اس نے تولیہ ہٹا کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اس نے اس کے سینوں پر بوسے دیے اور اس کے پیٹ کو زبان سے سہلایا، زینب کے ہاتھ اس کے سر پر جم گئے۔ اس کی چوت پھر گیلی ہوئی تو اس نے اسے دیوار سے لگا کر اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنی کمر پر رکھی۔
عمران نے آہستہ شروع کیا اور پھر رفتار بڑھائی، زینب نے ہر دھکے پر اپنی کمر کو اوپر اٹھا کر جواب دیا۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو چاروں طرف سے جکڑ لیا تو اس نے اس کے کان میں اس کا نام لیا، زینب نے اس کا نام لے کر آہ بھری۔ ان کے جسم ایک ہی تال میں ہل رہے تھے، اس کے سینے اس کے سینے سے لگے ہوئے تھے۔ وہ پھر منزل پر پہنچی تو اس کی ٹانگیں اس کی کمر کو سختی سے جکڑ گئیں، اس کا جسم لمبی دیر تک کانپتا رہا۔
عمران نے اس کی منزل کو دیکھ کر اور جوش میں آ گیا، اس کے دھکے گہرے اور تیز ہو گئے۔ زینب نے اس کے کندھوں کو پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کھینچ لیا، اس کے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے مل گئے۔ اس نے اس کی چوت میں دوسری بار اپنا پانی چھوڑا تو دونوں نے ایک ساتھ سانس لی، ان کے جسم پسینے میں بھیگے ہوئے تھے۔ وہ اس پر جھک کر اس کی پیشانی کو چومنے لگا، زینب نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائیں۔
اس کے بعد دونوں بستر پر ایک ساتھ لیٹ گئے، زینب نے عمران کے سینے پر سر رکھ کر اس کی دھڑکن سنی۔ اس نے اس کی پیٹھ کو آہستہ سہلایا، زینب نے اس کی انگلیاں پکڑ کر اپنی انگلیوں میں پھنسا لیں۔ باہر لکھنؤ کی رات خاموش تھی، گھر کے اندر صرف ان کی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔ زینب نے آہستہ کہا، کل پھر لڑائی کریں گے کیا، اور عمران نے ہنس کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
عمران نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، لڑائی بہانہ تھی، تم ہی وجہ تھی، اور زینب نے اس کے ہونٹوں پر نرم بوسہ دیا۔ وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر گئی، وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اس کے پاس ہی لیٹا رہا۔ رات نے ان دونوں کو ایک ہی چادر میں ڈھک لیا، ان کے جسم ابھی بھی ایک دوسرے سے لگے ہوئے تھے۔ زینب نے نیند میں اس کا نام سرگوشی میں لیا، عمران نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
اگلی رات زینب نے عمران کو چھت پر بلایا، جہاں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور آس پاس کوئی نہیں تھا۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک کونے میں لے گئی اور اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا، عمران نے اس کی کمر کو پکڑ کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ زینب نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر بوسے دیے، عمران نے اس کا دوپٹہ اتار کر اس کے کندھوں کو چوما۔ اس نے اس کی قمیض اوپر اٹھائی اور اس کے سینوں کو دبایا، زینب نے اس کے کان میں سرگوشی کی کہ آج رات کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
عمران نے اس کی شلوار کی ڈوری کھولی اور اس کی چوت کو چھوا تو وہ پہلے سے گیلی تھی، زینب نے اپنی ٹانگیں کھول کر اسے اور قریب کیا۔ اس نے گھٹنوں پر بیٹھ کر اس کی چوت کو چاٹا، اس کی زبان نے اسے چھیڑا تو زینب کی آہیں چھت پر گونجنے لگیں۔ اس نے اس کا سر پکڑ کر اور زور سے چوسنے کو کہا، عمران نے اس کی بات مان کر اسے منزل تک پہنچا دیا۔ زینب نے اس کی پینٹ کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکال کر منہ میں لیا، اس نے آہستہ آہستہ چوسا تو عمران نے اس کے بال پکڑ لیے۔
زینب نے دیوار سے ٹیک لگا کر اپنی ایک ٹانگ اٹھائی، عمران نے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال کر اسے چودنا شروع کر دیا۔ اس کے دھکے گہرے اور تیز تھے، زینب نے دیوار کو پکڑ کر اس کے ساتھ حرکت کی۔ اس نے اس کی گردن کو چومتے ہوئے اسے اور تیز چودا، زینب کی آہیں اس کے کان میں لمبی ہو گئیں۔ اس نے اسے گھما کر اس کے پیچھے سے پکڑا اور پھر اس کی چوت میں داخل ہوا، اس بار اس کی حرکت اور بھی شدید تھی۔
زینب نے مڑ کر اسے دیکھا اور کہا کہ آج رات وہیں رہو، عمران نے اس کے ہونٹوں کو چوم کر اسے بستر نما جگہ پر لٹا دیا۔ وہ اس کے اوپر آیا اور اس کی چوت میں گہرائی تک دھکے لگانے لگا، زینب نے اپنی کمر کو اٹھا کر ہر دھکے کا جواب دیا۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو جکڑ لیا تو وہ پھر منزل پر پہنچی، عمران نے اس کی منزل کو دیکھ کر اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں ایک ساتھ لیٹ گئے، زینب نے اس کے سینے پر سر رکھا اور کہا کہ یہ رات بھی یاد رہے گی۔
Readers who enjoyed “اردو سالی کہانی: بہنوئی عمران نے سالی زینب کی چوت میں لنڈ ڈال کر ساری رات چودا” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی
اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔