اردو طلاق یافتہ کی چدائی: پہلی رات کا مکمل مزہ
اردو طلاق یافتہ کی چدائی کی یہ کہانی اس شام سے شروع ہوتی ہے جب فیصل نے اپنی پڑوسن شبانہ کو فون پر بات کرتے سنا۔ شبانہ کہہ رہی تھی کہ تنہائی اب برداشت نہیں ہوتی، اس کی آواز میں ایک عجیب سی تڑپ تھی۔ فیصل دروازے کے پاس رک گیا، اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ شبانہ نے کہا کہ راتیں بہت لمبی لگتی ہیں، اور کوئی اسے سمجھنے والا نہیں ہے۔ فیصل نے سوچا کہ شاید وہی اس تنہائی کو ختم کر سکتا ہے۔
شبانہ نے فون رکھا اور دروازہ کھولا تو فیصل سامنے کھڑا تھا، دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ تم نے سب سن لیا نا، شبانہ نے شرماتے ہوئے کہا، فیصل نے ہاں میں سر ہلایا۔ وہ اندر آ گیا، شبانہ نے اس کے لیے چائے بنائی، دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔ باتیں آہستہ آہستہ گہری ہونے لگیں، شبانہ نے اپنی طلاق کی کہانی سنائی۔ فیصل نے اس کا ہاتھ تھاما، اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔
شبانہ نے کہا کہ اسے کسی کی قربت کی بہت ضرورت ہے، فیصل نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ آہستہ سے اس کے قریب آیا، اس کے بالوں کو چھوا، اس کی خوشبو نے اسے مدہوش کر دیا۔ شبانہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا، دونوں کے درمیان ایک خاموش سمجھوتہ ہو گیا۔ فیصل نے اس کے گال کو چوما، شبانہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ شام کی روشنی مدھم تھی، کمرے میں صرف ان کی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔
فیصل نے شبانہ کو اپنی بانہوں میں لیا، اس کے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے ملے۔ یہ بوسہ لمبا اور گہرا تھا، شبانہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈالیں۔ اس کی ساڑی کا پلو گر گیا، فیصل کی نظریں اس کے سینے پر ٹھہر گئیں۔ تم بہت خوبصورت ہو، فیصل نے سرگوشی کی، شبانہ مسکرائی۔ اس نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے، اس کے سینے پر انگلیاں پھیرنے لگی۔
شبانہ نے فیصل کی قمیض اتاری، اس کے سینے کو چوما، فیصل نے اس کے بلاؤز کی ہک کھولی۔ دونوں کے جسم ایک دوسرے سے چپک گئے، ان کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ فیصل نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں لیا، وہ نرم اور گرم تھے۔ شبانہ نے سسکاری لی، اس کا جسم فیصل کی طرف جھک گیا۔ اس نے فیصل کی پینٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا، فیصل کی خواہش اور بڑھ گئی۔
شبانہ نے فیصل کا لنڈ ہاتھ میں لیا، وہ سخت ہو چکا تھا، اس کی انگلیاں اس پر کھیلنے لگیں۔ فیصل نے آنکھیں بند کر لیں، اس کا جسم کانپنے لگا۔ تم مجھے پاگل کر رہی ہو، فیصل نے کہا، شبانہ نے نیچے جھک کر اسے منہ میں لیا۔ وہ آہستہ آہستہ چوسنے لگی، فیصل کا جسم لرزنے لگا۔ یہ لذت اسے پوری طرح اپنے قبضے میں لے چکی تھی، اس نے شبانہ کے بال تھام لیے۔
کچھ دیر بعد فیصل نے شبانہ کو روکا، اس کا چہرہ اوپر اٹھایا، اب میری باری ہے، اس نے کہا۔ اس نے اس کی ساڑی آہستہ سے ہٹائی، اس کی چڈی گیلی ہو چکی تھی۔ فیصل کی انگلیاں اس کی چوت کو چھونے لگیں، شبانہ نے ہونٹ کاٹ لیے۔ اس کی ٹانگیں کھل گئیں، فیصل کی انگلیاں اندر جا کر آہستہ آہستہ ہلنے لگیں۔ شبانہ کی سسکاریاں کمرے میں گونجنے لگیں، اس کا جسم فیصل کی طرف کھنچنے لگا۔
فیصل نیچے جھکا اور اسے منہ سے چومنے لگا، شبانہ نے اس کے سر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کا جسم مڑنے لگا، اس کی کمر اوپر نیچے ہونے لگی۔ اور چاہیے، شبانہ نے التجا کی، فیصل کی زبان تیز ہو گئی۔ جب وہ پہلی بار جھڑی تو اس کا جسم کانپ اٹھا، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ فیصل نے اسے چوم کر اوپر آیا، دونوں کی سانسیں تیز تھیں۔
شبانہ نے فیصل کو بستر پر لٹایا اور اس پر بیٹھ گئی، اس نے اس کا لنڈ پکڑ کر اپنی چوت میں رکھا۔ دونوں نے ایک ساتھ سسکاری لی، یہ ملاپ گہرا اور گرم تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی، فیصل کے ہاتھ اس کے مموں پر تھے۔ اس کی رفتار بڑھنے لگی، دونوں کے جسم ایک ساتھ ہلنے لگے۔ شبانہ نے اپنا سر پیچھے جھکایا، اس کی سسکاریاں بڑھ گئیں۔
فیصل نے اس کی کمر تھام کر اسے تیز کیا، شبانہ نے اس کا نام پکارا۔ مت رکو، اس نے سرگوشی کی، فیصل گہرائی میں جانے لگا۔ ہر حرکت اسے اور تڑپانے لگی، دونوں ایک ساتھ عروج کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کے جسم پسینے میں بھیگ گئے، ان کی سانسیں ایک ہو گئیں۔ آخر میں دونوں نے ایک ساتھ لذت پائی، شبانہ فیصل پر گر گئی۔
کچھ دیر آرام کے بعد فیصل نے شبانہ کو پلٹ کر لٹایا، اس کی ٹانگیں کھول کر اس پر چڑھ گیا۔ وہ دوبارہ اس کے اندر گیا، اس بار رفتار تیز تھی۔ شبانہ نے اس کے کان کو کاٹا، فیصل نے اس کی گردن کو چوما۔ دونوں کے جسم پسینے سے چپک گئے، ان کی سانسیں مل گئیں۔ شبانہ کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹ گئیں، فیصل ہر بار گہرائی میں دھکیلنے لگا۔
شبانہ نے اپنے ناخنوں سے اس کی پیٹھ کو کھروچا، فیصل نے اس کے مموں کو منہ میں لیا۔ یہ انداز اسے بہت پسند تھا، اس کا چہرہ لذت سے سرخ ہو گیا۔ دونوں نے دوبارہ عروج پایا، اس کا جسم اسے مضبوطی سے جکڑنے لگا۔ فیصل نے اپنا پانی اس کے اندر چھوڑا، دونوں ویسے ہی لیٹے رہے۔ شبانہ نے اس کے ماتھے کو چوما، فیصل نے اسے بانہوں میں لیا۔
شام گہری ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرایا، کسی نے نہیں دیکھا، شبانہ نے کہا۔ فیصل نے اس کی ساڑی ٹھیک کی، شبانہ نے اس کی قمیض ٹھیک کی۔ ان کے ہاتھ اب بھی ایک دوسرے سے جڑے تھے، ان کی نظریں ایک دوسرے سے نہیں ہٹ رہی تھیں۔ یہ شام ناقابل فراموش تھی، شبانہ نے کہا، فیصل نے اس کا ہاتھ تھاما۔
کچھ دیر بعد شبانہ پھر فیصل کے قریب آئی، اس کی آنکھوں میں دوبارہ خواہش نظر آئی۔ ایک بار اور، اس نے سرگوشی کی، فیصل نے ہنس کر اسے کھینچ لیا۔ اس نے اسے پیچھے سے گلے لگایا، اس کا جسم اس سے چپک گیا۔ اس کے ہاتھ اس کے سینے پر تھے، اس کی کمر اس کی طرف ہلنے لگی۔ دونوں پھر سے تڑپ اٹھے، ان کی خواہش دوبارہ جاگ اٹھی۔
فیصل نے اس کی ساڑی اوپر اٹھائی اور اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا، وہ آہستہ سے اس کی چوت میں داخل ہوا۔ شبانہ نے بستر کا کنارہ پکڑ لیا، فیصل کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ اس کا سر پیچھے جھک گیا، فیصل نے اس کی گردن کو چوما۔ اس انداز میں ہر حرکت گہرائی سے محسوس ہو رہی تھی، شبانہ کی سسکاریاں جاری تھیں۔
شبانہ نے اپنے جسم کو اس کی طرف دھکیلا، فیصل نے اس کی کمر مضبوطی سے تھامی۔ دونوں ایک ہی تال میں ہلنے لگے، ان کی سسکاریاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ وہ پھر عروج پر پہنچی، فیصل نے اسے مضبوطی سے گلے لگایا۔ اس نے اپنا پانی اس پر چھوڑا، دونوں کی سانسیں تیز تھیں۔ شبانہ مڑی اور اس کے ہونٹوں کو چوما، دونوں مسکرائے۔
رات قریب آئی تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، فیصل نے پوچھا کہ کل کیا کریں گے، شبانہ مسکرائی۔ ہم پھر ملیں گے، اس نے کہا، فیصل نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اس نے اپنا نمبر اس کے ہاتھ پر لکھا، فیصل نے اسے محفوظ رکھا۔ دونوں نے ایک لمبا بوسہ لیا، ان کی آنکھوں میں ایک راز تھا۔
فیصل گھر واپس آیا تو شبانہ کا پیغام پہلے سے آیا ہوا تھا، دونوں نے اس شام کے بارے میں بات کی۔ ہر یاد انہیں ہنسا رہی تھی، فیصل نے پوچھا کہ کیا وہ پھر اس کے خواب میں آئے گی، شبانہ نے کہا ضرور۔ دونوں نے اگلی ملاقات کا منصوبہ بنایا، یہ منصوبہ انہیں اور پرجوش کر گیا۔ فیصل نے فون رکھ کر مسکرایا، اس کا دل ہلکا تھا۔
اگلے دن فیصل نے شبانہ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، شبانہ نے دروازہ کھولا اور اسے اندر کھینچ لیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے، ان کی آنکھوں میں وہی خواہش تھی۔ شبانہ نے اس کے ہونٹوں کو چوما، فیصل نے اس کی کمر تھامی۔ کمرے میں شام کی خوشبو تھی، دونوں آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ فیصل نے اس کی چادر ہٹائی، شبانہ نے اس کی قمیض کھولی۔
شبانہ نے فیصل کو صوفے پر بٹھایا اور اس کی گود میں بیٹھ گئی، اس کے ہاتھ اس کی گردن کے گرد تھے۔ فیصل نے اس کے مموں کو چوما، شبانہ نے اس کے بال کھینچے۔ دونوں کے جسم ایک دوسرے سے چپک گئے، ان کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ شبانہ نے اس کا لنڈ ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگی، فیصل نے اس کا نام پکارا۔ وہ اسے منہ میں لے کر چوسنے لگی، فیصل کا جسم کانپنے لگا۔
فیصل نے شبانہ کو اٹھایا اور بستر پر لٹایا، اس کی ساڑی کھول کر ایک طرف رکھی۔ اس نے اس کی چوت کو چوما، اس کی زبان نے اسے تڑپا دیا۔ شبانہ نے اس کے سر کو پکڑا، اس کی ٹانگیں کھل گئیں۔ وہ جلدی جھڑنے لگی، اس کا جسم مڑنے لگا، اس کی سسکاریاں بڑھ گئیں۔ فیصل نے اوپر آ کر اسے چوما، دونوں کی آنکھیں ملیں۔
شبانہ نے فیصل کو اپنے اوپر کھینچا، اس نے اس کے اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا۔ فیصل آہستہ سے اس کے اندر گیا، دونوں نے ایک ساتھ سسکاری لی۔ وہ آہستہ آہستہ ہلنے لگا، پھر رفتار بڑھ گئی، شبانہ نے اس کی پیٹھ کو پکڑ لیا۔ اس کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد تھیں، ہر حرکت گہرائی میں جا رہی تھی۔ دونوں نے ایک ساتھ عروج پایا، ان کے جسم ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔
کچھ دیر بعد شبانہ نے فیصل کو پلٹا دیا اور اس پر سوار ہو گئی، وہ اوپر نیچے ہونے لگی۔ فیصل نے اس کے مموں کو تھاما، شبانہ نے اپنا سر پیچھے کیا۔ اس کی رفتار تیز ہو گئی، دونوں کی سانسیں ایک ہو گئیں۔ شبانہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا، فیصل نے اس کی کمر تھامی۔ جب وہ جھڑی تو اس نے فیصل کا نام پکارا، فیصل نے بھی اپنا پانی چھوڑ دیا۔
دونوں نے ایک ساتھ چائے پی، شبانہ نے فیصل کے ہاتھ پر اپنا سر رکھا۔ تم نے میری تنہائی ختم کر دی، شبانہ نے کہا، فیصل نے اسے چوما۔ دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ ہر شام ملیں گے، یہ وعدہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ لے آیا۔ فیصل نے اس کا ہاتھ تھاما، شبانہ نے اس کی انگلیاں چومیں۔ کمرے میں سکون تھا، ان کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
اگلی شام فیصل پھر آیا، شبانہ نے نیا جوڑا پہنا ہوا تھا، فیصل نے اسے دیکھ کر سیٹی بجائی۔ دونوں نے کھانا کھایا، ایک دوسرے کو نوالے کھلائے، پھر بستر پر چلے گئے۔ شبانہ نے اسے پیچھے سے گلے لگایا، فیصل نے اسے پلٹ کر چوما۔ دونوں نے پھر وہی کھیل کھیلا، ان کی سسکاریاں رات میں گونجنے لگیں۔ فیصل نے اسے گہرائی میں لیا، شبانہ نے اسے مضبوطی سے تھاما۔
رات کے آخر میں دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے تھے، شبانہ نے فیصل کے سینے پر سر رکھا۔ کل پھر آنا، شبانہ نے سرگوشی کی، فیصل نے کہا ضرور آؤں گا۔ دونوں نے ایک لمبا بوسہ لیا، ان کی آنکھیں بند تھیں۔ فیصل نے دروازے سے باہر قدم رکھا، شبانہ نے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔ اس کی مسکراہٹ فیصل کے دل میں رہ گئی، وہ چل پڑا۔
اگلی شام فیصل نے شبانہ کے لیے پھول خریدے اور اس کے گھر گیا، شبانہ نے دروازہ کھولا اور مسکرائی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، ان کی آنکھوں میں خوشی تھی۔ شبانہ نے پھولوں کو سونگھا اور فیصل کو اندر بلایا، دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔ باتیں شروع ہوئیں، پرانی یادیں تازہ ہوئیں، دونوں نے ایک دوسرے کی باتیں غور سے سنیں۔ شام کی چائے بنی، دونوں نے ایک ساتھ پی، ان کے درمیان ایک سکون تھا۔
شبانہ نے فیصل کو اپنی الماری سے پرانی تصاویر دکھائیں، فیصل نے انہیں دیکھ کر مسکرایا۔ دونوں نے ان تصویروں پر بات کی، شبانہ نے اپنی زندگی کے بارے میں کھل کر بتایا۔ فیصل نے اس کا ہاتھ تھاما، اسے حوصلہ دیا، شبانہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے، ان کی خاموشی میں ایک سمجھ تھی۔ فیصل نے اس کے آنسو پونچھے، شبانہ نے اسے گلے لگا لیا۔
رات کے کھانے کے بعد دونوں نے ٹہلنے کا فیصلہ کیا، گلی میں ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ شبانہ نے فیصل کا ہاتھ تھاما، دونوں آہستہ آہستہ چلنے لگے۔ وہ ایک پارک کے پاس رکے، بینچ پر بیٹھ گئے، ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ شبانہ نے کہا کہ وہ اب تنہا نہیں ہے، فیصل نے مسکرا کر اس کا ہاتھ دبایا۔ ان کی باتیں دیر تک جاری رہیں، رات گہری ہو گئی۔
واپس گھر آ کر دونوں نے ایک ساتھ چائے بنائی، شبانہ نے فیصل کے لیے اس کی پسند کی چائے بنائی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چائے پلائی، ان کی ہنسی کمرے میں گونجنے لگی۔ فیصل نے شبانہ کو ایک چھوٹا تحفہ دیا، شبانہ نے اسے کھولا اور خوش ہو گئی۔ وہ تحفہ ایک سادہ سی انگوٹھی تھی، شبانہ نے اسے پہن لیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرائے، ان کی دوستی گہری ہو گئی۔
اگلے دن فیصل نے شبانہ کو بازار لے جانے کا وعدہ کیا، دونوں نے ایک ساتھ خریداری کی۔ شبانہ نے فیصل کے لیے ایک قمیض خریدی، فیصل نے شبانہ کے لیے ایک دوپٹہ خریدا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی پسند کی تعریف کی، ان کی ہنسی بازار میں گونجنے لگی۔ واپسی پر دونوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا، ایک دوسرے کو نوالے کھلائے۔ شام کو دونوں گھر واپس آئے، ان کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔
رات کو دونوں نے ایک ساتھ فلم دیکھی، شبانہ نے فیصل کے کندھے پر سر رکھا۔ فیصل نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں، شبانہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔ فلم کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرائے، ان کی قربت بڑھنے لگی۔ فلم ختم ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، ان کی آنکھوں میں ایک وعدہ تھا۔ وہ وعدہ تھا کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے، چاہے کچھ بھی ہو۔
Readers who enjoyed “اردو طلاق یافتہ کی چدائی: پہلی رات کا مکمل مزہ” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی
اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔